سوشل میڈیا سے جڑی دنیا

220

ہماری دُنیا 2020 کے پہلے چار مہینوں میں ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوئی ہے ۔کوئی 32لاکھ کے قریب متاثرین پیدا کرنے والے اس کورونا وائرس سے متعلق ایک نیا ’ادب ‘بھی تخلیق ہو تا دیکھا جب سوشل میڈیا پر ’کورونائی نظمیں‘ دیکھنے ، سننے پڑھنے کو ملیں۔ویسے اس ہفتے تا دم تحریر دو بھارتی فلمی اداکاروں کی موت کا سوگ ہی سوشل میڈیا کا بڑا موضوع بنا رہا۔ہفتہ کاآغاز تو مولانا طارق جمیل کی ’میڈیا کوجھوٹا کہنے ‘ والی دُعا کے رد عمل اور چینی کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر سے چلا ،پھر اگلے دن مولانا طارق جمیل کی معافی نے معاملہ یکسر بدل دیا۔سوشل میڈیا پر مولانا کی حمایت اور معافی مانگنے کو جرم قرار دے کر خاصی تکرار جاری رہی جس کی لپیٹ میں حامد میر اور عبد المالک آئے جنہوں نے ثبوتوں کا مطالبہ کیاتھا۔اس چکر میں#MolanaTariqOurPride، #HamidMirMaafiMangoجیسے کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت اختیار کر گئے ۔یہ ایشو تھما ہی تھا کہ وزارت اطلاعات کی تبدیلیاں نیا موضوع بن گئیں۔فردوس عاشق اعوان پر خوب غصہ اتارا گیا۔اس کے بعد اچانک بھارتی اداکار عرفان خان کی موت نے سب کچھ لپیٹ دیااس دوران چند گھنٹوں کے لیے قادیانیوں کو بھی کئی ٹرینڈ کی صورت رگڑا ملا اور عوام کو یاد دلایا گیا کہ قادیانیت کیا بلا ہے اور اُن کو اقلیتی کونسل میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلہ کے کیا نقصانات ہونگے ،آئین میں اقلیت کی تعریف میں قادیانیت کو شامل کیا جانا درست ہے یا نہیںوغیرہ لیکن پھر دوبارہ پڑوس سے رشی کپور کی موت کی اطلاع نے سماجی میڈیا کے ٹرینڈ کا رُخ بدل دیا۔اس دوران چھوٹے موٹے سیاسی ایشوز کو بھی چھیڑا جاتا رہا۔مطلب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی سرد جنگ،کہیں گورنر کے ایک ’متنازعہ تبصرہ ‘پر استعفیٰ کا مطالبہ ہو یا سندھ میں لاک ڈاؤن کی نرمی کا معاملہ۔ سندھ حکومت نے سوشل میڈیا پر لیک شدہ خاصے متنازعہ موضوع سے جان چھڑاتے ہوئے اِس ہفتہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے نام پر تاجروں کو آن لائن کاروبار کی اجازت دی ، وگر نہ تاجر برادری سے بھاری رشوت کاجو الزام اُنکے سر آرہا تھا، وہ رنگ دکھانا شروع ہو گیا تھا۔
یہ بات ہم پہلے مہینے میں لکھ چکے تھے کہ اس کے ماہرین مریضوں سے زیادہ پیدا ہوگئے ، غرض کہ اِس وَبائی مرض نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں دنیا کے ڈیجیٹل طرز عمل میں بھی واضح ہوئی ہیں ۔آج کچھ تازہ تحقیقی مواد کی روشنی میں حالات پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ سوشل میڈیا سے ضڑی دُنیا کیا کر رہی ہے ۔عالمی ڈجیٹل ڈیٹا پورٹل کے جمع شدہ مواد سے ملنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ دُنیا کی کثیر آبادی گویا اربوں انسان ڈجیٹل آلات کی مدد سے اس ڈجیٹل دُنیا میں یہ سوچ کر داخل ہوئے کہ اُنھیں سماجیات کی ڈوز کے ساتھ موجودہ لاک ڈاؤن زندگی سے نمٹنے اور اسکے تحت کام کرنے میں مدد ملے۔
چارٹ نمبر 1میں آپ دیکھ سکتے ہونگے کہ دُنیا کی 7.7ارب آبادی میں سے اب (یعنی اپریل 2020تک )4.57 ارب افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں ،یہ تعداد پچھلے سال 2019سے 7 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے ۔ ان میںسوشل میڈیا صارفین تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، اپریل 2019 کے بعد 8 فیصد سے زیادہ بڑھ کر آج 3.81 بلین ایکٹیو یعنی متحرک سوشل میڈیا استعمال کنندگان تک یہ تعداد جا پہنچی ہے ۔ ان لوگوں میں اسمارٹ فون موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد 5ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔پچھلے سال کی نسبت یہ 2.5فیصد اضافہ ہے جس کی تعداد 12کروڑ سے زائد بنتی ہے۔تفصیلی تحقیق سے حاصل شدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دُنیا بھر میں لوگ کوروناوائرس لاک ڈاؤن کے نتیجے میںڈیجیٹل آلات کی جانب پہلے سے کہیںزیادہ وقت خرچ کر رہے ہیں۔مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق سماجی میڈیا سرگرمیوں میں خواتین کا حصہ مردوں سے زیادہ رہا جبکہ عمروں کا جو مجموعی تناسب رہا وہ چارٹ نمبر2میں واضح ہے۔


انٹرنیٹ صارفین میں مزید ایک بڑی تعداد اسمارٹ ٹی وی ناظرین کی بھی ہے ۔نیٹ فلکس نے ان تین ماہ میںپونے دو کروڑ نئے صارفین کی شمولیت کی اطلاع دی ہے ، اسکے علاوہ اس عرصے میںایپل، ایمیزون ٹی وی، ڈزنی دُنیا بھر کے صارفین کا الگ بہت بڑا حصہ لینے میںکامیاب رہے ہیں۔
اسی طرح چارٹ نمبر 3میں آپ مختلف سماجی میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کنندگان کی تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔جس کے مطابق فیس بک، یو ٹیوب، واٹس ایپ سر فہرست ہیں۔ان سب میں فیس بک کو ڈجیٹل اشتہاری دُنیا کا بھی بڑا حصہ ملا کیونکہ اُس کی آڈینس میں بھی اچانک4فیصد اضافہ ہوا، فیس بک پر اشتہار کاری کا دائرہ 2ارب انٹرنیٹ صارفین تک جا پہنچا ہے۔
گلوبل ویب انڈیکس کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق اس لاک ڈاؤن میں انٹرنیٹ صارفین کے ڈجیٹل طرز عمل میں بھی ڈرامائی قسم کی تبدیلیاں ہوئی ہیں، چارٹ نمبر4کے مطابق آپ وہ رحجانات دیکھ سکتے ہیں۔اسکے علاوہ ایک اور واضح تبدیلی چند ہفتوں میںسماجی میڈیاپلیٹ فارمز کے ذریعہ نظر آئی جو کہ خاندان، دوست احباب ، ساتھی یا دفتری و کاروباری تناظر میں ہی کیوں نہ ہو۔یہ تبدیلی زیادہ حیرت انگیز بھی نہیں ، بلکہ لاک ڈاؤن کے رد عمل میں پیدا شدہ فطری ضرورت یا تبدیلی بھی کہی جا سکتی ہے ۔انسٹا گرام پر سب سے زیادہ واضح نظرا ٓنے والی سرگرمی لاک ڈاؤن ایام میں ہونے والے واقعات کی ڈائری رہی ۔ جو جو لوگ اطراف میں دیکھتے یا خود اُن کے ساتھ ہوتا وہ پوسٹ کی صورت دن کے ساتھ پوسٹ کرتے اور یہ عمل ٹرینڈ بنتا چلا گیا۔اسی طرح ایک اور لاک ڈاؤن عمل یہ ہوا کہ لوگ سماجی تنہائی کے اقدامات یا پھر سخت یا نرم لاک ڈاؤن کی وجہ سے باہر ، یعنی اپنے شہر ، ملک سے باہر کے لوگوں کے حالات جاننے کے لیے کہیں زیادہ سرگرم نظر آئے اور یہ دو طرفہ عمل رہاکیونکہ دونوںجانب ایک جیسی صورتحال ہی تھی۔ اس دوران وہ اپنے سماجی میڈیا رابطوں سے باہر کی دنیا کی صورتحال جاننے کی سمجھنے اور مشاورت کی کوششیں کرتے نظر آئے۔اسی تناظر میں فیس بک نے بھی فری ویڈیو کال کا فیچر ’میسینجر روم‘کا ابتدائی ورژن متعارف کرا دیاہے ۔مطلب یہ کہ پوری دُنیا میں ابھی نہیں ہوا ، چند ممالک میں تجرباتی طورپر متعارف کیا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ یہ سہولت زوم ، اسکائپ ، مائیکرو سافٹ کی بڑھتی مقبولیت پر خاصا اثر ڈالے گی۔فیس بک انتظامیہ نے اس فیچر کا کمال یہ بھی بتایاہے کہ یہ بک، انسٹا گرام، واٹس ایپ سب کے کانٹیکٹس کو جوڑسکے گا۔ 50افراد تک بیک وقت اس میسینجر روم لائیو فون کال کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ اس میں شمولیت کیلیے فیس بک اکاؤنٹ ہونا لازمی بھی نہیں۔اس کے علاوہ واٹس ایپ میں بھی بیک وقت ۸افراد کو ایک کال میں شامل کرنے کی سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے۔18مارچ کو فیس بک کے مالک زکر برگ نے صحافیوں سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ میں لاک ڈاؤن کے بعد فیس بک نے دوگنی تعداد میںفیس بک ، واٹس ایپ پر کالز کا سلسلہ نوٹ کیا ہے۔جبکہ صرف اٹلی میں مکمل لاک ڈاؤن کے ایام میں (مارچ میں )یہ شرح 1000%تک بڑھ گئی تھی ۔فیس بک انتظامیہ کے مطابق:
You can start and share video call rooms on Facebook through the News Feed, Groups, and Events. Facebook will soon add ways to create rooms from Instagram Direct, WhatsApp, and video-calling device Portal.
چلیے اب اِسی ڈیٹا کی روشنی میں ایک اور بھیانک روپ دکھاتے ہیں۔ان تین ماہ میں ’فلپائن ‘وہ ملک ہے جہاں ایک دن کا سب سے زیادہ وقت سماجی میڈیا پر صرف ہوا ( بحوالہ چارٹ 5)۔برطانوی کرائم ایجنسی ، سوئیڈش پولیس اتھارٹی کے مطابق ان لاک ڈاؤن ایام میں ’بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز کی ڈیمانڈ میں بڑا اضافہ ‘ ہوا ہے جس کا سارا مواد فلپائن سے دُنیا بھر کے اپنے صارفین کو لائیو اسٹریم کیا جاتا ہے اُن کی ڈیمانڈ پر۔ایک پورا مافیا ہے جو لاک ڈاؤن ایام میں یہ بھیانک کام کر رہا ہے ، جس کے زیادہ تر صارفین مغربی ممالک ہی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ بھیانک کام اُنہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انجام دیا جاتا ہے جنہیں ہم عمومی استعمال کرتے ہیں۔اس کے خلاف کام کرنے والی کئی این جی اوز نے بتایا ہے کہ ہمیں اسکول بند ہو جانے کے بعد سے بچوں سے زیادتی کے واقعات کی شکایات میں اضافہ ملا ہے۔اس ضمن میں شائع رپورٹس میںفلپائن، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے نام سامنے آئے ہیں۔اسی طرح منشیات کی فروخت کیلیے ڈارک ویب کا بڑھتا استعمال بھی کئی رپورٹس میںسامنے آیا ہے ۔
According to addiction specialist Adam Winstock, many of the UK’s 3.2 million drug users are turning to either prescription meds or the dark net markets. Dark net markets use the encrypted Tor network to disguise the location of a site’s server, and offer a way to buy almost anything anonymously. The most popular products are illicit drugs, sent through the mail in exchange for cryptocurrencies like Bitcoin (BTC).
معتبر خبری نشریاتی اداروں نے بھی یہی رپورٹ کیا ہے کہ ، وبائی ایام میں’بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات اور اُن کا آن لائن استحصال میںاضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح معروف برطانوی ادارے دی ٹیلیگراف نے27اپریل2020کو اس سُرخی کے ساتھ یہ تفصیلی رپورٹ دی ہے کہ
Online child abuse flourishes as investigators struggle with workload during pandemic.
In four weeks, the amount of child abuse material being removed from the internet has plummeted by 89 per cent
میںبوجوہ تفصیل نہیں دے رہا ، لیکن وہ جو بحث جاری ہے کہ یہ وبا عذاب ہے یا دُنیا کے انسانوں کو کنٹرول کرنے کی سازش ہے یانہیں۔مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اور اُنکی سائنسی سرمایہ داری جاہلی علمیت ہے۔تسخیر کائنات اور بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد ہے جس کے لیے وہ ہر حد پار کر سکتے ہیں۔اس بات کو آپ نے اُن کے پیش کردہ اعداد و شمار سے دیکھا ہوگا۔میرے نزدیک یہ ہر اسلامی انقلابی جماعت کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے ثقافتی ماحول کو اس سرمایہ دارانہ نظام سے نجات دلا کر روحانیت سے لبریز کریں۔ توبہ ،ذکر اور استغفار کو شعور کے ساتھ عام کریں کہ عوامی زندگی منکرات سے پاک اور فکر آخرت سے معمور ہوجائے ،لوگ آفات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں ۔

حصہ