میری وال سے

90

افشاں نوید
تیسری قسط
آپ کی ماسیاں سڑکوں پر ہیں۔۔۔۔
بار بار بیل بجنے کے باوجود جب بیٹے نے فون کال ریسیو نہیں کی تو میں نے کہا ”کال کیوں نہیں اٹھا رہے؟“ بولا ”آنٹیاں تنگ کررہی ہیں کہ ہماری ماسیوں کے لیے راشن کا بندوبست کردو۔ ایک آنٹی کا ڈیفنس سے بار بار فون آرہا ہے کہ میری چھ ماسیوں کے لیے راشن کا بندوبست کردو۔ جو آنٹی چھ ماسیاں رکھ سکتی ہیں وہ ان کو راشن کیوں نہیں دے سکتیں؟ یہ راشن ماسیوں کے لیے نہیں ہیں، روزانہ اجرت والے اُن مزدوروں کے لیے ہیں جو ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے۔“
واقعی ماسی تو ہر گھر کی اپنی ذمہ داری ہے۔ جس ماسی نے آپ کی خدمت کی ہے اُس کو کڑے وقت میں تنہا چھوڑنا کہاں کا انصاف ہے!۔
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا، وہ میرا استاد ہے۔ یعنی ہمارے دل میں اپنے محسنین کی قدر ہونی چاہیے۔ کیا یہ غریب عورتیں جو ہمارے جھوٹے برتن، گندے کپڑے، واش روم، گندے فرش دھوتی، چمکاتی ہیں، اور جواب میں ہمارا جھوٹا کھانا کھاتی اور پرانے کپڑے پہنتی ہیں ہماری محسن نہیں ہیں؟
ابھی ایک ٹی وی چینل پر میزبان نے دکھایا کہ ماسیاں روڈ پر بھیک مانگ رہی ہیں۔ ایک ماسی نے بتایا کہ وہ ڈیفنس لاہور کے ایک گھر میں کام کرتی ہے، اسے فارغ کردیا گیا ہے۔ جب میزبان نے پوچھا کہ تنخواہ دی ہے؟ تو بولی ”بیگم صاحبہ نے کہا پہلی کے بعد لینا۔ ہمیں گھروں سے جو بچا کھانا ملتا تھا وہ بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اب کہاں سے کھلاؤں بچوں کو؟“ میزبان نے کہا ”میں روز اس راستے سے جاتا ہوں مگر اب مانگنے والوں کا غیر معمولی رش ہے۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو روز نہیں ہوتی تھیں، یہ گھروں کی ماسیاں ہیں۔“
کوئی بھی آزمائش کسی فرد کی تنہا آزمائش نہیں ہوتی۔ اگر آپ کی ماسی بیمار ہے تو آپ کے بھی ایمان کی آزمائش ہے کہ اُس کا کام کتنا ہلکا کیا۔ اس کے ساتھ خیر خواہی کی، یا ترش رویہ رکھا؟
بات بہت سادہ ہے، اگر میری ماسی بھیک مانگ رہی ہے اور میں مصلے پر استغفار میں مصروف ہوں تو میں نے استغفار کی پہلی شرط بھی پوری نہیں کی۔
میرے پاس بھی کئی لوگوں کے فون اور میسج آرہے ہیں کہ ماسیوں کے لیے راشن کہاں سے ملے گا؟
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، آزمائش کے ان دنوں میں بھی کیا ہمارے دسترخوان کی رونقیں کم ہوئی ہیں؟ کیا ہم ایک ڈش کی قربانی دیتے ہیں؟ کیا چار روٹیاں زیادہ پکانے سے ہمارے رزق میں کمی ہوجائے گی؟
یہاں معاملات بہت حساس ہیں۔ پڑوسی بھوکا سویا ہے تو آپ کی نماز معتبر نہیں رہتی۔ پڑوسی آپ کے شر سے محفوظ نہیں تو عبادت منہ پر مار دی جائے گی۔
اگر قرآن نے محبوب بندوں کی صفت بتائی کہ ان کی پیٹھیں رات کے پچھلے پہر بستر سے الگ رہتی ہیں تو اگلی ہی آیت میں یہ کہا کہ ان کے مال میں حق ہے سائل اور محروم کے لیے۔
ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں حضرت عمر فاروق ؓ نے بچے کے ہاتھ میں خربوزه دیکھا تو غیظ وغضب میں گھر میں داخل ہوئے کہ قوم کو روٹی نصیب نہیں، ہمارے بچے عیش کریں!
خلیفہ وقت کے گھر میں خربوزه عیش تصور کیا جاتا ہے قحط سالی کے دنوں میں۔ جبکہ ہمارے دسترخوان یونہی بھرے ہوئے ہیں۔ ماسیوں کو ہم نے کورونا کے خوف سے نکال دیا، وہ بھیک مانگیں یا بھوکی مریں۔۔
کورونا تو چند ہفتوں میں گزر ہی جائے گا ان شاء اللہ۔
اگر میرا نامہ اعمال سیاہ کر گیا کہ میری روٹی میں ایک غریب ماسی کا حق نہ تھا… میں نے بغیر تنخواہ اس کو نکال باہر کیا۔ کوئی غریب دروازے پر آیا تو یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں، ہمارے پاس کوئی خزانے تھوڑی رکھے ہیں۔
یہ آسمانی آفت ہے، اللہ ناراض ہے ہم سے۔ اپنے گھر سے محتاج کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔
ہمارا پیارا دین تو کھجور کے ایک ٹکڑے کے صدقے کو بھی قبول کرتا ہے، اس کی ترغیب دیتا ہے۔ خاص طور پر عورتوں کے لیے حکم ہے معراج والی حدیث میں کہ جہنم کی آگ کو صدقے سے ٹھنڈا کرو، کیونکہ شبِ معراج میں نے عورتوں کو کثرت سے جہنم میں دیکھا ان کی ناشکری کی صفت کے سبب۔
رجوع کا وقت ہے، اس رجوع کو مصلے تک محدود نہ رکھیں۔ جو آپ سے رجوع کررہے ہیں اُن کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں۔ کچھ کم کھا کر بھی ہم زندہ رہ لیں گے۔ وہ جان کس کام کی جس کے لیے ایمان قربان کرنا پڑے! ایمان کی گواہی قربانی مانگتی ہے۔
اس سے کڑا وقت بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ ہم گھروں میں قید، بیت اللہ کے دروازے بند، مسجدوں کے دروازے بند… جبکہ ہمارے دسترخوان جوں کے توں سجے ہوئے! سڑک کنارے بھکاریوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے کیونکہ روزگار چھن چکے ہیں۔ ہمیں زندہ قوم بن کر اس آزمائش سے نکلنا ہے۔ الحمدللہ کارِخیر کرنے والے بھی بے شمار لوگ ہیں۔ آفت اجتماعی ہے۔۔ مگر۔۔
نامہ اعمال سب کا تنہا ہی رقم ہورہا ہے۔
……
”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انھیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“ (سورۃ جن۔آیت10)۔
آج آسمانِ دنیا پر پھر ہلچل ہے۔
یہ دنیا والوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے؟
جنّات دنیا کی خاموشی دیکھ کر پریشان ہوں گے۔ شاید پھر آسمان دنیا سے سن گن لینے کی کوشش کررہے ہوں۔
اہلِ زمین کی چلت پھرت کیوں معدوم ہے؟ان کے رب نے کیا کوئی فیصلہ کرلیا ان کے بارے میں؟
فرشتوں کو تخلیقِ آدم کے وقت کی گفتگو شاید یاد آجاتی ہے۔”اتنے اختیار والی مخلوق تو فساد بپا کرے گی؟“
جواباً عرض ہوا کہ۔۔انی اعلم مالا تعلمون۔بے شک وہ باریک بین اور باخبر ہے۔۔جانتا ہے کب کیا اقدام کرنا ہیں۔
آج اس مخلوق کا فساد عروج پر ہے۔
فرشتے اور جن شاید سہمے ہوئے ہوں گے۔اس آسمانی مخلوق(انسان) سے جدی پشتی تعارف ہے ان کا۔آخر جنت سے اتاری ہوئی مخلوق ٹھیری۔
جن کہیں محوِ گفتگو ہوں گے:
”زمین پر فساد کی انتہا ہوگئی تھی، جھٹکا دیا گیا ہے انھیں-“
”مگر ان کے پاس تو شریعت تھی، پےدرپے انبیاء بھیجے جاتے رہے ان کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے۔“
”کیا آخری نبی ﷺکی تعلیمات معدوم ہوگئی ہیں اس امت سے؟“
”نہیں، کتابوں میں تو ہیں تعلیمات،مگر وہ دنیا پرست ہوگئے ہیں“۔سب سے زیادہ باخبر جن نے کہا۔
”پھر بھی ایسا کیا ہواتھا جس کی اتنی سخت سزا کہ چوپائے آزاد ہیں، پرندے فضاؤں میں محوِ پرواز ہیں، پر انسان گھروں میں قید؟“
”کیا ہوگا ان کی معیشتوں کا، کاروبارِ حیات کا؟ ایسا سناٹا کب تک رہے گا؟ ان کی عبادت گاہوں کے دروازے ان پر بند کردیے گئے۔۔ ذرا سُن گن تو لینا کہ ابھی توبہ کے دروازے تو ان پر بند نہیں ہوئے؟“
جنوں کا سردار پریشان کہ ایسا کیا ہوا ہے؟ کئی شریعتوں کے ماننے والے ہیں اس سیارے پر۔ کیا کسی نے بھی اپنی شریعت کی لاج نہیں رکھی؟
”ہاں معلوم ایسا ہی ہوتا ہے۔ زنا تو عام تھا ہی، مگر یہ انسانی مخلوق تیزی سے ہم جنس پرستی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ جانتے بھی تھے کہ ایک نبی کی قوم کو اسی بنا پر راندئہ درگاه کیا گیا تھا۔
عورتوں نے لباس مختصر کردیے، ’’بے حیائی بام عروج پر‘‘ کلچر کے طور پر اپنا لی گئی۔۔ اللہ تو حیادار ہے، کب تک برداشت کرتا اس بے حیائی کو؟
حضرت موسیٰ و عیسیٰؑ کی شریعتوں کو ماننے والوں نے بھی کوئی حد نہ چھوڑی، کون سی حد ہے جو نہ توڑی؟
سوچتے تو ہم بھی تھے کہ اللہ نے حضرتِ انسان کو جو آزادی دی ہے اُس کا کتنا غلط استعمال کیا انھوں نے۔۔
کہیں اس کی زمین کو لہو رنگ کیا، تو کہیں قحبہ خانوں کو سرکاری سرپرستی میں لیا۔ غریب کا خون نچوڑا، امیروں کے گھر کی لونڈی بن گیا زر۔۔
دنیا کا انتظام ان کے ہاتھ میں آتا چلا گیا جو اس کو چلانے کا سلیقہ رکھتے تھے مگر وہ خدا سے باغی تھے۔ ایجادات کی بھرمار اور ہر نئی ایجاد خدا اور بندوں میں فاصلہ بڑھاتی چلی گئی۔
خدا پرست دفاعی مورچوں میں چلے گئے۔ انسانیت سسکتی رہی، وہ لا الٰہ کے گنبدوں میں قید اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف رہے۔“
ایک بزرگ جن نے سر جھکا کر کہا”تاریخ نے انھیں بتایا تھا کہ وہ ابابیلوں کے لشکر بھیج سکتا ہے۔اس کی اسٹینڈنگ ائرفورس ہر وقت تیار ہے۔مگر یہ قرآنی قصوں کو”اساطیر الاولین“ کہہ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔“
آج جنوں کا گروہ بڑا پریشان لگ رہا تھا۔انسانی تاریخ میں روئے زمین پر ایسی خاموشی دیکھی گئی، نہ سنی گئی۔
”اب کیا ارادے ہیں اہلِ زمین کے؟“ایک جن نے دریافت کیا۔
”ہاں دکھی تو ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں کے دروازے ان پر بند ہیں۔مستقبل کے لیے کیا سوچ رہے ہیں؟ یہ ان کا اور ہمارارب ہی بہتر جانتا ہے۔
سوچو اگر اہلِ حق مضبوط ہوتے تو باطل یہ فساد کیوں برپا کرتا؟زمین ”اغیار“کے ہاتھوں کیوں گروی رہتی؟
اللہ کرے کہ اس جھٹکے سے اہلِ ایمان بیدار ہوجائیں۔اپنے کاروبار کے خسارے سے آگے بھی کچھ سوچ سکیں۔
ہاں خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ نے انھیں توبہ کا موقع دے دیا، ورنہ وہ قوموں کو ایک جھٹکے میں بھی تہ وبالا کر دیا کرتا ہے۔یہ ایٹم بم رکھنے والا،خلاء کو قدموں تلے روندنے والا انسان ایک جرثومے سے ہار گیا۔خدائی کے سب دعوے دھرے رہ گئے۔
سنو۔۔
روئے زمین پر انسانی وجود کے ”خوف“ نے سب رنگ پھیکے کردیے ہیں دنیا کے۔زمین کا یہ سناٹا دیکھا نہیں جارہا۔آؤ اہلِ زمین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔“شاید جنوں اور فرشتوں کوانسان کی بے بسی و لا چاری پر ترس آرہا ہو۔اور وہ بھی محوِ دعا ہوں۔
……
بلغنا رمضان۔۔۔مولا۔۔بلغنا رمضان
ماہ رجب کے چاندپر ہمیشہ رسمی طور پر ہی پڑھا کہ۔۔۔
اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان
(اے اللہ ہمارے لیے رجب وشعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصیب فرما)اس یقین کےساتھ کہ رجب کے بعد شوال آنا ہی ہے اور شعبان سے جڑا رمضان۔ ہم رہے نہ رہے ان مہینوں نے یوں ہی ترتیب سے آنا ہے۔ یقین کریں زندگی میں پہلی بار “بلغنا رمضان”کہتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں ۔ رجب خوف میں گزرا ہے ۔شعبان خوف و ہراس میں اور “بلغنا رمضان” رمضان میں پہنچنا نصیب بھی ہوتا ہے کہ نہیں! کس حال میں رمضان میں پہنچیں گے یہ بھی نہیں معلوم ؟ایسا تو زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا شاید تاریخ میں نہیں اگر رمضان تک پہنچنا نصیب میں ہے تو مولا یہ کیسا پہنچنا ہے کہ روئے زمین کے باسیوں کا سانس رک رک کر آرہا ہے۔
گھر میں رہتے ہوئے اجنبی ہیں ۔نہ ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں نہ ایک کمرے میں ہنس بول سکتے ہیں۔ ٹی وی کھولتے ہوئے خوف آتا ہے کسی کو فون کرو تو دل بجھ جاتا ہے۔ کسی کے پاس کوئی اچھی بات نہیں کرنے کو ۔سب سہمے ہوئے ہیں جیسے فضا میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہو ہم سب وینٹیلیٹر پر ہو ں۔
مولا ہم تیرے عاجز ولاچار بندے اچھے وقت کی آس لئے بیٹھے ہیں۔متفکر و دعا گو ہیں۔مولا ہمیں اس طرح خوف سے نجات دے دے جیسے تو نے اہل قریش کو دی تھی۔
بلغنا رمضان۔۔ رمضان میں داخل ہونا کتنی بڑی سعادت تھی۔ صحت کے ساتھ، دولت ایمان کے ساتھ، بلا خوف وخطر شعبان میں رمضان کی تیاری، عید کی تیاریاں ۔ خانہ کعبہ کا غسل، رمضان کی ہوائیں،اللہ کا گھر معتکفین کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ماہ شعبان تو ٹھہرا رمضان کی تیاری کا مہینہ ۔کہیں گلی محلوں کی مسجدوں میں نئی صفیں بچھ رہی ہیں، کہیں رنگ و روغن ہو رہا ہے، تراویح کے انتظام ہورہے ہیں۔حفاظ نے تیاری شروع کردی اللہ کے گھر مسجدوں کی رونقیں جوبن پر۔جس رمضان کی آس رجب سے لگاتے تھے مولا وہ رمضان پھر آئے گا۔۔پھر جنت سجائی جائے گی، پھر شیطان قید کیا جائے گا۔مولا پھر رحمتوں کی بدلیاں جھوم کر برسیں گی،پھر مغفرت کے سندیسے عام ہونگے۔پھر معتکفین ڈیرے ڈال دیں گے تیرے در پہ کہ اب خالی نہیں پلٹنا۔۔۔۔مولا پھر گردنیں جہنم سے آزادی کی نوید پائیں گی۔
شب قدر بھی آئے گی ناں مولاہزار راتوں سے بہتر رات۔۔اس میں جبرئیل امین اترا کرتے ہیں فرشتوں کے جھنڈ لے کر۔۔سلامتی ہوتی ہے وہ رات طلوع فجر تک۔۔۔اور۔۔۔اورلیلة الجائزہ۔۔۔آسمان دنیا پر ہلچل کی رات جب زمین کے باسیوں کے لیے گفٹ پیک تیار ہورہے ہوتے ہیں۔ فرشتہ زمین پر اترنے کی تیاری کرتے ہیں مبارکبادیں لیے کہ۔۔۔تم مقبول ٹہرے۔۔آج مرادوں کا دن ہے،آج اجرت کا دن ہے۔۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ فرشتے ہر چوک چوراھے پر کھڑے مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔ان کو سوائے انسان کے سب مخلوق دیکھتی ہے۔
وہ مزدوروں کی مزدوری لے کر اترتے ہیں۔۔۔روزے داروں کے لیے مقبولیت کی خوش خبریاں۔۔۔مولا ۔۔۔رب کریم۔۔۔بلغنا رمضان۔۔بلغنا رمضان ۔۔۔ہمیں بھی رمضان میں داخل ہونا ہے۔
اس کرونا نے ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھا دی مولا۔موت سے پہلے مرنا کسے کہتے ہیں ہم نے جانا۔۔مولا رحمتوں کے در کھولیے۔رمضان کے دروازے بند نہ کیجیے گا۔اپنے گھر کے در وا کر دیجیے ۔جبینیں سجدوں کے لیے تڑپ رہی ہیں آقا مسجدوں کے دروازے کھول دیجیے ۔
ہم نے ایسے پہلے کبھی نہ مانگا تھا بلغنا رمضان۔۔جیسے اب ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔ (جاری ہے)۔

حصہ