یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

343

قدسیہ ملک
کرونا کے بعد اب ہنٹاوائرس نے چین میں اپنے پنجے گاڑنے شروع کردیئے۔یہ دراصل rodents چوہے چمگادرڑ وغیرہ میں پھیلتا ہے لیکن اگر انکے feces یا urine انسانی کھانے میں مل جائے تو انسانوں میں ہوجاتا ہے۔۔ لیکن یہ کرونا کی طرح نہیں لگتا یا پھیلتا۔بعض ذرائع کے مطابق یہ بھی پھیلنے والی بیماری ہے۔اللہ ہم سب کو وبائی امراض سے محفوظ رکھے۔
یہ سچ ہے کہ مسلمان اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور ڈرنابھی نہیں چاہیے۔ لیکن مسلمان وہی ہے جو تو کل علی اللہ کے ساتھ ساتھ اقدام خودکشی سے مکمل اجتناب کرتاہے۔ جو بھی ہو انسان میں بے حسی نہیں ہونی چاہیے۔ بے حسی یہ ہے کہ انسان اپنی ظاہری اور باطنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائے۔ ظاہری ذمہ داریاں حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہیں اور باطنی ذمہ داریا ں حقوق اللہ کا زمرہ ہیں۔ ظاہر اور باطن میں فرق بغرضِ تفہیم ہے۔ جب تفہیم مکمل ہوجاتی ہے تو فرق نکل جاتا ہے۔۔۔ تفریق ختم ہو جاتی ہے۔۔ بے حسی حقوق کا نعرہ بلندکرتی ہے لیکن اپنے فرائض کی آواز پر کان نہیں دھرتی۔ اسی لیے بعض لوگ اس وبائی مرض کا شکار ہوکر لوگوں سے ملنے سے اجتناب کررہے ہیں تو بعض ماریہ بی کی مالک خاتون کے شوہر کی طرح بیماری کا شکار ہوکر اپنی بے حسی سے دوسروں کو بھی اس کا شکار بنارہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس وبائی بیماری کو لے کر بہت ہی ذومعنی مضحکہ خیز اور تمسخرانہ پوسٹیں شیئر کرنی شروع کردی گئی ہیں۔ یہ سب چیزیں بھی ایک حد تک تو اچھی لگتی ہیں۔ لیکن خیال رہے کہ احتیاط اور تہذیب کادامن ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ کیونکہ مومن اونٹ باندھ کر توکل کرتا ہے۔
آج کل مختلف شعراء کی شاعری کو کرونا وائرس سے کس طرح جوڑاجارہاہے۔ آپ بھی دیکھئے۔ مشہور شاعر جون ایلیا نے اپنی شاعری میں جگہ جگہ کرونا کے مختلف پہلوؤں پہ تجربہ و تجزیہ بیان کیا ہے، ذرا ملاحظہ کیجیے کہ عوام الناس نیجون ایلیاء کی شاعری کو کس طرح کروناوائرس سے جوڑا ہے۔

1- Birth of Pandemic

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

2- Requesting people to be at home

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

3- Dynamics of Social Distancing

کرم والوں کی بستی میں صدائیں دی بہت ہم نے
سبھی نے کھڑکیاں کھولیں، کسی نے در نہیں کھولا

4- Fed up after telling people about social distancing

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم؟

5- Muslims propagating false news

خواہشِ زیست کس سے چْھوٹی ہے
امتِ صادقین جھوٹی ہے

6- If people survived the pandemic

حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
کہ دار پر گئے ہم اور پھر اْتر آئے

7-When public don’t listen, Government be like..

میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

8- Public to Government.

علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

9- People quietly living in quarantine without creating a fuss.

خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

10- People who caught virus because of carelessness.

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

11- People running from quarantine center with pathetic conditions

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

12- Friends and Family meeting each other since it is off these days

وار کرنے کو جانثار آئیں
یہ تو ایثار ہے عنایت ہے

13- At the end of another day living under treat

آج کا دن بھی عیش سے گزرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے

نوٹ. میں بالکل بھی اس وائرس کو نان سیریس نہیں لے رہی۔ لیکن اپنے معاشرے کا ایک عمومی مزاج بیان کررہی ہوں۔
ہمارے معاشرے میں ہر چیز ایک مذاق ہے۔ دل لگی ہے۔ لیکن زندگی مذاق نہیں ہے۔ احتیاط ہر صورت میں لازم ہے۔
کروناوائرس کے حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کی ایک نئی قسم ہے۔ لہٰذا دستیاب معلومات میں کمی کے باعث اس حوالے سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ جو کہ ایک غلط اقدام ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ جائزوں کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح محض دو سے تین فی صد ہے۔ جو دیگر وبائی امراض مثلاً برڈ فلو 40 فی صد، مرس کرونا وائرس 35 فی صد اور ایبولا وائرس جس میں اموات کی شرح 40 فی صد ہے کہ مقابلے میں بہت کم ہے۔
ماہرین کے مطابق گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظی تدابیر میں شامل ہے۔ نزلہ اور زکام کی صورت میں پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لیے فائدہ مند ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے تاحال اسے عالمی وبائی مرض قرار نہیں دیا۔ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے یہ وائرس دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ ڈبلیو ایچ او اسے وبائی مرض قرار دے سکتا ہے۔
جب بھی مملکت خداداد پاکستان کسی خطرے سے دوچار ہو توایسے میں الخدمت اور اس جیسی رفاحی جماعتوں کا کردار سب سے اہم رہاہے۔ اس وبائی بیماری کی روک تھام کے لیے الخدمت کے کارکن ہر جگہ موجود ہیں۔ جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاونڈیشن نے کرونا کے ٹیسٹ کرنے کے لیے سینٹر قائم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں اور مزید سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نادار اور غریب افراد میں مفت راشن کی تقسیم کو بھی ہر سطح پر ممکن بنایا جا رہا ہے۔ دیہاڑی دار لوگوں کے گھروں پر راشن تقسیم کیا جارہا ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل شاہ پور، ضلع سرگودھا شمالی کی جانب سے مختلف محکموں کے ذمہ داران کو فری ماسک تقسیم کیے گئے اور کرونا وائرس مہم میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی تحصیل شاہ پور ملک محمد اسلم اعوان صاحب اور صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل شاہ پور شیخ محمد فیاض صاحب موجود تھے۔
ہماری حکومت اس نازک وقت میں بھی عوام کو لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔
ہم پر ایسے حکمران مسلط ہیں کہ جن کے آگے کرونا کا عذاب بھی اب حقیر نظر آتا ہے۔ جتنی دعائیں کرونا کے خاتمے کے لیے کریں اس سے زیادہ ان سے نجات کے لییبھی کرنی چاہیے۔ گندم، آٹا اور چینی سے مال بنانے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات سے مال بنانے کا وقت آگیا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر کی کمی آنی تھی لیکن 15 روپے کمی کرکے اس کو بھی کرونا ریلیف پیکج میں شامل کردیا ہے۔ اللہ ہمیں لٹیروں سے محفوظ رکھے۔
اس وبائی وائرس سے اٹلی میں ایک دن میں 602 لوگ مرے۔ سپین میں ایک دن میں 462 لوگ مرے۔ فرانس میں ایک دن میں 186 لوگ مرے۔ ایران میں ایک دن میں 127 لوگ مرے۔ امریکہ میں ایک دن میں 100 لوگ مرے۔ یہ ممالک پاکستان سے کئی گنا زیادہ طبی سہولیات رکھتے ہیں۔ پاکستان کو کس قدر بڑے خطرے کا سامنا ہے، اس ہولناکی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
آخر میں بشیر بدر کے اشعار آپ کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو

حصہ