مثبت سوچ ہی مشترکہ خاندان کو استحکام بخشتی ہے

131

افروز عنایت
امی کی آنکھ منے کے رونے کی آواز پر کھلی فوراً اٹھ کھڑی ہوئیں بہو کے کمرے میں آئیں۔ خیریت بیٹا یہ کیوں رو رہا ہے ساس کو اپنے نزدیک دیکھ کر ربیعہ کو دھاڑس ہوئی۔ بہو شاید اس کے پیٹ میں درد ہے، لائو مجھے دو بیٹا اسے… دیکھوں ہاں مجھے لگ رہا ہے اس کے پیٹ میں درد ہی ہے دیکھو یہ ٹانگیں بھی سیدھی نہیں کر رہا اور اس کا پیٹ بھی سخت ہو رہا ہے بیٹا ذرا زیتون کا تیل دو…
امی نے زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھوں سے منے کے پیٹ پر مالش کی، تھوڑی ہی دیر میں منے کو آرام آگیا۔
امی یہ تو سونے لگا ہے۔
ہاں بیٹا اب اسے آرام آگیا ہے اگر خدا نخواستہ صبح پھر تکلیف ہوئی تو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے اب تم بھی سو جائو…
جی امی شکریہ (بیٹے کو آرام ملتے ہی ربیعہ کو بھی بڑا سکون ہوا) امی کے جانے کے ربیعہ نے شکر ادا کیا کہ میں (شوہر) بھی آج کل آفس کے کام سے شہر سے باہر گئے ہیں شکر کہ میں مشترکہ خاندان میں سب کے درمیان ہوں کہ ہر بات اور معاملے میں سب کا تعاون حاصل ہے۔
٭…٭
امی اور بابا کو آج پھر چھوٹی بہو کے کمرے سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آرہیں تھیں چار مہینے دونوں کی شادی کو ہو گئے تھے لیکن معمولی معمولی باتوں پر بہو اور بیٹا الجھ پڑتے امی نے مناسب نہیں سمجھا کہ دونوں کے بیچ میں دخل دیں وقت کے ساتھ دونوں سنبھل جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اب تو یہ آوازیں اونچی ہوتی جارہی تھیں امی اور بابا اس بات سے بہت پریشان ہو گئے تھے۔
بیگم تم بہو کو سمجھائو اس کا طریقہ صحیح نہیں شوہر پر اس طرح چلانا… صحیح ہے کیا یہ طریقہ؟
(امی ہنستے ہوئے) اور اپنے بیٹے کے بارے میں کیا خیال ہے وہ بھی بڑا غصیلہ ہے درگزر تو اس میں بھی نہیں خیر میں موقع دیکھ کر دونوں کو سمجھا دوں گی۔
امی کو آج مناسب موقع مل گیا ربیعہ بھی منے کو کمرے میں سلا رہی تھی اور ثمینہ (چھوٹی بہو) اپنے میکے گئی تھی۔
امی: بیٹا چائے پیو گے۔
ثاقب: نہیں امی دوپہر میں آفس میں پی لی تھی اور یہ بابا کافی دیر سے دوست کے پاس گئے ہیں؟
ہاں بیٹا وہ کہہ کر گئے تھے کہ کچھ دیر ہو جائے گی۔
امی: تم ثمینہ کو لینے جائو گے؟
ثاقب… ہوں… امی کھانا کھا کر ہی جائوں گا…
امی: ثمینہ بھی اچھی بچی ہے شکر اللہ کا دونوں بہوئیں اچھی ہیں (بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے) آنے والی بہو… کا خیال رکھنا ہم سب کا فرض ہے وہ اپنے پیچھے بہت سے رشتے چھوڑ کر نئے گھر میں قدم رکھتی ہے بہت سی توقعات کے ساتھ، اس کو نئے گھر میں مطابقت پیدا کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے (ذرا رک کر) ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی بات ہمیں پسند نہ آئے یا ہماری بات اسے پسند نہ آئے تو اس کے لیے متوازن طریقہ کار اپنانا چاہیے نہ کہ لڑائی جھگڑا…
ثاقب: امی وہ بڑی… میرا مطلب ہے خود ہی بہانے بہانے سے لڑائی شروع کر دیتی ہے۔ مجھے بھی غصہ آجاتا ہے۔ کیا صرف غصہ ہی جھگڑے کو ختم کر سکتا ہے؟ نہیں میرے بیٹے آپ کا بھی کسی حد تک قصور ہے۔
امی ایک بات بتائیں پاپا اتنا غصہ کرتے ہیں میں نے تو پلٹ کر آپ کو چیختے چلاتے جواب دیتے نہیں دیکھا…
امی: بہت خوب میری جان… لیکن میری جان ہر عورت آپ کی امی کی طرح نہیں ہوتی اور رہی بات آپ کے بابا کی تو… وہ… دوسری بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں میری خاموشی اور درگزر پر خود بھی تھوڑی دیر میں نارمل ہو جاتے ہیں جسے کوئی بات ہی نہیں ہوئی میاں بیوی میں سے ایک کو یہ طریقہ ضرور استعمال کرنا چاہیے جب ہی گاڑی رواں دواں رہتی ہے… اپنے رویے اور محبت میں توازن پیدا کرو عورت تو ٹیڑھی پسلی سے نکلی ہے زور لگائو گے تو ٹوٹ جائے گی… بیٹا اور آپ سمجھ دار ہو پسلی ٹوٹنی نہیں چاہیے سختی سے نہیں پیار سے بھی معاملے سلجھائے جاتے ہیں… اور آپ دونوں کے ان رویوں کی بدولت ہم سب… میرا مطلب ہے ہم سب آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے آپ دونوں کے لڑائی جھگڑوں سے۔
ثاقب: سوری امی… میری وجہ سے آپ لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے لیکن اسے بھی تو سمجھائیں۔
یقینا یقینا وہ میرے لیے بیٹیوں جیسی ہی ہے موقع دیکھ کر میں اسے بھی سمجھائوں گی۔ لیکن آپ اپنا رویہ بدلو۔
٭…٭
ثمینہ: امی یہ ماسی کس کی طلاق کی بات کررہی تھی۔
امی: اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے۔۔
ثمینہ: لیکن… کیوں؟
امی (امی کو ثمینہ کو سمجھانے کے لیے یہ موقع مناسب لگا)
بس بیٹا… میاں بیوی میں برداشت نہ ہو تو یہ نوبت آجاتی ہے چند مہینے پہلے ارشاد ماسی نے مجھے بتایا تھا کہ اس کی بیٹی شوہر اور ساس سے لڑ کر گھر آگئی ہے کہ وہ اس کا خیال نہیں رکھتے تھے ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا وغیرہ… بیٹا میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ درگزر سمجھداری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے خصوصاً بے چاری عورت کو ہی اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ ویسے (ہنس کر) محبت سے مرد کو رام کیا جاتا ہے نہ کہ لڑ جھگڑ کر رشتوں کو محبت، درگزر جیسی خوبیاں ہی استحکام بخشتی ہیں اور میاں بیوی تو ہیں ہی گاڑی کے دو پہیے، دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے سامنے والا پہیہ ’’گڑگڑ‘‘ کرے تو گاڑی آگے کیسے رواں ہو سکتی ہے اگر ماسی کے داماد کا قصور تھا تو اس کی بیٹی کا قصور بھی ہے کیوں کہ وہ بھی بڑی تیز مزاج ہے اور اس میں برداشت بالکل نہیں ماسی ارشاد نے مجھے یہ بات خود بتائی ہے بتائو اب گاڑی آگے چلے تو کیسے چلے ویسے بھی میری جان عورت کو اللہ نے محبت کی چاشنی سے گوندھا ہے اس میں سجھوتے درگزر، صبر جیسی خوبیاں مرد سے زیادہ ہوتی ہیں جہاں عورت ان خوبیوں سے عاری ہوجائے وہاں دوسروں کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی زندگی بھی اجیرن بن جاتی ہے میرا دین بڑا پیارا ہے عورت کی انہی خوبیوں کے بدولت اس کا وقار اور درجہ بڑھا دیا ہے میاں کے جتنے حقوق ہیں عورت کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں۔ ثمینہ پڑھی لکھی لڑکی تھی اسے محسوس ہوا کہ ساس پس پردہ اس کو نصیحت کررہی ہے لیکن اسے ساس کا یہ انداز بھلا لگا کہ وہ برائے راست اسے نہیں کہہ رہی ہیں…
وہ اپنے کمرے میں آئی اسے احساس ہوا کہ وہ بھی شوہر کے ساتھ بدتمیزی کا برتائو کرتی ہے جس پر شوہر کا ردعمل سامنے آتا ہے۔ لہٰذا اسے احتیاط برتنی چاہیے اور اپنے رویے میں بھی نرمی پیدا کرنی چاہیے۔
٭…٭
رمیز پورے ایک مہینے کے بعد گھر آیا تھا امی، بابا ربیعہ، منا، ثاقب بھابھی ثمینہ سب کے درمیان اسے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا سب ہی خوش تھے۔
رمیز: یہ دادا نظر نہیں آرہے ہیں۔
امی: بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہیں آپ پہلے ان سے مل کر آئیں۔
رمیز: خیریت امی دادا کی طبیعت ٹھیک ہے؟
بابا: پریشانی کی بات نہیں بیٹا انہیں معمولی نزلہ بخار ہے موسم بدل رہا ہے اسی لیے۔
رمیز فوراً دادا کے کمرے میں آیا جھک کر ان کو سلام کیا دادا نے محبت سے اٹھ کر انہیں گلے لگایا جیتے رہو بیٹا میں نے تمہاری آواز سنی بس باہر ہی آرہا تھا۔ رمیز دادا کو سہارا دے کر باہر لاؤنچ میں لے کر آیا۔ دادا اپنے پوتے کو سامنے دیکھ کر تو اپنی تکلیف ہی بھول گئے تھے بڑے ہشاش پشاش ہنس ہنس کر رمیز سے باتیں کررہے تھے۔
ربیعہ: امی دادا کے لیے یخنی تیار ہو گئی ہے ابھی لے آئوں یا پہلے دادا چائے پئیں گے۔
امی: بیٹا دادا کو پہلے یخنی دیں انہوں نے صبح ناشتہ بھی صحیح نہیں کیا۔ چائے میں تو ابھی آدھا گھنٹہ لگے گا رمیز نے سب گھر والوں کو تحفے دیے جو وہ اسلام آباد اور لاہور سے لایا تھا۔
رمیز: (ایک بڑا پیکٹ امی کو تھماتے ہوئے) امی یہ فاطمہ اور اس کے بچوں کے لیے ہیں۔
ربیعہ: (محبت اور پیار سے) رمیز فاطمہ کل آئے گے میں نے آج فون پر اسے بتایا تھا کہ تمہارے بھائی آرہے ہیں آپ خود اسے یہ تحفے دیں گے تو وہ یقینا خوش ہو گی…
٭…٭
مذکورہ بالا خاندان اپنے مثبت رویوں کی بدولت ایک ’’مثالی گھرانہ‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ مشترکہ خاندان مثبت سوچ و عمل برد باری درگزر جیسی خوبیوں کی بدولت مستحکم ہوتا ہے خصوصاً خاندان کے بڑوں کے تدبر سے خاندان جڑتا ہے ایک چھت تلے رہنے والوں کو اپنے حقوق و فرائض سے نہ صرف واقف ہونا چاہیے بلکہ ان حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لیے بھرپور کوشش بھی لازمی ہے بصورت دیگر ایک چھت تلے رہنا مشکل ہو جاتا ہے میں نے ایسے بہت سے گھرانوں کا شیرازہ بکھرتے دیکھا ہے جہاں دوسروں کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہو یا انہیں عزت و احترام نہ دیا جائے جبکہ تمام رشتے مثبت سوچ و عمل کی بدولت پرواں چڑھتے ہیں بعض اوقات رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ناپسندیدہ چیزوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، درگزر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مشترکہ خاندانی نظام کے فائدے نقصانات سے زیادہ ہیں رب العزت ایک چھت تلے رہنے والوں کو آپس میں محبت و اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(آمین ثم آمین یارب العالمین)

حصہ