بھارت کا اسلاموفوبیا

162

کیا اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے؟

سید عارف بہار
کورونا وائرس کی عالمگیر وبا دنیا کے لیے جس انداز کا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، بھارت میں صورتِ حال اس کے قطعی برعکس ہے۔ بھارت میں اس وائرس کو انسانی زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کے بجائے، روایتی نفرت انگیز ’’ہندو توا‘‘ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اور موقع اور امکان کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
آج کے بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ اکثریت اور دوسری بڑی اکثریت کے درمیان تیزی سے بڑھائی جانے والی خلیج ہے۔ خلیج کو اس انداز سے بڑھایا جارہا ہے کہ پہلے ڈرے اور سہمے ہوئے مسلمانوں کو مزید مجرم بناکر دیوار سے لگادیا جائے۔ قیام پاکستان کے’’جرم‘‘ کا بوجھ ہی کیا کم تھا کہ اب بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلائو کا سارا بوجھ بھی انہی کے کندھوں پر ڈالا جارہا ہے۔ کورونا نے جہاں انسانوں کو متحد اور انسانیت کی متحدہ اساس سے دوبارہ جوڑا، وہیں بھارت میں اس وبا کے دوران بھی انسانوں کے درمیان تفریق اور امتیاز کے ناقابلِ یقین واقعات سامنے آرہے ہیں۔
قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے ساتھ تفریق کی جو کہانیاں ’’ہندو پانی‘‘ اور ’’مسلم پانی‘‘ کی صورت میں سننے اور پڑھنے کو ملتی تھیں، اب کورونا بحران میں مسلمان وارڈ اور ہندو وارڈ کی تقسیم اور تفریق کی صورت میں دوبارہ زندہ حقیقت بن کر سامنے آرہی ہیں۔ گویا تاریخ خود کو نئے انداز سے دہرا رہی ہے۔ بھارت کا اکثریتی طبقہ حقیقت میں انگریز راج کے خاتمے کے وقت سے ہی اسلاموفوبیا کے عارضے کا شکار تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اُس وقت ہندوئوں کے اندر ہی ایک تعلیم یافتہ اور سیکولر لابی اس سوچ کے آگے چھوٹے چھوٹے اسپیڈ بریکر باندھتی تھی جس کی وجہ سے ہندوتوا سوچ پوری ریاست پر غلبہ حاصل کرنے میں ناکام رہتی تھی۔ ہندوتوا سوچ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو کانگریس سے دور کیا، اور اس کا منطقی نتیجہ دو الگ ریاستوں کی شکل میں برآمد ہوا۔ ہندوئوں کے اندر سخت گیر اور لبرل سوچوں کا فیصلہ کن معرکہ بھارتی آئین سازی کے دوران لڑا گیا جب پنڈت نہرو اور سردار پٹیل میں سخت جوڑ پڑا۔ بھارتی آئین میں کشمیر کو جو خصوصی شناخت دی گئی تھی وہ نہرو نے بڑی محنت سے حاصل کی تھی، کیوں کہ وہ کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کے ساتھ دوستی کے عہد و پیمان میں بندھے تھے، اور شیخ عبداللہ کو مکمل داخلی خودمختاری کے نام پر ہی وہ اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ سردارپٹیل کا نظریہ ایک ودھان ایک پردھان کی صورت میں یہ تھا کہ ایک ملک میں ایک دستور چلے گا۔ رفتہ رفتہ بھارت کا ہندوتوا کی جانب سفر جاری رہا اور اب یہ اپنے مقامِ عروج پر پہنچتا جا رہا ہے۔
5 اگست کو کشمیر کی رہی سہی خصوصی شناخت کو ختم کرنے کے بعد مودی حکومت کے ماسٹر مائنڈ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ’’ہم نے تقسیم کے وقت کی غلطیوں کو ٹھیک کردیا ہے۔‘‘ انتہا پسند ہندوئوں نے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اسلام کو ہر برائی کے ساتھ نتھی کرنے کا رویہ اپنایا ہے۔ رواں عشرے کے اوائل میں جب ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں کے ساتھ پسند کی شادیاں کرنے لگیں تو اسے انتہا پسندوں نے ’’لو جہاد‘‘ کا نام دیا۔ دو افراد کے فیصلے اور قبول وایجاب کو ’’جہاد‘‘ کا نام دینے کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ کسی فرد کے فعل کو اُس کے مذہب کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ یہ وہی مشق تھی جو مغرب نے’’اسلامک ٹیررسٹ‘‘ کی اصطلاح گھڑ کر شروع کی تھی۔ اب کورونا آیا تو ہندو ذہن نے اسے جہادِ محبت کی طرح ’’کورونا جہاد‘‘ کا نام دیا اور مسلمانوں کو ’’کورونا ٹیررسٹ‘‘ کا نام دیا۔ کورونا کو مسلمانوں کے ساتھ مستقل طور پر بریکٹ کرنے کے لیے دہلی میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کو ہوّا بنا کر پیش کیا گیا۔
بھارت کا میڈیا اس وقت حکومت کا ہمنوا اور طبلہ ساز ہے۔ آزادیٔ اظہار کی جو چڑیا کبھی بھارت میں چہچہایا کرتی تھی، اَب مذبوح ہوکر بے سدھ پڑی ہے۔ اس کی جگہ میڈیا کے نام پر ’’طبلہ نوازی‘‘ کا کلچر عام ہوگیا ہے۔ آزاد ضمیروں کی جو چند توانا آوازیں باقی ہیں وہ دور کہیں وقت، حالات اور خوف کے صحرائوں میں ڈوبتی جارہی ہیں۔ کورونا میں تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں کو نفرت، حقارت اور خوف کی علامت بنادیا گیا ہے۔ اس ساری مہم کو تقویت دینے کے لیے ’’فیک نیوز‘‘ اور افواہوں کا ہتھیار مہارت سے استعمال کیا گیا۔ ایک خبر تخلیق کی گئی، پھر اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا گیا۔ مثلاً یہ کہ پہلے ایک افسانہ گھڑا گیا جس کا مرکزی کردار ایک مسلمان تھا، پھر اس افسانے میں سنسنی خیزی بھرنے کے لیے اس مسلمان کو کورونا کا مریض بنا کر پیش کیا گیا، ساتھ ہی افسانے کو مزید دھماکہ خیز بنانے کے لیے کہا گیا کہ اس کورونا زدہ مسلمان نے فلاں ہسپتال میں نرسوں پر تھوکا، یا فلاں مقام پر واٹر ٹینک میں تھوک دیا۔ یہ کہانی واٹس ایپ کے ذریعے ہندوگروپوں میں پھیلتی گئی، اور یوں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا لاوہ Mob Lynching یا ہجوم کے تشدد کی صورت پھٹتا چلا گیا۔ نفرت اس قدر بڑھی کہ کئی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے مسلمانوں کا علاج کرنے سے انکار کیا۔ کئی مقامات پر اخبارات میں اشہارات چھپوا کر مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ فلاں ہسپتال کا رُخ نہ کریں، کئی ہسپتالوں میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے وارڈ الگ کردیے گئے۔ جب پوچھا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو بتایا کہ ہندو مریضوں کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان مریضوں کے ساتھ سہولت محسوس نہیں کرتے، یا دوسرے لفظوں میں ان سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ کئی جگہوں پر ہندوئوں نے مسلمان ریڑھی بانوں کا اپنی گلیوں میں داخلہ بند کیا۔ ان سے سامان خریدنے سے صاف انکار کیا۔ یوں نفرت ہندوستان کی جڑوں میں سرایت کرتی چلی گئی۔ ایسا ہرگز نہیں کہ یہ نفرت محض سیاسی اور انتخابی ضرورتوں کی خاطر پروان چڑھائی گئی، اگر ایسا ہوتا تو حالیہ انتخابات کے بعد حالات نارمل ہوجاتے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ برسراقتدار آچکی ہے۔ مودی جیسا سخت گیر ہندو ایک بار پھر وزیراعظم ہے۔ اترپردیش جیسی ریاست پر مودی سے دوہاتھ آگے سادھو وضع قطع کا انسان یوگی ادتیا ناتھ پورے جاہ وجلال کے ساتھ حکومت کررہا ہے۔ اب نفرت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر اصرار کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابی اور سیاسی ضرورت سے بہت آگے کا معاملہ ہے، اور بھارت بطور ریاست ایک ٹھیٹھ ہندو ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر اُبھرنے کا ہدف اور منزل طے کرچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سفر میں مسلمانوں کا وجود بوجھ یا بے معنی ہے، اور بھارت یہ سفر مسلمانوں کو مائنس کرکے طے کرنا چاہتا ہے۔ کروڑوں کی آبادی کو عملی طور پر مائنس کرنا تو ممکن نہیں، مگر وہ انہیں احساسِ کمتری اور دبائو کے ماحول میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ ان میں دوبارہ مجتمع ہونے کی قوت اور تگ و تاز باقی نہ رہے۔
وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ، دفترِ خارجہ کے بیانات یا کچھ عالمی تنظیموں کے بیانات اور کچھ مغربی اخبارات کی رپورٹس اس جنونیت کو کم تو نہ کرسکے، مگر طاقت کی عقل کسی نہ کسی مقام پر آکر مائوف ہوجاتی ہے۔ کورونا نے بھارت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ بنیا مزاج کو نہ اصولوں کی دہائی رام کرسکی، نہ انصاف کی آوازیں اور مشورے موم کرسکے۔ بنیا مزاج کو کاروباری نقصان اور خسارے کے خوف نے اب ایک دوراہے پر کھڑا کردیا ہے۔ جو اسلامو فوبیا بھارت میں زور شور سے پھیلایا گیا تھا، اب بیرونی دنیا میں بھارت سے اپنی قیمت وصول کرنے لگا ہے۔ اس عمل کا آغاز اُس وقت ہوا جب خلیجی ملکوں میں روزگار اور کاروبار کے لیے مقیم ہندوئوں نے ہندوتوا کے سخت گیر نظریات کے زیراثر بھارتی مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی شروع کردیا۔ متحدہ عرب امارات اس مہم کا مرکز تھا جہاں بھارتی لابی کا اثر رسوخ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔
خلیجی ملکوں میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ بھارتی موجود ہیں، اور ان میں صرف تیس لاکھ متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ یہ لوگ کاروبار اور ملازمتوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ او آئی سی نے ایک قرارداد میں بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کی تو بھارت کی گز بھر زبان، جو اندرونی معاملات میں مداخلت کے نام پر اکثر شعلے اگلنے لگتی ہے، کچھ گنگ سی ہوگئی۔ 2015ء میں اماراتی حکومت نے ’’اینٹی ڈسکریمنیشن لا‘‘ کے نام سے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کا مقصد نفرت انگیز مہمات کی روک تھام تھا۔ کورونا مہم میں مسلمانوں کے خلاف امارات میں مقیم ہندوئوں کے خلاف یہ قانون حرکت میں آنا شروع ہوا۔ گزشتہ چھ ماہ میں بھارت کے چھ شہری اس قانون کی زد میں آچکے ہیں۔ ان افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔
دبئی میں مقیم بھارتی فلم ساز سوہان رائے کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے پر سرِعام معذرت کرنا پڑی۔ اسی طرح دبئی میں مقیم ایونٹ منیجر سورابھ اوپدائے، جس نے مسلمانوں کا سماجی اورمعاشی مقاطعہ کرنے کی مہم چلا رکھی تھی، اپنے تمام سوشل میڈیا اکائونٹس اور ویب سائٹس سے محروم ہوگیا۔ اس مہم میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب متحدہ عرب امارات کی شہزادی ہند الکسیمی کو پہلے اپنے ٹویٹس میں، اور بعد ازاں بھارت کے این ڈی ٹی وی کی اینکر نندی رازدان کے ساتھ ایک انٹرویو میں دوٹوک انداز میں ایسے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا پڑا: ’’گوکہ امارات کا شاہی خاندان بھارت کا دوست سہی، مگر آپ کی کوئی بدتمیزی قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسے لوگ نظر میں ہیں اور انہیں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
شہزادی کا یہ انداز بھارت کے حکمرانوں کے لیے بجلی گرنے سے کم نہ تھا۔ یہی نہیں… امارات، کویت، قطر، بحرین میں بھی ایسی آوازیں بلند ہونے لگیں جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی شہری ہمارے ہی سرمائے سے بھارت میں ہمارے بھائیوں کو قتل کررہے ہیں اس لیے انہیں خلیج سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک بااثر عرب محمد الشریکہ کا ایک ٹویٹ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جس کے مندرجات یوں ہیں: ’’ہندو نسل پرستوں کی حکومتی حمایت بھارت کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ کیا وہ بیس فیصد آبادی کو نقصان پہنچا کر خانہ جنگی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں؟‘‘
عرب ملکوں میں ہلکی سی جھرجھری ہونے کے بعد نریندر مودی کو یہ حقیقت نظر آنے لگی کہ کورونا کا کسی نسل اور مذہب سے تعلق نہیں۔ اس سے پہلے وہ بھی کورونا کا مذہب اسلام ہونے پر کامل یقین رکھتے تھے۔ جس پر فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا‘‘۔ بعد میں متحدہ عرب امارات میں بھارت کے سفیر کو ایک وڈیو پیغام میں امارات میں مقیم بھارتی سخت گیر ہندوئوں کو پیغام دینا پڑا کہ انہیں اس ملک کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے اور نفرت انگیز مہم سے گریز کرنا چاہیے۔
امارات میں بھارت کے سابق سفیر نودیپ سوری نے تو یہ بھی کہا کہ کورونا کے دوران اُبھرنے والی نفرت انگیز مہم بھارت کے لیے نیا سفارتی چیلنج ہے اور پاکستان اس صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا۔ جس کے بعد بھارت کی کچھ ریاستوں میں فیک نیوز اور ہجوم کے تشدد کے خلاف کچھ وزرائے اعلیٰ نے پھرتیاں دکھانا شروع کردی ہیں۔ کئی جگہوں پر افواہیں پھیلانے پر کچھ لوگوں کے خلاف کارروائیاں ہونے لگی ہیں۔ یوں اونٹ اب پہاڑ کے نیچے آتا نظر آرہا ہے۔ انسانیت، اہنسا، انصاف سمیت جو دُہائیاں بھارت پر اثرانداز نہ ہوسکیں، مالی نقصان کے خوف نے بھارت کو یہ سارے سبق پڑھانا شروع کردیے ہیں۔

حصہ