کورونا سے مذاکرات

66

بلال شیخ
پرندوں نے بھی جنگل کا رخ کر لیا ساری دنیا تنہا ہو گئی اب ہر کوئی ایک دوسرے سے پرہیز کر رہا تھا۔سب خاموش تھے سب بیمار تھے کوئی ذہنی طور پر خوف زدہ تھا اور کوئی جسمانی طور پر بیمار تھا بڑا عجیب معاملہ درپیش تھا جہاں سب ایک دوسرے کو تباہ کرنے پر لگے ہوئے تھے وہاں اپنے آپ کو بچانے کے لیے ایک دوسرے سے بھاگ رہے تھے۔ جنگل کے جانوروں نے بھی انسانوں کا حال دیکھ کر توبہ کرنی شروع کر دی تھی اور ایک دوسرے کو قصے سنا سنا کر عبرت حاصل کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے “بہت خوش ہوتے تھے ایٹم بم بنا کر انہیں تو ایک مرض نے ہلا کر رکھ دیا ہے ان سے اس مرض سے نمٹا نہیں جا رہا یہ کیا ایک دوسرے کو ختم کرے گے” انسان جنگل کے حالات دیکھ کر رشک کر رہا تھا۔سب اس بیماری سے گھبرا کر گھروں تک محدود ہو گے اور جب گھروں میں بھی سکون نہ رہا تو کمروں میں داخل ہوگے۔اگر کوئی خوش تھا تو صرف وہ مرض خوش تھا جو اس بیماری کی اصل وجہ تھی جس کا نام کرونا تھا۔
کسی کو اندازہ نہ تھا کورونا کیسے اس دنیا میں آیا اور پوری انسانیت کے لیے وبال جان بن گیا کسی کا کہنا تھا یہ میرے دشمن نے جاسوس بھیجا ہے اور یہ دشمن کی سازش ہے کسی کا کہنا تھا یہ جانوروں کے دیس میں تربیت حاصل کر کے آیا ہے اور کوئی کہتا تھا یہ خدا کا عذاب ہے۔ہر کوئی اپنے علم کے مطابق اپنے آپ سے سوال کرتا اور اس کا جواب دیتا مگر کسی کو کوئی جواب نہ مل سکا اور نہ ہی اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی طریقہ۔ ساری انسانیت نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور فیصلہ کیا ہم کورونا سے مذاکرات کرے گے اور اس کو اپنی دنیا میں واپس جانے کے لیے کہے ہو سکتا ہے یہی اس کا حل ہو۔ سب اکھٹے ہو گے سپر پاور بھی ایک پلٰت فارم پر آگئی جو دنیا میں معتبر بنی پھرتی تھی ایک ہی صف میں ساری انسانیت کھڑی ہو گئی اور اس دیس پہنچ گئی جہاں یہ مرض ساری دنیا میں پھیلائے ہوئے اپنے جال کو کنڑول کرتا تھا۔ سب پریشان اور گھبرائے ہوئے اس کے سامنے جا کر کھڑے ہوگے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی کرونا کے علاوہ، کرونا مسکرا رہا تھا ہنس رہا تھا اور سب اس کو دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے۔
ساری انسانیت نے سوال کیا “تو کون ہے کہاں سے آیا ہے اور کیا چاہتا ہے تجھے ہمیں ختم کر کے کیا ملے گا اور تو جہاں سے آیا ہے وہاں واپس چلا جا کیونکہ تو ہم میں سے نہیں اور ہمارا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔” کورونا نے جب سنا تو بہت ہنسا وہ ساری انسانیت کی بے بسی پر ہنس رہا تھا وہ سب کے چہرے پر پھیلے خوف کو دیکھ کر بہت جھوم رہا تھا اور ساری انسانیت کو بے بس دیکھ کر بولا”تم بھول گے ہو میں کہا سے آیا ہوں کیا میں تم میں سے نہیں میں تمہارے ہاتھوں سے بنایا ہوا ہوں تم نے تو ایک دوسرے کو ختم کرنے کے لیے ایٹم بم بنایا ہوا ہے اور تم پوچھتے ہو میں کہاں سے آیا ہوں میں تم انسانوں کی بے حسی کا نتیجہ ہوں جو تم لوگ ایک دوسرے کو ختم کرنے کے لیے دن رات لیبارٹریوں میں تجربے کرتے ہو آج جب میں اس دنیا میں قدم رکھ چکا ہوں تو تم پوچھتے ہو میں کہاں سے آیا ہوں تم انسان ہمیشہ سے ہی بہت بھلکڑ رہے ہو تم انسان ایک دوسرے کو تو دیکھنا نہیں چاہتے تھے میں نے آسان کر دیا تم ایک دوسرے کو خوش دیکھنا نہیں چاہتے تھے لو میں نے آسان کر دیا،تم سب ایک دوسرے کے جان کے دشمن تھے میں نے تم سب کی دشمنی آسان کر دی اب تم سب اپنے دشمنوں کو کمزور ہوتا دیکھ لو گے اب تم سب کو ایک دوسرے کو خوف نہیں دینا پڑے گا اب سب کو سب سے خوف ہوگا “کرونا زور زور سے ہنسنے لگا۔
اس کی ہنسی دیکھ کر سب رونے لگے اور ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگے اور اپنے گناہوں کو یاد کرنے لگے۔وہ سمجھ گے تھے یہ ہمارے گناہوں سے پیدا ہوا ہے اور ہم کچھ اور سمجھ رہے تھے۔کرونا ہنستا ہوا رکا اور بولا”بس ایک کام اْلٹا ہو گیا ہے مجھ سے ” سب کے چہرے پریشان ہو گے اس گندی بیماری سے کونسا کام سیدھا ہوا ہے جو یہ اْلٹا ہونے کی بات کر رہا ہے۔سب نے یک زبان کہا”وہ کونسا کام ہے جو اْلٹا ہوگیا ہے تم سے”۔ کرونا نے سب کے چہرے دیکھتے ہوئے کہا”میں نے تم سب کو خدا یاد کرا دیا ہے میں نے تم سب کو انسانیت کا قاعدہ پڑھا دیا ہے تم سب کو ایک ہی زبان میں دعا پڑھنا بتلا دیا ہے تم سب کچھ عرصے کے لیے ایک دوسرے کے دشمن تو نہیں رہو گے” سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے یہ کیا بول رہا ہے۔جہاں سب اس کی باتوں سے حیران تھے وہاں شرمندہ بھی تھے۔کورونا بولا”میں تم سب کو ایک راز بھی بتاتا چلو میں اس پر اثر نہیں کروں گا جس میں خدا کا خوف تو ہو مگر موت کا خوف نہ ہو کیونکہ مجھ سے زیادہ خطرناک میرا خوف ہے”۔
سب وہاں سے مایوس ہو کر واپس چلے آئے۔سب کو معلوم ہو گیا تھا پہلے ہمیں اپنے اندر خوف ختم کرنا ہوگا سب نے اپنے اندر خوف ختم کیا اور توبہ شروع کر دی کہتے ہے جب توبہ قبول ہو جائے تو گناہ کی شرمندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی ہوا سب میں اتفاق کی لہر دوڑ پڑی اور دعا کا عمل شروع ہوا خدا سے بڑھ کر کون مددگار ثابت ہو سکتا ہے کسی نے کہا دوا کا سراغ مل گیا ہے جب سب کے کانوں میں یہ بات پہنچی تو دعا کی قبولیت کا احساس ہوا اور سب نے دوا سے رجوع کیا دوا کہا کہنا تھا۔”میں تم سب کا ساتھ تب دوں گا جب تم سب انسانیت کو نقصان نہیں پہنچاوں گے” سب نے وعدہ کیا اور دوبارہ ایسا نہیں کریں گے۔ دوا نے سب کے ساتھ مل کر کرونا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور کرونا کو ختم کر دیا۔ کرونا سے نجات حاصل کر کے انسانیت نے سکون کا سانس لیا اور دنیا میں دوبارہ رونق آباد ہو گئی۔سب بہترین ہو گیا تھا مگر کچھ عرصے بعد سب اپنا وعدہ بھول گے اور انسانیت پھر زخمی ہونا شروع ہو گئی۔

حصہ