سوشل میڈیا اور بیرونی ایجنڈا

108

اسلام آباد میں 23 مارچ کی تیاریوں کے دوران پاکستانی فضائیہ کے ونگ کمانڈر نعمان اکرم کا ایف سولہ طیارے کا حادثہ اہلِ پاکستان کے لیے رنج، افسوس اور دکھ کا باعث رہا۔ سوشل میڈیا پر کئی ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بنے جن میں نعمان اکرم ونگ کمانڈر اسلام آباد، پلین کریش، پاکستان ائر فورس سمیت کئی شامل تھے۔ شہید نعمان اکرم کی کچھ عرصہ قبل نیو ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ویڈیو سب سے زیادہ وائرل رہی جس میں انہوں نے جام شہادت پینے کی خواہش کا اظہار بھی ان الفاظ میں کیا کہ ’’قوم بالکل بھی فکر نہ کرے، آپ کے لیے جان کا نذرانہ چاہیے ہوگا تو وہ بھی دیں گے۔‘‘ دیکھیں آج شہید ہونے والے ونگ کمانڈر نعمان اکرم کا آخری انٹرویو۔ نعمان اکرم جہاز سے نکل سکتے تھے لیکن شہری آبادی کو بچاتے بچاتے جان دے دی۔ شہید کی یادگار تصاویر، اس کے نام خراج عقیدت ، شہادت کے فضائل کے علاوہ حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ایک موبائل سے بنی فوٹیج بھی بہت وائرل رہی۔ شہید نے جہاز بچانے کی بھی اپنی آخری کوشش کی اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر آبادی میں گرنے کے بجائے جہاز کا رُخ جنگل کی جانب کردیا۔ کئی پوسٹوں میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ ’’ایف 16طیارہ آبپارہ مارکیٹ کے عین اوپر خراب ہوا۔ ونگ کمانڈر نعمان اکرم نے آبادی کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کی روایتی شجاعت کاپاس رکھتے ہوئے طیارے کو قریبی پہاڑیوں کی طرف موڑ دیا اور شکرپڑیاں کی پہاڑیوں پر قربانی کی ایک اور انمٹ داستان نقش کرکے اپنی جان‘ جانِِ آفریں کے سپرد کر دی۔‘‘ یہ سب تو چلتا رہا لیکن درمیان میں لوگ سوال اٹھاتے رہے کہ ایف سولہ جیسا اہم ترین جنگی طیارے میں اچانک فالٹ کا آنا؟ بغیر تحقیقات یہ کہنا کہ کوئی خرابی آئی یا کوئی وجہ بیان کر دینا سوشل میڈیا کا عمومی طرز عمل تھا جو ان پوسٹوں کے درمیان نظر آیا۔ کسی نے موسم کہا‘ کسی نے کم بلندی۔ اسی طرح عین آب پارہ بھی اتنے وثوق سے کاپی پیسٹ ہوتا رہا کہ ہم بھی بیان کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بہر حال طیارہ اور پائلٹ دونوں کا نقصان انتہائی اہمیت کا حامل ہے جسے نظر انداز کرنا کسی طور درست نہیں ہوگا۔
پی ایس ایل کے میچز اپنی جگہ سوشل میڈیا پر ٹھونسے گئے لیکن ملک میں دوسرا مسئلہ کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا تھا۔ ایران تو اس ہفتے چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا مرکز بن کر سامنے آیا ۔ سعودی عرب نے جو حفاظتی اقدامات اٹھائے اُس میں عمرہ اور سیاحتی ویزوں پر پابندی اہم ترین رہا۔ لوگ خالی بیت اللہ کے مناظر یہ بتا کر شیئر کرتے رہے کہ بالائی منزل پر طواف جاری ہے ۔
بہر حال مجموعی طور پرسعودی عرب نے سخت پابندی کا سلسلہ رکھا، اسی دوران سعودی عرب سے شاہی خاندان میں بغاوت کی خبریں بھی آئیں۔ کئی شہزادے نظر بند ہوگئے، کچھ گرفتار بھی ہوئے لیکن سعودی عرب نے خبریں لیک نہ ہونے کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا۔ 45 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کئی ممالک کے مسافروں پر سفری پابندی بھی عائدکر دی۔ ہمارے شہر میں تو جیسے ہی ایک مریض سامنے آیا تمام تعلیمی ادارے فوراً ہی بند کردیے گئے جبکہ سعودی عرب نے اسکولوں میں جون تک ای لرننگ کا نظام نافذ کر دیا۔ اِسی طرح ابوظہبی میں سرکاری ملازمین کو گھر بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ میں نے سعودی عرب کے سوشل میڈیا ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈز پر ایک نظر ڈالی۔ جیسے ہمارے ملک میں پی ایس ایل مطلب کرکٹ کا جنون چل رہا ہے تو وہاں ویسا ہی فٹ بال کا جنون ہے اور سعودی پروفیشنل فٹ بال لیگ جاری ہے۔
فٹ بال لیگ میں بھی ایک ٹرینڈ اس سے متعلق پایا گیا۔ اس کے علاوہ باقی سب اشاریہ ہیش ٹیگ تھے جیسا کہ پریشان مت ہو۔ گھر کی دیکھ بھال قومی فریضہ ہے۔ اپنے مکان تیار کرو۔ وغیرہ جیسے کئی ہیش ٹیگ کے ذیل میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر سے متعلق مواد ہی شیئر کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح انڈیا میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہیش ٹیگ کورونا وائرس پر مبنی تھا اور ایک ٹرینڈ اسٹاک مارکیٹ کریش کا تھا۔ جہاں عالمی منظر نامے پر یا عالمی معیشت پر کورونا نے خوب ڈینٹ مارا ہے اُس میں پہلے تیل کی قیمتوں کو جھٹکا لگا پھر اس کے بعد اسٹاک مارکیٹ کو۔ اس میں گلف، یورپ اور بھارتی اسٹاک مارکیٹ سب شامل ہیں۔ دوسرا نمایاں ٹرینڈ ریاست چنائے سے تعلق رکھنے والے بھارتی مشہور فلم اسٹار وسماجی رہنما رجنی کانت کی سیاست میں باقاعدہ اپنی سیاسی جماعت کی صورت انٹری کا تھا۔ تامل ناڈو الیکشن 2021 کے سلسلے میں وہاں کے حالات میں بہتری کا نعرہ لگا کر سیاست میں قدم رکھا ہے۔ بھارت میں اداکاری و پسندیدگی میں عروج کی انتہا تک پہنچنے والے رجنی کانت‘ جنہوں نے بس کنڈیکٹری سے آغاز کر کے آج یہ مقام پایا، اپنی غیر سیاسی سماجی تنظیم ’’رجنی مّکل مندرم‘‘ کی صورت ایک مقبول سماجی رہنما بھی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملکی سیاست میں لا کر خدمت کرنے کا اظہار کیا ہے۔ فلموںمیں غریبوںکے مسیحا اور انصاف کے حصول کی خاطر بڑی بڑی لڑائی اور مشہور ڈائیلاگ بولنے والے کئی مشہور بھارتی اداکاروں اور اداکارؤں نے مختلف وجوہات کی بناء پربھارتی سیاست میں قدم رکھا اور اب بھی سیاست میں شامل ہیں لیکن ان کی معروف اکثریت بھارت کی کسی مین اسٹریم جماعت یعنی کانگریس، بی جے پی وغیرہ میں شامل ہوئی اور پھر اُن سب کی کچھ خاص پیش رفت نہیں نظر آئی۔ بھارت کے جنوب یعنی ساؤتھ کی خاص بات یہ محسوس ہوئی کہ یہاں سے تعلق رکھنے والے اداکاروں یا فلم انڈسٹری کے افراد نے اپنے الگ نعرے کے ساتھ اپنی الگ ہی جماعت بنائی ۔ اس سے قبل وہیںکے ایک اور معروف اداکار، مصنف، ہدایت کار کمل ہاسن نے 2018 میں اپنی جماعت تشکیل دی تھی اور اب رجنی کانت میدانِ سیاست میں آئے ہیں۔ بہر حال بات آگے نکل گئی یہاں بتانے کی بات یہ تھی کہ رجنی کانت کا شمار اُن سیاست دانوں یا سیلیبرٹی میں ہوتا ہے جنہوں نے اب تک مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کے متعصب رویے کا اظہار نہیں کیا۔ بھارت میں کورونا کے علاوہ مستقل چلنے والا موضوع متنازع ’’شہریت بل‘‘ ہے جس کی بھینٹ کئی مسلمان چڑھ چکے ہیں۔ نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کے بعد کچھ دیر کے لیے حالات سنبھلے لیکن اس ہفتے بھی نئے ہیش ٹیگ کے ساتھ معاملہ گرم رہا ۔ یہ ہیش ٹیگ بھارتی مسلمانوں پر عرصے سے لگائے گئے الزامات پر مبنی تھے جن میں ’’حسن جہاد‘‘ مطلب مسلم خواتین اپنے حسن سے بھارتی ہندوؤں کو اپنا گرویدہ بنا کر ’’جہاد ‘‘ کر رہی ہیں۔ اسی طرح ’’زمین جہاد‘‘ کے نام سے زی نیوز نے اپنے ایک اینکر کے ذریعہ یہ نیا شوشا چھوڑ کر مسلم نفرت و تعصب کا ایک نئے انداز سے بھرپور وار کیاہے۔ جنگلات کی زمین اور مساجد کی تیزی سے تعمیرکو جموں کی آبادی کو تبدیل کرنے کی مسلم سازش بعنوان ’’زمین جہاد‘‘ نام دیا ہے۔ اسی طرح StopDemographicZehad کے ہیش ٹیگ کے ذیل میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی آبادی پر سوالات اٹھائے گئے اور خوب اعداد و شمار پیش کر کے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں جہاد کرنا ہے اس لیے وہ خوب بچے پیدا کرتے ہیں۔ اب آپ اس انداز سے بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے کیا سوچ پروان چڑھائی جارہی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔ دوسری جانب مسئلہ کشمیر یعنی مقبوضہ کشمیر میں جاری 5 اگست 2019 سے لاک ڈاؤن ہے جس کا پاکستان میں گاہے بہ گاہے ذکر کسی شکل میں آ ہی جاتا ہے۔
’’کشمیر کے لیے اعلانِ جہاد کرو‘‘ کے عنوان سے یہ ہیش ٹیگ تحریک لبیک کی سوشل میڈیا ٹیم نے لانچ کیاجو کہ پھر ٹرینڈ بھی بنا ۔ یہ ہیش ٹیگ بھارت میں جاری ہیش ٹیگ WaystoDieinKashmir کے ٹرینڈ کے مقابلے میں بنایا گیا، کیوں کہ بھارت کو ’’جہاد‘‘ ہی کے نام سے پسینہ چھوٹتا ہے اور تحریک لبیک کا اس ضمن میں یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کی مددکے لیے روزِ اوّل سے جہاد ہی واحد راستہ ہے۔
جنگ اورجیو نیوز کے میر شکیل الرحمن کی غیر قانونی جائیداد کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر بھی ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنا‘ تاہم جیو پورا ہفتہ عورت مارچ اور اُس کی حمایت کی وجہ سے بھی مطعون رہا تھا۔ خلیل الرحمن قمر جو کہ پچھلے ہفتے ملک بھر میں ایک مقبول سیلیبرٹی کے طور پر سامنے آئے تھے‘ اس ہفتے انہیں مزید پزیرائی ملی، وہ کہتے ہیں کہ اتنے انٹرویوز و مقبولیت تو انہیں ڈراموں اور فلموں سے نہیں ملی جتنی ماروی سرمد والے واقعے سے ملی۔ اس ضمن میں جب جیو انٹرٹینمنٹ نے خلیل الرحمن قمر سے اپنا معاہدہ منسوخ کیا تو عوام نے جیو کو تو خوب باتیں سنائی اور بائیکاٹ کا مطالبہ کیا دوسری جانب تمام تر ہمدردیاں خلیل الرحمن قمر کے ساتھ ہو گئیں۔ جیو ٹی وی نے اپنا مکمل جھکاؤ عورت مارچ کی جانب رکھا۔ کون سا سوشل میڈیا یو ٹیوب چینل تھا جس نے اُن تک رسائی کی کوشش نہ کی ہو۔ نیو ٹی وی کے پروگرام کے بعد منصور علی خان کے پروگرام میں عامر لیاقت اور اینکر منصور علی خان کی انتہائی رکیک گفتگو میں خلیل الرحمن قمرکا صبر و تحمل اُن کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر گیا‘ دوسری جانب عورت مارچ میں منصور علی خان کی شرکت اُن کے لیے بڑا مسئلہ بن گئی۔ عورت مارچ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں منعقد ہوا ، دوسری جانب جماعت اسلامی خواتین نے بالخصوص اور دیگر دینی جماعتوں کے خواتین ونگ نے بھی اس ضمن میں بھرپور جوابی سرگرمیاں کیں اور حقیقی مسائل کو اجاگر کیا۔ ایسے میں ہم جنس پرستوں LGBTQ کے حوالے سے موضوع بھی زیر بحث آیا۔ اس ضمن میں مولانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ ’’پیدائشی جسمانی نقائص والے افراد کے لیے حکم یا طریقہ یہ ہے کہ ان کا علاج کرایا جائے گا، اگر علاج نہ ہو تو اُنہیں جس جنس کی جانب رغبت ہو ویسا ہی نارمل انسان بن کر رہنے کا موقع دیا جائے گا۔ جس طرح آئین کا باغی برداشت نہیں اُسی طرح اللہ کے قانون سے بغاوت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ایسے افراد اگر باز نہ آئیں اور ہم جنس پرستی کی کسی شکل کو اپنانا چاہیں تو اُنہیں قید میں رکھا جا سکتا ہے اس طرح معاشرے میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘‘ عورت مارچ کے ایجنڈے کے بارے میں کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی سروے کرائے گئے جن میں بڑی اکثریت نے عورت مارچ کے ایجنڈے کو یکسرمسترد کر دیا۔
کاشف حفیظ لکھتے ہیں کہ ’’آپ مغربی تہذیب کی بات کریں مگر آپ کو’’مغرب زدہ‘‘ نہ کہا جائے۔ آپ سماجیات کو بدلنے کی مہم چلائیں مگر آپ کو ’’لبرل‘‘ نہ کہا جائے۔آپ وہ لباس اپنائیں‘ جو ہمارا نہیں توآپ کو ’’تہذیب بیزار‘‘ نہ کہا جائے۔ آپ ’’الہامی ہدایات‘‘ کا اپنے عمل سے احترام نہ کریں مگر آپ کا اصرار ہے کہ آپ کو’’مسلمانوں کا نمائندہ‘‘ ہی سمجھا جائے۔آپ ’’Earth Day‘‘ پر تڑپ جائیں
مگر کشمیر پہ لب سی لیں۔ آپ پاکستان کی ’’نظریاتی اساس‘‘ پہ حملہ آور ہوں مگر انتہا پسند وہ جو کلمہ لا الٰہ اﷲ پہ یقین رکھے۔ آپ فخر سے #MeToo کی تحریک چلائیں مگر فیشن انڈسٹری کی غلاظتوں سے منہ موڑ لیں۔ ’’ہم جنس پرستوں‘‘ کو اسٹیج پہ جگہ دیں اور ڈاکٹر عافیہ کے پلے کارڈز بھی عورت مارچ میں آنے نہ دیں۔ سوال کریں کہ کہ بتائیں کہ ہم غلط کیا کہہ رہے ہیں؟ اور جب بتایا جائے تو سامنے والے رجعت پسند ہو جاتے ہیں۔ جو خواتین خاندان کی بات کریں وہ Disoriented اور جو ’’مرد کی آزادی‘‘ اور اس کے جنون کو تقویت دے وہ ماڈرن… نہیں… نہیں…ایسا توممکن نہیں۔‘‘ بہر حال معاشرے میں عورت مارچ کے نعروں کو بھرپور طریقے سے رد کردیا گیا۔ کراچی سے سید جواد شعیب اور لاہور سے یاسر شامی نے اس ضمن میں بھر پور کردار ادا کیا لاکھوں کی تعداد میں اُن کی ویڈیو کے ویوز اور شیئرنگ نے بتایا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔ جواد شعیب کی ایک ویڈیو سے تو اتنی آگاہی پھیلی کہ کراچی کے علاقے لیاری میں ایک اسٹیڈیم پر کسی نے LGBTQ (ہم جنس پرستوں) کے علامتی رنگوں والا پرچم لگایا ہوا تھا جس کو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن ویڈیو کی بہ دولت جب مقامی نوجوانوں نے اس جھنڈے کو پہچانا تو اُسے اتار کر پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔

حصہ