قرنطینہ۔۔۔ سیلف ائیسولیشن

144

افشاں نوید
کوئی شور سا شور ہے چاروں طرف؟؟کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔
محفلوں میں تنہا ہیں ہم اور “تنہائی” کی محفلیں۔۔۔۔نہ پوچھ۔۔
کہیں رات رات بھر ٹاک شاک ہے تو کہیں گھنٹوں ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز۔ہر دن دماغ ماؤف کرتی بحثیں،سیاستدان لڑتے جھگڑتے تھکتے ہی نہیں۔۔روز نئے موضوعات اور ریٹنگ کے سیلاب میں تنکوں کی طرح بہتے ہم عوام کالانعام۔۔
درجنوں چینل۔۔۔ہر ایک کی ایک ہی صدا کہ ہمیں دیکھو،ہمیں سنو،سو مسلسل دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں چاروں طرف آوازیں ہی آوازیں۔۔۔شور ہی شور
واللہ،بخدا اپنا آپ کھو گیا اس شور میں،اپنی ذات گم ہوگئی۔۔
زندگی میری تھی بسر اس نے کیا۔۔
خود سے ملنے کی فرصت ہے نہ اہل خانہ کی طرف دیکھنے کی۔نظریں اسکرین سے ہٹیں تو کچھ دیکھیں۔اچھا ہو کہ قرنطینہ میں موبائل بھی لے لیا جائے۔۔سوشل میڈیا امر بیل کی طرح ایسا چپکا ہے کہ کسی اور کے کیا بنتے اپنے بھی نہ بن سکے۔
قرنطینہ میں شائد کسی کو اپنی غار حرا اور خود سے ملاقات کا “شرف” حاصل ہوجائے۔
زمانہ ہوگیا”خود” سے ملے ہوئے۔اپنیکھونے پر تلاش گمشدہ کا اشتہار بھی نہ دے سکے۔۔
چلیں!اس آئسولیشن پیریڈ میں خود سے مل لیتے ہیں۔العصر کے آئینہ میں اپنا خسارہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں
پتہ نہیں کرونا ہم سے کتنے دور ہے۔کسی کو نہیں پتہ وقت آخر کب اور کس طرح لکھا ہے؟
شکر الحمدللہ کرونا نے”قرنطینہ” کی اصطلاح سے متعارف کرایا کہ اب اپنے آپ سے مل لو۔اپنی قرنطینہ سے رابطے میں آجاؤ۔۔۔حاسبو قبل ان تحاسبو۔۔۔حساب کرلو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔۔۔جو کچھ آج تک کیا ہے کیا ضمیر مطمئن ہے؟دنیا جہاں کو چھوڑیے۔۔اگر حواس خمسہ کا حساب لے لیا جائے کہ۔۔
جو سنا کیا سب سننے کی اجازت تھی شریعت میں؟؟
جو آج تک کہا،کیا کہنے کی اجازت دی گئی تھی؟؟ہر لفظ کا حساب ہے میرے پاس۔۔جو غیبت کرچکے تلافی کی کیا صورت بنے گی۔
رحم کے رشتوں کے جو حق ہیں گردن پر انکا کیا بنے گا؟؟
دسیوں سوال ہیں خود سے کرنے کو۔
ہم چاھتے ھیں کوئی درود، وظیفہ ملے اور وبا ٹل جائے۔۔کہا گیا کہ اصل “وظیفہ”تو وظیفہ حیات ہے۔کیا سود لینے والے چھوڑنے پر راضی ہو جائیں گے کہ سچی توبہ تو یہی بنتی ہے،کیا رحم کے رشتوں سے بغض رکھنے والے اناؤں کو قربان کردیں گے کہ رجوع کا وقت یہی ہے۔کیا ناجائز منافع خور،کرپشن میں لت پت،ملازموں کے ساتھ ظلم کرنے والے،والدین کے نافرمانوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی جھنجھوڑنے کی گھڑی ہوسکتی ہے۔نمازوں کے لیے مسجدوں کا رخ نہ کرنے والے،روزہ خور،حقوق خور۔۔چاھتے ہیں کہ وظیفہ سے آفات و بلیات ٹل جائیں!!ان مراقبہ کی گھڑیوں میں بس اتنے نصاب پر غور کرلیں کہ۔۔ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین(الانعام)
میری نماز ،قربانی،زندگی و موت سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے۔
جس زندگی کا مقصد آسائشوں کی انتہا کا حصول ہو،بلند معیار زندگی کی دھن،ہر گھنٹہ کی قیمت لگالی۔زندگی بیچ کر مال خرید لیا۔رشتے گنوا کر اسٹیٹس حاصل کرلیا۔
عبادت کی چند کلیوں پر قناعت کرکے مجبور خلق خدا کے گلشن کو نظر انداز کر دیا۔”اللہ کو پیارا”ہونے کا تصور موت کے ساتھ جوڑ دیا حالانکہ زندگی میں اللہ کو پیارا ہونا تھا۔
کیا “کامیابی” وہی ہے جو تعریف ہماری گھٹی میں ڈالی گئی؟ہمیں مشین کا پرزہ بنا کر زندگی ہم سے چھین لی۔انسان کے روبوٹ تصور نے زندگی کو پیمائشی ترازو اور افادی پیمانوں میں ناپنا شروع کر دیا۔ہمارے دماغوں میں وہ کمپیوٹر نصب کردیا گیا جو۔۔دو اور دو چار۔۔۔سے آگے کوئی حس لطیف رکھتا ہی نہیں۔معیار زندگی بڑھ گئے اور ہم گھٹ گئے۔۔دوست اپنے ہوگئے اور رشتے دار پرائے۔زندگی کو کتنا “سوشل”ہونا تھا؟؟؟
ہم کیا کررہے ہیں!جو کچھ ہم کررہے ہیں وہ کرنے پر ہم مجبور تو نہیں کردیے گئے؟اپنی بے جا روایتوں کے قرنطینہ میں کب تک قید رہیں گے؟
ہم اپنی زندگی خود جی رہے ہیں؟ہمیں ایسے ہی جینا تھا یا روبوٹ کی طرح ہمارا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
کچھ سیلف آئیسولیشن۔۔۔اپنا ریموٹ “کسی اور” سے واپس لینا ہے۔۔۔قرنطینہ نے سرگوشی میں کہا۔۔۔
٭…٭
کل ھاسپٹل سے واپسی پر بولی۔امی ایک ماہ کی چھٹی کی درخواست دے کر آئی ہوں۔ہائیں! وہ کیوں؟میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
بولی اسکول بند،کالج بند،یونیورسٹیز بند،شادی ہالز بند،ائیرپورٹ بند،مالز بند،تاج محل بند،مجسم? آزادی پر داخلہ بند،لوگوں کو آئسولیش اختیار کرنے کو کہا جارہا ہے۔
کیا ہم “لوگوں”میں نہیں شمار ہوتے؟دوست بھی کہ رہی تھی رخصت پر چلے جاتے ہیں۔اب ہمارے ھاسپٹل میں بھی کرونا کیایک مریض کی رپورٹ مثبت آگء ہے۔اتنا خوف وہراس ہے کہ توبہ۔۔امی خوف کی حالت میں تو صلاحیت بھی صلب ہوجاتی ہے۔ذھنی دباؤ سے نکلنے کی ایک ہی صورت سمجھ آئی کہ فی الحال رخصت لے لی جائے۔جب یہ وبا تھم جائے،کچھ شور کم ہو تو جوائن کرلیں گے ہم نے تو زندگی بھر کرنا ہی یہ سب کچھ ہے۔
میں نے کہا۔۔ہسپتالوں میں تو حفاظتی اقدامات بھی زیادہ سخت ہوتے ہونگے؟بولی مگر وہاں خطرات بھی کئی گنا زائد ہوتے ہیں۔ شہروں میں کرفیو کا سماں ہے تو شہری تو ہم بھی ہیں۔
میں نے کہا جب حالت جنگ ہو تو شہری کرفیو میں گھروں میں محبوس ہوتے ہیں۔ کیا فوج بھی چھاؤنی میں چلی جاتی ہے جبکہ زمینی حملوں کا بھی خوف ہوتا ہے اور فضائی حملے کا بھی۔
فوج کا جذبہ تو دشمن کے مدمقابل آنے پر قابل دید ہوتا ہے۔شہادت کی تمنا رگوں میں لہو بن کر بے چین کردیتی ہے۔ہر سپاہی چاہتا ہے کہ اگلی صفوں میں شامل ہو۔جان تو سب کو ایک بار ہی ملی ہے ناں سپاہی کو بھی۔
فوج سرحدوں پر نہ ہوتو ہم اپنے گھروں میں چین سے سو بھی نہیں سکتے۔ہر ایک اپنے اپنے محاذ پر ہوتا ہے تو قوم بنتی ہے۔شاعر اپنا کام کرتاہے،لیڈر اپنا کام،نیزہ بنانے والا اپنا کام،زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے والا ہتھیار تو نہیں اٹھا سکتا نہ فوج کا کمانڈر زخمی کی سرجری کرسکتا ہے۔
فرد ہو یا قوم،حالت جنگ ایک ترازو ہوتی ہے جس میں جذبوں کا بھی وزن ہوتا ہے اور ایمان و ایقان کا بھی۔۔شھید دوسروں کے لیے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لیے جیتا ہے۔درجہ تو دونوں کا ہے۔
بولی اب تو میں نے درخواست دیدی ہے۔سخت ڈپریشن میں ہیں سب ہی لڑکیاں۔
میں نے کہا ہر پیشہ وفاداری مانگتا ہے۔۔تم “فرہادی”قبیلہ کی رکن ہو یہ کبھی نہ بھولنا۔مسیحائی کی ضرورت کب کہاں ہیمسیحا نے نہ جانا تو کون جانے گا؟؟
میں نے فجر پڑھ کر ذرا دیر سے کچن کارخ کیا کہ آج تو نہیں جانا اسے رخصت لے کر آئی ھے لیکن۔۔۔حسب معمول سفید کوٹ ہاتھ میں لیے تیزی سے نیچے اتری۔بولی دیر ہوگء ناشتہ کا وقت نہیں۔میں نے کہا وہ “رخصت”۔۔۔۔۔۔
بولی.. ہاں ضمیر کا فیصلہ یہی تھا کہ اپنے لیے جینا بھی کیا جینا۔۔میں نے شانہ تھپتھپا کر کہا۔۔فی امان اللہ
٭…٭

بے شک میں ظالموں میں سے ہوں

سانسیں کچھ بے ترتیب۔فون پر کئی دن بعد آواز سنی۔۔خیریت تو ہے؟میں نے دریافت کیا۔
بولیں۔۔خیریت کہاں؟تین سپر اسٹورز پر گئی اتنا رش ہے کہ قیامت۔جو ملا لے آئی۔شوہر نے آفس جاتے ہوئے کہا تھا آج تین ماہ کا راشن لے آنا۔بہت رش ہے بھائی!میدان جنگ کا سا سماں ہے۔
میں نے کہا واقعی ہم حالت جنگ میں ہیں ایسے میں طلب اگر رسد سے بڑھ جائے تو مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر غریب کا خون چوسا جاتا ہے۔اگر ایک کی جگہ درجن بھر سینیٹائزر خریدوگی تو قیمت خود ستر سے بڑھ کر ڈھائی سو ہوجائیگی۔۔یہ میری فرسٹ کزن ہے۔۔بولی۔۔میں نے یہ پوچھنا تھا کہ آیت کریمہ کی تسبیح صبح شام پڑھ رہی ہوں کیا پانچوں نمازوں میں پڑھ سکتی ہوں؟؟بہت ڈر لگا ہوا ہے۔یوں لگ رہا ھے ساحل پر کھڑے ہیں اور غضب ناک طوفان برابر بڑھ رہا ہے ہماری سمت۔بیٹے بھی بیرون ملک۔ایک پل چین نہیں۔
ہاں!کوئی اور بھی وظیفہ ہوتو بتاؤ۔
میں نے کہا آیت کریمہ کا مطلب پتہ ہے ناں؟بولی ہاں ہاں اور فرفر سنادیا کہ۔
۔اے اللہ ترے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تو، میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔۔۔ میں نے کہا یہ پیغمبروں کی دعائیں ہیں۔وہ دنیا کی سب سے برگزیدہ ہستیاں ہوتے تھے،بہت گہری بات کرتے تھے۔گہرے شعور کے ساتھ لفظ ادا کرتے تھے ہمیں ان دعاؤں کو محض زبانی مشق نہیں بنانا چاھئے۔
جب کوئی کہہ رہا ہے میں نے ظلم کیا ہے تو لمحہ بھر تو ٹہرے،تصور میں اپنے ظلم یاد کرے۔کوئی ایک ظلم ہوا ہے ہم سے!!!تم ہی جانو ایک ناجائز منافع خور،چغل خور، دن میں دس تسبیح پڑھ لے یا والدین کا نافرمان یہ پڑھ کر دم کرتا رھے تو یہ قومی ترانہ تو نہیں کہ ایک لفظ کا بھی مطلب نہیں پتہ مگر ہاتھ سینے پر رکھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔پھر بھی اچھے لگتے ہیں۔
یہاں تو رب سے مکالمہ ہے۔مولا ظلم ہوگیا ہے،میں نے شعوری اقرار کر لیا کہ ظالم میری ذات تھی،یہ شیطان تھا یا میرا نفس جو تمام عمر مجھے یہی بتاتا رہا کہ تم مظلوم ہو،دنیا ظالم ہے،حق پر تم ہو،غلط دوسرے ہیں۔
مولا گناہ ہی گناہ،ناشکری ہی ناشکری۔دل شکوے کا گھر بنا رہا۔دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں سے زندگی بھر اپنا موازنہ کیا۔گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں۔جانے کتنے نیک عمل جو لوگوں کی نظر میں معتبر بناتے تھے،روز حشر پتہ چلا کہ ان پر ریاکاری کا ملمع تھا،مولا پھر تو
ہم تاریک راہوں میں مارے گئے
اب بتا دے مولا تیری رحمت تیرے عذاب پر بھاری ہے بتا، کیا کریں کہ معافی ملے؟؟
ایک بہن کی وراثت کھانے والا،پڑوسی کو ایذا دینے والا،رحم کے رشتوں سے کینہ رکھنے والا،آیت کریمہ پڑھتا رھے خود پر دم کرتا رہے۔۔۔کیا طبیب کا نسخہ گھول کر پینے یا جلا کر دھونی دینے سے شفاء￿ نصیب ہو سکتی ہے؟؟
ظلم کا ادراک تو کریں،کسی کو نہ بتائیں صرف خود کو بتائیں کہ ظالم میں ہی ہوں۔اگرظلم کی تلافی کی فکر ہی نہیں تو زبان سے جپنے کا کیا حاصل؟؟۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(مفہوم) گرد آلود کپڑوں،بکھرے بالوں کے ساتھ میدان عرفات میں آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کر گڑگڑانے والے پر نظر بھی نہ کی جائیگی اگر حرام کا لقمہ بھی پیٹ میں گیا ہوگا۔
بات لقمہ کی ہے یہاں تو زندگیاں گزر گئیں بن سوچے کہ مال جائز ہے کہ ناجائز۔مال۔جائز مال بھی جائز نہیں رھتا اگر حقداروں کے حق مار لیے جائیں۔سنو!تم جٹھانی سے اختلاف ختم کردو۔کتنا عرصہ ہوا بھتیجے چوکھٹ نہیں چڑھتے تمہاری۔
اسے براہ راست حملہ کی امید نہ تھی تنک کر بولی کیا سب قصور میرا ہے؟اللہ بھی جانتا ہے دلوں کے حال۔یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔
میں نے کہا یہی تو وقت ہے توبہ کا۔تم معاف کردو اس لیے کہ جب معاف کروگی تو معاف کی جاؤگی۔
چند لمحہ کی خامشی۔۔اچھا دیکھتی ہوں۔۔کہہ کر فون بند کردیا۔
میں نے ٹھنڈی آہ بھر کے کھڑکی سے باہر دیکھا زیرلب آیت کریمہ پڑھی۔گلی سے مچھلی والا آواز لگاتا گزر رہا تھا۔۔تازہ مچھلی،عمدہ مچھلی۔
روز ہی دروازے سے گزرتا ہے آج سوچا کہ۔۔۔
کوئی مچھلی کا پیٹ ہی تھا جہاں وقت کے پیغمبر کو وہ معرفت ملی جو آیت کریمہ کے عمیق جزبوں میں ڈھک گئی۔سچی توبہ،توبۃالنصوح

حصہ