نہ ہو تیرا سرخم۔۔۔ اے پاک وطن

88

عروبہ عثمانی
امی امی امی!!! احسن خوشی سے چلاتا، دروازہ دھڑ سے کھول کے آکر ماں کے گلے لگ گیا جو اس وقت کچن میں دوپہر کا کھانا تیار کررہی تھیں۔ ’’ارے، ارے ہوا کیا ہے بھئی؟‘‘ امی نے حیرت زدہ ہو کر بیٹے کو مخاطب کیا۔ ’’امی، مجھے قومی کرکٹ ٹیم میں منتخب کر لیا گیا ہے اور ٹریننگ کے لیے اگلے ہفتے ہی لاہور جانا ہو گا۔ امی میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ۔ میری سالوں کی محنت اور آپ لوگوں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔‘‘ ’’ایک منٹ ٹہر تو جائو، سانس تو لے لو‘‘، امی نے پیار سے احسن کے سر پہ چپت لگاتے ہوئے پانی کا ٹھنڈا گلاس بیٹے کی جانب بڑھایا اور احسن جو مارے خوشی اور جوش سے ٹرین کی سی رفتار سے بولتا جا رہا تھا، غٹاغٹ گلاس خالی کر گیا۔
احسن چار بہنوں کا اکلوتا اور بے حد لاڈلا بھائی تھا۔ ماں باپ کی آنکھ کا تارہ بچپن سے ہی بے حد ذہین، سلجھا ہوا اور تمیز دار بچہ تھا۔ جذبہ حب الوطنی اور احساس ذمہ داری کم عمری سے ہی اس کے خون میں سرائیت تھی۔ تعلیم میں نمایا کارکردگی کے علاوہ دیگر غیر نصابی سرگرمیوں بالخصوص کرکٹ سے اسے خاص لگائو تھا۔ اسی شوق اور جنون کو دیکھ کر اس کے ابو نے محدود وسائل کے باوجود بھی اسے ٹریننگ دلوائی، جذبہ اور قابلیت تھی اور دو سالوں کی انتھک محنت تھی کہ جس کی بدولت آج اس کا انتخاب قومی کرکٹ ٹیم میں ہو گیا تھا۔ خبر پہنچی ہی تھی ہر جگہ سے دعائوں اور نیک تمنائوں کا تانتا بندھ گیا۔ پھر لاہور روانگی کا وقت بھی اگیا اور وہ مزید ایک سال کی ٹریننگ کے لیے لاہور چلا گیا۔
دن گزرتے گئے اور بالآخر احسن قومی کرکٹ ٹیم کا ایک ماہر کھلاڑی بن کر واپس آیا۔ مگر ایک بری خبر اس کی منتظر تھی۔ احسن کے ابو کو برین ٹیومر تھا۔ اور اس کو اس بات سے اس لیے بے خبر رکھا گیا کہ کہیں وہ پریشان نہ ہو جائے اور بچپن سے لے کر اب تک جس خواب کو وہ آنکھوں میں سجائے ہوئے تھا، کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ احسن کو سب سے زیادہ محبت اپنے ابو سے ہی تھی وہ سب بھول بھال باپ کی تیمار داری اور علان معالجے میں لگ گیا۔ شہر کے قابل ترین ڈاکٹر سے سرجری کے لیے جمع پونجی بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔ چھ مہینے بعد احسن کے ابو تندرست ہو گئے مگر ایک امتحان اور باقی تھا۔ ایک ماہ بعد ہی ورلڈ کپ کے لیے احسن کو آسٹریلیا روانہ ہونا تھا جس میں انٹری کے لیے جو رقم درکار تھی وہ سب ابو کے علاج میں صرف ہو چکی تھی۔ ’’ابو! میں اس بار میچ کے لیے نہیں جا رہا، میری جگہ ایاز لے سکتا ہے وہ بھی بہت اچھا کھلاڑی ہے‘‘۔ یہ جاننے کے باوجود کے احسن ٹیم کا سب سے بہترین کھلاڑی ہے وہ خود پیچھے ہٹ رہا تھا۔ ابو کو علم تھا کہ وہ یہ سب کیوں کررہا ہے۔ ’’احسن میری جان! بیٹے جس مقصد کے حصول کے لیے تم نے دن رات ایک کر دیا آج وہ موقع جب خود تمہارے ہاتھ آیا ہے تو وہ تم کھونے جا رہے ہو؟ اس وطن کو تمہاری ضرورت ہے۔ تم جیسے نوجوان اس وطن کی شان ہو فخر ہو۔ پوری قوم کو تم سے امید یں ہیں۔ اتنی آسانی سے وہ امید توڑ دوگے تم؟‘‘ ’’مگر ابو‘‘!! ۔
’’نہیں احسن! تم جائو گے، کھیلو گے اور جیتو گے بھی، رہی بات پیسوں کی تو بیٹا ہم یہ گھر گروی رکھوا دیں گے۔ گھر رہے نہ رہے، مگر کرکٹ ٹیم میں تمہاری شمولیت لازمی ہے۔ اور یہ میرا حکم ہے‘‘!! اور احسن چار و ناچار دل پہ پتھر رکھ کر باپ کا حکم پورا کرنے پہ مجبور تھا۔ کل فائنل تھا آسٹریلوی ٹیم بھی کوئی کم نہ تھی۔ سوچوں میں غلطیاں احسن اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ اس کے پاس انجان نمبر سے فون کال آئی۔ فون اٹھا کر احسن اس سے پہلے کچھ بولتا، دوسری طرف سے بھاری مردانہ آواز اور انگریزی لہجے میں اس سے کہا گیا کہ ’’مسٹر احسن، کل کا میچ ہار جائو، تو تمہیں تمہارا گھر بھی واپس مل جائے گا بلکہ دوگنا پیسہ بھی اور جو چیز تم چاہو تمہیں مل جائے گا۔ ٹی وی پر شہروں میں میچ کے حوالے سے تیاریاں اور لوگوں کے تاثرات دکھائے جا رہے تھے۔ شہری بے پناہ خوش تھے اور جوش و جنون سب کے چہروں پہ رقم تھا۔
’’ہمیں یقین ہے ہمارا ہیرو فائنل بھی جتوائے گا‘‘ کراچی کے ایک نوجوان نے اظہار رائے کیا۔ ’’جیتے گا بھئی جیتے گا پاکستان جیتے گا۔‘‘ ’’احسن فاروق زندہ باد‘‘۔ ’’ہمیں تم پہ ناز ہے احسن‘‘ ’’اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو‘‘ بزرگ بھی پیچھے نہ تھا۔ اور آخر میں 8 سال کا چھوٹا سا بچہ بولا ’’احسن بھائی ہمارے ملک کی عزت آپ کے ہاتھ میں ہے اور ہمیں آپ پہ پورا بھروسہ ہے۔ میں بھی بڑے ہو کر احسن بنوں گا‘‘۔ ’’میں بھی بڑے ہو کر احسن بنوں گا‘‘ یہ الفاظ احسن کے کانوں میں دھماکہ کرہے تھے۔ ریموٹ اس کا ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا اور آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ اٹھا اور وضو کرکے سر بسجود ہو گیا۔ دیر رات تک اللہ کے حضور روتے ہوئے جب اس نے سجدے سے سر اٹھایا تو وہ ایک فیصلہ کر چکا تھا۔
فائنل میچ شروع ہو چکا تھا۔ ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھائی تھی آخری چند بالیں رہ گئیں تھیں۔ آخری کھلاڑی احسن ہی تھا۔ ٹیم کو جیتنے کے لیے بھی چند رن ہی درکار تھے۔ کھیل شروع ہوا اور احسن نے وہی بہترین کارکردگی دکھائی۔ آخری بال پہ دو رنز درکار تھے۔ گرائونڈ ’احسن‘ کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں۔ ایک طرف اس کا گھر، گھر والے اور مستقبل اور دوسری طرف اس کے وطن کی عزت اور وقار اس نے آنکھیں کھولیں۔ سامنے سے آتی بال کو دیکھا اور ’’اللہ اکبر، پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بلا گھمایا مجمع کو سابط سوبگھا ہوا تھا کہ ایک دم ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ احسن نے چھکا مارا تھا اور وہ فائنل میچ جیت چکے تھے۔ وہ ایک دم گرائونڈ میں ہی سجدے میں گرپڑا۔ شائقین خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں نے آکر اس کو گود میں اٹھا لیا۔ Man of the senes اور ورلڈ کپ Traphy کو ہاتھ میں اٹھائے جب قومی ترانہ بجا اور قومی پرچم سب سے بلند ہوا تب احسن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آج اس نے وطن کی عزت کو نیلام ہونے سے بچا لیا تھا۔ آج وہ اغیار کی باتوں میں نہ آیا تھا۔ آج اس نے بھی قربانی دی تھی۔ وطن کی خاطر۔
اور اس کی قربانی رائیگاں نہ گئی۔ انسپیکشن ٹیم کو رپورٹ کرنے کے بعد وہ گروہ پکڑا گیا جو میچ فکسنگ میں ملوث تھا اور وہ کال ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا تھا جو اس رات احسن کو کی گئی تھی۔ احسن کو اس کا گھر بھی واپس مل گیا۔ احسن نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ملک کا اصل ہیرو ہے اور اس کی زندگی کا اب مقصد تھا کہ ’’نہ ہو تیرا سرخم اے پاک وطن‘‘۔

اعتزاز

ہم معذرت خواہ ہیں کہ پچھلے شمارے میں کہانی ’’شیبا کی گڑیا چلی سسرال‘‘ پر مصنفہ کا نام غلط شائع ہو گیا۔ یہ کہانی متحرمہ شہلا خضر نے تحریر کی ہے۔

حصہ