شیبا کی گڑیا چلی سسرال

78

عرشمہ طارق
مبارک ہو ،مبارک ہو ہر طرف شور مچ گیا ٫ ساری کی ساری سہیلیاں آج بہت خوش تھیں اور کیوں نہ ہوں بھئی آج شیبا کی گڑیا اور روحی کے گڈے کی شادی جو طے ہو گئ تھی ،،،،،اگلے جمعہ کو شام چار بجے دھوم دھام سے شادی کا پلان بنایا گیا ۔
پانچوں لڑکیاں شیبا شبانہ ،روحی،نازی اورفرحی پکی سہیلیاں تھیں۔ ایک ہی محلے میں رہتی تھیں۔روزا نہ شام کے چار بجے اکھٹے کھیلنے کا پکا وقت طے تھا ۔باری باری سب کے آنگن میں جمع ہو کر اپنے دل پسند کھیل مثلا ” پکڑن پکڑائی،پہل دوج،کھو کھو،اعر برف پانی کھیلے جاتے تھے۔ کبھی کبھی امی سے اجازت لے کر گلی میں موجود چیز والی دکان سے رنگ برنگی چھوٹی چھوٹی ٹافیاں اور ننھے ننھے بسکٹ بھی خریدے جاتے _ ایک گھنٹہ تک خوب کھیلا جاتا اور پھر تھک کر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ۔
ایک دن شیبا کے بڑے ماموں کویت سے آئے ٫اور سب گھر والوں کے لیے ڈھیروں تحائف بھی لائے ٫ شیبا کے لیے خاص طور سے بہت ہی پیاری سنہری بالوں والی گڑیا لائے ‘ وہ پھولی نہ سمائی ٫نیلی نیلی آنکھیں،لمبے لمبے سنہری بال سفید جھالر والی فراک وہ گڑںا کسی پری سے کم نہ تھی ،شیبا کی سب سہیلیاں بھی اس پر فدا تھیں ۔وہ سارے کھیل بھول بھال کر گڑیا کے ناز نخروں میں لگ گئیں ۔
نازی گڑیا کے خوبصورت بالوں کے لیے ستاروں کی طرح چمکتے نگوں والی پنیں لے کر آئی ، شبانہ اپنی امی جان سے گڑیا کے لیے گلابی نیٹ والا فراک سلوا کر لائی ،فرحی نے اپنے ہاتھوں سے لال موتیوں کا۔ ہار بنایا،جو گڑیا کی سفید گردن پر بہت جچ رہا تھا ۔اب تو انہیں شام چار بجے کا بے صبری سے انتظار رہتا۔کہ کب کھیلنے کا وقت ہو اور وہ شیبا کی گڑیا سے کھیلنے جائیں ،یونہی ہنستے کھیلتےکئی روز گزر گئے۔
شیبا کی بڑی آپی کی شادی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھی۔اگلے مہینے شادی تھی،آپی اور امی جان دونوں ڈھیروں خریداریاں کر تی تھیں ۔ برتنوں کے سیٹ ،چادریں ،رنگ برنگے کپڑے،سینڈلیں پرس،زیورات چوڑیاں اور بھی بہت کچھ یہ سب دیکھ کر ننھی شیبا کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے بھی اپنی گڑیا کی شادی کا اعلان کر دیا ،سب گھر والوں نے لاکھ سمجھایا کہ گڑیاا کی شادی کر دو گی تو پھر کھیلو گی کس سے ؟ پر شیبا کی ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ ” مجھے نہی پتا بس مجھے بھی اپنی گڑیا کی شادی کرنی ہے مجھے بھی آپی کی طرح اپنی گڑیا کی شادی کا سامان لینا ہے “۔
خیر جناب شیبا کی ضد کے آگے سب نے ہار مان لی ، شیبا نے اپنی سہیلیوں کو یہ خبر سنائی۔۔
اتفاق سے روحی کے پاس گڑیا اور گڈے کی جوڑی تھی ،اس نے اپنے گڈے کی شادی کی بات کی تو شیبا نے فوراََہی ہاں کر دی ،شادی کی مکمل پلاننگ سب نے مل کر کی ، شیبا بہت خوش تھی،اس نےاپنے تمام شوق پورے کیے،امی جان کے ساتھ کھلونوں کی دکان سے گڑیا کے لیے چائے کی پیالیاں ٫ پتیلیوں کا سیٹ ،چولہا فریج ،واشنگ مشین ،استری اور کپڑوں کی الماری،میز کرسیاں ،اور صوفہ سیٹ لے کر آئی ، شیبا نے ڈھیروں سامان جمع کر لیا۔
آخر کار شادی کا دن اآگیا ۔
شیبا نے دلھے والوں کے لیے جھوٹے چھوٹے برتنوں میں ٹافیاں بسکٹ اور کیک سجا رکھے تھے ،اپنی پیاری سی گڑیا کو بھی بہت اچھےسےسجایا،نکلس ،پنیں چوڑیاں سب کچھ پہنایا ،امی جان نے اپنے پرانے لال دوپٹے کو کاٹ کر پیارا سا دوپٹہ گڑیا کے سر پہ سجایا۔
فرحی نے بھی اپنے گڈے کے لیے گوٹے والا سہرا تیار کیا ،سب سہیلیوں نے خوب گانے گائے ،کھایا پیا، اورخوب ہلا گلا کیا ، اور آخر کار رخصتی کا وقت آگیا :
فرحی گڑیا کے ساتھ ساتھ اسکا سارا سا مان بھی لے گئی ‘۔
شادی کے اگلے ہی روز شیبا کو اپنی گڑیا کی یاد ستانے لگی اور اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا،گڑیا کی شادی کا شوق تو پورا ہو گیا پر گڑیا اور اسکا پورا سامان اب روحی کا ہو چکا تھا،لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ،اس نے خود ہی تو ضد کر کے گڑیا کی شادی کروائی تھی ۔
شیبا کی امی نے اسے سمجھایا کہ” پیاری بیٹی اب آپ کی گڑیا کی شادی ہو گئی ہے اب آپ اس سے مل تو سکتی ہیں پر واپس نہی لے سکتی ہیں کیونکہ اب وہی اس کا اپنا گھر ہے ،شیبا کو اپنی بلا وجہ کی ضد پر بہت افسوس ہوا پر اب اس کےذہن میں ایک اور آئیڈیا آچکا تھا اس نے سوچ لیا کہ اگلی بار وہ گڑیا کی نہی گڈے کی شادی کرے گی ،اور رخصت کروا کر پیاری سی گڑیا اپنے لیے لے کر آئے گی۔
شیبا نے خوشی خوشی اپنے آئیڈیا کے بارے گھر والوں کو بتایا ،شیبا کی معصوم سی خواہش کے بارے میں جان کر سب گھر والے ہنسنے لگے اور شیبا دل ہی دل میں گڈے کی شادی کی پلاننگ کرنے لگی ۔

حصہ