کچھ یادیں۔۔۔ کچھ باتیں

146

تحریر: مولانا معین الدین خٹک/ مرتب: اعظم طارق کوہستانی

حضرت مولانا معین الدین خٹک صاحب جامعہ عربیہ گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث تھے۔ صحیح معنوںمیں علماے سلف کی یاد گار رہے۔ دینی و کلامی علوم کے نہ صرف استاد کامل تھے بلکہ بڑھاپے میں بھی حافظہ اس غضب کا ہے کہ تاریخیں ،مقامات ،اشخاص بلکہ صفحات تک ازبر ہیں۔ کسی موضوع پر بات کرتے تھے تو معلومات کے ڈھیر لگادیتے تھے اور ان میں ترتیب توازن کو دیکھ کر یوں احساس ہوتا تھا گویا مولانا کے سامنے کوئی کتاب رکھی ہے جسے روانی سے پڑھتے جارہے ہیں۔ پٹھانوں کی روایتی ، مگر باوقار گرم جوشی ، محبت ، شفقت اور خلوص کا یوں اظہار کرتے تھے کہ اُن کے پاس بیٹھنے والا اپنا قدو قامت بڑھتا ہوا محسوس کرتاتھا، تواضع اور انکساری کا یہ عالم رہا کہ بظاہر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ سیدھا سادہ دیہاتی بزرگ اپنی ذات میں بحرالعلوم ہوگا۔ مولانا تحریک اسلامی کے مایۂ ناز کارکن تھے اور ان سے علم اور تعلیم و تدریس ، فرض شناسی اور ایثار کوشی کی اعلیٰ روایات کابھرم زندہ رہا، مولانا مودودیؒ کے انتقال کے اگلے ہی برس قومی ڈائجسٹ نے مولانا کے حوالے سے خصوصی نمبر نکالا، اس خاص نمبر میں مولانا معین الدین خٹک صاحب کا خصوصی انٹرویو بھی شامل تھا، یہ انٹرویو اتنا دلچسپ ہے کہ اگر سوالات کی رکاوٹ ختم کی جائے تو یہ واقعات کا خوب صورت گلدستہ بن رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ مولانا معین اپنی روداد رواں اور سلیس انداز میں لکھتے جارہے ہیں،مولانا معین کے واقعات خود انھیں کی زبانی سنیے، یاد رہے کہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو مولانا معین الدین خٹک رحلت فرماگئے تھے، مدیر۔

یہ دسمبر ۱۹۴۱ء کی بات ہے ۔ میں شاہی مدرسہ (قاسم العلوم ) مراد آباد میں پڑھتا تھا ۔ ایک روز ترمذی شریف کا درس ہو رہاتھا ۔ مشہور مصنف مولانا محمدمیاں صاحب پڑھا رہے تھے کہ اُن سے خلافت کے موضوع پر بحث چھڑ گئی ۔ انہوںنے فرمایاکہ ہمارے دور میں خلافت راشدہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ نظام تو حضرت علی ؓاور حضرت معاویہؓ کے ہاتھوں بھی قائم نہیں رہ سکاتھا۔ نہ آج کل کسی میں محمود غزنوی اور صلاح الدین ایوبی والاتقویٰ موجود ہے۔ اس لیے اب اس کاکوئی سوال نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ جو ہوسکتا ہے وہ یہ کہ مغلیہ طرز حکومت کاسا ایسا نظام قائم کردیاجائے جو اسلامی نظام کے قریب ہو اور بس …لیکن پنجاب میں ایک شخص مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہے جو کہتاہے کہ خلافت راشدہ کانظام زندہ کیا جائے ، حالانکہ یہ کسی طور بھی ممکن نہیں۔
یہ پہلاغائبانہ تعارف تھا جو سید مودودیؒسے ہوا۔ اس وقت جماعت اسلامی قائم ہوچکی تھی ، مگر میں اس سے بے خبر تھا نہ مولانامحمدمیاں صاحب نے بتایا تھا ، چنانچہ مولانا کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ تھا اگرچہ مخلص ہیں اور حق بات کہتے ہیں لیکن زمانے کے تقاضوں سے بے خبر ہیں ۔ وہ ایک سادہ دل دیہاتی مُلّا کی طرح ہیں جو کندھے پر لاٹھی رکھ کر اعلان کرتاہے کہ میں اسلامی نظام قائم کرکے رہوں گا۔
۱۹۴۴ء تک یہی عالم رہا، اگرچہ میں نے بے تحاشا مطالعہ کیا تھا ،بہت سی لائبریریوں کو کھنگال لیا تھا اور ڈیڑھ درجن علوم پر حاوی ہوگیاتھا ، مگر سید مودودیؒ کی کوئی کتاب یا تحریر نظر سے نہ گزری تھی۔
۱۹۴۴ء میں، میں فارغ التحصیل ہو کر کوہا ٹ سے اسّی میل دور اپنے گائوں آگیا اور ایک دینی مدرسے میں پڑھانے لگا ۔ اس زمانے میں مجھے ایک ایسا خواب آیا جس کی تعبیر میرے فاضل استاد نے یہ کی کہ اللہ تعالیٰ نئے علوم کے دروازے مجھ پر کھول دے گا۔
میں نے خوبصورت ، سبز اور خوشبودار رومال کھول کر دیکھا …میں حیران تھا کہ درس نظامی کے تمام شعبوں پر تو دسترس حاصل کرچکاہوں ، اس کے علاوہ بھلا وہ کون سے علوم ہوسکتے ہیں ، جن کے دروازے مجھ پر کھولے جائیں گے۔
یہ دوسری جنگ عالمگیر کا دور تھا اور جی چاہتاتھا کوئی ایسا اخبار ہو جس سے بین الاقوامی حالات سے آگاہی حاصل ہو ۔ ایک دوست نے بتایا کہ لاہور سے ’’کوثر ‘‘ نامی ایک ہفت روزہ اخبار چھپتا ہے اور اس معیار پر پورا اُترتا ہے ۔ میں نے ایڈیٹر اخبار کو ثر لاہور کے پتے پر خط لکھاکہ بطور نمونہ دو پرچے بھیج دیئے جائیں۔ اس کے جواب میں ملک نصر اللہ خاں مرحوم نے اکتوبر ۴۴ء کاآخری اور نومبر۴۴ء کاپہلا شمارہ بھجوادیا۔ اخبار کے آخری صفحے پر ایک اشتہار تھا۔’’ مولانا مودودی کی انقلاب انگیز تصانیف۔‘‘ یہ نام دیکھا تو یاد آیاکہ یہ وہی صاحب ہیں جن کاذکر مولانا حامد میاں سے سناتھا …خیال آیاکہ ان کی کتابیں منگوا کر دیکھنی چاہییں۔
میرے استاد کے صاحبزادے لاہور میں رہتے تھے ۔ ایک مرتبہ وہ گھر آئے تو میں نے دریافت کیا۔ آ پ نے سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کو دیکھا ہے، وہ کہنے لگے انھیں تو نہیں دیکھا ، مگر ان کی کتاب میرے پاس موجود ہے۔ ’’ یہ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کاحصہ دوم تھا۔ میں نے بڑے اشتیاق سے یہ کتاب لی اور ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی ، تاثر کایہ عالم تھا کہ اس کتاب کی باقی دو جلدیں بھی منگائیں اور ختم کرلیں ۔ اس کے بعد تفہیمات اور تنقیحات بھی حاصل کیں۔
اسی زمانے میں، میں نے خواب دیکھاکہ کسی نے ایک انتہائی خوبصورت اور سبز خوشبودار رومال دیا ہے ۔ کھولا تو اس میں ’’ترجمان القرآن ‘‘ تھا۔ اسی خواب کے بعد ترجمان القرآن کامطالعہ شروع کیا جس کے نتیجے میں تحریک ہوئی کہ تبلیغ دین کاکام انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہونا چاہیے۔ اپنے علاقے میں کوثر کے خریداروں کاپتا کرایا۔ ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب نے ہدایت فرمائی کہ میں مولانا سردار علی خاں سے ملاقات کروں ، چنانچہ مارچ ۴۷ء میں پبی ضلع پشاور میں جو اجتماع ہوا، میں نے اس میں شرکت کی تو باقاعدہ وابستہ ہوگیا۔
مولانا سے میری پہلی ملاقات ۱۹۴۸ء میں پشاور میں ہوئی۔ ۱۹۵۱ء میں جب مولانا دوبارہ صوبہ سرحد کے دروے پر تشریف لے گئے ، تو اُنھوںنے خرم کے مقام پر تقریر فرمائی۔ مرحوم تاج الملوک صاحب کے حکم پر ترجمہ کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوئی۔ ’’اسلام کے نظریۂ عبادت ‘‘پر چالیس منٹ کی اس تقریر کے میں نے نوٹس نہ لیے ،مگر پشتومیں ترجمہ من و عن کردیا۔ مولانا بہت حیران ہوئے اور خوش بھی ۔ مسکرا کر فرمایا،آپ تو ٹیپ ریکارڈ ہیں، ملاقات اور تعارف کے وقت وہ عموماً اس خطاب کو دہرایا کرتے تھے ،چنانچہ اسی برس جب جماعت کے دستور کی تدوین کا کام شروع ہوا اور مجھے بھی لاہور طلب کیاگیا ، تو میں وہاں اپنی مخصوص ٹھیٹھ دیہاتی وضع قطع میں پہنچا۔ ارکان نے حیرت سے پوچھاکہ آپ کو ن ہیں اور کہاں سے آئے ہیں ؟ اور جب میں نے بتایا کہ میں دستور کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے لیے آیا ہوں ، تو انہیں یقین نہ آیا۔ اسی اثنا میں مولانا محترم باہر تشریف لائے : ’’بھئی آپ نہیںجانتے یہ ہمارے ٹیپ ریکارڈ ہیں۔ ‘‘ پھر محبت سے تعارف کرایا اور بڑی تحسین فرمائی۔
اسی دور ے میں مولانا خرم سے کوہاٹ تشریف لائے جہاں ایک نشست پر ہم انتخاب لڑنا چاہتے تھے ۔ کرک کے مقام پر پہنچے تو گرج چمک کے ساتھ زبردست بارش ہونے لگی۔ مولانا نے حاضرین سے کہاکہ معین الدین صاحب آپ کو میری خرم والی تقریر سنائیں گے۔ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی ، تو ٹیپ ریکارڈ کے خطاب کی توثیق فرمادی۔یہاں سے جب ہم لتمبر کی طرف روانہ ہوئے ، تو مولانا بولے کرک کی کڑک تو دیکھ لی ، اب لتمبر کی ستمبر دیکھیں گے۔
مولانا محترم عام فلسفیوں یا دانشوروں کی طرح خنک مزاج نہ تھے۔ شگفتہ کلام اور حاضر جواب تھے ۔ اپنے کسی ساتھی میں یہی خوبی پاتے ، تو لطف اندوز ہوتے اور تحسین فرماتے ، چنانچہ جنوری۱۹۶۳ء جب ڈیرہ اسماعیل خاں کے دورے پر تشریف لائے تو مجھ سے پٹھانوں کی تاریخ دریافت کی ۔ میں نے عرض کیا عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ پٹھان باپ کی طرف سے بنی اسرائیل اور ماں کی طرف سے قریشی ہیں ، یعنی قیس عبدالرشید (بنی اسرائیل) کی شادی حضرت خالد بن ولید ؓ کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ اسی بنا پر بعض پٹھان یہ بھی کہتے ہیںکہ ہم حضرت خالد ؓ کی اولاد سے ہیں۔
مولانا نے یہ سن کر فرمایا :’’اچھا تو اس کامطلب یہ ہے کہ پٹھانوں کی نسل ماں سے چلتی ہے۔‘‘
میں نے بے ساختہ عرض کیا: ’’جی ہاں !بالکل اسی طرح جس طرح سیدوں کی اولاد ماں سے چلتی ہے ۔‘‘ اس پر مولانا بہت ہنسے اور میری حاضرجوابی کی تعریف فرمائی۔
اس دور ے میں مولانا پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خاں آئے تھے اور یہیں سے واپس پشاور جانا تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خاں پہنچ کر دریافت فرمایاکہ پشاور سے ڈیرہ کافاصلہ کتنا ہے۔ میں نے بتایاکہ دو سو دس میل۔ برجستہ بولے ، پھر تو آپ نے میرے ساتھ چار سو بیسی کی ہے ، چنانچہ واپسی پر ہم نے اُنھیں کوہاٹ چھائونی کی سیر کرائی تاکہ میلوں کی تعداد چار سو بیس سے تجاوز کرجائے۔
واپسی میں ہم پیزو نامی ایک ایسے مقام پر رکے جہاں کی مرغیاں بہت مشہور ہیں ۔ ارباب سعیدنے ایک پکا ہوا سالم مرغ خریدا مولانا نے کھایا تو کہنے لگے :’’بھئی اب میں پیزو کا قائل ہوگیا ہوں ، یہاں تو اکثر آنا جانا چاہیے ۔ ‘‘میں نے ازراہ تفنن عرض کیاکہ جناب پیزو میرے علاقے میں ہے۔ مجھ سے اجازت لیں گے ، تو آئیں گے۔ فرمایا میں میانوالی کے راستے سے چپکے سے آئوں گا اور مرغا کھا کر خاموشی سے چلا جائوں گا۔
مولانا میں تحقیق و جستجو کامادہ بے پناہ تھا ۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز کو نظر انداز نہ کرتے اور ساتھیوں سے معلومات دریافت کرتے ،چنانچہ اسی دورے میں جب ہم لاچی کے مقام پر پہنچے جہاں ایک ساتھی نے انہیںچائے کی دعوت دی تھی تو پوچھا اس قصبے کی وجہ تسمیہ کیاہے ؟ اور جب لوگوں نے بتایاکہ کسی زمانے میں یہاں لاچی نام کی ایک ہندوعورت رہتی تھی ، تو مسکرا دیے۔
(جاری ہے)

تحقیقی مطالعے کا طریقۂ کار

سید ابواالاعلیٰ مودودیؒ
تحقیقی مطالعے کی طرف رجحان ۲۳۔ ۱۹۲۲ء کے زمانے میں شروع ہوا۔ اس وقت بھی کسی خاص موضوع پر تعین کرکے میں نے اس میں خصوصی واقفیت بہم پہنچانے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ جس موضوع پر بھی میں لکھنا چاہتا تھا۔ اس موضوع کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کرنے اور ان کو مرتب کرنے کی کوشش کرتا تھا۔چند سال کے بعد ذہن کا رجحان قطعی طور پر اسلامی نظام زندگی کو سمجھنے اور اس کے مختلف پہلوئوں کو مرتب طریقے سے پیش کرنے کی طرف ہوگیا اور پھر میرے مطالعہ و تحقیق کی کوششیں اسی راستے کے لیے وقف ہوگئیں… میرے رجحانات میں یہ تغیر ۲۹۔۱۹۲۸ء کے لگ بھگ زمانے میں شروع ہوا۔ یہ تبدیلی میرے اندر آہستہ آہستہ از خود پیدا ہوئی اور متعین طور پر اس کا کوئی خارجی محرک نہ تھا۔ میرا طریقِ تحقیق اس وقت سے یہ رہا ہے کہ جس چیز کے متعلق بھی میں رائے قائم کرنا چاہتا ہوں اس کے تمام گوشوں کے متعلق جہاں جہاں سے بھی معلومات فراہم ہوسکتی ہوں۔ اس کا مطالعہ کرتا ہوں۔ مطالعے کے دوران میں کتابوں پر نشانات لگاتا جاتا ہوں۔ اس کے بعد پھر نشان زدہ مقامات سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ الگ نوٹ کرلیتا ہوں اور لکھتے وقت میرے سامنے کتابیں نہیں ہوتیں بلکہ صرف میرے نوٹس ہوتے ہیں۔
(حوالہ: ماہنامہ سیارہ ،لاہور)

حصہ