جماعت اسلامی اور علامہ محمد اقبال ایک نظریاتی تعلق داری

447

گزشتہ سے پیوستہ
آگے چل کر وہ اپنی تقریر میں ایک اور بہت اہم پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایک اور چیز جس کو ہم نے جماعت کی تشکیل میں پیش نظر رکھا، یہ تھی کہ جدید اور قدیم تعلیم یافتہ، دونوں قسم کے عناصر کو ملا کر ایک تنظیم میں شامل کیا جائے، اور یہ دونوں مل کر اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے تحریک چلائیں۔ اپنے سابقہ تجربات کی بنا پر میری یہ رائے تھی کہ خالص جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت اپنی جگہ اسلام کے معاملے میں کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہو، لیکن چونکہ وہ دین کو نہیں جانتی اس لیے تنہا وہ ایک دینی نظام کو قائم نہیں کرسکتی۔ اسی طرح محض دینی تعلیم پائے ہوئے لوگ اگرچہ وہ دین کو خوب جانتے ہوں مگر چونکہ انہوں نے وہ تعلیم حاصل نہیں کی جس سے وہ ایک جدید دور میں ایک جدید ریاست کا نظام چلا سکیں، اس لیے صرف ان پر مشتمل کوئی خالص مذہبی جماعت بھی نہ دینی نظام قائم کرسکتی ہے، نہ اسلام کی بنیاد پر جدید دور میں ایک اسلامی ریاست کا انتظام کرسکتی ہے۔“
اسی سیاسی و نظریاتی دوراہے پر علامہ محمد اقبالؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا راستہ ایک ہوجاتا ہے۔
دراصل پاکستان کی قرار داد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے ”حکومت ِالہٰیہ“،”مسلم ہندوستان“ اور ”خلافت ِربانی“ وغیرہ کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک ”مسلم ہندوستان“ کا تصور پیش کیا تھا… مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومتِ الہٰیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چودھری فضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافت ِ ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔ جگہ جگہ سے اس آواز کا اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اپنے مخصوص طرزِ فکر کی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پوری شدت سے محسوس کررہے تھے اور حالات کے تقاضے کے طور پر ان کے عزائمِ خفتہ ابھر کر سامنے آرہے تھے“۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ڈاکٹر محمد اقبالؒ دونوں مفکر تھے اور اپنی اپنی فکر رکھتے تھے، لیکن ان کا مشترک نظریہ تھا بلکہ ہے ’’دو قومی نظریہ‘‘ جو نظریہ پاکستان کی بنیادی اساس ہے، یعنی دونوں مفکرین ہندوستان کے مسلمانوں کی بقا اس بات میں سمجھتے تھے کہ وہ ایک الگ خطہ ارضی پر اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ علاوہ ازیں دیگر مسلمان زعماء و قائدین بھی تھے جنہوں نے اس نظریے کے مطابق اپنا اپنا مؤقف پیش کیا۔ جیسے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سیکرٹری سید شریف الدین پیرزادہ نے ان الفاظ میں لکھا ہے:
”مولانا نے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا، کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی اور یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کے لیے جمہوریت ناموزوں ہے، اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کو ایک ووٹ اور ہندوئوں کو چار ووٹ ملیں گے، انہوں نے ہندوئوں کے قومی استعمار کی بھی مذمت کی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ محض مخلوط انتخاب یا اسمبلیوں میں کچھ زیادہ نمائندگی اور ملازمتوں میں ایک شرح کا تعین مسلمان قوم کے سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے۔ جو تجویز انہوں نے پیش کی اس میں تین متبادل صورتوں کی نشاندہی کی گئی تھی، ان صورتوں میں آخری صورت تقسیمِ ملک کی تھی۔‘‘
مگر یہ سوال بہت اہم ہے کہ علامہ اقبالؒ اور مولانا مو د ودیؒ کس طرح نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے قریب آئے ؟
علامہ اقبالؒ کا مولانا مودودیؒ سے تعارف پہلی بار ان کی کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ سے ہوا جو انہوں نے محض 24 سال کی عمر میں لکھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن (کتابی صورت میں) 1930ء میں شائع ہوا، علامہ اقبالؒ نے اس کتاب کو اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر ایک بہترین تصنیف قرار دے کر اہلِ علم کو اس کے مطالعے کا مشورہ دیا۔
علامہ اقبال نے اپنی تخلیق اور فکر کے تصور کو عملی صورت میں ڈھالنے کے لیے جہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ و دیگر شخصیات کو ابھارا، وہاں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو بھی لاہور منتقل ہونے کا مشورہ دیا، تاکہ وہ اس خطے میں جہاں ان کے خیال کے مطابق اسلامی ریاست بنانا مقصود تھی، بیٹھ کر عملی جدوجہد کریں۔ علامہ اقبالؒ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ ’’دو قومی نظریے‘‘ کے زبردست داعی بن سکتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح کانگریس اور اُس کے ہمنوائوں کا محاسبہ کیا وہ ان کے نزدیک قابلِ تحسین تھا، اُس وقت ایک ایسے مصلح کی ضرورت تھی جو اپنی تحریروں سے قوم کو ہلاکت سے بچائے اور اسلامی ہند کی گزشتہ تاریخ اور موجودہ حالت پر محض ایک صحافی، ادیب، مؤرخ یا سیاست دان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرے۔
واقعہ یوں ہے کہ تقسیم سے پہلے ہی سر ظفر اللہ خان قادیانی نے گورداسپور میں قادیانیوں میں پاکستان کے ساتھ شامل نہ ہونے کے لیے دستخطی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں گورداسپور پاکستان میں شامل ہونے سے رہ گیا۔ جواہر لال نہرو سر ظفر اللہ خان کی پشت پناہی کررہا تھا۔ علامہ اقبال نے ایک مکتوب جواہر لال نہرو کے نام لکھا۔ اس میں لکھا کہ:
”میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ”احمدی“ اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں“۔
اس بات کی ضرورت علامہ اقبال کو اس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے میں قادیانی رسالوں بالخصوص ”الفضل“ میں جگہ جگہ انگریز حکومت کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کا یقین دلایا جارہا تھا۔ ایک موقع پر جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی میں احمدی افراد کے ساتھ علامہ اقبال کے مکالمے شروع ہوئے تب علامہ اقبال نے مزید دلچسپی کے ساتھ ”احمدیت“ کا تفصیلی مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مسئلے کی سنگینی سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جانا اشد ضروری ہے۔ آپ نے باور کروایا کہ احمدیت کس طرح سے مسلمانوں کے اجتماعی وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ علامہ اقبال نے سب سے پہلے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور اسلام کے بارے میں ان کے رویّے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اس فرقے کے بانی (مرزا غلام احمد۔ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا) نے ملّتِ اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ اور اپنے مقلدین کو تازہ دودھ سے تشبیہ دی ہے، اور اپنے مقلدین کو مسلمانوں سے دور رہنے، مل جول رکھنے سے اجتناب، عام مسلمانوں کے ساتھ قیامِ نماز میں عدم شرکت، نکاح و طلاق وغیرہ کے معاملات میں بائیکاٹ، اور سب سے بڑھ کر ”احمدیوں کے سوا تمام مسلمان کافر ہیں“ کا اعلان کیا ہے، یہ سب ان کی علیحدہ حیثیت کا ثبوت ہیں۔“
اب دوسرا حوالہ بھی دیکھ لیجیے۔ بقول میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام)۔
”ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحریروں سے بے حد متاثر تھے۔ علامہ موصوف ”ترجمان القرآن“ کے اُن مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ اُن (مضامین) ہی سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی، اور اسی دعوت پر مولانا 1938ء میں پنجاب آئے۔“
میاں محمد شفیع اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں کہ
”مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو درحقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے، اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علامہ اقبال کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ ”مودودی ان کانگریسی مسلمانوں کی خبر لیں گے“۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد (مولانا آزاد) اور مدنی (مولانا حسین احمد مدنی) کے نقاد تھے، وہاں وہ مولانا کا ”ترجمان القرآن“ جستہ جستہ مقامات سے پڑھواکر سننے کے عادی تھے۔ اور اس امر کے متعلق تو میں سو فیصدی ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا“۔
مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ کی اولین ملاقات کا باعث پٹھان کوٹ کا ’’دارالسلام‘‘ بنا۔ ہوا کچھ یوں کہ موضع جمال پور (پٹھان کوٹ) کے ایک ریٹائرڈ ایس ڈی او (محکمہ انہار) چودھری نیاز علی ایک جرمن نومسلم محمد اسد کی معیت میں لاہور آئے اور عرض کی کہ انہوں نے جمال پور میں ایک دینی مدرسے کے لیے 70 ایکڑ زمین وقف کردی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا دینی مدرسے تو اور بھی کافی تعداد میں ہیں، اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ فقہ اسلامی کو جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا کام سرانجام دیا جائے۔ چنانچہ اس ادارے کے اغراض و مقاصد میں یہ چیز شامل ہونی چاہیے۔ چنانچہ مذکورہ کام کو بطریق احسن سرانجام دینے کے سلسلے میں کئی نام زیرغور آئے، مولانا عبیداللہ سندھی، سید سلیمان ندوی، عبداللہ یوسف علی اور علامہ محمد اسد سے اس ضمن میں رابطہ قائم کیا گیا، لیکن ان حضرات نے اپنی مجبوریوں کی بنا پر معذرت کردی۔ اُس وقت مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا نام بھی علامہ اقبالؒ نے چودھری نیاز علی کے سامنے پیش کیا۔
چنانچہ علامہ اقبالؒ اور چودھری نیاز علی نے الگ الگ مولانا مودودیؒ سے حیدرآباد میں مراسلت شروع کردی، علامہ اقبالؒ نے مولانا مودودیؒ سے وعدہ کیا کہ وہ بھی سال میں چھ مہینے اس ادارے میں گزاریں گے، اس پر مولانا مودودیؒ نے چودھری نیاز علی کے نام مکاتیب میں اس ادارے کے لیے ایک جامع خاکہ لکھ کر انہیں بھیجا، اس دوران علامہ اقبالؒ کا اصرار بھی حد سے زیادہ بڑھ گیا کہ مولانا مودودیؒ شمالی ہندوستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں۔ چنانچہ مولاناؒ نے چودھری نیاز علی کو دہلی میں ملنے کا کہا۔ دہلی میں اس معاملے میں بات چیت ہوئی، مولانا مودودیؒ کچھ قائل ہوگئے، چنانچہ اگست 1937ء کے اواخر میں دونوں صاحبان جالندھر سے ہوتے ہوئے لاہور آئے اور علامہ اقبالؒ سے ملاقات کی، جس میں طے پایا کہ علامہ اقبالؒ سال میں چھ ماہ پٹھان کوٹ میں گزاریں گے۔ ان ملاقاتوں میں جمال پور (پٹھان کوٹ) کے اس مدرسے کا نام مولانا مودودیؒ نے ’’دارالسلام‘‘ تجویز کیا جسے علامہ اقبالؒ نے انتہائی پسند فرمایا۔ اس دوران میں وہ حیدر آباد چلے گئے تاکہ اپنا سازوسامان لے آئیں۔ وہ اپنا سامان لے کر 18 مارچ کو پٹھان کوٹ پہنچے۔ ان کا ارادہ تھا کہ جلد لاہور پہنچ کر علامہ سے ملاقات کرکے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے، لیکن 21 اپریل کو علامہ اقبالؒ انتقال کر گئے۔

حصہ