وزیراعظم صاحب! رونا نہیں۔۔۔ کرونا ہے!۔

156

کچھ اور ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، اس ‘ وبائی کروونا ‘ کے چکر میں ہمارے ملک میں جمہوری اور ‘پیٹی بند ‘ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا فرق سامنے آگیا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کون سی تفریق کی بات کی جارہی ہے ؟
اس پریشانی کے عالم میں میں آپ کو مزید پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتا ، لہٰذا آسان الفاظ میں جمہوری اور پیٹی بند پارٹی کی تفریق دیکھنی ہو تو دو کردار اور دو رویوں کا مشاہدہ کرلیں آپ کو بات سمجھ آجائے گی۔ ایک کردار ہمارے صوبہ سندھ کے وزیر اعلی جناب مراد علی شاہ کا ہے ، اور دوسرا کردار جناب محترم وزیر اعظم پاکستان کا ! مراد علی شاہ نے ‘ وبائی کروو نا ‘ سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا اور اس ناگہانی وباء سے نبرد آزما ہونے کا فیصلہ کیا اور فوری طور پر جو ممکن تھا وہ اقدامات کیے (صحیح یا غلط اس بحث میں پڑے بغیر ) دوسری جانب وزیر اعظم ہیں جنہوں نے پہلے ایک ہفتہ تو اس وبا کے پھیلنے کا انتظار کیا اور ہواؤں کا رخ دیکھتے رہے اور پھر خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہی اچانک اس وباء کا نوٹس لیتے ہوئے ‘ عسکری چیف ‘ سے ہدایات حاصل کیں اور پوچھا ” سر آپ بتائیے ، ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ”
بھلا ان سے کون پوچھ سکتا ہے کہ اگر ‘ چیف ‘ سے ہی پوچھ کر ہر فیصلہ کرنا تھا تو پھر تین درجن وزیروں مشیروں کو کیا ضرورت ؟
یعنی اب وبائی امراض سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھی کسی اور ہی جانب دیکھا جائے ؟ ‘ایک پیج ‘پر ہونے کا مطلب اب بھی اگر کسی کی سمجھ میں نہ آیا ہو تو قصور وار کوئی اور نہیں آپ ہی ہیں۔
خیر جو ہونا تھا ہوچکا اور جو مزید ہونے جارہا ہے اس میں کون سی ہماری مرضی شامل ہے ؟
‘میرا جسم میری مرضی ‘کا جنازہ تو کروونا وائرس نے نکال ہی دیا۔ باقی بچ جانے والوں کا جنازہ ‘ پیٹی بند ‘ حکمرانوں ‘ ہنگامی اقداما ت ‘ نکال دیں گے۔
بس بند ، ٹرین بند۔۔یہ بند ، وہ بند ! مسجد بند ، خطبہ بند ، دکانیں بند!۔۔۔۔ ہاں اگر کھلا رہے گا تو شراب خانہ ، سینما اور ‘ تفتان اور کرتار پور’ کی راہداری !
چلیے اب ذرا نظر دوڑاتے ہیں وزیر اعظم کے معرکتہ الآرا خطاب پر جنہوں نے ‘ کروو نا نامی وبائی وائرس کے بارے میں قوم کو آگاہی دی۔ ورنہ تو سب اب تک اس حوالے سے لاعلم ہی تھے۔ کارخانہ زندگی ٹھپ اور کاروبار ویران تھے۔ اگر قوم کو کوئی دلاسا یا آسرا دینے والا کوئی باقی بچا تھا تو وہ تھے ہمارے وزیراعظم۔
جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘پاکستان میں جب اس بیماری کے 20 کیسز تھے تب سے میرے پاس لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز آرہی تھی ، لیکن برطانیہ اور امریکا کی طرح ملک میں لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے کیونکہ ہماری معیشت کمزور اور حالات ٹھیک نہیں ہیں۔’
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کے دل میں یہ خیال چٹکیاں لے رہا ہو کہ پہلے اس وباء کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے اور پھر مناسب وقت آنے پر کمزور معیشت کا رونا گانا مچا کر قرضے معاف کروائے جاسکیں۔
شاید اسی خیال سے زلفی بخاری اور علی زیدی کو ‘ تفتان بارڈر ‘ کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہو۔ میرا ہی نہیں مسلم لیگ نون کے خواجہ آصف کا بھی یہی بیان ہے ،۔ ٹی وی چینل پر ڈاکٹر دانش نے تو اپنے پروگرام میں اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کچھ اہم انکشافات کیے تھے ، مگر اس پروگرام کے بعد ڈاکٹر دانش ٹی وی چینل سے اچانک غائب ہوگئے۔
ایک زمانہ تھا کہ ملک کے صدور اور وزراء اعظم کی تقاریر کا نہ صرف قوم کو انتظار رہتا بلکہ عا لمی رہنما بھی ان تقاریر کے مداح ہوجاتے تھے۔
ضیاء الحق مرحوم جب اقوام متحدہ آئے تو انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار قرآن کریم کی تلاوت کرائی اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے انہوں نے خطاب کیا۔ پاکستانی عوام نے پی ٹی وی کے ذریعے تلاوت قرآن سنی اور تلاوت کے ختم ہوتے ہی ضیاء الحق نے نحمدہ ونصلی کہہ کر اپنی تقریر کا آغاز کیا۔
اس تقریر کا ابھی تک چرچا ہے۔ اسی طرح سا بق وزیر اعظم ذوا لفقار علی بھٹو کو قدرت نے بولنے میں خاص صلا حیتوں سے نوازا تھا۔ جنرل اسمبلی میں ان کے ایک خطاب کو بھی بہت اہمیت حاصل رہی۔صدر پاکستان ایوب خان کی 1965 کی تقریر بھی قوم کا حوصلہ بڑھانے میں بہت کارگر ثابت ہوئی تھی۔
مگر یہ سب کچھ پاکستان کا ماضی تھا۔ آج بدقسمتی سے ہمارے وزیر اعظم کی تقاریر کو کتنے لوگ سنجیدگی سے لیتے ہیں اس کا اندازہ آپ کو بخوبی ہے۔
موجودہ وزیر اعظم کی پچھلی تمام تقاریر کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو دلچسپی اور تفریح کا تمام سامان گھر بیٹھے مفت میں سننے اور دیکھنے کو ملے گا۔ کبھی جغرا فیے کی بابت معلومات میں اضافہ ہوگا تو کبھی مغلوں اور ترک قبیلوں و سرداروں کی تاریخ سے آشنائی ہوگی ، سائنس اور طبیعیات پر تو انہیں کمال قدرت ہے ،’ آئن ‘ اسٹائن کی تھیوریز میں ترمیم و اضافہ ہر کسی کے بس میں کہاں ؟ انڈے اور بکریوں کے حوالے سے اتنا کلئیر وڑ ن بھی صرف خان صاحب کے ہی حصے میں آیا ہے۔
تازہ ترین کروو نا والی تقریر کو ہی لے لیجے ، اس میں بھی نقد و نظر کے لیے بہت سامان ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم اس بیماری کے حوالے سے امید و حوصلے کی منتظر تھی ، آپ کے ارشادات ملا حظہ فرمائیں ، کہہ رہے ہیں کہ ”حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہر کسی کا کووڈ19 ٹیسٹ کرے، کورونا کی جنگ حکومت اکیلی نہیں لڑ سکتی عوام کو تعاون کرنا ہوگا۔
دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ جب کہ چین میں کمی ہو رہی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ چینی عوام نے اپنی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔
اور یہ بھی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں،کوروناوائرس کیخلاف جنگ جیتیں گے، نزلہ ، زکام اور کھانسی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو کورونا وائرس ہے بلکہ صفائی کا خیال رکھیں، ہاتھ نہیں ملانے ، ہاتھ کو صابن سے زیادہ سے زیادہ دھونا ہے، رش والی جگہوں پر کم جائیں۔
” ہمارے پاس ٹیسٹنگ کٹس کم ہیں ، لہٰذا جن مریضوں کو پکا یقین ہے کہ وہ ‘کروونا کے مہلک مرض کا شکار ہوچکے ہیں ، وہی اس قیمتی ٹیسٹ کو کروائیں ،بلاوجہ ٹیسٹ کروا ٹیسٹ کٹ ظایع نہ کریں ، کسی اور مستحق مریض کے کام آجائے گی ” ان کی پوری تقریر میں سندھ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدا مات کی تعریف میں کہنے کے لیے ایک لفظ بھی نہیں تھا۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ انہوں نے تفتان بارڈر پر ایمرجنسی قرنطینہ کی نگرانی کا کہا ، جس کی حالت زار سوشل میڈیا کی بدولت سب کے سا منے آچکی ہے کہ اگر کوئی صحت مند بندہ بھی وہاں چار دن قیام کرلے تو بیمار ہوکر باہر آئے گا ، مگر تعجب ہے ، ہمارے وزیر اعظم نے اس کی نگرانی کا کریڈٹ لینے کی بھی کوشش کی – ڈیرہ غازی خان میں آئسولیشن سینٹر کی وڈیو دیکھ کر ہی آپ کو قے آنے لگے گی۔
سوشل میڈیا میں وزیر اعظم کی تقریر پر جو بحث چل رہی ہے اس سے بہت سوں کی آنکھیں کھل چکی ہیں۔
وزیر اعظم نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے قرضے معاف کرنے اور مزید امداد کا مطالبہ دہرایا ، با لکل ویسے ہی جیسے آپ کسی مراثی کو گانا گانے اور خاندانی فقیر کو بھیک مانگنے سے نہیں روک سکتے ایسے ہی ہم کون ہوتے ہیں کسی کو بیچ تقریر میں روکنے ولے ؟
اب عالم یہ ہوچکا ہے کہ کوئی اگر زیادہ بھڑ کیاں مار رہا ہو یا کسی بات پر رونا گانا مچا رہا ہو تو لوگوں نے نام لیے بغیر محاورتا کہنا شروع کردیا ہے کہ ‘ ابے کردی نا وزیر اعظم والی بات ! ” وزیر اعظم کو تو رہنے دیں ، ان کے مشیروں اور وزیروں تک کو نہیں معلوم کہ وہ کیا بول رہے ہیں اور کیا حرکتیں سرزد ہورہی ہیں ، چوہان نامی مشیر نے معذور بچوں کو اللہ کا عذاب قرار دے دیا ، آٹے چینی کے بحران کے ذمہ داروں کے نام جو وزیر اعظم نے مانگے تھے جن کا اعلان کرکے وزیر اعظم نے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی نوید سنائی تھی وہ سب تو کرو و نا کے شور میں دب گئی ، مگر ایسے میں مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی آواز نکلی جو ان نامساعد حالات میں بھی ایک کروڑ ماسک اسمگل کرنے میں کامیاب ہوہی گئے۔ واہ رے ‘ پیٹی بند پارٹی حکومت ‘ ابھی وزیر اعظم کے چہیتے وزیر اعلی پنجاب عثمان بوزدار نے وائرس کے حوالے سے کہا کہ” یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت پنجاب نے اس کی کوئی تیاری نہیں کی تھی – ہم نے 3 جنوری سے ہی سیکورٹی میجرز لے لیے تھے ، ” اب اندازہ لگائیں ان کی بونگی کا ! یعنی چین والوں کو اس وائرس کی خبر 7 جنوری کو ملی ، مگر عثمان بوزدار کو 3 جنوری کو ہی معلوم ہوچکا تھا۔۔۔
خیر وزیر اعظم صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اس نازک وقت میں قوم کی رہنمائی فرمائی اور ‘ حوصلے سے جینے کی ایک را ہ متعین فر مائی۔
باقی رہے نام اللہ کا ! سب ویسے ہی چلتا رہے گا جیسا کہ چل رہا ہے۔
اس بیماری نے اللہ کے حکم سے آخر کو چلا ہی جانا ہے ، اس میں کسی کی تقریر اور پابندی کا کیا دخل ؟
اجمل سراج کی ایک خوبصورت اور معنی خیز غزل کا ایک شعر دیکھیں’ سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پرتو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے ‘
اس حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ پریشان اور ڈپریشن میں جانے سے کرو و نا کے امکانات بڑھ جاتے ہیں لہذا خوش رہنے کی کوشش کریں ، اس سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جو اس بیماری سے لڑنے میں ممدو معاو ن ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ خوش رہیے – آپ کی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے لیے کی پیش خدمت ہیں کچھ تازہ ترین تبصرے – جو شوشل میڈیا کی بدولت ہم تک بھی پہنچے۔ ہمارے وزیر اعظم کے اس خطاب پر چند عالمی رہنماؤں نے اپنی انگلیاں چباتے ہوئے کچھ تاثرات ریکارڈ کروائے ملاحظہ کیجئے !
چائنہ گلوبل ٹی وی نیٹ ورک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ’عمران خان نے کرونا کے خلاف جو لائحہ عمل اپنایا، اگر وہ ہم اپنا لیتے تو کئی ارب ڈالرز کے نقصان سے بچ جاتے۔’
اے بی چینل، اٹلی نے کہا’عمران خان اگر اٹلی کا وزیراعظم ہوتا تو آج ہمارا ملک یوں لاچارگی کا منظر پیش نہ کررہا ہوتا۔’
ایرانی نیوز چینل پرواز نے کہا کہ ‘ہمیں عمران خان کو اپنا خلیفہ ماننا ہوگا بصورت دیگر ہمارا ملک مزید پستی میں جا گرے گا’۔
بی ڈی سی لندن کو یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہ ہوا کہ “ہمیں فخر ہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی عمران خان سے دوستی ہے جس کی وجہ سے برطانیہ کو بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ ”
جی این این، واشنگٹن کے رپورٹر کا کہنا تھا کہ ”وقت آگیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے میں کم از کم ایک گھنٹے کیلیے پاکستانی وزیراعظم سے رہنمائی حاصل کیا کریں ”۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ” عمران خان اس وقت اقوام متحدہ کیلیے امید اور لیڈرشپ کی روشن مثال ہیں “۔
اب آتے ہیں چند حوصلہ افزا باتوں پر … سب سے پہلی اچھی خبر تو یہ ہے کہ صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب نے جو ابھی چائنا کا دورہ کرکے واپس پہنچے ہیں انہوں نے قریب سے دیکھا کہ چائنا نے کس طرح اس خطرناک بیماری کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی ۔
وزیر اعظم صاحب کی بونگیاں ایک طرف رکھیں ، صدر پاکستان کی سنجیدگی و برد با ری دیکھیں کہ انہوں نے پاکستان پہنچ کر سب سے پہلے علماء کرام سے مدد کی اپیل کی اور آگاہی پھیلانے میں مدد طلب کی ، ساتھ ہی ساتھ امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کو فون کیا کہ اس نازک وقت میں جماعت اسلامی اپنے نیٹ ورک کو بروئے کار لاتے ہوئے کررونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں حکومت کی مدد کرے ۔امیر جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں اپنی ذیلی تنظیم الخدمت کو خصوصی ہدا یات جاری کیں کہ فوری طور پر الخدمت کے تمام ہسپتالوں میں ‘ آئسولیشن سینٹرز ‘ بنائے جائیں ، چناچہ 28 ہسپتالوں کو آئسولیشن وارڈ ز میں تبدیل کردیا گیا۔ پچاس بستروں کا ہسپتال تھر پارکر میں اور تقریبا سو بستروں کے آئسولیشن سینٹر کراچی میں اور اسی طرح ملک بھر میں قائم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اور تمام میڈیکل سینٹرز میں مفت ٹیسٹ کی سہولیات دینے کے احکامات جاری کیے۔
اس کے علاوہ تمام میڈیکل سینٹرز میں’ کررونا آگاہی مہم ‘چلانے کے لیے وقف کرتے ہوئے رضاکاروں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا۔ اسی طرح کی خدمات امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان صاحب صوبہ سندھ کے وزیر اعلی جناب مراد علی شاہ کو پیش کرچکے ہیں۔ اور پنجاب کے گورنر جناب محمد سرور نے الخدمت فاونڈیشن کے صدر جناب عبدالشکور سے ملاقات کی اور مدد کی اپیل کی۔
الحمد للہ اس حوالے سے جماعت اسلامی اسمبلیوں میں نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے عوام کے لیے ہمہ وقت تیا ر دیکھی دیتی ہے اور اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے مثبت سوچ اور رویوں کے ساتھ ہی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کراچی میں حکومت سندھ نے ایکسپو سینٹر کو بڑے آئسولیشن سنٹر میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بھی بہت حوصلہ افزا ہے۔
کروو نا سے ڈرنا نہیں ہے۔۔۔ لڑنا ہے !!!۔

حصہ