تماشہ دکھاکر مداری گیا

254

سو سال پہلے بسایا گیا شہر برباد ہونے جا رہا ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ سودی نظام کا خوش نما، خوب صورت اور جاذبِ نظر چہرہ شہری زندگی ہے۔ اس کی چکا چوند نے پوری دنیا کی آنکھوں کو ایک سو سال سے چندھیایا ہوا تھا۔ وہ شہری زندگی جس کے بارے میں اللہ نے قرآن پاک میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’دنیا کے شہروں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی خوش حالی سے چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘(آل عمران:196۔197)۔
جدید سماجی علوم اور تہذیب و ثقافت کا سب سے بڑا موضوع ہی شہری زندگی (Urbanization) ہے۔ دنیا کے ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اس کرۂ ارض کے چہرے پر بڑے بڑے شہر، دراصل چیچک کے وہ داغ ہیں جنہیں رنگوں اور روشنیوں سے خوش نما، پُرکشش اور مسحورکن بنایا گیا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کی یہ زندگی اردگرد کے پُرسکون علاقوں میں رہنے والوں کو کسی طلسم ہوشربا کے دروازے کے باہر کھڑی اپسرا کی طرح دکھائی دیتی ہے، جس کے سحر میں گرفتار ہوکر وہ شہر کی زندگی کے اسیر ہوجاتے ہیں۔ جدید زندگی کا سب کچھ ہی تو شہر میں اکٹھا کردیا گیا ہے۔ صحت، تعلیم، تفریح، تعیش، تماشا، فن، یہاں تک کہ مذہبی مراکز بھی بڑے بڑے شہروں کی زینت بنادیے گئے ہیں۔ ہر کسی کو اس کے ذوق کا سامان یہاں میسر آتا ہے۔ لیکن یہ شہری زندگی انسان سے اس کا بے ساختہ پن چھین لیتی ہے۔ اسے ایک مصنوعی زندگی کا اسیر کردیتی ہے۔ سرمایہ کمانا، اور اس سے شہر کو مزید خوبصورت، جاذب نظر اور مسحورکن بنانا ہی شہری زندگی کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ دنیا کا ہر بڑا جائز کاروبار یہیں ہوتا، اور ہر ناجائز اور جرائم پیشہ دھندے کا مرکز بھی شہر ہی ہوتا ہے۔ منشیات فروشی سے لے کر جوئے کے اڈوں تک، اور جسم فروشی سے لے کر انڈر ورلڈ قتل و غارت تک سب شہری زندگی کے تحفے ہیں۔
شہر اور تہذیبی مراکز کے آثار ہزاروں سال سے زمین پر موجود ہیں۔ یہی شہر جب زمین پر اللہ کی بادشاہی و حکمرانی کے منکر ہوئے اور ان کی آبادیاں متکبر ہوکر خود کو مالکِ حقیقی اور فرماں روائے کُل سمجھنے لگیں تو اللہ نے تیز آندھیوں، زلزلوں، چنگھاڑوں اور طوفانوں سے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا، اور آج یہ شہر عبرت سرائے دہر ہیں۔ پانچ ہزار پانچ سو سال قبل مسیح میسو پوٹیمیا آباد ہونا شروع ہوا، تو ایک ہزار سال بعد مصر منظرعام پر آیا، اور اس کے ڈیڑھ ہزار سال بعد ہڑپہ و موہن جوڈارو۔ ایک شہر برباد ہوتا اور دوسرا آباد ہوجاتا۔ وقت گزرا، دنیا آگے بڑھی تو زمین پر ایک سے زیادہ مراکز بنتے چلے گئے۔ رومی، ایرانی، چینی، ہندوستانی… یہ سب شہری زندگیاں رکھتے تھے۔ یہ سب مراکزِِ اقتدار و تہذیب بھی تھے، لیکن تہذیبی طور پر ایک دوسروں سے مختلف اور فاصلوں پر تھے۔ مگر گزشتہ سو سال سے دنیا میں جو جدید تہذیب و تمدن پروان چڑھایا گیا ہے، اُس نے پوری دنیا کو ایک بہت بڑے شہر میں تبدیل کردیا ہے۔ کھانے پینے، ملبوسات، تفریح، تعلیم، علاج، رہائش، کاروبار، معیشت و معاشرت، سب کے سب یکساں اور ایک ہی سانچے میں ڈھال دیے گئے ہیں۔ بینک کی عمارتوں سے کریڈٹ کارڈ تک، ذرائع آمد و رفت سے خوراک اور تفریح تک، سب کچھ ایک جیسا ہے۔
یہ دنیا دراصل ایک بڑا گائوں نہیں بلکہ بڑا شہر ہے۔ گاؤں کی صدیوں پرانی زندگی مختلف ہوتی ہے اور وہ ویسے ہی چلی آرہی ہے… پُرسکون، پُراطمینان اور فکر و فاقے سے آزاد۔ گاؤں کی دنیا جو محنت کرتی ہے، خود بھی اپنے لیے رزق اُگاتی ہے اور دنیا میں بسنے والے شہری انسانوں کے رزق کا بھی بندوبست کرتی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے، سو سال سے آباد اس شہری زندگی کا پُررونق بازار مکمل طور پر بند ہوچکا ہے۔ یہ بازار پہلے بھی کبھی کبھار کچھ دیر کے لیے بند ہوتا تھا، لیکن اسے بند کرنے والی طاقتوں کو علم ہوتا تھا کہ وہ اسے کتنی دیر بعد کھولیں گے۔ یہ جنگوں میں اجڑتا، بند ہوتا، اور تباہ بھی ہوتا، لیکن جنگ روکنا انسان کے بس میں تھا۔ بلکہ وہ تو جنگ کو بھی اکثر آمدن کے ذریعے اور کاروبار کی وسعت کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ لیکن اِس دفعہ جو یہ بازار بند ہوا ہے، حیرت سے ہر کوئی گنگ ہے۔ ماہرِ معاشیات ہو یا سیاسیات، میڈیکل سائنس کا جاننے والا ہو یا تحقیق کے میدان کا مسافر… کوئی بھی یہ تجزیہ کرنے یا آئندہ آنے والے دنوں کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں ہے کہ کب تک یہ شہری زندگی دوبارہ بحال ہوسکے گی۔
سودی معاشی نظام کی شہری بساط اجڑ چکی ہے۔ شاید یہ سب کچھ اگلے کئی مہینوں یا برسوں تک واپس نہ لوٹ سکے۔ یہ شہری زندگی جس سرمائے کی بنیاد پر استوار کی گئی تھی وہ جعلی کاغذی کرنسی تھی۔ اس کرنسی کے تحت 1945ء میں ڈالر کو مرکزی حیثیت دے کر اسٹینڈرڈ بنایا گیا تھا۔ قانون بنا کہ ہر کرنسی کے نوٹ چھاپنے کے لیے حکومتوں کے پاس اس کے مطابق سونا ہونا لازمی ہوگا۔ لیکن پھر اس سونے کے معیار اور اسٹینڈرڈ کو 1973ء میں بدل دیا گیا، اور یہ طے پایا کہ ہم بتائیں گے کہ فلاں ملک کی معاشی صلاحیت (Goodwill) کتنی ہے، اور یوں اس کی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں طے کی جائے گی۔ لیکن ڈالر کو مستحکم کرنے کے لیے اسے جدید شہری دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ’’پیٹرول‘‘ کے ساتھ وابستہ کردیاگیا۔ پیٹرول سے ڈالر کی وابستگی کو قائم رکھنے کے لیے مسلم دنیا کی سلطنتوں کو اجاڑا گیا، برباد کیا گیا، اور ظالموں، آمروں کو ان کی رعایا پر مسلط کیا گیا۔ لیبیا سے لے کر عراق تک ہر جگہ خون بہایا گیا تاکہ پیٹرول ڈالر سے وابستہ رہے، اور ڈالر عالمی مالیاتی نظام کی مرکزی اینٹ کے طور پر قائم رہے۔ آج یہ مرکزی اینٹ دھڑام سے گررہی ہے۔ جس پیٹرول نے کرنسی کو بلندی پر لاکھڑا کیا تھا، وہ گرا ہے تو اس کے ساتھ ہی ڈالر اور ہر کاغذی کرنسی کا زوال بھی شروع ہوگیا۔ آج اس نظام کو قائم کرنے والے یہ سب کے سب بے بس ہیں۔
امریکی تیل صفر سے کم قیمت پر آیا ہے اور باقی زوال کے راستے پر گامزن ہیں۔ یہ زوال صرف اور صرف کورونا کے ہاتھ میں ہے۔ کورونا کا نادیدہ ہاتھ جس نے اسے آسمان سے زمین پر گرا دیا ہے۔ دنیا کا کوئی ماہر معاشیات و اقتصادیات، سائنس دان اور محقق یہ نہیں بتا سکتا کہ تیل کب مہنگا ہوگا اور اس کے ساتھ وابستہ ڈالر اور مالیاتی نظام کب دوبارہ زندہ ہوگا۔ اس لیے کہ پوری دنیا میں سو سال سے آباد شہری زندگی پر موت کا سناٹا طاری ہوچکا ہے۔ جب تک بازار دوبارہ رنگ و روشنی سے آباد نہیں ہوتا، پورا مالیاتی نظام دھڑام سے گرتا چلا جائے گا۔ روزانہ آسمانوں پر بلند ہونے والے ہزاروں جہاز، ٹرینیں، بسیں اور کاریں خاموش ہوچکی ہیں۔ دنیا کے سمندروں کا سینہ چیر کر تفریحی بحری سفر (Cruise) کی 150 ارب ڈالر کی انڈسٹری بند ہے۔ ریسٹورنٹ، بار، کلب، فوڈ کورٹ ویران ہیں۔ میوزیکل کنسرٹ، فیشن شوز، اسپورٹس ناممکن ہوچکے۔ ورزشوں کے جم، مساج پارلر، جوئے کے کیسینو، سنیما گھر، تھیٹر، اوپیرا اجڑ چکے۔ وہ، جو کبھی شہر کا وسط (City Center) کہلایا کرتا تھا، اب قبرستان کا منظر پیش کررہا ہے۔ یہ سب اس سودی مالیاتی نظام کا خوب صورت چکا چوند چہرہ تھا، جس کا بیمار جسم اب قرنطینہ ہی نہیں، کوما میں پڑا ہے اور اس کے بارے میں کسی کو کچھ اندازہ نہیں کہ کب اس کا قرنطینہ ختم ہوگا اور کب یہ کوما سے نکلے گا۔ جب تک یہ مریض سودی نظام کورونا کے بستر پر لیٹا ہوا ہے، جعلی کاغذی کرنسی کا زوال جاری رہے گا، اور یقینا وہ دن قریب ہے جب سید الانبیاؐ کی بات سچ ہوکر رہے گی کہ ’’ایک وقت بنی آدم پر آئے گا جب کوئی چیز سوائے درہم (چاندی)، دینار (سونے) کے کام نہ آئے گی۔‘‘ (مسند احمد) ۔
ایک سو سال بعد سودی سرمایہ دارانہ نظام اپنی موت کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی کوکھ سے ایک انقلاب جنم لینے والا ہے۔

حصہ