پھالیہ کا سفر

90

ضیاء اللہ خان ضیا
جناب ضیغم مغیرہ صاحب کا بلاوا تھا۔ مدیر اعلیٰ شاہین اقبال ڈائجسٹ عزیر بھائی کا حکم تھا۔ سو رخت سفر باندھ کر چل نکلا۔ اسلام آباد سے اجتماعی سفر طے تھا مگر اسلام آباد ٹھہرا شہر اقتدار لہٰذا ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی گاڑی منڈی بہاء الدین کے لیے نکل چکی تھی۔ ناچار اکیلے پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ پوچھتا پاچھتا اکیلے پھالیہ پہنچا۔ پروگرام شروع ہوچکا تھا۔ مسلسل ۱۲ گھنٹوں کے سفر سے حالت دگرگوں، پچھلے دن کی ہوچکی بارش کی عطا۔ کیچڑ کے دھبے کپڑوں پر لیے، بال بکھرے ہوئے سیدھا غزالی کالج کے ہال میں جا وارد ہوا۔ ساتھیوں کے تعارف کا سلسلہ چل رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وقفہ ہوا، نماز عشا اور عشائیہ کے بعد مشاعرہ برپا ہوا۔ ماحول، بزرگان کی موجودگی اور تقریب کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر اپنے کلام میں سے نسبتا ًکم جوان، کم کھلنڈرے دو غزلوں اور ایک قطعے کا انتخاب کیا۔ ڈرتے ڈرتے پڑھ ڈالے۔ توقع سے بڑھ کر پذیرائی ہوئی۔ رات بارہ بجے مشاعرہ ختم ہوا تو خود پہ نظر ڈالی۔ ارے یہ کیا میری تو مسلسل سفر کی تھکن پتا نہیں کہاں اُتر گئی تھی۔ پشاور کے احمد حسین صاحب، اسلام آباد کے پروفیسر ریاض عادل صاحب اور احسن حامد بھائی، کراچی کے امجد جاوید صاحب، نے ساتھ لیا۔ ہوٹل لے جاکر چاے پلائی۔
اگلے دن کے ناشتے کے بعد کراچی کے اعظم طارق کوہستانی، اسلام آباد کے محمد علی، سعید الرحمن، لاہور کے رب نواز ملک بھائی کے ساتھ کھیتیوں کے بیچ پگڈنڈیوں پر نکل گئے، کافی دور تک چلے، اینٹوں کے بھٹے کا جائزہ لیا۔کام کرنے والے مزدوروں سے ملے۔ واپس آتے ہوئے دیکھا کہ ضیغم مغیرہ صاحب گاڑی دوڑاتے ہوئے آرہے ہیں، سدابہار مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ہوئے وہ ہمیں ہی ڈھونڈ رہے تھے۔ اگلے دن پروگرام پھالیہ شہر کے معروف جمخانہ لے گئے۔ یہاں پر شاہنواز فاروقی صاحب علمی گفتگو سے فضا مہکا رہے تھے۔ تقریب چلتی رہی۔ مستقبل کی پیش بینی و پیش بندی کے حوالے سے نہایت مفید گفتگو ہوئی۔
ابھی صبح کے بھاری بھرکم ناشتے کے سحر سے نہیں نکلے تھے کہ پھر سے ’’چاے کے وقفے‘‘کا اعلان ہوا۔ چاے کے نام پر چاے، دودھ، لسی، کینوں، سیب، پتیسہ، گڑ، مونگ پھلی اور نہ جانے کیا کیا لوازمات پیش کی گئیں۔ جو ضیغم صاحب کی مہمان پروری اور دریا دلی پر دلالت کررہی تھیں۔ ضیغم صاحب ملک بھر کے اہل قلم کی میزبانی پر پھولے نہیں سما رہے تھے، چہکتے ہوئے یوں مستعدی سے مصروف خدمت تھے کہ جوانوں کو شرما رہے تھے۔
وقفے کے بعد ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے ’’تعمیری ادب کا فروغ‘‘کے عنوان سے احساسات کو جھنجھوڑتی اور جذبوں کو مہمیز عطا کرتی گفتگو فرمائی۔
تبسم صاحب کی گفتگو کے بعد منتخب مندوبین نے کانفرنس کے حوالے سے احساسات و تاثرات بیان کیے۔۔ پھر پر تکلف ظہرانہ ہوا۔ پروگرام کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، ملک بھر میں دائرہ علم ادب کی شاخوں کو فعال کیا جائے گا۔ تعمیری ادب کی تحریک جو نعیم صدیقی، ماہر القادری اور عامر عثمانی جیسے ناموں سے نسبت رکھتی ہے کو معاصر ادبی فضا میں موثر اور فعال بنایا جائے گا۔
شرکا نے ایک دوسرے کو محبت بھرے جذبات کے ساتھ رخصت کیا۔

حصہ