پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ دمن

182

صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والی ڈاکٹر حسین بانو کے ساتھ گفتگو

شعبہ تشہیر و ترویج جامعات المحصنات پاکستان
سوال :آپ کا نا م اور تعارف؟
جواب:میرا نام حسین بانو ہےجس گھرانے میں ،میں نے آنکھ کھولی اس میں ماں کے ساتھ دادا،دادی کا شفیق سایہ بھی رہا ۔میرے چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں والد صاحب نے اپنا نوجوانی کا دور جماعت اسلامی کے ساتھ گذارا ۔ گھر میں درس ِ قرآن ہوتے تھے ،رابعہ خالہ رکنِ جماعت اور زون کی ذمہ دار تھیں ان کی ہی تحریک پہ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد مشہور دینی درسگاہ ’’جامعۃ المحصنات‘‘میں قدم رکھا۔دینی تعلیم سے فراغت کے بعد کراچی کی معروف جامعہ’’جامعہ کراچی’’ سے یکے بعد دیگرے دو مختلف مضامین اسلامیات اور بین الاقوامی تعلقات ‘‘میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔اعلی تعلیم کے حصول کے اسی جذبہ نے چین سے نہ بیٹھنے دیا اور فیڈرل اردو یونیورسٹی میں ایم فل میں داخلہ لیا اوربین الاقوامی تعلقات میں’’خارجہ پالیسی‘‘کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کا عنوان بنایا اورالحمد للہ ۲۰۱۶ میں بعنوان ’’حضور نبی ٔ کریم ﷺ کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کے اہم موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا اور فیڈرل اردو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
سوال :اپنی موجودہ کامیابی کی تفصیل بتائیں ؟
جواب:مجھے بچپن ہی سے علمی شغف اور مطالعہ کا خاصہ شوق تھا ۔جس کی وجہ سے تحریر کے اصولوں سے خاصی واقفیت ہونے کے سبب لکھنےکا شوق دل میں جاگزیں ہوا۔اساتذہ کی شفقت اور راہنمائی نے اس شوق کو چار چاند لگادئیے ،محنت ،لگن ،جستجو ،لکھنے کی خواہش اورقلمی جہاد کی اہمیت نے اس شوق کو عملی جامہ پہنایا اور ابتداََ مراسلے اور کہانیاں لکھنا شروع کیں اور ایک افسانہ بنام ’’چوڑیاں‘‘لکھا جس کو ۲۰۰۴ میں”وومن اینڈ رائٹرزفورم ٗ”کی جانب سے اول انعام کا حقدار ٹہرایا گیا۔انعام ملنے سے دوست و احباب کی جانب سے خوب سراہاگیا اور اسی کی وجہ سےتحریر و ادب کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور کچھ کر دکھانے کا داعیہ پیدا ہوا۔تحریر کے اسی شوق نے حکومت ِ پاکستان کی جانب سے ہونے والے سالانہ پروگرام بنام’’سیرت النبی ﷺ کانفرنس‘‘کے لیے مضامین بھی تحریر کیے۔
میرے پی ایچ ڈی کے مقالہ کا عنوان چونکہ خارجہ پالیسی اور سفارت کاری ہے جو کہ ریاست کے لیے ایک اہم جزواور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔دور ِ حاضر میں بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔اس لیے اساتذہ اور احباب کی جانب سے اس سے استفادہ کی خواہش ظاہر کی گئی ۔مسلسل اصرار کے بعد اس مقالہ کو کتابی شکل میں شائع کیا ۔جامعۃ المحصنات کراچی میں کتاب کی تقریب رونمائی کے لیےبڑی تعداد میں خواتین کو مدعو کیا جن میں سرِ فہرست عائشہ منور صاحبہ ،دردانہ صدیقی،اسماءسفیر ،امت الرقیب خالہ جان تحسین فاطمہ ،شاہین فاطمہ ،،فریدہ جمیل ،میڈیا پرسن میں غزالہ عزیز ،اسریٰ غوری ،اور کالج کی پروفیسرز روبینہ باجی،شیریں مسعود کے علاوہ میری والدہ محترمہ ،جامعہ کے اول بیج کی طالبات اور دیگر مہمانان نے شرکت کی۔کتاب پہ تبصرے بھی ہوئے ۔یہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور یادگار لمحات تھے جس کو میں تا زندگی فراموش نہیں کر سکتی ۔مجھے اس موقع پر بہت خوبصورت شیلڈ دی گئی ۔
اس کتاب کو وزارتِ مذہبی امور حکومت پِاکستان کی طرف سےسیرۃ النبی ایوارڈ ملا ،اس موقع پہ حکومت کی جانب سے نقد انعام سے بھی نوازا گیا۔ الحمدللہ ،اس خوشی میں مزید چار چاندتب لگے جب قیمہ پاکستان محترمہ دردانہ صدیقی صاحبہ ،عائشہ منور صاحبہ ،نے اعزازی شیلڈ دی۔ الخدمت ٹیلنٹ ایوارڈ شو میں محترمہ منور اخلاص صاحبہ نے تحائف دیئے ۔تنظیم اساتذہ پاکستان نے بھی مجھے ٹیلنٹ ایوارڈ شو میں بلایا اور شیلڈ دی ۔بحریہ کالج میں بھی اسی نوعیت کی میرے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب منعقد کی گئی ۔ الحمدللہبحریہ کالج سے وابستہ ہونے کی وجہ سےاسکول و کالج کی ٹیچرز کہتی ہیں کہ ہم بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہماری ساتھی پی ایچ ڈی ہیں ،بڑی خوشی ہوتی ہے اب ٹیچرز میں بھی ذوق پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی کیریئر کوآگے بڑھائیں۔
سوال :جامعۃ المحصنات میں داخلے کے لیے کیا جذبہ محرک بنا؟
جواب:جامعۃ المحصنات کے اول بیج کے لیے جب ایڈمیشن ہورہے تھے اس وقت میری خالہ مجھے جامعہ لے کر گئیں ،پڑھنے کا مجھے بہت شوق تھا ،ہوسٹل میں رہنا لازمی تھا ،گھر آکر والد مرحوم سے کہا کہ جامعۃ المحصنات میں جانا ہے ،والد صاحب نے کراچی کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے داخلہ لینے سے منع کر دیا۔خالہ آئیں انہوں نے ابو کو بہت کہا مگر اجازت نامے پہ سائن نہیں کیے،10محرم الحرام کا دن تھا سب گھر میں تھے میں نے روزہ رکھ لیا ،روزہ پانی سے کھول کر کچھ نہیں کھایا ،دادا کے کمرے میں جاکر بیٹھ گئی ،ناراضگی کے اظہار کے طور پر پھر دادا کے کہنے پر ابو نے سائن کیے ،میرا جامعہ میں داخلہ ہوا اور ٹھیک چھ ماہ بعد میرے والد صاحب اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔امی سے کہتے تھے کیسی ظالم ماں ہو بیٹی کو بھیج کر کیسے نیند آئے گی ۔پھر خود چلے گئے ،یہ میری زندگی کہ مشکل ترین لمحات تھے اس میں بھی امی اور میڈم نے مجھے بہت سہارا دیا۔
سوال:درس نظامی اور عصری علوم کی مشترکہ تعلیم میں کن مشکلات کا سامناہوا اور ان مسائل کو کیسے حل کیا؟
جواب:میں نے آپ کو بتا یا تھا کہ میں جامعہ المحصنات کراچی کے اول بیج کی طالبہ رہی ہوں تو اس وقت میڈم زینت حسین صاحبہ اور شاہین فاطمہ ہماری پرنسپلز تھیں یہ دونوں انگلش میں مکمل دسترس رکھتی تھیں اس لیے انہوں نے ہمیں یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھائی کہ آپ نے کس طرح باہر کی دنیا کا مقابلہ کرنا ہے ۔ دوسالہ الثانویۃ الخاصۃ کورس میں انٹرمیڈیٹ بھی شامل تھا اس لیے ہمارے 24 گھنٹوں کی پلاننگ،مختلف Skillsکوسکھایا گیا ،مجھے یاد ہے کہ ہماری انگلش کی ٹیچرز کے ساتھ لینگویج سکھانے کے لیے امینہ مراد صاحبہ ہماری کلاس لیتی تھیں اورکٹنگ وسلائی کا کورس،ایکےبانا (ڈرائی فلاورز میکنگ)کوکنگ کلاسسز ،رائٹرز فورم کی کلاسسز جس میں اسٹوڈنس کو مراسلہ نگاری اصلاحی کہانیاں بھی لکھنا سکھایا گیا ۔
اس لیے مجھے جامعہ میں پڑھنے اور اس کے بعد سات سال پڑھانے کے بعد کسی بھی میدان میں کہیں بھی مشکلات کا سامنا نہیں ہوا ۔ الحمد للہ میڈم زینت سے میرا تعلق آج بھی قائم ہے ان سے میں رہنمائی لیتی رہتی ہوں ۔ یونیورسٹی میں بھی حجاب کی وجہ سے کافی عزت ملی ،مجھے یاد ہے جب میں یونیورسٹی کا خاک چھان رہی تھی کہ مجھے پی ایچ ڈی میں داخلہ مل جائے تو ایک خاتون نے کہا کہ بی بی آپ جاؤ آپ کہاں اس چکر میں پڑ رہی ہومگر پھر یونیورسٹی کی ہی انتظامیہ میں سے ہی لوگوں نے میرا ساتھ دیا اور ایک سال کے دھکوں کے بعد داخلہ ملا۔پی ایچ ڈی کو دوران IOBM
میں visiting Lecturer ہوں ۔ ماحول ظاہر ہے کہ وہاں کا بہت مختلف ہے مگر میں ایک خدمت سمجھ کر یہ جاب کرتی ہوں ۔بحریہ میں جس وقت میرا فائنل انٹر ویو تھا میں نے کیپٹن خالد صاحب کو کہا تھا کہ سر میں برقعہ نہیں اتاروں گی سر نے کہا کہ ہمیں کوئی پرابلم نہیں ہے ۔ الحمدللہ
سوال :آپ کےمشاغل ؟
جواب:زندگی کے لمحات کو فضول کاموں میں ضائع کرنا گناہ سمجھتی ہوں ہر روز اپنے کاموں کی رات کو ہی پلاننگ کر لیتی ہوں ،لکھنا،درسِ قرآن دینا ،روزانہ کالج جانا،اس کے علاوہ الخدمت بلوچستان کا کام کر رہی ہوں اپنا ویک اینڈ زیادہ تر وہیں گزارتی ہوں ،فریدہ آنٹی کے ساتھ کام کرتی ہوں اس وقت ناصرہ الیاس ماڈل اسکول وندرکو چلا رہی ہوں ۔آنٹی نے تعلیمی ذمہ داری مجھے دی ہے اور حلیمہ باجی کے ساتھ دعوتی کام بھی وندر میں کر رہی ہوں ۔
سوال :جامعہ کی تعلیم عملی زندگی میں کس طرح معاون ہوئی ؟
جواب:ہمیں تو کلمہ کا مطلب بھی جامعہ میں جاکر معلوم ہوا تھا۔۔۔۔۔ہم عملی مسلمان ہی جب بنتے ہیں جب ہمارے پاس علم کی دولت ہو ۔ اللہ تعالیٰ تیرا کروڑوں بار شکر ہے کہجامعہ کی تعلیم نے دین اسلام کی نعمتوں سے نوازا۔
سوال : آپ نے اپنی کتاب کے لیے حضور ص کی خارجہ پالیسی کے موضوع کا انتخاب کیوںکیا۔۔؟
جواب: “حضور ص کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری” یہ کتاب میری پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ ہے اور اس موضوع پر لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے یہ آیت “ادخلو فی السلم کافۃ”(ترجمہ )اسلام میں مکمل داخل ہوجائو” جب سے پڑھی اور سمجھی ہے بہت پسند ہے۔ امت مسلمہ کی بد حالی اور زبوں حالی کی وجہ یہی ہے کہ ہم قرآن کے ایک حصہ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے دوسرے حصے کو نہیں مانتے جو دین میں ہمیں آسان لگا ہم نے اسے اختیار کیا اور جو ہمیں مشکل لگا ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ قرآن ہمیں اسلام کو مکمل اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے نیز نبی کریم ص کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ آپ ص نے نبوت کسے پہلے کہ چالیس سال صدق و شرافت میں گزارے۔ اس کے بعد تیرہ سال دین اسلام کی تبلیغ کی ساتھیوں کے ایمان کی حالت کو مضبوط وتوانا کیا پھر مدینہ کی ریاست ملنے کے بعد دس سال جہاد میں زندگی گزاری ۔مدینہ کی ریاست کو امن میسر آیا بیرون ملک معاہدات کیے، خطوط لکھے، غزوات و سرایا بھی کیے مگر ایک مضبوط اسلامی ریاست قائم کی۔ تو ہم اس پہلو کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں ؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کے وہ کون سے آفاقی اصول ہیں جن کو اپنا کر مسلمانوں نے کئی صدیاں حکومت کی میں نے اس موضوع پر لکھا ۔اس سے قبل مولانا مودودی نے اسلامی ریاست کا باب لکھ کر ہمیں ایک بنیاد فراہم کردی ڈاکٹر حمید اللہ ص نے آپ ص پر مختلف کتابیں لکھیں کیونکہ ڈاکٹر حمید اللہ بین الاقوامی تعلاقات میں پی۔ایچ۔ڈی تھے تو ان کی کتابوں سے بہت رہنمائی ملی۔۔
سوال :کتاب کو لکھنے میں آپ کو کیا مشکلات درپیش آئیں۔۔۔۔۔۔؟
جواب:م کوئی بھی کامیابی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتی اور جب کچھ عزم مصمم ہو تو راہ میں حائل دشواریاں آپ کے منزل پر پہنچنے کی نوید دیتی ہیں۔ آج سے دس سال قبل کی دنیا اتنی جدید نہیں تھی جو اب ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا استعمال تھا مگر بہت زیادہ نہیں ان سب کو مشکلات کے ساتھ میں نے انگریزی کو بھی بہتر کیا پی۔ ایچ۔ڈی کے مراحل میرے لیےاور مشکل ہوئے کہ کی نت نئی تعلیمی پالیسی بھی آئیں ۔ HEC کی نت نئی پالیسی بھی آئیں الحمداللہ سب مشکلات آسان ہو گئیں۔ عنوان چونکہ جدید تھا اسی لیے اس پر کام کرنا اور اصل مصادر و مراجع تک پہنچا نا ، اس کے لیے میرے اساتذہ اور دیگر ساتھیوں کی رہنمائی بہت کام آئی۔اس سے اگلا مرحلہ یعنی کتاب کو چھپوانا بھی بہت اہم مرحلہ ہوتا ہے اس میں ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، محترم عارف گھانچی اور میرے چاچا سلیم وارثی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت میری کتاب کے پبلشربابر بھائی ہیں جو بہت عمدگی سے کام کو کر رہے ہیں۔ میری کتاب کی پروف ریڈنگ دوبارہ محترم عبدالمالک نے کی ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ فوزیہ سعد کر رہی ہیں۔
سوال : اس کتاب کے بارے میں آپ کو کس طرح کی آراء موصول ہوئیں ہے؟
جواب:یہ بہت خوش نصیبی ہوتی ہے کہ آپ کاکام سب کو بہت پسند آئے اور سب اس کی کھلے دل سے حوصلہ افزائی کریں۔ پہلا ایڈیشن اگر اکتوبر 2018 میں شائع ہوا تو دوسرا ایڈیشن نومبر 2018 میں شائع ہو جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ ماشاءاللہ سب نے اس کتاب پر بھر پور تبصرے کیےجس میں رفیع الدین ہاشمی (لاہور)، شفق صدیقی (ڈنمارک)، افشاں نوید ، غزالہ عزیز، ملک نواز اعوان (لاہور)، ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی، تحسین فاطمہ، عطیہ نثار شامل ہیں۔
سوال :آئندہ کے حوالے سے آپ کے ذہن میں کیا منصوبہ ہے؟
جواب:لکھنے کامجھےبہت شوق ہے اور کتابیں پڑھنے کا جنون ہے مگر آج کے دور میں ہر فرد کے ٹائم کو موبایئل بہت برباد کر دیتا ہے جس میں میں بھی شامل ہوں۔لیکن میرے استاد محترم حافظ محمد ثانی صاحب مجھے رہنمائی فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ ابھی میں پچھلے ماہ سیالکوٹ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں مقالہ پڑھنے گئی، بہت عزت و اکرام ملا ۔ مقالہ بعنوان “جماعت اسلامی کے مشاہیر و وابستگان کی خدمات سیرت” لکا، سید سلمان ندوی، ڈاکٹر یسین مظہر صدیقی اس میں شریک تھے ۔ محترم سلمان ندوی نے میرے مقالہ پر تبصرہ بھی کیا اس سے میں نے بہت سیکھا۔ الحمداللہ سفر جاری رہے گا۔ یہ تو ابتداء ہے اور میرا ناقص علم ہے مگر آئندہ آنے والی کتابوں میں “صحرا میں اذان گونجی ” اور “خلفائے راشدین کی سفارتکاری ” شامل ہے۔
سوال :آئندہ تحقیق کرنے والی طالبات کو آپ کیا پیغام دیں گی ۔۔۔؟
جواب:عزیز طالبات یہ جو کامیابیاں ہیں یہ کڑی محنت کے بعد ملنے والا ثمر ہے اس کے لیے اپنی تعلیم کی طرف توجہ دیں میڈیا اس وقت جو کردار ادا کر رہاہے وہ اسلام کے مطابق نہیں ہے ،گھر گھر ڈرامے جو دیکھے جارہے ہیں وہ ہمارے خاندانی نظام کو ختم کرنے کی چالیں ہیں رشتوں سے محبت کریں ۔صلہ رحمی اور مہمان نوازی کریں یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں ،صحابیات کے بارے میں پڑھیں ،اپنی زندگی کو اسلام کے دائرہ میں گزاریں ۔ گھر والوں کے لیے اور خاندان کے لیے اپنی اولاد کی اسلامی طرز فکر پر تربیت کریں آپ کی آخرت اچھی ہو جائے گی ۔
تحقیق کے شعبہ میں خواتین کی تعداد کم ہے پی ایچ ڈی کرنے کے دوران مجھے بھی کافی لوگوں کے حوصلہ شکن رویوں کا سامنہ کرنا پڑا مگر آپ پر عزم ہیں اور آپ میں کچھ کر دکھانے کا حوصلہ ہے تو آپ وہ کام کر لیں گئی۔
اول وقت کی قدر کریں اس کو فضولیات میں ضائع نہ کریں۔ اس کو کارآمد بنائیں ہر ایک اپنے امور کا جوابدہ ہے اس لیے سیرت مصطفے کا پیغام بھی ہے کہ گود سے گور تک علم حاصل کرو تحقیق کرنے والی طالبات کے لیے یہ پیغام ہے کہ آپ کئی تحقیق فائدہ مند ہوئے امت مسلمہ کے لیے اس میں رہنمائی ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کو علم نافع حاصل کرنے کی توفیق دے۔
مختلف زبانوں پر عبور حاصل کریں۔ حضرت زید بن ثابت سترہ زبانوں کے ماہر تھے۔ علم کے پھیلائو کے لیے یہ اپنے اوپر لازم کرلیں ۔
علم کہیں سے بھی ملے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ امت مسلمہ اس وقت جس کشمکش کا شکار ہے اس میں اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کریں۔

حصہ