گھر کی گواہی

131

بابائے کراچی نعمت اللہ خان کی گھریلو زندگی کے بارے بارے میں ان کی بہو اور بیٹیوں سے گفتگو

شیخ سعدیؒ کا قول ہے: ’’بوڑھوںکا مشورہ جوانوں کی قوتِ بازو سے زیادہ وقیع ہوتا ہے‘‘۔ کیوںکہ ان کے ہاتھ میں تجربات کی روشن مشعل ہوتی ہے۔ یہ مقولہ نعمت اللہ خان کے معاملے میں سو فیصد نہیں بلکہ دو سو فیصد درست ہے۔ نعمت اللہ خان نے بہت حوصلے، جواں مردی اور اپنے تجربات کی روشن مشعل سے کراچی کو جس طرح دوبارہ روشنیوں کے شہر میں تبدیل کیا، یہ اُن کا ہی کام تھا۔
کراچی 2001ء میں کیا تھا؟ اس کو ابلتے گٹر، کچرے کے ڈھیر، دھول اڑاتی ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بدترین مسائل کا مجموعہ قرار دیا جاسکتا تھا۔ پھر سب سے بڑھ کر امن وامان کے مسائل تھے۔ خوف و دہشت کا راج، ہڑتالیں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ فضا میں گونجتی تھی۔ حکومت خواہ کسی کی ہو، نائن زیرو پر حاضری لگانے میں ہی عافیت سمجھتی تھی۔ سو، گولی برداروں کے سامنے گھٹنے ٹیکتی رہی۔ ایسے حالات میں نعمت اللہ خان جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے، اور جب 2001ء میں نعمت اللہ خان نے ستّر سال کی عمر میں کراچی کے میئر کی حیثیت سے نظامت سنبھالی تو اس عمر میں جب کہ عام طور پر لوگ بستر کے ہو کر رہ جاتے ہیں، لیکن ان کی طرح اللہ کے خاص بندے اللہ کے بندوں کی خدمت پر کمرکس لیتے ہیں، اور اللہ بھی اپنی قدرت سے انہیں خاص قوتیں عطا کرتے ہیں۔
کراچی کے سٹی ناظم کی ذمہ داری سے قبل بھی سندھ اسمبلی کے رکن، دس سال تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور الخدمت کے صدر اور سرپرست بھی رہے۔ یعنی جوانی سے لے کر بڑھاپے تک انہوں نے ایک انتہائی مصروف زندگی گزاری۔ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض بھی رہے، لیکن ان امراض کو اپنی مصروفیت کی راہ میں آڑے نہ آنے دیا۔ یہ سب ذمہ داریاں انہوں نے کیسے ادا کیں؟ اس کے لیے ہم نے اُن کے گھر کی گواہی کی طرف رجوع کیا، لہٰذا گزشتہ دنوں ہم نے نعمت اللہ خان کی بہو عفت، جن کے ساتھ وہ آخری وقت تک رہے، ملاقات کی، جہاں ان کی ایک اور بہو صباحت اور دونوں بیٹیاں لبنیٰ اور افشاں بھی آگئیں۔ ہم نے اُن سب سے نعمت اللہ خان صاحب کی گھریلو زندگی اور روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں بہت سی باتیں کین، جن کو ہم یہاں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کررہے ہیں۔
عفت بتاتی ہیں کہ میں ان کی سب سے بڑی بہو ہوں، میری شادی ہوئی تو میری ساس حیات تھیں۔ تین سال بعد ان کا انتقال ہوا۔ ابا جان ایک بڑے خاندان کے سربراہ تھے۔ ان کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ خود ان کے دو چھوٹے بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ایک بہن کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا، ایک بہن کی شادی انہوں نے خود کی، وہ بتاتے ہیں کہ انڈیا سے سولہ سال کی عمر میں پاکستان آئے تھے، ابتدا میں جھونپڑی میں رہائش اختیار اور وہیں بہت عرصہ رہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کی۔ جھونپڑی میں ہی رہ کر انہوں نے بہن کی شادی کی۔ میں نے اپنی شادی کے بعد سے ہمیشہ ابا جان کو انتہائی مصروف دیکھا، وہ اپنے آفس کے کام چار بجے تک کرتے تھے اور اس کے بعد جماعت کے آفس چلے جاتے تھے جہاںسے گیارہ بارہ بجے تک واپس آتے تھے۔
سٹی ناظم بننے کے بعد یہ تبدیلی آئی کہ صبح آٹھ، نو بجے کے درمیان اپنے بلدیہ کے آفس جاتے تھے اور رات واپسی کا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ کبھی رات بارہ، ایک بجے بھی واپس آتے تھے۔ ان کے لیے دوپہر کا کھانا گھر سے جاتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کھانا واپس آجاتا کہ انہیں کھانے کا وقت نہ ملتا۔ بس چائے کے ساتھ کچھ ہلکا پھلکا کھا لیتے۔ رات کو جب بارہ بجے گھر آتے تو کھانا کھاتے۔ کبھی کسی شادی سے آرہے ہوتے، کہ لوگ ان کو اپنی تقریبات میں بہت بلاتے تھے، وہ اپنے آفس سے اٹھ کر شادی میں چلے جاتے اور رات ایک بجے واپسی ہوتی۔ ہم لوگ سمجھتے کہ کھانا تو کھالیا ہوگا، پتا چلتا نہیں کھانا نہیں کھایا۔ کہتے: لوگ تو مجھے سیدھے اسٹیج پر لے جاتے ہیں، تصویریں کھنچوا کر خوش ہوتے ہیں۔ سوچیں، ایک شخص جس نے دن بھر بس ہلکا پھلکا ہی کھایا ہو، تھکا ہوا ہو، لیکن صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے آفس سے اٹھ کر شادی میں چلا جائے! کوئی اور ہو تو یہی کہے کہ ’’نا بھئی، مجھے گھر جاکر سونا ہے‘‘۔ لوگوں کا بہت خیال تھا، لوگوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس میں اپنوں اور پرایوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ ہر ایک کی مدد کرتے تھے۔ آج تک ان کے لیے فون آتے ہیں، لوگ خود آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا بڑا احسان ہے ہم پر… مزے کی بات یہ کہ نہ بیٹے جانتے ہیں، نہ کوئی اور ان لوگوں کو پہچانتا ہے۔ بس معاملہ یہ تھا کہ جو کوئی ان کے پاس آتا تھا وہ اُس کی مدد نہ کریں ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔
پرویزمشرف کے دور میں عافیہ صدیقی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی، اُن کی والدہ کے پاس گئے۔ یہ اُس دور کے لحاظ سے بڑی بات تھی۔ پی پی کی شہلا رضا اُن کی تعزیت کے لیے گھر آئیں تو بتایا کہ میرے بچوں کا ایکسیڈنٹ ہوا تو انہوں نے کہا کہ تم میری بیٹی ہو، میں تمہارا کیس فائل کروں گا۔ اور کیا، اُس وقت کی صوبائی حکومت کے خلاف۔
بشریٰ زیدی کے لیے کھڑے ہوئے۔ وہ نہ ڈرنے والے تھے نہ دبنے والے۔ مزے کی بات یہ کہ ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ وہ سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں۔
غصہ کیسا تھا؟ خاص طور سے بیٹوں پر غصہ ہوتے تھے؟
بیٹے انتہائی فرماں بردار تھے، کسی کی مجال نہ تھی کہ ان کے آگے بولے۔ میرے شوہر سب سے بڑے بیٹے ہیں، کسی کسی کے معاملے میں بات کرلیتے تھے کہ ایسے نہیں ایسے ہو تو بہتر ہو شاید۔ لیکن انہوں نے ابتدا سے ایک طریقہ بنا کر رکھا۔ ساس کا انتقال ہوگیا، ان کے بعد سب بچوں کو بلاکر میرے شوہر اور مجھے ذمے داری سونپی۔ انہوں نے کہا کہ ’’قدرت اپنا نظام بھی ایسے چلاتی ہے کہ کوئی ایک ذمہ دار ہوتا ہے، لہٰذا کسی ایک کو بڑا بنانا ضروری ہوتا ہے تاکہ معاملات ٹھیک طریقے سے چلیں‘‘۔ اس کے بعد سے گھر کے معاملے میں کوئی بات ان کو محسوس ہوتی تو مجھ سے ہی کہتے تھے۔ کہتے تھے کہ جس کو ذمہ داری دی جائے اسی سے پوچھ گچھ کرنا چاہیے۔ کراچی کی نظامت میں بھی ان کا طریقہ کار کچھ ایسا ہی تھا۔
تو آپ کی تو خوب پکڑ ہوتی ہوگی… کیا آپ سے ناراضی ہوتی تھی یا ڈانٹ ڈپٹ؟
انہیں غصہ کم آتا تھا، لیکن جب آتا تھا تو بہت زور سے آتا تھا۔ ناراض ہوجاتے تھے۔ پھر منانا ہوتا تھا، اور دیر سے مانتے تھے۔ انہیں گھر والوں پر مان تھا کہ اگر وہ غصہ ہوں تو انہیں منایا جائے، اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔
ایم کیو ایم کا انتہائی دھمکیوں اور دھونس والا دور دیکھا۔ پریشر بہت ہوتا تھا ان پر، لیکن ظاہر نہیں کرتے تھے، حالانکہ جب ناظم بنے تو ستّر سے زیادہ عمر تھی، بائی پاس بھی ہوچکا تھا۔
خاندان میں انہیں وقت ملتا تھا ملنے ملانے کا…؟
خاندان خاصا بڑا تھا، پھر مشترکہ خاندانی نظام تھا، لوگ بہت ملنے آتے تھے، وہ بہت خوش ہوتے تھے۔ ناظم آباد کا گھر خاندان کے ایک مرکز کی طرح تھا۔ مہمان داری کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے، خاص طور پر اس بات سے کہ معاملات ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے ان کی بیوی یعنی میری ساس کے دور میں چلتے تھے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو ہر ایک کے لیے آئیڈیل نہیں ہوتیں، لیکن ابا جان سارے معاملات انتہائی حکمت اور عدل کے ساتھ چلاتے تھے۔
اللہ سے اُن کے تعلق کے بارے میں بتایئے؟
ابا جان ایسے انسان تھے جو دیکھنے میں، اخلاق میں اور عمل میں ایک متقی کا نمونہ تھے۔ کوئی خانہ خالی نہ تھا۔ خواہ رات کے بارہ بجے گھر آئیں یا ایک بجے، تہجد ضرور پڑھتے تھے۔ راتوں کو انہیں دعائیں مانگتے دیکھا ہے۔ وہ ایسے مانگتے تھے جیسے کوئی فقیر مانگتا ہے۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں بہہ رہی ہوتیں۔ رمضان میں تراویح کا اہتمام کرتے تھے۔ آخری برسوں میں جب دور کی پسندیدہ قرأت والی مسجد میں نہیں جاسکتے تھے تو قریب کی مسجد میں جاتے تھے۔ کپڑے پاک رکھنے کا اہتمام کرتے، عید کے دوسرے دن سے ہی شوال کے روزے شروع کردیتے تھے، یہ ہمیشہ کی بات تھی۔
لوگوں کی مدد میں ہاتھ انتہائی کھلا تھا۔ کہتے تھے کہ میں پیسے سے جتنا بھاگتا ہوں پیسہ اتنا ہی میرے پیچھے بھاگتا ہے۔ سفر پر جاتے تو جیب میں پیسے نہیں رکھتے تھے۔ بیٹے پانچ دس ہزار ڈال دیتے تھے۔ لیکن دوسرے شہر پہنچ کر وہ پیسے جماعت کے دفتر میں دے آتے۔ کہتے: پیسے کی کیا ضرورت ہے! جماعت کے دفتر میں رکنا ہے، وہیں کھانا کھانا ہے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر جانا ہے۔
کپڑوں اور کھانے میں کچھ خاص پسند تھا؟
ابھی چند ماہ پہلے ہی اُن سے پوچھا تھا کہ کیا پسند ہے؟ وہ بنا لیتے ہیں۔ کہنے لگے: چنے کی دال گوشت۔ ویسے ہر طرح کے دیسی کھانے شوق سے کھاتے تھے۔ ناشتے میں روغنی ٹکیاں اور لسی بہت پسند تھی۔ کپڑے بس سفید اور صاف پہنتے تھے۔ ایک مزے کی بات بتائوں، چند سال قبل کشمیر گئے، ان کے بیٹے نے لندن سے ایک بہت مہنگا سوئٹر لاکر دیا تھا، وہ وہاں کسی کو دے آئے اور اُس کا پرانا سوئٹر پہن کر آگئے۔
آخری وقت کی کوئی بات بتائیں۔
آخری چند دنوں میں اپنی والدہ اور بہن بھائی جن کا انتقال ہوگیا تھا، کو بہت یاد کرنے لگے تھے، انہیں آوازیں دیتے تھے، بلکہ دو، تین دن میری ساس کو پکارا: طاہرہ … طاہرہ۔ بیٹے نے کہا: کیا پوتی کو بلا رہے ہیں؟ کیوں کہ طاہرہ پوتی کا نام بھی ہے۔ کہنے لگے: نہیں، اپنی بیوی کو بلا رہا ہوں۔
انتقال انتہائی پُرسکون انداز میں ہوا، پتا ہی نہ چلا، لمحوں میں اللہ نے اپنا پیارا بنا لیا۔
عفت خاموش ہوئیں تو سب کی آنکھیں نمناک تھیں۔ وہ یقینا اللہ کے ولی تھے اور ان شاء اللہ، اللہ ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کریں گے،آمین۔
بقول شاعر:۔

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تُو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک دنیا تھی

اہلِ کراچی اور ان کی ہم دم، ہمنوا جماعت اسلامی کی محبت کا ایسا ہی معاملہ ہے کہ:۔

مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے
میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

حصہ