تصور اقامت دین پر اعتراض

128

سید سعادت اللہ حسینی/ مرتب: اعظم طارق کوہستانی
دوسری قسط
۔’’تعبیر کی غلطی‘‘کے اعتراضات
مولانا وحید الدین خان نے تعبیر کی غلطی میں اس تصور اقامت دین پر جو اعتراضات کیے ہیں، ان کا خلاصہ ذیل کے مطابق ہے:
۱۔ سورہ شوریٰ کی آیت میں دین کا مطلب، دین کا وہ حصہ ہے جو تمام انبیا کی دعوت میں مشترک ہے۔ اور یہ حصہ صرف توحید، رسالت اور آخرت یعنی اسلام کے بنیادی عقائد تک محدود ہے۔ اسی کے قیام کا، یعنی اس کی پیروی اور اس کی دعوت کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔
۲۔ سورہ صف کی آیت میں (اسی مضمون کی آیت سورہ توبہ میں اور اس سے مماثل آیت سورہ فتح میں بھی آئی ہے) کوئی حکم یا ہدایت نہیں ہے بلکہ صرف خبر ہے۔ یعنی اللہ تعالی اپنے دین کو اپنے نبی کے ذریعہ غالب کرے گا، یہ اللہ کے ارادہ کا اظہار ہے۔ اس میں مومنین کے لیے کوئی حکم نہیں ہے۔
۳۔ دین کا مقصد، بندہ اور خدا کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ یہی ایک مسلمان کا نصب العین ہے۔ ایک مسلمان کو دین پر عمل کرنا چاہیے اور دین کی دعوت پیش کرنی چاہیے۔ حکومت کی تبدیلی کے لیے جدوجہد اس کا کام نہیں ہے۔
تحریک اسلامی کے کئی بزرگوں نے ان اعتراضات کا بہت تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ مولانا وحید الدین خان یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ دین کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے لیکن ان کا اصرار یہ ہے کہ سورہ شوریٰ کی اس آیت میں، جس میں دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کا مطلب صرف ایمانیات ہے اور یہی معنی مفسرین نے لیے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ جن مفسرین نے ایمانیات اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس کے ساتھ طاعۃ اللہ فی اوامرہ و نواہیہ کو بھی دین کے مطلب میں شامل کیا ہے۔ اس میں دین کے تمام احکام آجاتے ہیں۔ مفسرین کے تفصیلی حوالوں کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے۔ مولانا رضی الاسلام ندوی نے اپنے کتابچہ میں قتادہ، علامہ ابن العربی، زمخشری، قرطبی، خازن البغدادی، العمادی، آلوسی، بیضاوی، ابن کثیر، رازی وغیرہم کے اقتباسات نقل کیے ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مفسرین یہاں دین کے معنی کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود رکھتے ہیں۔ اس آیت میں و الذی اوحینا الیک کا فقرہ بھی شامل ہے جس میں خود بخود وہ سارے احکام آجاتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ انبیائے اکرام کی تعلیمات صرف عقا ئد اور ایمانیات ہی کے معاملہ میں مشترک نہیں ہیں۔ ان کی دعوت کی روح ایک ہی ہے۔ ان کی شریعتوں کی بنیادی باتیں بھی ایک ہی ہیں۔ اگر شرائع میں کچھ اختلاف ہے تو وہ جزوی اور فروعی باتوں میں ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وضاحت مولانا صدر الدین اصلاحی نے اس طرح کی ہے۔
’’ ان حضرات (یعنی مفسرین اکرام ) کے نزدیک دین کی اصولی تعلیمات اور تمام انبیا کے لائے ہوئے دینوں کی مشترک و متفق علیہ ہدایات الہی میں ایک اصولی تعلیم اور متفق علیہ ہدایت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اللہ تعالی کے سارے اوامر کی بجا آوری کرنی ہوگی اور اس کے تمام نواہی سے رکنا پڑے گا۔ اس جامع اصولی ہدایت کا عملی مفہوم کیا ہوگا اور اس کی عملی تعمیل کس شکل میں ہوسکے گی؟ یہ کوئی ایسا سوال نہیں جس کے جواب میں دو باتیں کہی جاسکیں۔ یہ جواب لازماً ایک ہی ہوگا اور وہ یہ کہ امت ان سارے احکام دین و شریعت کی مکمل پیروی کرے گی جو اسے اس کے پیغمبر کے ذریعہ دیے گئے ہوں۔ یعنی مسلمانوں کے لیے اس پوری شریعت کی پیروی اور اقامت اس آیت کی رو سے واجب ہوگی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انہیں عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں دوسرے انبیا کے دینوں کا ذکر اسم موصول عام کے ذریعے کیا گیا ہے لیکن آں حضرت کے دین کا ذکر اسم موصول خاص (الذی) کے ذریعے کیا گیا ہے۔
یہی بات اس آیت سے سمجھ میں آتی ہے اور یہی عام طور پر اس کی تفسیر بھی کی گئی ہے۔ یہاں دین کو اورقیام دین کے حکم کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود کردینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ یہ کہنا کہ مومن کانصب العین رضائے الہی ہے اور قیام دین کی جدوجہد، دین کا تقاضہ تو ہوسکتا ہے نصب العین نہیں ہوسکتا، محض الفاظ اور طرز بیان کا فرق ہے۔ جماعت کے نصب العین کی جو عبارت ہم نے نقل کی ہے، اس میں رضائے الہی اور فلاح آخرت کے حصول کو ’حقیقی محرک ‘کہا گیا ہے اور اس غرض کے لیے اجتماعی طور پر جس ہدف کی خاطر جدوجہدمطلوب ہے، اْسے نصب العین کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل محرک اورحتمی ہدف تو رضائے اِلٰہی ہی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا کا حصول ایک خاص قسم کی جدوجہد پر منحصر ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ اور ہدف اقامت دین ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی صرف دستور جماعت تک محدود نہیں ہے۔ مولانا مودودی اورجماعت کے پورے لٹریچر میں اسی کی تکرار ہے۔ اب اگر آپ رضائے اِلٰہی کے حصول کو نصب العین قراردیں اور اقامت دین کو اس کی ضرورت یا تقاضہ کہیں تو الفاظ کی اس تبدیلی سے کوئی عملی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اقامت دین اس صورت میں بھی ایک فریضہ کے طور پر باقی رہتا ہے۔
جاوید غامدی صاحب کے اعتراضات:
جناب جاوید احمدغامدی نے اس تصور پر تفصیل سے تنقید اپنے مضمون’ تاویل کی غلطی‘ میں کی ہے جو ان کی کتاب برہان میں شامل ہے ۔ اسکے علاوہ انھوں نے اپنے کئی ویڈیوز میں بھی اس مسئلہ پر اظہار خیال فرمایا ہے۔ اور اپنے دیگر مضامین اور تفسیر میں بھی اس سے متعلق اشارے فرمائے ہیں۔ ان کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ اقامت کا مطلب قائم کرنا یا نافذ کرنانہیں ہے بلکہ پیروی کرنا اور قائم رکھنا ہے۔ اس لیے سورہ شوریٰ کی آیت میں صرف دین کی پیروی کا حکم ہے۔
۲۔ غلبہ دین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ اللہ کی سنت ہے کہ جب رسول مبعوث ہوتا ہے تو دین غالب ہوکر رہتا ہے۔ یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پوری ہوگئی۔ ا ب عام مسلمان ان آیتوں کے مخاطب نہیں ہیں۔
۳۔ دین کے سیاسی اور اجتماعی احکام کے مخاطب حکمران ہیں۔ وہی اس کے مکلف ہیں۔ عام مسلمانوں کا کام صرف اپنے دائرہ میں دین پر عمل اور اس کی دعوت ہے۔
جاوید غامدی صاحب نے عربی شاعری وغیرہ کے حوالوں سے تفصیلی بحث یہ ثابت کرنے کے لیے کی ہے کہ اقیموا کے معنی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ قائم رکھنا ہے۔ ہمار خیال یہ ہے کہ اقامت کا ترجمہ’ قائم کرنا‘ کیا جائے یا’ قائم رہنا‘ یا ’قائم رکھنا‘، اس سے اصل بحث پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ مولانا مودودی نے ترجمہ ’قائم کرنا‘ کیاہے لیکن تفہیم القرآن میں ’قائم رکھنا‘ اِس ترجمہ کی گنجائش کو بھی تسلیم کیا ہے۔ دین قائم کرنا یا دین پر قائم رہنا، دونوں کا مطلب یہی ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں دین کی پیروی کی جائے۔ اس بات کو جاوید غامدی صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور انہوں نے دین پر قائم رہنے کے معنوں میں قانون و شریعت اور جہاد و قتال وغیرہ سارے احکام شمار کیے ہیں لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ اقیموکا مطلب صرف دین کے اْس حصہ پر عمل تک محدود ہے جس کا تعلق ہماری ذات سے ہے۔ جن امور کا تعلق ہم سے نہیں ہے ان پر عمل کرانا یا انہیں نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا اقیموکے معنی میں شامل نہیں ہے۔ یہ نقطہ نظر مفسرین کے بیان کیے ہوئے مطالب سے مختلف ہے۔ مولاناگوہر رحمن اور مولانا رضی الاسلام نے اپنی تحریروں میں اْن مفسرین اکرام کے تفصیلی حوالے دیئے ہیں جن کے نزدیک اقیموا کے معنوں میں دوسروں پر دین کا نفاذ بھی شامل ہے۔ لیکن اگر جاوید صاحب کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ اقیموا کے لغوی معنی صرف خود دین پر عمل کرنا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود دین کا کیا مطلب ہے؟ کیا دین کے دائرہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دعوت، جہاد، اللہ کے دین کی نصرت، شہادت علی الناس وغیر ہ جیسے امور نہیں آتے جن کی قرآن میں بہ تکرار تاکید کی گئی ہے؟ جب یہ سب احکام دین ہیں اور دین کا جز ہیں (اور غامدی صاحب بھی اسے تسلیم کرتے ہیں ) تو اقیموا کے دونوں معنوں میں جو معنی بھی لیے جائیں ’اقامت دین ‘ کے اندر، یہ سب کام خود بخود شامل ہوجاتے ہیں۔ یعنی اگر اقیموا کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین کے جو مطالبات میری ذات سے متعلق ہیں، ان کی تکمیل کی جائے تب بھی دعوت، جہاد، نصرت دین و غیرہ کے احکام میری ذات سے متعلق ہی ہیں۔ ان کی تعمیل تو اقامت دین کا تقاضہ ہی ہوگا۔
واقعہ یہ ہے کہ اقامت دین کا حکم کسی ایک آیت تک محدود نہیں ہے۔ قرآن کی پوری اسکیم میں اسے مرکزی ذمہ داری کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن نے اس کام کو کئی اصطلاحوں میں بیان کیا ہے۔ اظہار دین، قیام قسط، قیام عدل، شہادت علی الناس، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، دعوت دین، ان سب میں اقامت دین کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان سب احکام کا تقاضہ یہی ہے کہ دین پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ باقی انسانیت کو دین کی طرف بلانے، دین پر انہیں مطمئن کرنے اور معاشرہ میں اللہ کے احکام کی ترویج و تنفیذ کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ مولانا مودودی اور اسلامی تحریکیں انہی باتوں کو اقامت دین قرار دیتی ہیں۔
غامدی صاحب قرآن کے بہت سے احکام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کردیتے ہیں۔ حالانکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے جو احکامات دیئے ہیں ، وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں الّا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی تخصیص کی کوئی واضح دلیل ہو۔ اظہار دین والی آیات کے سلسلہ میں بھی ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں اللہ کے وعدہ اور سنت کا ذکر ہے۔ وہ یہاں المشرکون کا ترجمہ عرب کے مشرک اور دین کلہ کا ترجمہ عرب کے ادیان کرتے ہیں۔ اس تخصیص کی بھی کوئی دلیل اس کے سوا نہیں دیتے کہ غلبہ دین، رسول کے سلسلہ میں انبیا کی سنت ہے۔
(جاری ہے)

تعارف کتاب تنقیحات

سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں کا اعجاز ہے کہ وہ حق کا راستہ محض دکھاتی ہی نہیں بلکہ اس پر چلنے اور دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تڑپ بھی پیدا کرتی ہیں کہ یہ تحریریں کسی مسلک اور فرقے کی نہیں بلکہ خالص اسلام کی دعوت ہے۔
ترقی یافتہ مغرب کی بے خدا تہذیب نے افراد کو مادہ پرستی اور تنہائی کا شکار بھی کیا ہے اور معاشرتی مسائل میں بھی اُلجھایا ہے لیکن معاشرتی مسائل میں حوصلہ شکن اضافے کے سبب سے بے چین مغرب میں خود کشی اور قبول ِاسلام کے واقعات خود اس تہذیب کی نا پائیداری اور اسلام کی حقانیت کا زندہ اور واضح ثبوت ہیں۔
حقیقی اسلام کو جاننے کے لیے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تحروں کو پڑھیے کہ یہ کفر والحاد کی تندوتیز آندھیوں میں ایمان کی شمع کو روشن رکھنے کا ذریعہ ہیں۔
جی ہاں! ایمان، قوت اور زندگی سے آشنا کرنے والی تحریریں۔
تنقیحات میں سید مودودیؒ نے مغرب کی بے خدااور چکا چوند تہذیب سے مرعوب مسلمانوں کو اسلام کی اس فطری اور قابلِ فخر تہذیب کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں جو ایک ہزار برس تک دنیا پر حکمران رہی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انحاط اور تنزل سے پریشان مسلم معاشروں کی ترقی غیروں کی نقالی سے نہیں، بلکہ اسلام کے زرّیں اصولوں کو اپنانے ہی سے ممکن ہے۔ مسلم اُمّہ کو اقوام عالم میں اپنا تشخص قائم اور برقرار رکھنے کے لیے اسلام کی آغوش کی طرف پلٹنا ہوگا۔ جدید علوم سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے لیکن غیروں کی غلامی بہر حال تباہی کا راستہ ہے۔
٭…٭

حصہ