مسلمان مرد کی خوش نصیبی

174

افروز عنایت
ثمینہ کو اپنی دونوں ہونے والی نندوں کی گفتگو سن کر بہت دھچکا پہنچا دونوں کی گفتگو کا موضوع اس کی ذات تھی وہ اپنی سہلیوں کو بتا رہی تھیں کہ ثمینہ ہمارے شہزادے جیسے پرھے لکھے نفیس بھائی کے لیے ناموضوع ہے بے جوڑ رشتہ ہے بابا نے زبردستی اپنی بھتیجی سے شادی کے لیے اصغر کو راضی کیا ہے بابا کے سامنے کسی کی ہمت نہیں کہ بولے یا ان کی کسی بات ر اعتراض کرے۔
ثمینہ جو چند لمحے پہلے تک خوش تھی نندوں کی گفتگو سن کر افسردہ ہو گئی یہ سچ بھی تھا کہ اس کا ہونے والا شوہر خاندان کا سب سے زیادہ خوبرو اور نفیس شخصیت کا مالک تھا جبکہ وہ دو تین کلاسیں پڑھی ہوئی مناسب نقش و نگار کی مالک تھی نہ ہی اسے بننے سنورنے کا شوق تھا نہ ڈھنگ سے اوڑھنے پوڑھنے کا۔ بہن کوئی تھی نہ کہ اس سے دل کی بات کرتی ماں بھی بہت سیدھی سادی خاتون تھی۔ غرض انہی و سوسوں اور سوچوں کو گراہ میں باندھ کر وہ اصغر کی دلہن بن گئی جلدی ہی اسے احساس ہو گیا کہ اس کی نندوں نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا ساس کا انتقال تو بہت پہلے ہو گیا تھا شادی شدہ دونوں نندیں جب بھی آتیں ضرور کوئی ایسی بات کرکے جاتیں کہ اس کا دل بجھ جاتا گرچہ وہ ان دونوں کی آئو بھگت میں کوئی کسر نہ چھوڑتی آج بھی کھانے کے دسترخوان پر اس نے اپنے طور پر بہت احتتام کیا تھا لیکن دونوں نے نہ صرف کھانے میں نقص نکالے بلکہ جاتے جاتے دو تین باتیں سنا کر گئین کہ نہ جانے ہمارے بھائی کا کیا قصور تھا کہ اس کا تم سے پالا پڑا۔ نندوں کے جانے کے بعد وہ رو پڑی اس نے صبح سے محنت کرکے ان کے لیے کھانا بنایا تھا اس نے پوری کوشش کی کہ کھانا لذیز بنے لیکن اسے کوئی صلا نہ ملا اس وقت دروازے پر دست ہوئی دروازہ کھولا تو سامنے والی خالہ تھیں جس نے اسے قرآن بھی پڑھایا لیکن وہ پورا نہ کر سکی تھی مشکل سے دس پارے ہی پڑھے تھے بلکہ وہ بھی بھول چکی تھی۔
خالہ نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھا تو وجہ پوچھی وہ گھر کی بات گھر میں ہی رکھنا چاہتی تھی لیکن وہ اس مسئلے کا حل چاہتی تھی لہٰذا خالہ کو ان چار پانچ مہینوں کی کہانی گوش گزاری…
ثمینہ بیٹا اس صورت حال میں زیادہ قصور تمہارا ہے…
خالہ… میرا؟ قصور کیوں…؟
دیکھو میری جان… ایسی صورت حال میں تمہارے شوہر کی غلطی نہیں… بلکہ اس نے اپنے والد کی فرمانبرداری خوب نبھائی ہے ایسے مردوں میں بہت سی خوبیاں پوشیدہ ہوتیں ہیں اگر اسے تمہارا ساتھ ملے تو…
وہ جو چاہتا ہے… میرا مطلب ہے تمہیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا اس کی اور اس کے گھر والوں کی خواہش کچھ غلط بھی نہیں ہے۔
تو… اب میں کیا کروں…؟؟
بیٹا اس وقت تم فارغ ہو قرآن کی تعلیم دوبارہ حاصل کرنا شروع کرو قرآنی تعلیمات کے ساتھ تم تمہیں حروف کی پہچان ہو گی کوشش کرو کچھ لکھنا پڑھنا بھی آجائے اس سلسلے میں تمہاری پوری مدد کروں گی رہا کھانا وغیرہ بنانا گھر کو سنوارنا اپنے آپ کو سنوارنا یہ اتنا مشکل بھی نہیں صرف اس میں تمہاری دلچسپی لینا لازمی ہے آج مریم بھی آئی ہے تم دونوں بچپن کی سہلیاں ہو میں اسے تمہارے پاس کل بھیجوں گی دونوں مل کر کچھ کھانا بنانا… اور ہاں بیٹا اپنے گھر کی بات باہر کسی سے شیئر نہ کرنا…
٭…٭…٭
ثمینہ اپنے گھر کو سنوارنا اور قائم رکھنا چاہتی تھی اس نے جلد ہی اصغر کی پسند نا پسند کا اندازہ ہو گیا لہٰذا اس نے انہی باتوں کو اپنا یا اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کی۔
٭…٭…٭
اصغر پندرہ بیس دن کی کاروباری مصروفیت کے بعد اپنے شہر لوٹا تھا تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تو اسے بڑا سکون محسوس ہوا اس کے سامنے بڑا صاف ستھرا گھر تھا ثمینہ نے بھی ڈھنگ سے اپنے آپ کو آراستہ کیا تھا وہ اس تبدیلی پر بڑا حیران ہوا بڑی حیرانی سے ثمینہ کو دیکھنے لگا آج اتنے دنوں کے بعد اسے پہلی مرتبہ یہ لڑکی حسین لگی… کھانے کے دسترخوان پر اس پسند کی بریانی تھی جو لذیز بھی تھی اس کے مند سے بے اختیار نکلا کیا یہ تم نے بنائی ہے؟ اچھی ہے…
ثمینہ کو شوہر کے ان دو لفظوں ’’اچھی ہے‘‘ نے بڑی تقویت بخشی اسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی اس میں تبدیلی آجائے گی سسر اور نندوں کو بھی بڑا تعجب ہوا بلکہ سسر کو بڑی خوشی ہوئی کہ اس کا فیصلہ غلط نہ تھا ورنہ وہ اپنے بیٹے کو بجھا بجھا اور اداس دیکھتا تو دل میں یہ احساس ہوتا کہ شاید مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔
اصغر جو بیوی سے بالکل بے تعلق رہتا تھا اب اس سے بیٹھ کر دو گھڑی بات بھی کر لیتا…
٭…٭…٭
ایک دن اسے اپنے کمرے کی الماری میں اخبارات اور کچھ رسالے دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی بہنیں اپنے اپنے گھروں کی تھی ابا اگر اخبار پڑھتے بھی تو اپنے کمرے میں اور پھر اور خواتین کے رسالے؟… ثمینہ کو تو پڑھنا نہیں آتا… شاید تصاویر دیکھنے کے لیے اس نے پڑوس سے لیے ہوں گے اس نے وہ تمام رسائل اور اخبار وہیں الماری میں رکھ دیئے۔
لیکن اس دن تو اس کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب وہ کسی کام سے جلدی گھر آگیا ابا نے دروازہ کھولا وہ اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچا تو ٹھٹک کر وہیں رک گیا ثمینہ ایک رسالے میں سے کوئی مضمون آہستہ آہستہ پڑھ رہی تھی۔
یہ… تم… کیا تم پڑھنا جانتی ہو…
شوہر کو آواز پر وہ چونکی…
ہاں… وہ… وہ جی استانی صاحبہ سے قرآن پڑھتی ہوں تو میں نے اردو بھی پڑھنے کی کوشش کی اب تھوڑا تھوڑا پڑھ لیتی ہوں۔
اصغر کو بہت خوشی ہوئی کہ اس کی بیوی اس کی پسند کے مطابق ڈھلتی جارہی ہے۔ وہ یہی چاہتا تھا آنے والے دنوں میں اس پر بیوی کی کچھ اور خوبیاں بھی عیاں ہوتی گئیں اس نے شوہر کے مصروف کاروباری زندگی کی وجہ سے بچوں کی تمام تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سنبھالی اور انہیں معاشرے میں ایک مستحکم مقام دینے میں کامیاب ہوئی۔
شوہر کے کامیاب کاروبار مستحکم گھر اور گھر داری کے پیچھے ثمینہ کا ہاتھ تھا اس نے گھریلو مسائل پریشانیوں سے شوہر کو دور رکھا تمام خاندان اس سے رشک کرنے لگا شوہر اپنی بیوی کی ان ہی خوبیوں کے بدولت اس کی عزت کرتا۔ ثمینہ نے اپنی مثبت سوچ کی بدولت سسرالی رشتوں کے دل میں بھی اپنے لیے عزت کا مقام پایا۔
٭…٭…٭
مرحومہ ثمینہ کے شوہر اپنی بیوی کی کہانی سنا کر مزید اداس ہو گئے کہنے لگے اس عورت کی عزم و تکریم تو میرے دل میں بے پناہ تھی لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی خوبیاں مجھ پر آشکارا ہوتی جا رہی ہیں اس نے نہ صرف جوانی بلکہ بڑھاپے میں تو میرا بڑا ساتھ دیا میں اس کا عادی ہو گیا تھا آج مجھے اس کی کمی بہت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔
٭…٭…٭
ہمارے معاشرے میں صرف برائیاں ہی نہیں اس معاشرے میں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کی مالک جیسی خواتین سے زیادہ پاکیزہ و شوہروں کی وفادار خواتین زیادہ ہیں جنہیں میں ان سطور کے ذریعے خراج تحسین پیش کرتی ہوں یہ پاکیزہ خواتین ایک مسلمان مرد کے لیے کسی بڑے سرمایے سے کم نہیں ایسے مرد خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایسی با وفا سلیقہ مند اور با وقار زوج نصیب ہوتی ہیں جو نہ صرف مرد کے گھر کو روشن کرتیں ہیں سنوارتی ہیں بلکہ اپنی اولاد کے لیے بھی بہترین مائیں ثابت ہوتیں ہیں ایسی ہی خواتین کی اولاد معاشرے میں سر اٹھا کر عزت سے جی سکتی ہے۔ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ عورت کی عزت وقار اس کے شوہر کی دی ہوئی چھت تلے ہے نہ کہ بیچ چوراہوں پر بینر اٹھائے آزادی نسواں کی علمبردار اور ان کی ہم نواں عورت کی…
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان مرد ایسی ہی عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے لیے اللہ کی طرف سے (ایسی عورت کو) انعام سمجھتا ہے اور یہ بھی حقیقت پوشیدہ نہیں ایسی ہی عورت کو اولاد اپنے ساتھ اپنی ماں کا ساتھ اور نام اعزار سمجھتی ہے۔ اللہ پاک ہم سب خواتین کو راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

حصہ