عورت مارچ کی حقیقت

53

منزہ گل
یورپ نے 8مارچ 1911ء کو پہلی بار عورت کو تسلیم کیا اور وومن ڈے منایا جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے اس عورت کو زندگی دی پھر اسے پہچان دی ہر رشتے کی اگر ماں ہے تو جنت ہے اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے اگر بہن ہے تو غیرت ہے اگر بیوی ہے تو عزت ہے۔ یورپ نے صرف نفرت کی ہے۔ اس نے کہا بابا آدم کو جنت سے صرف عورت کی وجہ سے نکالا گیا اس لیے اس نے صرف دوست گرل فرینڈز اور ٹائم پاس ہی سمجھا۔
ریاست کی پس پردہ اور ظاہری حمایت کے بل بوتے پر چند مغربی فکری ایجنٹوں کامختصر سا ٹولہ عورت مارچ کے نام پر مغربی غلیظ لبرل فکرکی بیماری کے ساتھ پاکستان کے معاشرے پر حملہ آور ہیں۔ تاہم میڈیا میں موجود مغرب نواز ٹولے کی بھرپور حمایت کے باوجود پاکستان کے عوام نے ان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا کردار خصوصاََ قابل ستائش ہے ۔ اپنے ساتھ ہمدردی کا ناٹک رچانے والیاس ٹولے کی سازش ناکام بنا دی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں دو سو سال سے مغربی استعماری نظام کے زیر سایہ رہنے کے اثرات کے باعث خواتین کو اپنے شرعی حقوق درست طور پر نہیں ملتے، بالکل اسی طرح جس طرح موجود معاشرے میں رہنے والے مسلمان دیگر شرعی حقوق سے محروم ہیں۔ اس پر مستزاد غیر اسلامی قبائلی روایات، عصبیت اور قوم پرستانہ کلچر بھی معاشرے کے مختلف عناصر کو حقوق سے محروم کرنے کا باعث بنتا ہے، تاہم مغربی لبرل سوچ سے اخذ کردہ فیمنزم کا نظریہ اس مسئلہ کا حل نہیں بلکہ یہ ایک بدترین فکری بیماری ہے۔
پاکستان کی سڑکوں پر خواتین کے حق میں نکالی جانے والی ریلی اگر واقعی عورتوں کے حق میں ہوتی تو اس میں آویزاں کیے گئے پلے کارڈ جس پر لکھا تھا ’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘، ’’میں آزاد ہوں‘‘ کے بجائے ان پلے کارڈز پر درج ذیل نعرے تحریر ہوتے تو نہ صرف معاشرہ ان کے اس عمل کو سراہتا بلکہ قوم اور ملک کی عزت میں بھی اضافہ کا سبب بنتیں۔
1مجھے وراثت میں حصہ دو
2 تعلیم میرا حق ہے
3 گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہا تھ بٹانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
4 بہترین مسلمان وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے ساتھ اچھائی سے پیش آتا ہے۔
5 مومن مردو اپنی آنکھیں نیچی رکھو۔
6 عورت نہ صرف مرد کی بلکہ ریاست کی بھی ذمے داری ہے۔
7 باعزت روزگار ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔
8 ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
9 بیٹیوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے والا مرد جنت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہے۔
10 قیامت کے دن تم سے عورتوں کے حقوق بارے پوچھ گچھ ہوگی۔
11 بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔
12 ہمارا احترام سوسائٹی پر فرض ہے۔
13 لڑکیوں کی اچھی تربیت جنت کی ضمانت ہے۔
14 ہم مائیں بہنیں بیٹیاں قوموں کی عزت ہم سے ہے
15 ہم شو کیس میں رکھے کھلونے یا مارکیٹ میں بکنے والی کوئی چیز یا ٹی وی پر چلنے والا اشتہار نہیں بلکہ ایک قابل عزت زندہ جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔
عورت مارچ اور اس کی پشت پر موجود مغرب اور اس کے فکری ایجنٹ لبرل نظریے کے سوداگر ہیں جو رب کے سامنے جھکنے کے بجائے رب سے بغاوت کرتے ہوئے ہر عمل میں اپنی مرضی اور خواہش پر چلنا چاہتے ہیں۔ مذہب سے آزادی کی یہ سوچ جو عیسائی دنیا کی چرچ کے خلاف بغاوت کا نتیجہ ہے، اس سوچ کو پاکستان میں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے غلیظ سلوگن کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لبرل نظریہ انسانی ذہن کی پیداوار ہونے کی وجہ سے فکری گہرائی سے محروم ہے اور عورت اور مرد کے تعلق کی تنظیم اور ان کے درمیان آئیڈیل تعاون کا نظام تشکیل دینے سے قاصر ہے اس لیے لبرلز نے مرد اور عورت کو ’’بعینہ ایک‘‘ قرار دے دیا ہے۔ لبرل سوچ مردوں اور عورتوں کو ہر معاملے میں ایک ہی رول دینے کی کوشش کرتی ہے اور جہاں عورت ’’مرد‘‘ نہیں بن پاتی تو وہ اسے عورتوں کے حقوق کی پامالی قرار دیتے ہیں۔ عورت کی تذلیل میں اضافہ کرنے کے لیے عورت مارچ سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ دنیا کے 10 نامور رپیسٹ ملک میں کوئی بھی مسلم ملک نہیں اور عورت مارچ سے سوال ہے دنیا کے ٹاپ 10 میں فحاشہ عورت کن ممالک میں ہے سب انگریز ممالک ہے یعنی حقیقت میں عورت کہاں کہاں یرغمال اور استحصال کا شکار ہے۔ تو جہاں ریپسٹ یرغمالی ہے وہاں اصل مارچ ہونا چاہیے نہ کہ جہاں عورت کو امان و عافیت و احساس ہو وہاں مارچ کیا جائے۔
عورت مارچ کے بانیو!
دنیا کی پورنوگرافی انڈسٹری کا سرخیل اسرائیل ہے، کیا اسرائیل کے اس صنعت کے خلاف دنیا کے این جی اوز مارچ کرسکتی ہیں؟ لبرل نظریے کے مقابلے میں اسلامی تہذیب ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر کھڑی ہے جو زندگی کے ہر ایک پہلو میں اللہ کی بندگی اور فرمانبرداری پر مبنی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ خالق ہونے کی حیثیت سے بخوبی جانتے ہیں کہ معاشرے میں مرد اور عورت کا درست رول کیا ہونا چاہیے۔
’’بھلا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا، اس پر وہ باریک بین اور خبردار بھی ہو۔‘‘ (سورہ الملک: 14)
پس اسلامی تہذیب میں مرد و عورت میں نہ تو برابری اور نہ ہی برتری یا کمتری کی کوئی بحث موجود ہے۔ جو بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے تفویض کیے گئے اپنے رول کو درست ادا کرے گا وہ فلاح حاصل کرے گا۔ پس اسلام عورتوں کو تعلیم، کاروبار، نوکری ، ملکیت جیسے تمام حقوق دیتا ہے اور ان تمام معاملات میں مردوں اور عورتوں دونوں کو اللہ کے نازل کردہ حدود و قیود کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خواتین جہاد میں حصہ لیتیں تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون شفاء بنت عبداللہ کو قاضی مقرر کیا تھا۔ خواتین مسجد میں خلیفہ کا احتساب کرتیں تھیں، ریاست کی سیاست میں ان کا کردار موجود تھا اور اسلامی معاشرے میں نئی نسل کی تربیت کرنے میں خواتین اہم ترین رول ادا کرتی ہیں۔
اسلام نے واضح احکامات وضع کیے ہیں جو مردوں اور عورتوں کے تعلقات کو منظم کرتے ہیں۔ عورت کے لیے نامحرم مردوں سے اور عوامی مقامات پر پردے کا حکم، عورت اور نامحرم مرد کی خلوت کی ممانعت، مردوں اور عورتوں کو نظریں نیچے رکھنے کا حکم، مردوں اور عورتوں کی معاشرتی زندگی کی الگ الگ تنظیم، مردوں کو عورتوں کے نفقہ کی ذمہ داری کی تفویض، مسلم خاندان کی تشکیل اور تعمیر میں ماں کا نہایت اہم رول اور رشتے داروں کے حوالے سے خصوصی احکامات ایک منفرد مسلم معاشرتی زندگی اور معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔
اس منفرد اسلامی معاشرے کی بنیاد صرف اور صرف اللہ کے احکامات ہیں جن کی پابندی مردوں اور عورتوں دونوں پر لازم ہے۔ عورتوں سمیت معاشرے کے تمام طبقوں کے حقوق کا ضامن صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ شریعت ہے جس کو خلافت کا نظام نافذ کرتا ہے۔ 99 ہجری سے خلافت کی عدم موجودگی نے ہمارے معاشرے کو مغربی بیمار اور کرپٹ افکار کا اکھاڑا بنا دیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد قائم ہونے والی خلافت ہمارے معاشرے کو خاندان سے لے کر ریاست تک تمام فکری بیماریوں اور غیر اسلامی افکار سے نجات دلائے گی۔

حصہ