میری وال سے

152

افشاں نوید
احساس ٹیلی تھون ہم نے بھی براہِ راست دیکھا تھا۔ موجود صحافیوں کی باڈی لینگویج اُس وقت بھی قابلِ دید تھی جب مولانا نے میڈیا کے سامنے آئینہ رکھا۔
میڈیا جھوٹ بولتا ہے! اس میں بھی کوئی شک ہے؟
اس کے صرف اشتہارات ہی دیکھ لیں، کون سا شیمپو بالوں کو بڑا کرتا ھے؟ کون سی کریم رنگ گورا کرتی ہے؟ کولڈ ڈرنکس کینسر ہیں صحت کے لیے۔
اس کے ڈرامے، مارننگ شوز،ٹاک شوز سچ کے کتنے علَم بردار ہیں سب جانتے ہیں۔ گھنٹوں کے ٹاک شوز میں سارا کام ہی فریقِ مخالف کو جھوٹا ثابت کرنا ہوتا ہے۔
میڈیا سرمایہ دار کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سب صحافی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی قیمت وصول کرتے ہیں۔
صبح اخباروں میں آتے ہیں، رات گئے تک ٹاک شوز میں اپنے اپنے چورن بیچتے ہیں۔
میڈیا کا سب سے بڑا کام اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مذہب کو دیس نکالا دینا ہے۔ کورونا کے بعد زیر بحث مسجد ہے۔ علماء کو ہر چینل پر بلا بلا کر اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بینکوں کے سامنے کیا ہورہا ہے؟ مارکیٹوں میں کیا ہورہا ہے؟ لیکن ساری توجہ تراویح پر ہے۔
ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں پنجاب حکومت یونیورسٹی میوزیکل کنسرٹ پر پابندی لگاتی ہے، پھر واپس لے لیتی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ لڑکے لڑکیوں کے ایک کینٹین میں بیٹھنے پر پابندی لگاتی ہے،اور فوراً واپس لے لیتی ہے۔ ہم شناخت کے بحران میں مبتلا قوم ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام میں ہماری حیثیت محض صارف کی ہے۔
ہم کنزیومر سوسائٹی کے ممبر ہیں۔ یہ ہماری واحد شناخت ہے۔
ایک مولانا طارق جمیل کیا، پوری قوم یہ کہہ رہی ہے کہ میڈیا بے حیائی کا سرغنہ ہے۔
پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے معافی منگوائی،تاریخ نے بہت کچھ دیکھا،رقم کیا۔ دنیا نے مکافاتِ عمل بھی دیکھ لیا۔
میڈیا نے طارق جمیل سے معافی منگوا کر ثابت کردیا کہ سرمایہ خدا ہے، سرمایہ ہی مذہب۔۔۔
مولانا صاحب سے شکایت ہوسکتی ہے۔ ضروری بھی نہیں کہ ان کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے۔ لیکن علماء کی معاشرے میں ایک قدر، منزلت اور مقام ہے۔ مولانا صاحب اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے باعث معاشرے میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں۔
اگر مولانا نے غلط کہا تھا تو یہ اینکرز اپنے اپنے ٹاک شوز میں جوابی دلیل دیتے، ثابت کرتے کہ میڈیا تو سچ کے زمزم سے دھلا ہوا ہے، حیا کی چادر تانے کھڑا ہے۔
مولانا کو پروگرام میں لائیو لینا، معافی پر مجبور کرنا…!!!
ذہن سورہ یوسف کی جانب چلا گیا کہ کس طرح بے ضمیر معاشرے کے فتنوں سے بچنے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں پناہ لیتے ہیں۔
مولانا نے میڈیا کے فتنوں سے بچنے کے لیے معافی میں عافیت جانی۔ وقت ہے کہ علمائے کرام میڈیا سے متعلق اپنی پالیسی ترتیب دیں۔
یہ بات بہرحال سمجھ آئی کہ مسلمانوں کی تاریخ میں علماء کیوں شاہی درباروں سے دور رہا کرتے تھے۔۔
………
آج جمعہ کا دن ہے۔ ہماری گلی کے کونے پر جامع مسجد ہے۔ ٹھیک سوا بجے میرے شوہر جمعہ کی تیاری کرکے، خوشبو لگا کر دروازے کے باہر کھڑے ہوکر مسجد کو دیکھتے رہتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔
پھر آدھے گھنٹے بعد جاکر گلی میں کھڑے ہوکر مسجد دیکھتے رہتے ہیں۔
آج چوتھا جمعہ ہے مسجد سے دوری کو۔
جمعہ کا دن تو مسلمانوں کے گھروں میں ہوتا ہی نمازِ جمعہ کی تیاری کا ہے۔ نمازِ ظہر کی لیکن تیاری صبح سے شروع ہوجاتی ہے۔
اصل میں مسلمانوں کا مسجد سے ویسا تعلق نہیں ہے جو دیگر مذاہب کے لوگوں کا اپنی عبادت گاہوں سے ہوتا ہے۔ عبادت گاہیں سب کی مقدس ہیں، مگر یہاں نہ ہفتے میں ایک دن حاضری ہے، نہ جرمانہ ہے غیر حاضری پر۔
نہ ہم اپنی عبادت گاہوں کو ”کچھ بڑوں“ کے حوالے کرکے مطمئن کہ وہ ہمارے لیے استغفار کرتے رہیں۔ ہمارے گناہوں کا بوجھ اتارتے رہیں۔ اس لیے کہ۔۔ خدا کو پیغام بھیج دیا ہے۔۔
کارِ جہاں دراز ہے میرا انتظار کر
مسلمانوں کا تو پورا دن نمازوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ پانچ بار بستیاں حی علی الفلاح کی آواز سے گونجتی ہیں۔
ہمارے روز و شب نماز سے جڑے ہوتے ہیں کہ۔۔۔ قبل از ظہر یہ کرنا ہے اور بعد عصر یہ کرنا ہے۔
عشاء سے پہلے یہ ہوجانا چاہیے، فجر کے بعد یہ امور انجام دینے ہیں۔ ایسے وقت نہیں سونا کہ نماز قضا ہوجائے۔ فجر کا الارم لازمی لگایا جاتا ہے۔
ہماری بھابھی کے بھائی کا ہارٹ فیل ہوگیا اچانک۔۔۔ بیوہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ اگلی صبح جب نمازِ فجر سے آدھا گھنٹہ قبل ان کے موبائل پر الارم بجنا شروع ہوا تو بیوہ فون اٹھا کر سسک اٹھیں کہ۔۔۔ نمازی تو گیا۔۔۔ الارم کو کیا پتا۔۔۔!
کروڑوں لوگ دن بھر اذانوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اپنے معمول نمازوں کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں۔ لاکھوں قدم سارا دن مسجدوں کی سمت اٹھتے ہیں۔ لوگ گھر لیتے وقت دیکھتے ہیں کہ مسجد کتنی دور ہے۔۔۔؟
ہم لاشعوری طور پر ساری عمر نمازوں کے اوقات کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے مرد مساجد کے طواف میں عمر بِتا دیتے ہیں۔
مغربی اور یورپی دنیا کے مسلمان باسیوں کے لیے تو مسجد دوسرا گھر ہے۔ ان کی خوشیاں، غم، حتیٰ کہ باہمی روابط تک مسجد کے گرد ہی گھومتے ہیں۔
سچ ہے کہ مسلمان مردوں کے دل مسجد میں اٹکے رہتے ہیں۔ جو مسجدوں میں نماز کو نہیں جاتے وہ بھی چندہ ضرور دیتے ہیں۔ مسجد کے سامنے سے احترام گزرتے ہیں۔
غریب محلوں میں بھی ماہِ رمضان میں مسجدوں میں افطاری بھیجی جاتی ہے۔ موذن، پیش امام، خاکروب سب کا خیال اہلِ محلہ خود رکھتے ہیں۔
ریاست شہریوں سے کہتی ہے کیسینو نہ جاؤ۔۔۔ پارک نہ جاؤ۔۔۔ دفتر نہ جاؤ۔۔۔ جم نہ جاؤ۔۔۔ ”مسجد نہ جاؤ“۔
تھیٹر جانا۔۔کلب جانا۔۔دفتر جانا۔۔مسجد جانا۔۔سب یکساں فعل نہیں ہیں اپنی روح کے اعتبار سے؟؟
کورونا مسجد سے پھیل سکتا تھا تو اتنا ہی خطرہ کرنسی نوٹوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے بھی تھا، مگر ڈبلیو ایچ او یہ خطرہ بیان کرکے رہ گئی۔۔۔ پابندی تو نہ لگ سکی۔
علمائے کرام ریاست کی رٹ قائم رکھے ہوئے ہیں اور اجتماعی فتووں میں ریاست کے احکام کی تابع داری کررہے ہیں، کیونکہ ریاست کا کام شہریوں کے جان ومال کا تحفظ ہے۔
مسلمان تو جیتا ہی ایمان کی بقا کے لیے ہے۔ مسلمان نہ کورونا کو موت سمجھتا ہے، نہ موت سے نفرت کرتا ہے۔
احتیاطی تدابیر عین حکمت ِ دین ہیں۔
مسجد تو مسلمانوں کا مسکن رہی ہے اسلامی تاریخ میں۔
وہاں صفہ کا چبوترا تھا۔۔۔ وہی مسافر خانہ، وہی پارلیمنٹ ہوتی تھی۔
ابھی ذرا دیر قبل اندرونِ سندھ کنڈیارو میں ایک ساتھی سے بات ہو رہی تھی، میں نے کہا آج جمعہ ہے، کیا لوگ ریاستی حکم کی پابندی کرتے ہیں؟
کہا: یہاں گاؤں دیہات میں جتنے لوگ جمعہ کی نماز میں آتے تھے اب ہر نماز میں اتنے لوگ آتے ہیں، کیونکہ مسلمان تو پریشانی پر مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔یہاں بھی لوگوں کو پتا ہے کہ بیماری اور موت دینے والا اللہ ہے۔
اس وقت شعور و آگہی اور ریاست کی رٹ کو قائم رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ آزمائش ایمان کی جِلا کا سبب بنے گی ان شاءاللہ۔
حرم کے دروازے بند ہوں یا محلے کی مسجد کے۔۔۔ بہت بڑا نقصان ہے یہ۔ مسلمان کورونا سے زیادہ اس بات سے دکھی ہیں کہ خانۀ خدا چھن گیا۔
ان شاءاللہ وہ وقت بہت جلد آئے گا کہ خوف و دہشت کی فضا چھٹ جائے گی اور مسلمان اپنے مسکن مسجد سے جڑ جائیں گے۔
بہت سے لوگوں کو والدین کی جدائی کے بعد ملال رہتا ہے کہ کاش کچھ خدمت کرلی ہوتی۔
مسجدوں سے یہ دوری ان کے لیے بھی سبق ہے جن کے قدم حی علی الفلاح کی آواز پر بھی مسجد کی طرف نہیں اٹھتے تھے۔
اب جب مسجدوں کے دروازے کھلیں گے تو ان شاء اللہ وہ قدم بھی مسجد کی جانب اٹھیں گے جو پہلے یہ سمجھتے تھے کہ مسجد تو بزرگوں کی جائے عافیت ہے، جب بڑھاپا آئے گا ہم بھی مسجد آباد کرلیں گے۔
بڑھاپے سے پہلے بھی ”ۯبہت کچھ“ آسکتا ہے، کورونا نے سرگوشی کی ہے۔

حصہ