جدید ترقی و تمدن اور مولانا مودودیؒ

124

تحریر: مریم جمیلہ مرحوم/ ترجمہ: شفیق الاسلام فاروقی
مرتب: اعظم طارق کوہستانی
اسلام کا دورِ زریں‘ جو تاریخ میں سائنس اور آرٹ کی ترقی کے لحاظ سے مسلمانوں کا شان دار باب کہلاتا ہے‘ مولانا مودودی کو ذرا بھی متاثر نہیں کرتا۔ آپ کو ایک ایسی جامع خوبیوں کا معاشرہ ہی مطمئن کر سکتا ہے‘ جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہو۔ حالانکہ ایسے معاشرے کا وجود میں آنا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
اس مطلوب اور محمود دنیا کو حقائق کی دنیا میں لانے کے لیے مولانا مودودیؒ بڑے پر اعتماد رہے ہیں۔ آپ کو امید تھی کہ آپ کی تحریک ان تمام غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرے گی جو ماضی میں ہوئی ہیں اور اس کے بجائے ماضی کے علمی اور دیگر اثاثے میں جو بھی خیر کا پہلو ہو گا‘ اسے بروئے کار لانے میں کوئی کوتاہی کرنے سے پہلو بچائے گی۔ ایسے میں جب مسلمانوں کے شان دار تاریخی ماضی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا معیار مولانا مودودی کی سوچ اور فکر سے ہم آہنگ نہیں‘ کیونکہ مولانا اسے اسلام کا تاریک ترین دور قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
]خلافت راشدہؓ کے بعد[ جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جمایا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی بادشاہی تھی‘ جس کو مٹانے کے لیے اسلام آیا تھا — اس بادشاہی کے زیر سایہ امرا‘ حکام‘ وُلاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطہ نظر پھیل گیا‘ اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شرع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرح مرتب و مدوّن ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اورحکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت‘ جاہلیت کے قبضے میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی (سید مودودی تجدید و احیاے دین‘ ص ۳۸ – ۳۹)۔
اسی زرّیں دور کے بغداد کے دارالحکمت کو بھی مولانا مودودی تاریک دور کا دارالحکمت قرار دیتے ہیں‘ جس میں عہد عتیق کے عظیم فنون کو عربی میں منتقل کیا گیا اور جنھیں انسانی تہذیب کی تاریخ کے تمدنی واقعات میں اہم ترین واقعات قرار دیا جا سکتا ہے۔
حتیٰ کہ امت ِ مسلمہ‘ اسلامی آرٹ کے جس بیش بہا قیمتی خزینے پر بڑا فخر کرتی ہے‘ مولانا اس کے سحر کا ذرا بھی اثر نہیں لیتے اور اس کے بارے میں بڑے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا اصرار ہے کہ آلایشوں سے پاک اسلامی کلچر کو ’فائن آرٹ‘ نام کی شے سے دُور کی بھی نسبت نہیں۔ اس مخصوص پس منظر میں آپ لفظ ’حسن‘ کو عیاشی کے معنوں میں لیتے ہیں‘ جسے محلات میں عیاشانہ زندگی بسر کرنے والے رؤسا نے اپنایا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جو افراد دنیا میں اسلامی نظام کو غالب کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں‘ وہ معروف معنوں میں فتونِ لطیفہ کا ادراک نہیں کر پاتے۔
مولانا مودودی نے کھلے دل سے مساجد میں لائوڈ سپیکر کے استعمال کی تائید کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس اسلامی ماحول کے آپ متمنی ہیں‘ آپ ۱۹۳۸ء میں کہتے ہیں: ’’یہ ایجاد ان ارضی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے‘ جس کا اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے۔ یہ آلہ قدرتی آواز کو بلند کر دیتا ہے۔ چنانچہ شریعت کے اصولوں کے مطابق اس آلہ کا استعمال بلاشک و شبہہ جائز ہے — کسی نوایجاد چیزکے استعمال کو مکروہ یا ناجائز ٹھیرانے کے لیے محض یہ کافی نہیں ہے کہ وہ عہدِرسالت میں‘ یا عہدصحابہ میں‘ یا عہدائمہ میں موجود نہ تھی… میرا مقصد یہ ہے کہ ساینٹی فک ایجادات اور تمدن جدید کے آلات و وسائل کے متعلق مسلمان اپنا رویہ بدلیں۔ یہ آلات بجائے خود ناپاک نہیں ہیں۔ اصل میں وہ طریق استعمال ناپاک ہے جو مغرب کی باغیانہ تہذیب نے اختیار کر رکھا ہے۔ خداوندعالم نے جن چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے‘ وہ بالیقین پاک اور مطہر ہیں۔ اور ان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ ان سے خدائی قانون کے مطابق کام لیا جائے۔ مگر ان پر دہرا ظلم ہو رہا ہے‘ کہ جن کے پاس خدائی قانون موجود ہے‘ وہ ان سے کام نہیں لیتے اور جو ان سے کام لے رہے ہیں وہ شیطانی قانون کے متبع ہیں۔ (تفہیمات‘ دوم)
چنانچہ مولانا زندگی بھر سائنس اور ٹکنالوجی کی کامیابیوں میں گہری دل چسپی لیتے رہے۔ ۲۰جولائی ۱۹۶۹ء کو جب چاند پر پہلا انسان اترا تو مولانا مودودی نے کہا: ’’چاندپر آدمی کا اترنا بہرحال سائنس کی ترقی کا کمال ہے۔ اس کمال کا اعتراف نہ کرنا ایک علمی اور اخلاقی بخل ہے‘‘۔ (ہفت روزہ ایشیا‘ لاہور‘ جولائی ۲۵‘ ۱۹۶۹ء‘ ص ۳)۔
مولانا مودودی کو پختہ یقین تھا کہ سائنس اور ٹکنالوجی اپنے اندر ایسی ایجادات کی حامل ہیں کہ خیر و شر میں سے جو چاہے‘ انھیں اپنے استعمال میں لے آئے کہ وہ دونوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ میکانکی ایجادات رفتہ رفتہ مجسم شر (inherently evil) میں ڈھلتی نظر آتی ہیں کہ جن میں نہ صرف ایک مسلم معاشرے‘ کلچر اور تہذیب کو ضرر پہنچے گا‘ بلکہ کسی احساس ذمہ داری اور جواب دہی کے احساس سے عاری یہ عمل پوری نوع انسانی کے مستقبل کو سخت نقصان پہنچاتا نظر آرہا ہے۔ کیمیکل کا بے تحاشا استعمال‘ ہلاکت خیز فضلات سے اور زمینی‘ فضائی اور آبی حیات کی تباہی‘ اوزون کا شکست و ریخت سے دوچار ہونا اور دوسری بے شمار ہلاکت خیزیاں اسی بے خدا سائنس اور خالص مادہ پرستانہ ترقی کے چند مظاہر ہیں۔ بہرحال مولانا مودودی کے ہاں سائنسی ایجادات کو دیکھنے کا ایک منفرد انداز ہے۔ وہ دسمبر ۱۹۳۷ء میں لکھتے ہیں:
’’ریڈیو بجائے خود ناپاک نہیں ہے۔ ناپاک وہ تہذیب ہے جو ریڈیو کے ڈائرکٹر کو داروغۂ اربابِ نشاط یا ناشر کذب و افترا بناتی ہے۔ ہوائی جہاز ناپاک نہیں ہے‘ ناپاک وہ تہذیب ہے جو ہوا کے فرشتے سے خدائی قانون کے بجاے شیطانی اغوا کے تحت خدمت لیتی ہے۔ سینما ناپاک نہیں ہے‘ ناپاک دراصل وہ تہذیب ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی اس طاقت سے فحش اور بے حیائی کی اشاعت کا کام لیتی ہے۔ آج کل کی ناپاک تہذیب کو فروغ اسی لیے ہو رہا ہے کہ اس کو فروغ دینے کے لیے خدا کی بخشی ہوئی تمام اِن طاقتوں سے کام لیا جا رہا ہے جو اس وقت تک انسان پر منکشف ہوئی ہیں۔ اگر ہم اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں جو الٰہی تہذیب کو فروغ دینے کے لیے ہم پر عائد ہوتا ہے تو ہمیں بھی انھی طاقتوں سے کام لینا چاہیے… اس تصریح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تحریک جسے میں پیش کر رہا ہوں‘ نہ توکوئی ارتجاعی (reactionary) تحریک ہے اور نہ اس قسم کی ارتقائی [evolutionary] تحریک ہے جس کے پیشِ نظر صرف مادی ارتقا ہو۔ میرے پیشِ نظر جو تربیت گاہ ہے ‘اس کے لیے گروکل کانگڑی‘ ستیہ گرہ آشرم‘ شانتی نکیتن اور دیال باغ میں کوئی نمونہ نہیں ہے‘ اور اسی طرح جس انقلابی پارٹی کا تصور میرے ذہن میں ہے اس کے لیے اٹلی کی فاشست اور جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ پارٹی میں بھی کوئی نمونہ نہیں ہے۔ اس کے لیے اگر کوئی نمونہ ہے تو وہ صرف مدینۃ الرسول اور اس حزب اللہ میں ہے جسے نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتب کیا تھا‘‘۔ (تنقیحات‘ ص۳۱۵- ۳۱۷)
چودہ صدی قبل پیغمبر اسلام ؐ نے مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ تعمیر فرمایا تھا‘ اس کے بارے میںمولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں:
’’مدینہ طیبہ سے مماثلت پیداکرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر ہے اس سے رجعت کرکے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسے تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بالکل متحجّر(fossilised) صورت میںقیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں‘ اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں‘ جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔ اتباع کا یہ تصور درحقیقت روحِ اسلام کے بالکل منافی ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثارِ قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو تمدن کا ایک تاریخی ڈراما بنائے رکھیں۔ وہ ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتا۔ اس کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کو روکنے کی کوشش کرتی رہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس وہ ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے‘ جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستہ پر چلانے کی کوشش کرے۔ وہ ہم کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے‘ اور چاہتا ہے کہ زماں و مکاں کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں یہی روح بھرتے چلے جائیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں ہمارا مشن یہی ہے‘ ہم کو ’’خیر اُمت‘‘ جو بنایا گیا ہے تو اس لیے نہیں کہ ہم ارتقا کے راستے میں آگے بڑھنے والوں کے پیچھے عقب لشکر (rear guard)کی حیثیت سے لگے رہیں‘ بلکہ ہمارا کام امامت ورہنمائی ہے۔ ہم مقدمۃ الجیش بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور ہمارے خیر اُمت ہونے کا راز اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ میں پوشیدہ ہے۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کا اصلی اسوہ جس کی پیروی ہمیں کرنی چاہیے‘ یہ ہے کہ انھوں نے قوانین طبیعی کو قوانین شرعی کے تحت استعمال کر کے زمین میں خدا کی خلافت کا پورا پورا حق ادا کر دیا۔ ان کے عہد میں جو تمدن تھا انھوں نے اس کے قالب میں اسلامی تہذیب کی روح پھونکی۔ اس وقت جتنی طبیعی قوتوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو چکی تھی۔ ان سب کو انھوں نے اس تہذیب کا خادم بنایا اور غلبہ و ترقی کے جس قدر وسائل تمدن نے فراہم کیے تھے ان سے کام لینے میں وہ کفار و مشرکین سے سبقت لے گئے… پس نبیؐ و اصحابِ نبیؐ کا صحیح اتباع یہ ہے کہ تمدن کے ارتقا اور قوانین طبیعی کے اکتشافات سے اب جو وسائل پیدا ہوئے ہیں‘ ان کو ہم اسی طرح تہذیب اسلامی کا خادم بنانے کی کوشش کریں جس طرح صدر اوّل میں کی گئی تھی‘‘۔ (تنقیحات‘ ص ۳۱۳-۳۱۵)۔
اس پس منظر میں‘ میں کہوں گی کہ مولانا مودودی ارتقایت (evolutionism) اور ترقی پسندی (progressivism) کے حق میں بڑے پرجوش تھے اور روایت پسندانہ ماضی کے سخت ناقد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سمیت عام لوگ گم گشتہ روایات میں رہنے کے عادی ہوگئے ہیں‘ جب کہ جدید مغرب (Modern West) اپنی ہلاکت خیزیوں اور سہولت آفرینیوں کے ساتھ‘ ایک طرف جبر اور دوسری جانب جمہوریت سمیت مستقبل کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔ تاہم مولانا مودودی کا ایمان ہے کہ آج بھی اگر مسلمان اللہ تعالیٰ اور سنت رسولؐ اللہ کی طرف لوٹ آئیں‘ تو نہ صرف ان کے لیے بلکہ خود نوعِ انسانی کے لیے خیروبرکت اور امن و سکون کا سامان ہوسکتا ہے۔
چنانچہ مولانا مودودی نہ صرف سائنس کی تازہ کامیابیوں کو قبول کرتے ہیں‘ بلکہ تمام صنعتی کمالات اور ٹیکنیکل آرڈر کو امرِربی کے تابع بناکر زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جن کے ہاں کوئی تبدیلی ممکن نہیں لیکن ہم کو اپنی نظریں کھلی رکھنی چاہییں اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں‘ ہم کو اس کے نتائج کے بارے میں پورا شعور و ادراک ہونا چاہیے۔

بہترین رہنما

اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کو اپنا رہبر مانتا ہے اور اْن کی پیروی کرتا ہے تو میں کہوں گا کہ وہ بیچارہ اندھا ہے، اُس کو نظر نہیں آرہا کہ روشنی کدھر ہے۔ایک طرف اُس کے سامنے رہنمائی کے لیے بہترین رہنما موجود ہے اور دوسری طرف وہ اْن لوگوں کے پیچھے چل رہا ہے کہ جن کے متعلق وہ خود بھی جانتا ہے کہ ان کی زندگی ہزار عیبوں سے پُر ہے۔ بالفرض اگر کسی شخص کی زندگی کا کوئی ایک پہلو اعلیٰ درجے کا ہو بھی تو دوسرے پہلوؤں میں وہ انتہائی ناقص ہے اور اس قابل نہیں ہے کہ رہنمائی کے لیے اُسے دیکھا جائے۔
سید مودودیؒ

حصہ