آفرین ہے جماعت اسلامی

328

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ !۔
کو رونا وائرس کی تباہ کاریاں تاحال جاری ہیں ، جس وقت میں یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں ہر طرف سناٹا ہے ، سڑکوں پر فوج کا فلیگ مارچ جاری ہے ، کچھ دکانیں اگرچہ اب تک کھلی ہوئی ہیں مگر کب تک ؟ رات آٹھ بجتے ہی دوبارہ کاروبار خرید فر وخت بند کردیا جائے گا۔ اور آمد و رفت پر آزادانہ نقل و حمل پر پابندی لگ جائے گی۔
یہ صرف سندھ اور پاکستان کا معاملہ نہیں ہے ، اس وقت قریب قریب پوری دنیا کے ایک ارب سے سے زیادہ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں۔
آج ہی افغانستان سے ایک خبر آء ہے کہ پورے افغانستان میں یہ وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ، اور اس کا سبب بھی پاکستان کی طرح ‘ ایران ‘ ہے اور افغانستان کا صوبہ ہرات جو کہ ایران کے ساتھ متصل سب سے خوبصورت اور تجارتی اعتبار سے کابل کے بعد سب سے مصروف و خوشحال صوبہ ہے، کاروباری معاملات اور مذہبی رسومات کے لئے روزانہ سینکڑوں افراد ایران آتے جاتے رہتے ہیں ، ابتداء￿ میں وزارت داخلہ و وزارت صحت خاموش رہی اور کسی قسم کی ناکہ بندی یا قرنطینہ کا بندوبست نہیں کیا گیا اور یوں سینکڑوں افراد میں راتوں رات کو رونا وائرس منتقل ہوا ، اب تک افغانستان میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سینکڑوں متاثرین قرنطینہ بھیجے جا چکے ہیں۔ اور ہزاروں ایسے ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ان میں یہ وائرس کس حد تک سرایت کر چکا ہے ؟
افغانستان میں کو رونا وائرس سے متا ثرہ مریضوں میں اچانک بے انتہا اضافے کی وجہ سے فوری طور پر صوبہ ہرات کو مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ کم و بیش اسی طرح صورتحال کا سا منا حکومت پاکستان کو بھی کرنا پڑا۔ اور یہی وائرس زدہ افراد زیارتوں کے بعد تافتان بارڈر کے ذریعے پہلے بلوچستان داخل ہوئے اور پھر اپنے اپنے شہروں گاؤں اور دیہاتوں میں کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بنے۔
شرم کی اور ڈھٹائی کا عا لم یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کی مرکزی حکومت کی غیر سنجیدگی برقرار ہے۔
اس حوالے س اسب سے بودا اور احمقانہ طرز عمل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا رہا ہے کہ جو اپنے پہلے بیانئے پر اڑے کہ ‘ ہم کمزور ملک ہیں ، لاک ڈاون کے اثرات برداشت نہیں کرسکتے ‘مگر دس دن کی ضد بحث کے بعد جب سندھ حکومت نے لاک ڈاون کی سمری وفاق کو بھیجی تب کہیں جاکر اوپر سے آرڈر آیا کہ ‘ لاک ڈاون ضروری ہے ‘اور اسطرح وزیر اعظم کو اپنا بیانیہ تبدیل کرنا پڑا۔ مگر وزیر اعظم کی اس احمقانہ ضد نے ہزاروں افراد تک کو رونا وائرس کی منتقلی آسان بنا دیا۔
زائرین کے اس معاملے پر حکومتی خاموشی اور مجرمانہ غلفت پر بالآخر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان نے سخت موقف اختیار کیا اور تفتان کی سرحد پر حکومت کی جانب سے کوتاہی و غفلت برتنے ، بروقت انتظامات نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ایران سمیت بیرون ملک جانے اور آنے والے مسافروں کی تمام تفصیلات طلب کیں۔چیف جسٹس قاسم خان نے اس موقع پر وفاقی حکومت کے نمائندوں سیپوچھا کہ ‘ کتنے پاکستانی ایران میں ہیں جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں’۔ جواب میں وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ تقریبا 6 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس قاسم خان نے بروقت انتظامات نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتان سے جب لوگ آئے تھے ان کو چیک کیا جاتا تو یہ حالات نہ ہوتے اور ملک مشکلات سے دوچار نہیں ہوتا۔
عدالت کی برہمی اپنی جگہ مگر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزارت داخلہ اور وزارت صحت زلفی بخاری اور وزیر مملکت علی زیدی پر انسانی جانوں سے کھیلنے اور بیماری کو فروغ دینے پر مقدمہ درج کرکے فوری طور پر گرفتاری کے احکامات جاری کرنے چاہئیں۔
کو رو نا وائر س کی تباہ کاریاں اپنی جگہ مگر ہم پاکستانیوں کا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان انسانی المیوں ، آسمانی سلطانی حادثات پر بھی اپنی سیاسی گڈیاں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں ، سیلاب ہو ، آندھی ہو طوفان یا زلزلہ ہو بیرونی امداد پر نگاہیں گاڑے بھوکے گدھ کی مانند امداد اور خیرات کے طلبگار ہوتے ہیں ، اور جیسے ہی عالمی امداد کا اعلان ہوتا ہے ان کی آنکھوں کی چمک دیکھنے جیسی ہو جاتی ہے۔
کو رو نا وائرس کے حوالے سے بھی اسی طرح کا معاملہ دیکھنے میں آیا جیسے ہی سو کروڑ ڈالر کی عالمی امداد کا اعلان ہوا اور پہلی قسط حکمرانوں کے اکاؤنٹ میں ٹرا نسفر ہوئی اس کے ساتھ ہی امدادی و خیراتی کاموں کے نام پر جعلی پیکیج اور این جی اوز کے نام سامنے آنے شروع ہوگئے۔ سو کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کی بندر بانٹ کا مکمل پروگرام ترتیب دیا گیا۔
بیشمار نام ہیں جو اس حوالے سے فوری طور پر متحرک ہوچکے ہیں جن کے پاس ریلیف کا کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ٹیم ہے کہ جن کے بل بوتے پر وہ اتنے بڑے معاشی و انسانی ڈیزاسٹر کو کنٹرول کرسکیں۔ کراچی سمیت پورے ملک میں حکومتی جیتے ہوئے ایم پی اے ایم این اے غائب ہوچکے ہیں ، اور میدان میں اگر کوئی ہے تو وہ ہے ایوان میں معمولی نمائندگی وا لی جماعت اسلامی !
مگر آفرین ہے جماعت اسلامی پر کہ جن کے انتہائی بروقت امدادی سرگرمیوں اور فیصلوں نے قوم کو جینے کا سہارا دیا۔
ایک طرف وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت کو رونا اور لاک ڈاؤ ن پر بحث و تکرار میں مصروف ہیں اور دوسری طرف جماعت اسلامی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے عملی میدان میں اْتر کر اپنے تمام وسائل اور طبی و امدادی شعبوں کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کرنے کا اعلان کیا۔
جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم ‘الخدمت’ پورے ملک میں سب سے زیادہ فعال و متحرک کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے الخدمت کے 70 اسپتال اور میڈیکل کلینکس کو ہنگامی امداد کے لیے کورونا ہیلپ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس سے آگے بڑھتے ہوئے پورے ملک میں بلا معاوضہ ہزاروں کی تعداد میں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار کارکنان ، جنھوں نے دن رات ایک کرتے ہوئے عوامی ریلیف کا کا م سنبھالا ہوا ہے۔ اس ریلیف میں گھر بیٹھے لوگوں کو جن کے پاس اس وقت روزگار نہ ہونے کی وجہ سے راشن نہیں وہاں راشن و غذائی ضروریات کی فراہمی ، کورونا مریضوں کے لئے امدادی مراکز ، اور بیماری سے تحفظ کے لئے مخصوص لباس ، دستانے ، ماسک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا سب شامل ہے۔
حکومت سے باہر اسمبلیوں میں نہایت معمولی نمائندگی رکھنے والی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے اگرچہ ہر ناگہانی آفت پر اپنا موثر کردار ادا کیا ہے مگر کورونا جیسی بدیسی وبائی بیماری کی روک تھام میں وہ کام کر دکھایا جو درحقیقت حکمرانوں کو کرنے چاہییے تھے۔
آفرین اس بات پر نہیں کہ جماعت اسلامی نے بڑا اچھا کا م کیا ، اچھا کام تو جماعت اسلامی کی سرشت میں روز اول سے ہی شامل رہا ہے مگر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جماعت اسلامی نے کسی کی درخواست پر نہیں بلکہ از خود اس اہم ذمہ داری سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا۔ اور حکومتی امداد و بیرونی امداد کے انتظار میں وقت گنوانے کے بجائے اپنے معاونین اور کارکنان کی بدولت فنڈز حاصل کیے ، انفا ق فی سبیل اللہ کا سہارا لیتے ہوئے صا حبان ثروت کو راغب کیا کہ وہ آگے بڑھ کر اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جماعت اسلامی نے کبھی نمائشی کام نہیں کیا بلکہ وہ جو بھی کام کرتی ہے اس کو سلیقے و خوبصورتی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ آپ کو یاد تو ہوگا 2005ء￿ کا قیامت خیز زلزلہ۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں دور درا ز اونچے پہاڑی مقامات اور ناممکن راستے ، مگر کوئی بھی مشکل جماعت اسلامی کی را ہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔اور 2005ء￿ کے زلزلے کے بعد سے اب تک جماعت اسلامی تمام زلزلہ متاثرہ علاقوں میں اپنے کام کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ ایک ایک چپے پر اس کے کارکن موجود ہیں کراچی سے جانے والے وہیں کے ہو رہے۔بارش ہو یا کوئی اور مسئلہ الخدمت کے رضا کار ہر وقت تیار ہیں۔ جب کراچی میں شدید گرمی لوگوں کومار رہی تھی تو ان کے لیے سائبان ، پانی چھڑکائو ، چھتری وغیرہ کا انتظام ہی جماعت اسلامی اور الخدمت والے کر ہے تھے۔
اندروں سندھ کے ریگزار تھر پارکر اور شہر سکھر سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں جماعت اسلامی نے الخدمت اسپتالوں اور دیگرکلینکس وغیرہ کو ہنگامی ‘ا?ئسو لیشن کیمپ ‘ میں تبدیل کرتے ہوئے کورونا سینٹر بنا دئیے ہیں۔ مفت میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جو کام حکومت نہیں کرسکتی وہ کام جماعت اسلامی کر جاتی ہے ؟
الخدمت نے آگے پیچھے دیکھ بغیر تین سو ایمبو لینسیں کورونا مریضوں کے لیے عملے سمیت حکومت کی خدمت میں پیش کر دیں۔ منصورہ اسپتال میں160 بستروں پر مشتمل ا?ئسو لیشن وارڈ کا بھی افتتاح کر دیا۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد تک غذ ائی ضروریات کی ترسیل ممکن بنارہے ہیں۔ اس کیایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے اخلاص اور اللہ کی ذات پر کامل یقین ، جو جماعت اسلامی کو ادھر ادھر نگاہیں دوڑانے سے بچا کر رکھتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکمرانوں اور بیرونی آقاوں کی جانب دیکھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ‘ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ !۔

حصہ