آخری وقت

182

سیدہ عنبرین عالم
جامع مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، اظہر صاحب اپنے دونوں بیٹوں عدنان اور نعمان کو لے کر جلد ہی پہنچ جاتے تھے تاکہ اگلی صفوں میں جگہ ملے۔ ماشاء اللہ جوتوں کی اپنی فیکٹری تھی اور انہوں نے جمعہ کی ہی چھٹی فیکٹری میں رکھی تھی۔ نماز کا اہتمام بھی باقاعدہ فیکٹری میں ہوتا، جو ملازم نماز نہ پڑھتا اسے نوکری سے نکال دیتے۔ ہر سال قرعہ اندازی کے ذریعے 5 ملازمین کو رمضان میں عمرے پر بھیجتے۔ لین دین میں بھی انتہائی ایماندار تھے، اس لیے کاروبار پھل پھول رہا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سعادت مند اولاد سے نوازا تھا، دن بھر بس یہی کہتے رہتے کہ اللہ نے مجھے اتنا نوازا ہے کہ سجدے سے سر نہ اٹھے۔ اور واقعی ان کا دل ہمہ وقت سجدے میں ہی رہتا۔
خطبہ شروع ہوچکا تھا۔ ’’میرے بھائیو! ایک وقت تھا کہ لوگ یقین نہیں کرتے تھے کہ بھلا قیامت کے دن اعمال کی فلم کیسے دکھائی جائے گی! آج ہر ایک اپنے فون سے وڈیوز بنا رہا ہے، کچھ پتا نہیں ہوتا کہ کب کون ہماری خفیہ وڈیو بناکر سارے جہاں میں رسوا کردے۔ ہمیں اب بھی ہوش نہیں ہے۔ اور بھلا قیامت کی کیا نشانی ہوگی! اور بھلا کیسے قرآن کی حقانیت ثابت ہوگی! آج سائنس کائنات کے ہر عجوبے کو اتفاقی قرار دیتی ہے، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک دن سائنس ہی ثابت کرے گی کہ آسمان میں دروازے ہیں اور ان دروازوں میں چڑھا جا سکتا ہے، ایک دن سائنس ہی ثابت کرے گی کہ میرے رب کا عرش ہے اور سب سے اوپر کے آسمان پر ہے، فرشتے ہیں اور میرے رب کے تابعدار ہیں۔ قرآن میں یہ سب لکھا ہے تو ہمارے لبرل طبقے کو یہ سب خیالی باتیں محسوس ہوتی ہیں، یہ تو اُسی وقت مانیں گے جب انگریزوں کی سائنس یہی بات کہے۔ مگر افسوس پھر وقت نہیں رہے گا۔ جب خدائے ذوالجلال عرش سمیت اتر آیا تو پھر ماننا بھی کیسا ماننا ہے! پھر آپ مان لیں گے، لیکن میرا رب نہیں مانے گا۔‘‘ امام صاحب نے فرمایا۔
نماز کے بعد اظہر صاحب اور بچے گھر آگئے۔ بیگم نے بریانی تیار کر رکھی تھی جو کہ ہر جمعہ کا اسپیشل کھانا تھا۔ کبھی کوئی، کبھی کوئی، طرح طرح کی بریانیاں… مگر جمعہ کو بریانی اور میٹھا ضرور بنتا، کیوں کہ اظہر صاحب کہتے تھے کہ جمعہ مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے۔ اور جمعہ کو ہی بچوں کے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ صدقہ خیرات بھی نکلواتے تاکہ بچوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت پڑے۔ جمعہ کو ہی شام میں قرآن کی محفل رکھی جاتی جس میں صرف اظہر صاحب اور ان کے بچے ہوتے۔ ہفتے بھر بچوں نے جو قرآن پڑھا ہوتا، اس میں سے نہ سمجھ آنے والی باتیں بچے پوچھتے، پھر اظہر صاحب متعلقہ آیات کے بارے میں سوالات کرتے تاکہ بچوں کی سمجھ میں بھی اچھی طرح اللہ کی کتاب کے احکام آجائیں اور یاد بھی رہیں۔
عدنان: بابا! آج تو صرف جمعہ کے خطبے کے بارے میں بات کریں گے، بہت ہی عجیب باتیں کیں امام صاحب نے۔
اظہر صاحب: کیا آپ اس بات سے حیران ہیں کہ آسمان میں واقعی دروازے ہیں؟ بیٹا! یہ بات تو قرآن میں 14 صدی پہلے لکھ دی گئی تھی۔ سورۃ الحجر آیت 14-13 میں لکھا ہوا ہے کہ ’’وہ اس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے، پہلے گزرے ہوئے منکروں کا بھی یہی طریقہ تھا، اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازے کھول دیں، تو یہ مسلسل اس میں چڑھتے رہیں گے۔ (پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے)۔‘‘ اگر اب خلائی اڈے بن چکے ہیں، خلائی جہاز اوپر جاتے ہیں اور مسلسل جاتے ہیں، تو یہ بات تو طے تھی، اور یہ بھی طے ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
نعمان: بابا! ابھی کچھ عرصے پہلے ایک سائنس جرنل میرے زیر مطالعہ تھا، اس میں درج تھا کہ روس کا زمین سے خلا کو جانے والا اسٹیشن قازقستان کے علاقے میں ہے، روس قازقستان کو اپنے خلائی پروگرام کا کرایہ بھی دیتا ہے، اور ظاہر ہے قازقستان آنے جانے میں بھی خاصی رقم خرچ ہوتی ہے، لیکن وہ روس کے اندر ایسا خلائی اسٹیشن نہیں بنا سکتا، کیوں کہ روس کے اوپر کوئی آسمانی دروازہ نہیں ہے، یہ دروازہ قازقستان کے آسمان پر ہے۔
عدنان: ہاں بابا! میں نے بھی پڑھا ہے، براعظم یورپ کے اوپر بھی آسمانی دروازہ نہیں ہے، لہٰذا یورپین اسپیس ایجنسی کے تمام خلائی پروگرام ارجنٹائن میں انجام پاتے ہیں۔ امریکہ کے اوپر بھی آسمان کا دروازہ نہیں، وہ اپنے تمام خلائی پروگرام بحر اوقیانوس کے ایک جزیرے میریٹ پر کرتا ہے۔ واقعی آسمان میں دروازے ہیں۔
بابا: ماشا اللہ بچو! آپ لوگ تو پڑھنے والے بچے ہو، ہم تو بس اخبار پڑھ لیتے ہیں، لیکن آپ لوگ غور کرو کہ میرے رب کی بات کیسے سچ ہوئی ہے۔ یہ بڑے بڑے سائنسی ملک اپنی آنکھوں سے قرآن کی ہر بات سچ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ آسمان میں دروازے ہیں، یہ جب خلا میں جاتے ہیں تو شہابیوں کی بارش دیکھتے ہیں، جیسا کہ میرے رب کے قرآن میں درج ہے کہ شیطانوں کو مار بھگانے کا ہتھیار یہ شہابیے ہیں، یہ سب دیکھ کر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ میرے رب نے کہہ دیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔
عدنان: مگر بابا! جب یہ انوکھے راز ہماری کتاب قرآن میں لکھے ہوئے تھے، تو ہم انہیں کیوں نہ کھوج پائے؟ ہم کیوں سوتے رہ جاتے ہیں؟ جب انگریز سب پلیٹ میں رکھ کر پیش کردیتے ہیں تو ہم کہتے ہیں یہ تو قرآن میں لکھا تھا۔ ہماری جاہلیت اور کسل مندی، اسلام پر الزام ہے۔ کوئی بھی ہماری وجہ سے اسلام کو لائقِ توجہ نہیں سمجھتا، سب یہی سوچتے ہیں کہ کیسا دین ہوگا جس کے ماننے والے ایسے ہیں! اس لیے اسلام سے گریز کرتے ہیں۔
بابا: بیٹا! کیا آپ لوگ چنگیز خان کے بارے میں جانتے ہو؟ وہ چھ سال کا تھا جب اُس کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ وہ انتہائی ذہین اور بہادر تھا۔ اِن لوگوں کو قبیلہ بدر کردیا گیا تھا۔ اس قبائلی دور میں بغیر قبیلے کے رہنا ناممکن تھا۔ یہ لوگ سخت پریشان تھے، ان کا مقصد اپنی حفاظت کے لیے ایک قبیلے کی تخلیق تھا۔ اس کوشش میں اکیلا چنگیز خان پوری منگولین ایمپائر بنا بیٹھا۔ وہ ایسا اعلیٰ معیشت دان تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی فوج تیار کرنے کے بعد بھی اس کی مملکت کے ذرائع آمدن اس قدر وسیع تھے کہ ہر شخص انتہائی خوش حال تھا۔ تاریخ کے بڑے فاتحین کا جب بھی ذکر ہوگا، چنگیز خان کو فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ اُس کی نسلوں نے دنیا پر انتہائی مستحکم حکومت کی۔
نعمان: بابا! بات کیا ہورہی تھی، اور آپ کس کا ذکر لے کر بیٹھ گئے۔ چنگیز خان کا کیا تذکرہ یہاں؟
بابا (مسکراتے ہوئے): بچو! اس چنگیز خان کی Dynasty کا جانتے ہو، کس نے شکست دی؟ اسلام نے۔ بیٹا اسلام نے ان کے دلوں کو مسخر کرلیا۔ چنگیز Dynasty کے زیادہ تر لوگ اسلام کی برکات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے۔ یہ ہے اسلام کی طاقت، جس نے اتنے بڑے بادشاہ کو زیر کرلیا۔ اسلام میں وہ سب کچھ ہے جو کائنات کو فتح کرنے کے لیے چاہیے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اسلام سے کس قدر مخلص ہیں۔ مسئلہ ہماری جاہلیت اور کسل مندی نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اذان بلند کرنے والے اور جگانے والے کہاں چلے گئے۔
نعمان: درست بابا! قرآن میں بھی ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ جب کتاب کو اترے ہوئے زیادہ عرصہ گزر جاتا ہے تو دل سخت ہوجاتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی یہی ہوا، مسلمان بھی اس قدر عداوت کا شکار ہوچکے ہیں کہ ایک دوسرے کی بات تک سننے کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی اسرار احمد، مولانا مودودی یا ذاکر نائیک نمودار بھی ہوتا ہے، اذان دے کر مسلمانوں کو جگانا چاہتا ہے تو وہ بھی مخالفتوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ غیر مسلموں کا تو کیا ذکر، جس مؤذن کو مسلمان ہی لعن طعن کا شکار بنائیں، غیر مسلم کیسے قبول کریں!
بابا: بیٹا! یہ مسئلہ ایسے حل ہوگا کہ مسلمانوںکا ایک امام ہو، جس کا حکم تمام مسلمانوں کے لیے یکساں محترم ہو۔ یوں جب تمام امتِ محمدیہ متحد ہوجائے گی تو کتنا ہی طاقت ور دشمن ہو، وہ ہمیں ایک حد سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
عدنان: اگر ہم اپنے دین کے احکامات کے پابند ہوجائیں تو دشمن سے کسی جنگ کی نوبت ہی نہ آئے، وہ ہمارے کردار اور افکار سے ہی ہمارے مطیع ہوجائیں گے، جیسے کہ چنگیز خاندان کے باب میں ہم دیکھتے ہیں۔
بابا: کیا بات کرتے ہو بیٹا! ہماری امت میں تو یہ حال ہے کہ ہم اپنے ہی کسی بچے کو اگر باصلاحیت اور ذہین پاتے ہیں تو اُس کی جڑیں کاٹنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں یہ ہم سے آگے نہ نکل جائے، ہماری چھٹی نہ ہوجائے۔ اس لیے قابل لوگ آگے آ ہی نہیں پاتے، اور اقربا پروری، رشوت خوری اور غنڈہ گردی نظام پر حاوی ہے۔
نعمان: بابا! آپ کا کیا خیال ہے، امت کیسے ایک ہی امام پر متحد ہوسکتی ہے؟
بابا: بیٹا! سیدھی بات یہ ہے کہ واحد منصوبہ ساز میرا رب ہے، جب وہ چاہے گا تو ایسا بہت آرام سے ہوجائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان اس ضمن میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ اگر ہر مسلمان صرف قرآن کو تھامے اور بدعات کو چھوڑ دے تو رفتہ رفتہ ہم سب ایک دین پر آجائیں گے اور فرقے خودبخود ختم ہوجائیں گے، یا یوں ہو کہ ایک ایسا باشعور لیڈر مسلمانوں میں اٹھے کہ جس کی بات ہر دل کو چھو جائے اور لوگ فرقے چھوڑ کر اس لیڈر کے ہمنوا ہوتے جائیں۔
عدنان: جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوا۔ آپؐ کی بات ہر فرقے، ہر قبیلے اور ہر قوم کے فرد پر اثر کرتی گئی، اور یہ تمام قومیں اور قبیلے واحد امت مسلمہ میں ضم ہوگئے۔ لیکن بابا یہ تو اُسی وقت ہوسکتا ہے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی نصرت ساتھ ہو۔
بابا: یہ بھی ہم والدین کی غلطی ہے، ہم قیامت کے کنارے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے بچوں کو قیامت کی تیاری ہی نہیں کراتے۔ یہی فرق ہے ہم میں اور یہودیوں میں۔ وہ دجال کی آمد کے بارے میں اس قدر سنجیدہ ہیں کہ مسلسل دجال کی فتح کے لیے راستے استوار کررہے ہیں، ان کا ایک ایک بچہ قیامت سے پہلے ہونے والی جنگ کی تیاری میں مصروف ہے، جبکہ ہمارے ہاں نہ صرف منبر و محراب اس معاملے میں خاموش ہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی قیامت کے بارے میں موجود احادیث کا مطالعہ سراسر وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہ۔، یہی احادیث ہیں جن سے یہود و نصاریٰ رہنمائی لے رہے ہیں۔
نعمان: اِس وقت آپ ان احادیث کی کس ہدایت پر متوجہ کرنا چاہ رہے ہیں؟
بابا: میرے بچے! قیامت سے پہلے حضرت مہدی موعودؑ یا حضرت عیسیٰؑ کی آمد سراسر حق ہے، اور یہ قطعاً عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ میرے نبیؐ کی سچی پیشن گوئی ہے، جس کا وقوع میں آنا لازم ہے۔ ہاں جو بات پریشان کن ہے، وہ یہ کہ اس پُرفریب دور میں اصل مہدیؑ کی پہچان کیسے ہو؟ کئی شیطان اپنے دام بچھائے ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ فی الوقت مہدیؑ ہی امت کی واحد امید ہیں، جو امت کو راہِ راست پر بھی چلائیں گے اور متحد بھی کریں گے۔ ان کی فتوحات جاری ہوں گی کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول ہوگا۔ حضرت عیسیٰؑ کی نشاندہی تو حضرت مہدیؑ کردیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ حضرت مہدیؑ کو کیسے پہچانا جائے؟
عدنان: حضرت مہدیؑ کا نزول تو بہت نزدیک ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ کیوں کہ یہودی تھرڈ ٹیمپل کی بنیاد رکھ چکے ہیں جو اس بات کا مظہر ہے کہ دجال کی آمد بہت قریب آچکی۔ احادیث کے اعتبار سے اللہ عزوجل امت کو دجال کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لیے نہیں چھوڑ دے گا، بلکہ دجال کی لائی ہوئی آفات و ضلالت کے سدباب کے لیے فوری طور پر حضرت مہدیؑ کا نزول عمل میں لایا جائے گا۔ سوال پھر وہی کہ اصلی حضرت مہدیؑ کی پہچان کیسے ہو؟
بابا: بیٹا! اللہ کے رسولؐ اس سلسلے میں بھی ہماری رہنمائی فرما گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ حضرت مہدیؑ خود اپنے آپ کو مہدیؑ نہیں کہیںگے بلکہ اہلِ ایمان اُن کی اللہ عزوجل سے محبت اور دین کے لیے خدمات سے اُن کو پہچان جائیں گے۔ اللہ کے رسولؐ نے ان کا حلیہ بھی بیان کیا، مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کئی جعل ساز ویسا ہی حلیہ اپنا کر امت کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جس شخص پر مہدی ہونے کا شبہ ہے وہ قرآن و حدیث پر خود کس حد تک عمل پیرا ہے؟ اس کا اخلاص کس جانب ہے؟ کیا وہ شخص صرف لفاظی میں ہی ماہر ہے یا عمل کا بھی دھنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ بیٹا! یہ آخری وقت بہت خطرناک ہے، اس وقت میں جس کا ایمان محفوظ رہ گیا بس وہی کامیاب ہوا۔ چوکس رہو، آنکھیں کھلی رکھو، شیطان کسی بھی طرح اپنے نرغے میں لے سکتا ہے۔ کبھی یہ نہ سوچنا کہ تم ہی راہِ راست پر ہو، باقی سب گمراہ ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و مددگار ہو۔

حصہ