۔’’وقت قیمتی کرونا ‘‘۔

74

دنیا میںبیک وقت جو ہاٹ ایشو یا گرما گرم موضوع بحث بنا ہوا ہے و ‘کورونا یا ‘کرونا’ ہے۔ اس موذی بیماری یا وبا پر حکومت پاکستان اور سندھ کی حکومت نے جو احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں اور اس پر سختی سے عملدرامد کرایا جارہا ہے اس کی روشنی میں معاشرے اورایک خاندان کے فرد کی حیثیت سے کوشش ہے کہ’’وقت کو قیمتی بنایا جائیـ‘‘ اور کیا ہی اچھا ہو کہ اسکول سے لے کر ماسٹرز کرنے والے طلبا و طالبات خصوصی طور پر فرصت کے لمحات کو اچھے اور مثبت کاموں میں صرف کیا جائے۔اس سے ایک طرف خود نوجوانوں کو اپنی ذندگیوں میں تبدیلی لانے کا موقع ملے گا اور اس کے ثمرات والدین ،خاندان اور معاشرے میں رہنے والے محسوس کرسکیں گے۔
آئندہ ماہ کے آخری ہفتے میں ایک ایسے بابرکت لمحات کاسلسلہ شروع ہونے والا ہے جس کو رب العزت نے اپنے سے منسوب کیا ہے، رجب المرجب میں واقعہ معراج ‘ماہ شعبان المعظم اور فوراً رمضان کریم کی آمد ، اس کو قیمتی اور مؤثر بنانے کے لیے ان دنوں کو بہت اچھا کام میں لایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں روح پرور مناظر اور زندگی کے تمام پہلوں پر دین اسلام کا نفاذ ایک ایسا انقلابی اقدام ہوگا جو نہ صرف معاشرہ بلکہ دنیا کو بھی معطر کردے گا جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ چھٹیاں جس وائرس کے پھیلائو کو روکنے اور آپ کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے اس میں کوئی تفریح تو ہونہیں سکتی، کوئی کاروباری سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکتیں ، البتہ اپنے آپ کو رب العالمین کا ‘ نیک بندہ ‘بننے کے لیے اس میں بہت گنجائش ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا کام ہیں جو اس فرصت کے لمحات میں کیے جاسکتے ہیں۔
بحیثیت مسلمان رات کو سونے کی دعا سے لے کر صبح اٹھنے کی دعا اور پھر صبح سے لے کررات سونے سے قبل جتنی بھی دعائیں ہیں ان کو ترجمے کے ساتھ یا د کرلیا جائے۔ قران حکیم کی تلاوت کو معمول بنالیا جائے، ترجمہ و تفسیر کی رغبت ہو تو آگے بڑھ کر رہنمائی کے لیے بہت عمدہ ہتھیار ہے۔ نمازوں کی پابندی، اخلاق کو سنوانے اور کردار سازی کے ساتھ ساتھ وہ والدین جو بچوں سے اوروہ بہن بھائی جو عام حالات میں ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پارہے ہوتے ، ذہن میں اٹھنے والے مختلف عنوانات پر تبادلہ خیال نہیں کرپاتے اس سے بہترکوئی موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ غرض کہ ایک وبا یا بیماری کو اپنے اوپر طاری کرنے اور لغو باتوں میں پڑنے کے بجائے یا سوشل میڈیا میں جاری ہنسی مذاق کی پوسٹ پر وقت ضائع کیا جائے بہتر ہے کہ مسلمانوں کی مجموعی صورتحال کو موضوع بحث بناکر اس کی بہتری کے لیے ذہنوں کو تر و تازہ کیا جائے ۔ امت مسلمہ کو اس وقت جس پہاڑ نما چیلنجز کا سامنا ہے اس سے نبردآزما ہونے کے لیے علمی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ اس سلسلے میں بچوں اور بڑوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی عملی زندگی کے معاملات کو ضرور مد نظر رکھا جائے ، مثال کے طور پر ایک بچہ 5یا 6سال کا ہے آپ اس سے کسی ایسے موضوع پر بات کریں جو اس کی عقلی سطح سے اوپر ہے تو لایعنی گفتگو کے علاوہ اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جن گھرانوں میں الیکٹرانک میڈیا کا استعمال زیادہ ہے وہاں ایسی افسوس ناک صورت حال کا زیادہ سامنا ہے اسی لیے سمجھ دار لوگ اپنے گھروں میں اس کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ جب بچے ان کے ساتھ بیٹھے ہوں یا گھر میں موجود ہوں تو وہ کون سے پروگرامات ہیں جن کو دیکھنا مناسب ہے اور ایسے پروگرامات جو ناسمجھ بچوں کو غلط راہ پر لے جاسکتے ہیں ان سے پرہیز کرتے ہیں تاکہ معاشرہ کسی ایسے بگاڑ کا شکار نہ ہو جس سے پوری قوم کو شرمندگی کے سوا کچھ نہ مل سکے۔ اسی طرح وہ طلبا و طالبات جوکسی بھی مضمون میں بہترین نمبروں سے پاس ہوتے ہیں خود یا اساتذہ سے رابطہ کرکے ایسے ساتھی جو انگریزی، اردو، مطالعہ پاکستان اور دیگر مضامین میں کمزور ہیں ان کی اس کمی کو دور کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔اور ان ساتھیوں کی معاونت کی جائے۔ یہ ہی نہیں وہ بچے جو کسی وجہ سے اسکول ودرس گاہوں میں جانے سے قاصر ہیں ان سے دوستی کرکے کم از کم بنیادی تعلیم ضرور فراہم کریں۔

حصہ