گھر

215

سیدہ عنبرین عالم
عمارہ ایک بار پھر اللہ سے ناراض ہو گئی تھی‘ آج ماموں کے بیٹے نے اسے پھر گھر سے دفع ہو جانے ک وکہا تھا‘ اس کے ابو نے اس کی امی کو اس وقت طلاق دے دی تھی جب وہ پیدا ہوئی تھی‘ قصور یہ تھا کہ بیٹی کیوں پیدا ہوئی‘ اس کے ماموں نے اس کے کان میں اذان دی اور دونوں ماں بیٹی کو اپنے گھر لے آئے۔ چھوٹا سا دو کمرے کا گھر تھا‘ ماموں‘ مامی کے چار بچے‘ نانی اور اب عمارہ اور اس کی امی۔ ماموں کابڑا ایک بیٹا تھا شاداب اور تین چھوٹی بیٹیاںتھیں راحمہ‘ عافیہ اور صدیقہ۔ مامی کچھ پریشان رہتی تھیں کہ چھوٹے سے گھر میں افراد مزید بڑھ گئے‘ مگر یہ اطمینان تھا کہ عمارہ کمی امی اپنا خود کماتی ہیں‘ ان پر ایک روپیہ بھی نہیں خرچ کرنا پڑتا تھا۔ جب عمارہ پانچ سال کی ہوئی تو اس نے دس سالہ شادابسے پہلی بار یہ جملہ سنا کہ ’’ہمارا گھر ہے ‘نکلو یہاںسے۔‘‘ وہ بڑی حیران ہوئی کہ جس گھر میں وہ پیدا ہونے سے اب تک رہ رہی ہے‘ وہ اس کا نہیں ہے۔ ماموں نے شاداب کو ڈانٹا اور آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے منع کیا۔ مگر شاداب نے یہ طریقہ ہی بنالیا۔ اکثر وہ عمارہ کی پٹائی بھی کر دیتا اور گھر کے طعنے الگ دیتا۔ بڑے باپ کی بڑی اولاد کا طعنہ تو وہ شاداب سمیت گھر کے ہر فرد سے سنتی ہی تھی‘ حالانکہ ماموں سب کو منع کرتے تھے۔
وقت گزرتا گیا‘ شاداب شیطان فطرت تو تھا ہی‘ مزید بگڑتا گیا۔ رات رات بھر گھر سے باہر رہنا‘ چوریاں کرنا‘ اسکول کے لیے نکلتا اور گلیوں میں گھوم پھر کر چھٹی کے وقت واپس آجاتا۔ ہر کلاس میں فیل‘ ہر وقت پیسے مانگنا‘ جانے کون سے خرچے تھے جو پورے ہی نہ ہوتے تھے حالانکہ وہ90 کی دہائی کی بات ہے جب موبائل فون وغیرہ تھچے اور نہ کوئی اور خرافات۔ گھر میں بھی ہر وقت لڑائی جھگڑا اس کا روز کا معموم تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ماموں بغیر گالی کے شادابسے بات نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ انتہائی نرم مزاج آدمی تھے۔ شاداب کی خوب پٹائی کرکے بھی دیکھ لی مگر لاحاصل‘ گھر کی سب لڑکیاں سرکاری اسکول جاتی تھیں‘ شاداب کو پرائیویٹ اسکول میں داخل کرایا مگر اسکول والے بھی پریشان‘ ٹیوشن ٹیچر لگایا تو وہ بھیی آکر گلی گلی شاداب کو ڈھونڈتا پھرتا کہ کسی طرح پکڑ کر پڑھنے بٹھا دوں۔ شاداب کی زبان اتنی گندی تھی کہ بات کرتے ہوئے ڈر لگتا۔
ماموں نے کچھ رقم جمع کی‘ کچھ قرض وغیرہ لیے اور گھر کے اوپر ایک اور منزل بنا لی یعنی اب چار کمرے ہو گئے‘ مگر شاداب اور مامی کا موڈ اب بھی خراب تھا‘ لہٰذا چھت پر ایک انتہائی چھوٹا سا کمرہ بنا کر عمارہ اور اس کی امی کو وہاں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں باورچی خانہ تک نہ تھا‘ نہ کھڑکیاں دروازے‘ بہرحال عمارہ کی امی نے سیڑھیوں پر چولہا لگا لیا اور کھڑکیوں دروازوں کی جگہ چلمن ڈال دلی۰ کچھ گزارا تو تا مگر سردیوں کی طوفانی ہوائوں میں ماں بیٹی ٹھٹھر کر رہ جاتیں۔ کمرے میں سے ہی صحن میں اور سیڑھیوں پر آنے جانے کا راستہ جیسے بھی تھا چھت مل گئی‘ اللہ کا شکر ادا کیا۔ شاداب اب بھی طرح طرح سے ستاتا اور گھر سے نکل جانے کو کہتا۔ امی عمارہ کو کہتیں کہ جواب نہ دیا کرو‘ ان کا گھر ہے۔
عمارہ کی نانی بھی عمارہ سے بہت نفرت کرتی تھیں‘ ان کا خیال تھچا کہ اس کے باپ نے ان کی بیٹی کی زندگی برباد کردی۔ طعنے دیتیں‘ کبھی مارتیں پھر ایک روز نانی سخت بیمار ہو گئیں‘ عمارہ کی امی نے نانی کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا‘ وہ مہینہ مہینہ بھر نانی کے ساتھ اسپتال میں رہتیں‘ عمارہ کبھی کھجور سے روٹی بنا کر کھا لیتی‘ کبھی اچار سے‘ اور کئی بار بھوکی ہی سو جاتی۔ اپنے کمرے میں اکیلی‘ آگے اتنا بڑا اندھیرا صحن‘ ایک چھپکلی بھی آجاتی تو وہ ساری رات جاگتی رہتی۔ امی سے شکوہ کرتی تو صرف ڈانٹ ہی پڑتی کہ تم کو اپنی نانی کا بالکل خیال نہیں ہے‘ امی عمارہ کو تو اٹھتے بیٹھتے طعنے دیتیں کہ تیرے باپ نے مجھے برباد کر دیا‘ مگر نانی کو انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ میری ایسی جگہ شادی کیوں کرائی۔ عمارہ کی ساری زندگی یہی سوچتے سوچتے گزر گئی کہ میرا کیا قصور ہے‘ سب مجھ سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟
13 سال نانی بیمار رہیں‘ اس دوران عمارہ کی امی نے عمارہ کو بری طرح نظر انداز کیا‘ وہ سوتی بھی نانی کے ساتھ تھیں۔ ان کی خدمت کرتیں یا نوکری پر چلی جاتیں۔ ہاں پیسے روپے سے کوئی کمی انہوںنے کبھی عمارہ کو نہ ہونے دی۔ عمارہ کو اب اکیلے رہنے کی عادت ہو گئی تھی‘ وہ شور سے گھبراتی تھی‘ کسی سے بات نہیں کرتی تھی‘ کسی دعوت میں نہیں جانتی تھی‘ اب اس کی زندگی کے دو ہی مقصد تھے ہر کلاس میں اوّل آنا اور ہر وقت اللہ کی زیادہ سے زیادہ عبادت۔
شاداب سے ماموں کی چپقلش اس قدر بڑھ چکی تھی کہ ماموں دن رات شاداب کو مرنے کی بددعائیں دیتے کہ یہ مرے تو گھر میں امن ہو‘ شاداب کسی لحاظ بغیر ماموںکو ہر وقت دھمکیاں دیتا اور رقم طلب کرتا۔ ماموں بوڑھے ہو گئے تھے‘ شاداب کا مقابلہ کرنا ان کے لیے ناممکن ہوتا جارہاتھا۔ نانی کا انتقال ہو چکا تھا‘ اور ایک روز ماموں بھی داغ مفارقت دے گئے۔ اب عمارہ کو اندزہ ہوا کہ اب تک کی تو زندگی جنت تھی‘ اصل مراحل تو اب شروع ہوئے ہیں۔ شاداب جو باپ کو اسپتال لے جانے اور ایمبولینس منگانے تک تیار نہ تھا‘ وہ اب دن رات اونچی آواز میں کہتا کہ میرے باپ کا گھر ہے نکلو یہاں سے‘ جو باپ کی لاش اسپتال سے لانے کے بجائے کہتا رہا کہ مجھے نیند آرہی ہے‘ میں تو سوتا رہوں گا‘ وہ باپ کی ہر چیز پر حق جما رہا تھا۔ زندگی اور شمل ہو گئی تھی۔
شاداب نے صحن میں پولٹری فارم کھولنے کا ارادہ کرلیا‘ یعنی ایک تنہائی جو عمارہ کی ساتھی تھی وہ بھی اس سے چھن رہی تھی۔ ماموں کی وفات کے بعد شاداب نے پہلا کام ییہ کیا کہ شادی کرلی‘ اللہ نے اچھا روزگار بھیدے دیا‘ سب اس کے حکم پر چلتے تھے۔ ادھر برسوں کی کلفتوں نے عمارہ کو توڑ کر رکھ دیا تھا‘ وہ شدید بیمار ہوگئی‘ ہفتے پانچ ڈائلسز کرانے پڑتے‘ ہر مہینے آنکھوںکے آپریشن ہوتے‘ صبح شام انسولین کے انجکشن اور درجنوں دوائیں روزانہ‘ دودھ والی ہر شے منع‘ شکر منع‘ بلڈ پریشر کی وجہ سے نمک منع‘ پتّا نکال دیا تو سب طرح کی چکنائی منع‘ سارے پھل منع اور سب سے بڑھ کر پانی منع ہوگیا۔ 48 گھنٹوں میں صرف دو لیٹر پانی کی اجازت تھی جس میں چائے‘ سالن کا شوربہ اور ہر مائع چیز شامل تھی۔ عمارہ کی امی بہت بوڑھی ہو چکی تھیں‘ وہ بس اس وقت تک صحت مند تھیں جب تک نانی زندہ تھی‘ اس کے بعد وہ بالکل بیٹھ گئیں۔ ریٹائر بھی ہوگئیں‘ اب گھر کے سارے کام اور ذمہ داری عمارہ اس بیماری میں بھی انجام دیتی‘ وہ تمام دنیا کا اکیلے مقابلہ کر رہی تھی۔ پیسوں کی شدید ضرورت تھی اور شاداب نے تنگ کر رکھا تھا‘ اب کرائے کا گھر کیسے لیتے۔
شاداب نے بڑے بڑے مرغے لا کر صحن میں رکھ دیے جو رات کے دو بجے سے دماغ پھاڑ دینے والی بانگیں دینا شروع کر دیتے۔ عمارہ جو ڈپریشن کی چھ گولیاں کھا کر سوتی تھی‘ حواس باختہ ہو کر اٹھ بیٹھتی‘ مرغے ایک لمحے کو چپ نہ ہوتے‘ پوری رات آنکھوں میں کٹ جاتی۔ آخر عمارہ کی امی نے شاداب سے بات کی کہ مرغیاں رکھ لو‘ ہم بدبو گندگی برداشت کر لیں گے‘ مگریہ رات بھر کا شور تو مار ڈالے گا‘ مرغے ہٹا دو‘ شاداب کی وہی گردان کہ میرے باپ کا گھر ہے‘ شاداب کی بہنیں بھی ایک ہی گھر میں رہتی تھیں‘ مگر کبھی گھر کا طعنہ منہ دیا‘ شاداب ساری زندگی ذلیل کرتا رہا اور اب کہتا تھا کہ عمارہ مجھ سے چڑتی کیوں ہے؟ شاداب نے عمارہ کی امی کی اتنی بے عزتی کی کہ عمارہ نے شادابکو بد دعا دے دی‘ جو کچھ نہیں کرسکتا وہ بد دعا ہی دیتا ہے‘ بس جناب ایسا فساد کہ اللہ کی پناہ‘ احسان جتایا کہ میں تو مار سکتا ہوں‘ مارتا نہیںہوں۔
اب عمارہ کسی اور سے تو کیا کہتی‘ اس کے تو سب راز و نیاز اپنے رب سے ہی تھے۔ سو وہ اپنے مالک سے ناراض ہو گئی۔ ’’یا پروردگار! یہ کیا اصول ہے کہ نمرودوںاور فرعونوں کے لیے سلطنت‘ طاقت‘ دولت‘ صحت سب کچھ عطا اور جو تجھ سے عشق کرتے ہیں وہ تنہا ظلم کا شکار‘ بے بس‘ بیمار‘ یہ کیا انصاف ہے مولا؟‘‘ وہ بولی۔
اس کے دل سے آواز آئی ’’آج کشمیری‘ فلسطینی سب اپنے گھر کے لیے ہی تو ظلم سہہ رہے ہیں‘ شہادتیں قبول کر رہے ہیں‘ یہ تو اللہ کے عاشقوں کے ساتھ ہوتا ہے‘ کیا پیارے نبیؐ کو ان کے وطن میں نہیں ستایا گیا۔ شکر ادا کرو تم مظلوموں میں سے ہو‘ ظالموں میں سے نہیں ہو‘ تمہاری آخرت محفوظ ہے۔‘‘
’’مگر میں تو ہجرت بھی نہیں کرسکتی‘ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ کہیں اور منتقل ہو جائوں‘ کوئی ساتھی سہارا نہیں‘ ماں بوڑھی‘ میں بیمار‘ جائوں تو کہاں جائوں‘ کوئی سبب پیدا کر میرے مولا!‘‘ وہ بولی۔ اس کی آنکھوں میں بس وہ مناظر گھوم رہے تھے جب کہ اس کی 70 سالہ ماں شاداب کے آگے ہاتھ جوڑ کر رو رو کر معافیاں مانگ رہی تھیں۔ جب عمارہ کو شاداب کے پیر پکڑ کر معافی مانگنی‘ قصور کیا کہ بس رات کو سونا چاہتے تھے اور شاداب کے پاس بس ایک ہی دلیل تھی کہ ’’میرے باپ کا گھر ہے۔‘‘
عمارہ کا پیاس سے برا حال تھا‘ وہ بار بار جا کر کلیاں کرتی تھی‘ جسم پر پانی ڈالی کر کپڑے گیلے کر لیتی اور پنکھے کے نیچے بیٹھ جاتی‘ مگر اس لافانی پیاس کا کوئی تدارک نہیں تھا‘ ایک ایک پانی کے قطرے کو ترستے ہوئے تین سال گزر گئے تھے‘ ذا زیادہ پانی ہو جاتا تو سانس الگ رک جاتی‘ طرح طرح سے سانس لینے کی کوشش کرتی مگر بے بس پھر ڈاکٹروں سے الگ ڈانٹ پڑتی۔
ایک روز شاداب سے خوب ذلیل ہو کر ڈائلسز پر گئی‘ پانی بھی بڑھا ہوا تھا‘ شاداب کا ایک ایک جملہ یاد آٹا اور وہ روتی جاتی۔ ویسے ہی ڈپریشن کی مریض‘ اس قدر طبیعت خراب ہوئی کہ بلڈ پریشر اور شوگر دونوں گر گئے‘ سانس رکنے لگی‘ مگر اس کے آنسو نہ رکتے‘ آکسیجن لگائی‘ مشین روکی‘ اب آئی سی یو منتقل کرنا تھا‘ مگ ر وہ تو اکیلی ہوتی تھی‘ کوئی ساتھ بھی نہ تھا‘ طبیعت بگڑ گئی‘ اور عمارہ سب مشکلوں سے نجات پا گئی تھی۔ اب وہ قبر میں تھی اور بہت خوش تھی کیوں کہ یہ قبر اس کی اپنی تھی‘ کسی کے باپ کی قبر نہیں تھی۔
اس کہانی میں ہمیںدیکھنا یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟ وہ شاداب جو دِل کا چھوٹا اور دماغ کا مغرور تھا یا وہ باپ جس نے اپنی اولاد کو ایسے بے آسرا چھوڑ دیا؟ ہمارے معاشرے میں طلاق کا چلن عام ہو گیا ہے اور 90 فیصد معاملوں میں بچے ماں کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ ساری زندگی ذلیل ہوتے ہیں‘ بے گھر رہتے ہیں‘ ماں معاش کی فکر میں لگ جاتی ہے‘ وہ باپ کے ساتھ ماں کی شفقت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جب کہ باپ نئی شادی کرکے اپنی زندگی میں مگن ہو جاتا ہے۔ کیا اسلام یہی سکھاتا ہے؟ یہ کیسے علماء ہیں جو عورتوں کو تو دن را دین سکھاتے ہیں لیکن مرد کو اس کی ذمہ داری نہیں بتاتے۔ کیا طلاق بچوں کو بھی دے دی جاتی ہے؟ کیا ان کی چھت روٹی‘ کپڑا‘ تعلیم‘ باپ کی ذمہ داری نہیں؟ کوئی Feminist تنظیم کیوں نہیں پوچھتی کہ عزت دار خواتین کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے طلاق دے کر نکال دینا جائز ہے؟

حصہ