لاک ڈاؤن والا رمضان کنفیوژن اور سوشل میڈیا

182

کورونا کی آڑ میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ عالمی ماہرین نے سوشل میڈیا استعمال کو برکت اور لعنت بھی قرار دیا ہے ( اس کے ذریعہ پھیلنے والی افواہوں کے تناظر میں)، ویسے ابھی تو کورونا کی یہ پہلی لہر ہی کہی جا رہی ہے ، دوسری لہر کا بھی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعہ خطرہ کا الارم مسلسل بج رہا ہے ۔ڈائریکٹر جنرل ،عالمی ادارہ صحت کہتے ہیں کہ ’ ہم اس وقت عوام الناس کی سمجھ بوجھ و فہم کا مثالی بحران دیکھ رہے ہیں۔اس وقت مغربی ڈجیٹل ادارے بشمول ٹوئٹر، فیس بک، یو ٹیوب، اسنیپ چیٹ، انسٹا گرام، ریڈڈٹ، اور اُن کے چینی متبادل وی چیٹ، ویبو، ٹینسینٹ، ٹوٹیاؤ اس بحران کے مرکز ہیں۔
These platforms act as facilitators and multipliers of COVID-19-related misinformation.
ٹک ٹاک دُنیا کی سب سے بڑی ڈاؤن لوڈڈ ایپلیکیشن بن کر سامنے آئی جس کے استعمال کنندگان میںبھارت میں لاک ڈاؤن کے پہلے دس دن میں کوئی4کروڑ 90لاکھ ڈاؤن لوڈزکے ساتھ اول نمبر پر تھا ۔امریکہ بھارت سے آبادی میں کم ہے وگرنہ وہاں کے نوجوانوں نے اس ایپ کو اتنا ڈاؤن لوڈ کیا ہے کہ امریکہ اپنے ان شہریوں کے ڈیٹا ( معلومات) چینی کمپنی کے پاس جانے پر پریشان ہے ۔( بحوالہ رائٹرز)۔خود پاکستان کے دائرے میںبھی ٹک ٹاک 2019کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپلیکیشن رہی۔کراچی میںتو پچھلے ہفتے حالت لاک ڈاؤن میں ایک حادثہ ہوا جب ایک نوجوان لڑکا ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے شدید زخمی ہوا۔چین میں البتہ ( دی گارجین ) کی رپورٹ کے مطابق چینی سوشل میڈیاپر لاک ڈاؤن کے ان ایام میں مزاح اور غصہ کے جذبات پر مبنی میمز کی کثرت رہی، البتہ چین میں سوشل میڈیا سنسر شپ بہت زیادہ سخت رہی جس کی وجہ سے وہاں بہت زیادہ بلکہ کوئی خاص افواہوں کا سلسلہ رپورٹ نہیںہوا۔
جان پیٹرک ، ایک محقق ہیں، جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی میں،وہ اپنے کام کے بارے میں یہ بتاتے ہیں کہ
ــ‘What people see, follow, express and repost on social media platforms are all communications that I study as the director of the Social Media Analytics Lab at the Keck School of Medicine of USC.’
جان کے مطابق ’’ اس وائرس کی آمد کے تناظر میں دُنیا بھر سے انسانوں کی بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا سے جا کر جُڑی ہے تاکہ اپنے آپ کو تازہ ترین معلومات اور پیش رفت سے آگاہ رکھ سکے۔اس کی وجہ سے دور دراز اپنے چاہنے والوں، عزیزوں، احباب سے رابطہ کر سکے ۔ٹوئٹر انتظامیہ نے خود رپورٹ کیا ہے کہ 2020کے ابتدائی 3ماہ میں 12ملین مطلب کوئی سوا کروڑ نئے استعمال کنندگان شامل ہوئے ۔ ایسی ہی کثیر تعداد فیس بک نے بھی رپورٹ کی ہے۔باقی اس کے علاوہ ہیں۔سماجی میڈیا پر کنفیوژن اور افواہوں کے پھیلنے کے باے میں وہ کہتے ہیں کہ لوگ پہلی مرتبہ شیئر بغیر سوچے سمجھے یا کسی بدنیتی سے چیزیں شیئر نہیں کرتے کیونکہ اُنک و کسی بھی مواد کی تصدیق کرنے کا نہ ہی طریقہ معلوم ہوتا ہے نہ ہی وہ اس حد تک سوچ سکتے ہیں۔گو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے طور سے دعویٰ اور کوشش کرتے ہیں کہ ایسی چیزیں پھیل نہ سکیں لیکن وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہیں جو کافی نہیں ہوپا رہا۔‘‘
پاکستان میں بھی دُنیا بھر کی طرح سوشل میڈیا کا استعمال لاک ڈاؤن کے بہانے عروج پر ہے جہا ںتعلیمی ، تدریسی، تفریحی ، دینی ، مذہبی ، کاروباری سمیت ہر قسم کی سرگرمیاں بھرپور طور سے جاری ہیں۔آن لائن دروس قرآن، لیکچرز، دورہ قرآن کا سلسلہ بڑھتا جا رہاہے۔ ’زوم ‘ بھی اوور لوڈ ہو گیا ، کئی دیگر ایپس و پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔اسی درمیان دُنیا کے بڑے حصے میںجاری سخت یا نرم لاک ڈاؤن کے دور کا پہلا رمضان المبارک ہم شروع کر چکے ہیں، اس بار واقعی عالمگیریت کی اچھی شکل و مثال سمجھ آئی ہے ، لیکن یہ عالمگیریت اِس پور ے ’عالَم ‘کو بنانے والے یعنی اس کے حقیقی خالق کی جانب سے پیدا کردہ ہے۔ جن نام نہاد طاقتوں نے دُنیا کوایک رنگ میں رنگنے والی ’عالم گیریت ‘کا نعرہ لگایا تھا اور بڑا منصوبہ ترتیب دیا اُن کے ایوانوں ، دُکانوں ، ریستوران پر تو تالے لگ گئے ہیں۔دُنیا بھر کے مسلمان اِمسال قدرے روٹین سے ہٹ کر رمضان گزارنے جا رہے ہیں۔ سب ہی اپنے اپنے تجربات سوشل میڈیا پر ذوق و شوق سے شیئر کر رہے ہیں۔مساجد میں سماجی فاصلے پر مبنی با جماعت نمازوں کی تصاویر ہوںیا خانہ کعبہ و دیگر مساجد کی ویران تصاویر شیئر ہوتی رہیں۔ رمضان رحمت شفاکے ہیش ٹیگ کے ساتھ بھی ٹرینڈ جاری رہا۔لاک ڈاؤن میں رمضان گزارنے کے لیے دُنیا بھرکے مشہور مبلغین، مدرسین کی جانب سے ویڈیوز بھی جاری کی گئیں۔
لاک ڈاؤن کی آڑ میں باغبانی، گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر کے روایتی چیلنجز کا بھی سلسلہ جاری رہا جس میں کبھی پش اپ، کبھی پلینکس، کبھی ٹوائلٹ پیپر چیلنج، کبھی whipped coffee، می ایٹ 20و دیگر سلسلے جاری رہے جس میں دُنیا بھر سے لوگ شامل ہوتے رہے ا ور لاک ڈاؤن میں مصروفیت کے بہانے نکالتے رہے۔ ایک اور کام بھی دُنیا بھر میں جاری رہا وہ تھا شوق پکوان، یعنی کوکنگ کا ۔
لوگوں نے خود بھی تجربات کیے جس میں مرد و خواتین دونوں شامل رہے۔ آپ نے بھی روٹین سے زیادہ خریداری نوٹ کی ہوگی پروچون، سپر اسٹورز پر ، مطلب کوئی دن نہیں تھا جب آپ نے کسی قسم کے رش میں کمی دیکھی ہو۔لوگ دھوپ میں طویل قطاریں بنا بنا کر اسٹورز کے باہر کھڑے نظر آتے اور ٹرالیاں بھر بھر کے شاپنگ کرتے ۔ بہر حال سوشل میڈیا پر کھانے پکانے کے حوالے سے گھر میں تندور والی روٹی ، جلیبی و دیگر وہ اشیاء جو عموماً باہر سے ہی خریدی جاتی ہیں انہیںبنانے کے تجربات والی ویڈیو خاصی مقبول رہی۔ کئی لوگ یہ تجربات کرتے نظر آئے۔اس پر ایک دوست نے اپنے تجربات کو پوسٹ کی صورت یوں بیان کیا کہ،’’بیگم نے لاک ڈاؤن میں تندور کی روٹی کو گھر میںبنانے کا تجربہ کیا تو میں نے مشورہ دیا کہ رمضان میں کھجلہ پھینی بھی گھر میں بنا لینا،کھجور بھی گھر پر لگا لیں۔‘ دوسری جانب وہ چٹورے حضرات جنہیں ذائقہ باہر کا ہی لگا ہوا تھا وہ اپنی پوسٹ میں یوں دُعا مانگتے نظرآئے کہ’’یا اللہ کرونا ختم کردینا رمضان سے پہلے…مجھے رمضان میں چاچا عارف کے سموسے…نسیر جی کے دہی بڑے…کاشف بیکری کے پکوڑے …بلوچ آئسکریم…حافظ کی کریم چاٹ کھانی ہیں۔براے مہربانی اللہ جی یہ لاک ڈاؤن ختم کرا دیں۔‘‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا ۔اس ہفتے سب سے بھرپور ایشو عمومی مریضوں یا ہسپتال کی عمومی اموات کوزبردستی ’کورونا‘ مریض قرار دینے کا رہا۔کورونا کے علاج سے متعلق دو ہفتہ قبل کیے گئے تمام دعوے و باتوں پر جامع خاموشی طاری رہی جسے چین اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی نے توڑا۔ جب پاکستان سے ویکسین بنانے کے دعوے کیے جا رہے تھے تو لوگوں نے یہی کہا کہ پورا یورپ، امریکہ کے ماہرین کس کا منہ دیکھ رہے ہیں جو ان تمام علوم و فنون کو سکھانے ،پڑھانے کے فی زمانہ باپ مانے جاتے ہیں۔ویسے ہمارے ملک میں حالت وہی ہے غلام ذہنیت والی کہ ’ دوائی کے اسٹور میں جب کسی دوائی کا نام لو اور دکاندار کہے کہ پاکستان دوں یا امپورٹڈ تو ہم جھٹ سے امپورٹڈ طلب کرتے ہیں تو ٹھیک اسی طرح ہم نے بھی برطانیہ ، جرمنی اور چین کی جانب سے ویکسین کے تجربات کے دعوے کو خوب سراہا ۔ وینا ملک صاحبہ خاصے پرجوش انداز میں ٹوئیٹس کرتی نظر آئیںکہ،’’چائینہ سینوفارم کارپوریشن نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی ہے سینوفارم نے ویکسین پاکستان کو دینے کا اعلان کردیا ہے اب پاکستان چائینہ کے بعد واحد ملک ہوگا جہاں یہ ویکسین استعمال ہوگی۔چائینہ نے پھر ثابت کردیا کہ اس خطے پر پاکستان اور چائینہ سے بہترین دوست اور کوئی نہیںبھارت ، چینی ہندی بھائی بھائی کا راگ الاپتا رہ گیا اور چائنانے کورونا وائرس ویکسین پاکستان کو دینے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ یہ بھی کہہ دیا جب تک ویکسین سے پاکستان اور چین کی عوام ٹھیک نہیں ہوجاتی تب تک کسی اور کو نہیں دے سکتے کیونکہ کم عرصے میں اتنی تعداد میں ویکسین نہیں بن سکتی۔‘‘
ایک اور زبردست کنفیوژن سے بھرا موضوع پاکستان کے سماجی میڈیا پر ’ارتغرل‘ کا رہا۔ کئی ماہ قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس انقلابی ترک سیریل کی تعریف کی ، وہ بھی ایک بڑے دینی مدرسے کی تقریب میں اور اِسے حکومتی چینل پر نشر کرنے کا عندیہ دیا۔ اُس کے بعد سے ہی عجیب عجیب افواہوںکا سلسلہ شروع ہو گیا۔کبھی کہا جاتا کہ سعودی ایماء پر اس کو روک دیا گیا ہے تو کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔ویسے ایک بات ہے کہ اِس دوران حکومت نے یا پی ٹی وی نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔مگر جب اچانک اس عظیم الشان سیریز کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کا اعلان یکم رمضان کی شب سوا9بجے کیا تو عوام کی جانب سے ایسا عجیب رد عمل سامنے آیا کہ مت پوچھیں۔سوشل میڈیا پر اِسے نو بجے دکھانے کا مطلب ’یہودی سازش‘ قرار دیا گیا تھا تاکہ سچے پکے مسلمانوں کی تراویح کی نفل نماز متاثر ہو جائیجبکہ اُس اعلان میں دو مرتبہ ریپیٹ یعنی نشر مکرر کا وقت بھی درج تھا، لیکن وہ کہتے ہیں نا کمال ہے اس سوشل میڈیا کا ، تو وہی ہوا۔اچھا سب سے اہم بات تو میں بتانا ہی بھول گیاجو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ ’یہودی سازش ‘ تراویح وغیرہ کا ڈھنڈورا اُن گروپس میں وہ لوگ پیٹ رہے تھے کہ جو خود اس ڈرامے کے تمام سیزن پہلے ہی دیکھ چکے ہیںیا کم از کم پہلا سیزن تو دیکھ ہی چکے ہیں۔پی ٹی وی نے جوابی سرکاری اعلان کر دیا کہ عوام کی فرمائش پر اسے پرائم ٹائم یعنی 7:55پر نشر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب آپ سازش خود پکڑیں کہ یکم رمضان سے آدھے پاکستان میں عشاء کی فرض نماز کی جماعت کا وقت8:15اور باقی میں8:30اور8:45 چلے گا۔جن لوگوںکو سوا نو بجے تراویح کی نماز جاتی لگ رہی تھی یہودی سازش کے تحت اب اُن کے لیے ’عشاء کی فرض ‘ کس سازش کا شکار ہوگی یہ تو آج رات پتہ چلے گا۔ ’کنفیوژڈ ‘عوام کی جانب سے اس ڈرامے کورمضان میں نشر کرنے کی مخالفت کی گئی کہ لوگوں کو ڈراموں میںلگانا درست نہیں، جبکہ وہ یہ بھول گئے کہ یہ ڈرامہ نشر نہ بھی ہو تو پی ٹی وی سمیت دیگر تمام چینلز پر ڈرامے ، رمضان ٹرانسمشن ودیگر خرافات سب بدستور جاری ہو نگے اور ماضی میں بھی جاری ہی رہے ہیں۔(واضح رہے کہ یہ ڈرامہ 2015میں پاکستانی نجی چینل ہم ستارے پر نشر ہو چکا ہے)۔بہر حال اس ساری گفتگو نے اسے ٹوئٹر و فیس بک پر ایک مقبول موضوع بنا دیا۔ اہم بات یہ ہے جو میں نے بھی کسی پوسٹ کے جوا ب میںلکھی کہ یہ ڈرامہ ایسا نہیں کہ کوئی ایک قسط دیکھ لے پھر اگلی رات تک انتظار کرے ، جس کے پاس جہاںسہولت ( انٹرنیٹ ، موبائل یا کمپیوٹر) ہوگی وہ آن لائن جا کر لپیٹ دے گا، چونکہ پی ٹی وی کا ابلاغی دائرہ کار پاکستان کی دیہی آبادی کے لیے کیونکہ 2012کی ایک گیلپ تحقیق کے مطابق اسٹار پلس کو پچھاڑ کر پی ٹی وی ہوم ملک کا سب سے زیادہ دیکھاجانے والا چینل تھا۔بہر حال ’ارتغرل ‘ کے دیکھنے والوں کے انداز (جنہیں اس کا نشئی بھی کہا جاتا ہے )کی داستان خود ایک الگ تحقیقی موضوع ہے۔
کورونا حالات نے بدترین کنفیوژن پھیلایا ہے ، اس ہفتہ حکومتی اقدامات ، نرم لاک ڈاؤن ، سخت لاک ڈاؤن، عدلیہ کے بیانات، گرفتار تاجروں کی عدم رہائی ، ڈاکٹرزکی پریس کانفرنس ، سماجی فلاحی تنظیمیں، دینی جماعتیں ، سیاسی جماعتیں، فوج، سب بری طرح کنفیوژ نظر آئے۔قومی جذبہ کے ساتھ ، اس وبا کو ان حالات کو ڈیل نہ کرنے کا عمل پاکستان کو ہی نقصان پہنچائے گا۔ امسال پہلا رمضان المبارک خاص حالات میں پوری امت پر سایہ فگن ہوا ہے ۔ مساجد کھلی بھی ہیں، بند بھی، نمازی ہیں بھی ، نہیں بھی، عوام میں بے یقینی کی کیفیت واضح ہے کہ وہ اسے نہ ہی کوئی وبا سمجھنے کو تیار ہیں نہ ہی خطرہ ۔حکومت سنجیدہ لے رہی ہے مگر اپنی حکمت عملی نافذ نہیں کروا پا رہی۔ وفاق الگ چل رہا ہے صوبہ سندھ الگ کیفیت کا شکار ۔ ایک دوسرے کو مال بٹورنے کے الزامات ہیںاور اس کی آڑ میں بہت سارے کام جاری ہیں۔
وزیر اعظم نے دھڑا دھڑ سماجی اداروں کو راشن بانٹتے دیکھا تو سوچا کہ خزانے میں بھی کچھ جمع کر کیاجائے کیونکہ اب حکومت بھی احساس پروگرام کیساتھ میدان میں تھی،اسلیے ان کی لائیو ٹیلی تھون کا بھی سوشل میڈیا پر بڑا شور مچا۔ اس لاک ڈاؤن میں جب کئی لوگ فلموں کو دیکھ کر بھی وقت گزاری کر ر ہے ہیں، دنیا بھر کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی جام ہے تو جو ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔برطانیہ میں مقیم معروف بلاگر عائشہ غازی نے نظریہ پاکستان کو زندہ کرتی اپنی دوسری دستاویزی فلم 4سالہ جدوجہد کے بعد مکمل کی اور یو ٹیوب پر اپنے چینل iresist پر جاری کیا۔ میں سمجھتا ہوں کمرشل فلموں کو ایک گھنٹہ چھوڑ کرسوشل میڈیا سے جڑے ہرپاکستانی نوجوان کو یہ دیکھنی چاہیے تاکہ اپنے وجود کی اہمیت کا احساس ہو سکے۔یو ٹیوب پر Sarhd-The boundaryline کے نام سے ڈھونڈی جا سکتی ہے۔

حصہ