ناشکری!!۔

124

ہادیہ امین
نعیم بابا دادا کے زمانے سے گھر میں کام کرتے تھے، اب ان کی عمر کی وجہ سے ہمت کچھ کم ہوگئی تھی مگر اسکے باوجود گھر کے بڑے لوگ انکی عزت کرتے تھے۔ البتہ بچے انہیں کچھ زیادہ پسند نہ کرتے تھے۔ اسکا اندازہ خود نعیم بابا کو بھی تھا مگر وہ بچوں کی باتوں کو نظرانداز کر جاتے۔
نعیم بابا کی ایک عادت تھی کہ جہاں وہ کوئی پنکھا یا بتی بلا وجہ کھلی دیکھتے، فوراً اسے بند کردیتے۔ ان کو پانی کا ضائع ہونا تو بہت ہی برا لگتا، جب کسی بچے یا بڑے کو ہاتھ دھوتے ہوئے نل کھلا چھوڑتا دیکھتے تو غصے میں آجاتے۔ گھر میں موجود کافی افراد ان کی تربیت کی وجہ سے پانی اور بجلی کا بہت خیال رکھتے مگر بچوں کو ان کی نصیحتیں بوجھ محسوس ہوتی تھیں۔
“ابھی تھوڑی دیر کے لیے ہی تو گئے تھے کمرے سے، نعیم بابا نے پنکھے بند کر دیے” اس قسم کے جملے نعیم بابا کو سننے کو ملتے رہتے مگر وہ بچوں کی بات سمجھ کر برا نہیں مناتے تھے۔
“بیٹا! پانی ہلکا کرلو ،پانی نعمت ہے”
“بیٹا! نل بند کردو،پانی نعمت ہے”
“بیٹا، کوئی نہیں ہے تو پنکھا بند کردو، بجلی نعمت ہے”
“بیٹا، سورج کی روشنی ہے تو بتی نہ جلاؤ، بجلی نعمت ہے”
بچے مان تو لیتے لیکن ان کی غیر موجودگی میں ان کی نصیحتیں بھول جاتے۔۔
کچھ دنوں بعد اطلاع ملی کہ نعیم بابا کے کسی عزیز کی طبیعت خراب ہے جسکی وجہ سے انہیں گاؤں جانا پڑ رہا ہے۔نعیم بابا کی صحت بہتر تھی مگر سفر کرنے کے لیے انہیں کافی ہمت درکار تھی۔ سبکو الوداع کہتے ہوئے انہیں اور۔ باقی سبکو بھی،یوں لگ رہا تھا کہ وہ اب واپس شہر نہ آسکیں گے۔ ان کے جانے سے کچھ بچے اداس اور کچھ خوشی اور غمی کی ملی جلی کیفیت کا شکار تھے، البتہ بڑے اداس تھے اور ان سے بڑے کافی زیادہ رنجیدہ تھے۔۔
“جا رہا ہوں بچوں، اللہ جانتا ہے آج کے بعد ملونگا یا نہیں، پانی بجلی کی بچت کی وجہ سے کافی تنگ ہوتے تھے تم لوگ مجھ سے، معاف کردینا ہو سکے تو”
بچوں نے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ ہی نہ ملے، سمجھ ہی نہ آیا کیا کہیں۔۔
نعیم بابا کو گئے مہینہ بھر ہو گیا تھا، مصروف زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی، پھر ایک دن گھر سے کسی نے نعیم بابا کے حال احوال پوچھنے کے لیے اور ان کے بیمار عزیز کی خیریت کے لیے گاؤں فون کیا،معلوم ہوا کہ ان کے عزیز کی طبیعت تو بہتر ہوگئی مگر نعیم بابا خود کافی بیمار ہوگئے۔گاؤں کی آب و ہوا آلودگی سے پاک ہوتی ہے مگر علاج کی سہولتیں شہر جیسی نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے نعیم بابا کی طبیعت خراب سے خراب ہوتی جا رہی تھی۔گھر میں سب افسردہ اور فکر مند تھے۔ روک ٹوک اپنی جگہ، مگر نعیم بابا سے سب کو ایک خاص اپنائیت آتی تھی۔۔
شام کو ہی خبر ملی کہ نعیم بابا اس دنیا سے اگلی دنیا میں چلے گئے، بچوں بڑوں سب ہی نے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کیں ۔۔
ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد گھر میں پانی کی کمی ہو گئی۔۔نلوں میں پانی جھٹکے لینے لگا اور پھر ختم ہی ہو گیا۔ خبر ملی کہ آج شہر بھر میں کہیں پانی نہیں دیا گیا۔ٹینکر بھی کم ہی لوگوں کو میسر آئے۔۔ تھوڑے تھوڑے پانی سے ہاتھ دھوتے ہوئے بچے ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا رہے تھے۔سب کو دل ہی دل میں نعیم بابا کے الفاظ یاد آرہے تھے، “بیٹا، پانی بچا لو، پانی نعمت ہے”،”بیٹا، نل بند کردو، پانی نعمت ہے”،”بیٹا،جس نعمت کی ناشکری کی جائے، خدا وہ نعمت چھین لیتا ہے”
کئی دن تک یونہی پانی کا مسئلہ چلتا رہا، بچوں نے خود سے عہد کیا کہ اب کبھی پانی جیسی عظیم نعمت کی ناقدری نہیں کرینگے۔۔
امتحان کے دن چل رہے تھے، سب بچے دن رات محنت کرکے کامیابی کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔۔ اور پھر کچھ مخصوص اوقات میں بجلی جانا معمول بن گیا، پھر ایک دن بجلی اتنی دیر کے لیے گئی کہ جینریٹر،یو پی ایس سب جواب دے گئے، بچے پریشان ہو کر ایک جگہ آکر موم بتیوں کی روشنی میں پڑھائی کرنے لگے۔۔ علی جو بچوں میں سب سے بڑا تھا، لمبی خاموشی کو توڑتے
ہوئے بولا، “ہم نے صرف پانی اور بجلی کی ناشکری نہیں کی، ہم نے نعیم بابا کی بھی ناقدری کی ہے، آؤ ہم سب اللہ سے دل سے معافی مانگیں،حدیث کا مفہوم ہے جو استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے، اللہ اسے ہر تنگی سے نجات دیتا ہے، ہر مشکل سے نکال دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسکا گمان بھی نہیں ہوتا،ہم نعیم بابا کے لیے بھی دعا کرینگے، اللہ ان کو ہمیں نیکیاں سکھانے کا بہترین اجر عطا کرے اور ہمیں نعمتوں کی ناشکری سے بچائے”
سب نے مل کر آمین کہا۔۔ سب کو یوں لگا کہ جیسے ان کی بات پر نعیم بابا بھی کہیں دور بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔

حصہ