عورت مصنوعی مرد نہیں بننا چاہتی

131

ماہِ مارچ کی آمد کے ساتھ ہی خواتین کا دن منانے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ مذاکرے، سیمینار اور گفتگو کے پروگرام، جن میں کامیاب خواتین سے بات چیت کی جاتی ہے، ان کا تذکرہ ہوتا ہے، خواتین کے حقوق کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے، خواتین کے میدانوں میں کامیابیوں کا ذکر ہوتا ہے، ساتھ ہی یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ اب کون کون سے شعبے خواتین کی دسترس میں ہیں اور کون سے ابھی باقی ہیں۔ یہ بحث بہت اہم ہے، کیوں کہ آج کے دور کا اہم ترین تمدنی مسئلہ یہ ہے کہ عورت کا دائرۂ کار کیا ہے؟ کہاں تک وسیع ہے؟ معاشرے میں خواتین کی نسوانیت سے متعلق خصوصیات کی قدر کم ہے؟ اور یہ کیوں کم ہے؟ اور کیا یہ عدم توازن ترقی کے راستے کی رکاوٹ ہے؟
ان سوالات کے جوابات کے لیے قدیم اور جدید معاشروں نے بڑی افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ قدیم معاشروں میں عورت کی حیثیت انتہائی کمزور تھی۔ اسے شیطان کا ایجنٹ اور مصیبت کا دروازہ کہا جاتا تھا۔ اب جدید یورپی معاشروں نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوسری انتہا کا انتخاب کیا کہ عورت کو قانونی لحاظ سے مرد کے مساوی قرار دے کر گھر کے باہر کی ذمہ داری بھی اس کے سر پر ڈال دی۔ اس سوچ کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آبادی کا نصف حصہ آخر اپنے گھروں میں بے کار کیوں پڑا رہے! وہ زندگی کی گاڑی میں مرد کا برابر کا ساتھ کیوں نہ دے، جب کہ دونوں کی مشترکہ کوششوں سے ترقی کی جو منازل دس سال میں طے ہوسکتی ہیں، عورت کی مدد کے بغیر انہیں طے کرنے میں دگنا وقت لگ جائے گا۔ بظاہر یہ دلیل بڑی معقول محسوس ہوتی ہے، لیکن ذرا سے غور و فکر سے اس کا بودا پن سامنے آجاتا ہے۔ یہ سوچ اس نظریے پر قائم ہے کہ عورت کا گھر میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینا معاشرے کی تعمیر اور خدمت نہیں ہے۔ حالانکہ آخر معاشرہ کس سے تعمیر ہوتا ہے، اور کیا گھر اور خاندان معاشرے کی اکائی نہیں ہے؟
اجتماعی ترقی کے لیے معاشرے کی مختلف اکائیوں کا اپنے اپنے شعبے میں فرائض ادا کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر اپنے اپنے شعبے میں آزادی کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہیں، کوئی یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹر کو اپنی ڈاکٹری کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ تاجر یا انجینئر کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی چاہئیں، یا ان کا کچھ حصہ ہی اپنے ذمے لے لینا چاہیے۔ یقینا یہ مطالبہ انتہائی مضحکہ خیز اور نامعقول ہوگا۔
بالکل اسی طرح عورت کو اپنے اصل فرائض سے ہٹاکر دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مجبور کیا جائے تو یہ مطالبہ بھی انتہائی غیر معقول اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جانے والا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو جو صلاحیتیں قدرت کی طرف سے عطا کی گئی ہیں وہ نسلِ انسانی کی بقا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بالکل موزوں ہیں۔ اس کے سوا جتنے میدان ہیں یعنی بازار، دفاتر، پل، سڑکیں اور عمارتیں بنانا، پولیس اور فوج میں خدمات انجام دینا… عورت اختیار کرسکتی ہے، لیکن یہاں اسے ترقی کے کتنے ہی مواقع حاصل ہوں اور وہ ان میدانوں میں آگے بڑھنے کی کتنی ہی کوششیں کرلے، اس کی طبعی صلاحیتیں اس کا ساتھ دینے سے انکار کریں گی۔ خواتین یہ ذمہ داریاں اپنے سر لے کر اپنے ساتھ ہی ناانصافی نہیں کریں گی بلکہ معاشرے کے تمدنی توازن کے بگاڑ کا سبب بھی بنیں گی۔
مغرب نے عورت کے حقوق کی ادائیگی کا سوچا اور اس کی مظلومیت کا مداوا کرنے کا ارادہ کیا، کیونکہ وہاں عورت کو شیطان کا ایجنٹ اور مصیبتوں کا دروازہ کہا جاتا تھا، تو عورت کو آزادی اور مساوات کا نعرہ دیا۔ عورت کے سامنے گھر سے باہر کی زندگی کا ایسا حسین نقشہ پیش کیا کہ وہ ہر زنجیر کو توڑ کر باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہوگئی۔ اس نے ہر شعبۂ زندگی میں قسمت آزمائی کا ارادہ کیا۔ دفاتر، ہوٹل، پارک، سڑکوں اور گلیوں میں نکل کر اس نے ملازمتیں حاصل کیں تاکہ معاشی خودمختاری حاصل کرسکے۔
حقوقِ نسواں، مساوات اور آزادی کے خوب صورت اور پُرجوش نعروں کے ذریعے عورت کو گھر کی حفاظتی چھتری سے نکال لانا مغربی ساہوکار کا ایجنڈا تھا، تاکہ ایک طرف وہ سستے مزدور حاصل کرے اور دوسری طرف اس کی نسوانیت کو استعمال کرکے اپنے کاروبار اور مال کو بڑھایا جاسکے۔
اب عورت نوکری کرے، بچے پالے، گھر چلائے اور ساتھ ہی اپنے خلاف ہونے والے رویوں کو بھی بھگتے۔ یہ مغرب کا طریقہ کار تھا جس نے اُس کے خاندانی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ آزادی اور مساوات کے نام پر عورت باہر نکلی، مردانہ ذمہ داریاں سر پر اٹھائیں لیکن پھر بھی معاشرے میں باعزت اور محفوظ مقام حاصل نہ کرپائی۔
2016ء میں یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کی جانب سے رپورٹ شائع کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ عورتوں پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اعتبار سے برطانیہ یورپی یونین کا سب سے متاثرہ ملک ہے، جہاں پندرہ برس کے بعد تشدد اور زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کی تعداد 44 فیصد ہے، اور اس کے بعد ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ اور نیدرلینڈ کا نام آتا ہے۔
مغرب میں ساری آزادی، خودمختاری اور مساوات کے باوجود عورت کس قدر غیر محفوظ ہے، اس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2016ء میں شیفلیڈ یونیورسٹی برطانیہ کی طالبات نے جلوس نکالا جس میں وہ چیخ چیخ کر منادی کررہی تھیں کہ یہاں کی سڑکیں ہماری ہیں اور ہم عورتیں متحد ہوکر رات میں سڑکوں پر چلنے کا حق مانگ رہی ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ رات کو وہاں کی سڑکیں خواتین کے لیے غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔ عورت کی آزادی اور مساوات کے دعویدار مغرب نے اپنی عورت کو کس مقام پر پہنچایا ہے اس کا اندازہ اس مطالعاتی جائزے سے بھی ہوتا ہے جس کے مطابق یونانی معاشرے میں اقتصادی بحران کی یہ صورت حال ہے کہ نوجوان لڑکیاں بھوک سے مجبور ہوکر ایک سینڈوچ کی قیمت پر جسم فروشی کے لیے تیار ہیں۔ اس کاروبار میں نئی شامل ہونے والی لڑکیوں کی عمریں سترہ سے بیس سال ہیں۔ یعنی عورت کو گھر سے نکال کر اقتصادی مزدوری کرنے کی جزا میں اسے اس مقام پر پہنچا دیا گیا۔ پھر انہیں سیکس ورکر قرار دے کر ان کے حقوق ادا کرنے کی بات کی گئی، یعنی طوائف کے حقوق اس کی مرضی کا حق… یہ عورتوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ عشروں کی مشقت کے بعد آج یورپ کی عورت کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے، لیکن اب آزادی اور مساوات کے جن کو بوتل میں واپس لانا آسان نہیں۔
یومِ خواتین کی مناسبت سے پچھلے سال برطانوی رکن قانون ساز اسمبلی ’’فلوٹیلا بینجمن‘‘ نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مردوں نے خواتین کو محض نمائش کی شے سمجھ لیا ہے، اور ہمیں عورت کو شو پیس سمجھنے والوں کی سوچ بدلنا ہوگی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میرے پاس اس بات کا جواب موجود نہیں کہ ہم کس طرح عورت کو اُس کی کھوئی ہوئی عزت واپس دلا سکتے ہیں؟‘‘ اس کا جواب اسلام ہمیں دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی تہذیب عورت کو حقوق دیتی ہے، مگر عورت کی حیثیت سے نہیں۔ وہ عورت کو کوئی عزت اور حقوق نہیں دیتی جب تک وہ ایک مصنوعی مرد بن کر مردوں کی طرح ذمہ داریوں کا بار اٹھانے پر تیار نہ ہوجائے۔ مگر سرورِ عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین عورت کو ساری عزتیں اور حقوق عورت ہی کی حیثیت سے دیتا ہے، اور تمدن کی صرف وہ ذمہ داریاں اس پر ڈالتا ہے جو خود فطرت نے اس کے سپرد کی ہیں۔

حصہ