کہانی گھر گھر کی

113

طلعت نفیس
گھٹا ٹوپ اندھیرا وادی میں چہار جانب پھیلا ہوا تھا، اندھیرے میں کھڑے چنار وحشت برسا رہے تھے… کہیں سے جھینگر کے ٹرٹرانے کی آواز سناٹے کو چیرتی، اور کبھی کسی جانب سے آتی گولیوں کی آواز فضا میں انتشار پیدا کرتی، اور پھر وہی سکوت طاری ہوجاتا۔
سردی کے ساتھ ساتھ دادی کی کھانسی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دوا ختم ہوئے تو عرصہ گزر گیا تھا، امی کبھی تیل گرم کرکے مالش کرتیں، کبھی پانی ابال کر بھاپ دلواتیں۔ اب تو کمرہ گرم کرنے کے لیے پتّے بھی درختوںسے ختم ہونے لگے تھے۔
’’امی، آخر اللہ کو ہم پر کب رحم آئے گا اور ہم آزاد ہوں گے؟‘‘ حمنہ تلخی سے بولی۔ ’’سالہا سال سے اس آس میں ہیں کہ مدد آئے گی۔ مگر کب…؟ اب تو دادی بھی 73 برس کی ہوگئیں۔ دادی کی سانسیں بھی شاید اسی آس پر چل رہی ہیں۔‘‘ وہ یاسیت سے گویا ہوئی۔ ’’اور قائد کے خواب کے مطابق کب پاکستان کا حصہ بنیں گے؟‘‘ اب اس کی نگاہیں امی کے چہرے سے ہٹ کر دادی کے نحیف وجود پر ٹھیر گئیں۔
’’نانا ابو کہہ کہہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے کہ تم لوگ یہاں آزاد کشمیر شفٹ ہوجائو، مگر اللہ اللہ آپ کی خوش فہمی… نہیں، ہم بھی یہیں رہ کر پاکستان کا حصہ بنیں گے۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔
’’اچھا اللہ کے واسطے خاموش ہوجائو‘‘۔ امی نے باقاعدہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
ابا کو تو برسوں پہلے بھارتی فوج نے صرف اس وجہ سے شہید کردیا تھا کہ وہ آزاد کشمیر میں نانا ابو سے رابطے میں رہتے تھے۔
اس کرفیو اور محاصرے کے بعد حمزہ جس کی آنکھوں میں آزادی کے خواب اور ہونٹوں پر آزادی کے ترانے تھے، بقرعید پر جب سخت ترین محاصرہ تھا، محلے کے لڑکے اور مرد نماز کی ادائیگی کے لیے صفیں بناکر کھڑے ہو گئے، سب پُرجوش تھے کہ ہم سنتِ ابراہیمی کیوں نہ ادا کریں!
حمنہ حمزہ کو روکتی رہ گئی، مگر دادی اور امی اس کی ہمنوا تھیں۔ گلی میں صف بندی ہوتے ہی بھارتی درندے آگئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ ان میں سے کچھ بچ کر نکل آئے، بہت لوگ شہید ہوگئے اور جو باقی بچے ان کو وہ درندے لے گئے۔
حمزہ نہ مُردہ لوگوں میں ملا نہ زندوں میں آیا، اور آج تک ان کی آنکھیں اُس کی راہ تک رہی ہیں۔ ’’رب بہتر کرے گا‘‘۔ امی اور حمنہ کی بحث سن کر نانی کی نحیف آواز ابھری۔
’’ہاں ہاں ضرور سنے گا جب سب مر جائیں گے تو خود بخود ہی یہ مسئلہ ختم ہوجائے گا‘‘۔ وہ غصے میں باورچی خانے کی جانب مڑ گئی۔
امی جاگ رہی تھیں، بلی بھی کودتی تو ایسا لگتا بھارتی فوجی آگئے۔ امی نے پہلے ہی حمنہ کو سمجھایا ہوا تھا کہ جیسے ہی دیکھو کہ وہ درندے آگئے ہیں تو اپنے آپ کو ان کے حوالے مت کرنا۔
اچانک دروازہ فوجی بوٹوں کی دھمک سے لرزنے لگا۔ امی نے جلدی سے کمرے کی کنڈی چڑھائی اور پرانی مضبوط میز دروازے کے سامنے لگائی۔ دادی زور زور سے کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگیں۔
حمنہ لرزتی ہوئی دادی کے لحاف میں گھس گئی، دادی کے نحیف وجود نے اس کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی۔ اب وہ کمرے کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔ دھکے دے کر دروازہ کھول لیا تھا۔ امی نے لکڑی کا تختہ اٹھاکر زور سے پھینکا، جواب میں زبردست فائر آیا اور امی گر گئیں۔
کسی بدبخت نے جھک کر دادی پر سے لحاف ہٹایا۔ دادی نے اس کا پستول نکال کر اس پر فائر کیا۔ وہ انڈین فوجی پلٹ کر گر پڑا۔ دوسرا فائر دوسرے کی گردن پر لگا۔ اتنی دیر میں کئی دوسرے انڈین فوجیوں نے دادی پوتی پر گولیاں برسا دیں۔ اب وہاں کوئی نہ تھا… لیکن نہتی عورتوں نے دو بزدل فوجیوں کو واصلِ جہنم کردیا تھا۔

حصہ