کورونا وائرس اور چین میں پھنسے ہوئے طلباء

186

اعظم علی
چند ہفتوں قبل جب میڈیا پر وہان میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلباء کی واپسی کے لئے آوازیں بلند ہورہی تھیں تو اس فقیر ہی نہیں بلکہ ہمارے ماہرین طب کی بھی واضع رائے تھی کہ ہمارے صحت و دیگر اداروں کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں واپس نہیں آنا چاہیے اگر خدانخواستہ یہ مرض یہاں پہنچ گیا تو ہم اس پیمانے پر قرنطین و علاج کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اگرکوئئ ایک فرد بھی اس مرض کے ساتھ معاشرے میں باہر نکل گیا تو وہ پوری سوسائیٹی کے لئے ایسی مصیبت بن سکتا ہے جس کا تصور کرنا محال ہے۔ چین بھی ابتدائی تساہل کی سزا بھگت رہا ہے جب مرض کی ابتدا میں انہوں نے اس کے بارے میں اطلاعات کو دبانے کی کوشش کی اور جو مرض صرف ایک شہر سے شروع ہوا تھا اب نہ صرف پورے چین بلکہ دنیا بھر میں پھیل کیا۔
اس لئے دل پر پتھر رکھتے ہوئے صرف میری ہی نہیں بلکہ ہمارے ماہرین طب کی متفقہ رائے تھی کہ چین میں ہماری بہ نسبت بہتر طبی سہولیات کی بناء پر طلباء اور ملک و ملت دونوں کے مفاد میں انکا چین ہی میں رہنا بہتر ہے۔
اس ایک ماہ کے عرصے میں بہت سارا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا ہے، تبدیل ہوتی صورتحال نے اس بات پر مجبور کردیا کہ بہ صرف اپنی رائے پر نظر ثانی کی جائے بلکہ چین میں پھنسے ہوئے طلباء کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔
درحقیقت اس ایک ماہ کے دوران میں یہ تخیل کہ چین میں نظام صحت کی حالت بہتر ہوگی اور ہمارے بچّے وہاں بہتر رہیں گے پاش پاش ہو چکا ہے۔
تادم تحریر صورتحال یہ ہے کہ چین میں ۷۴،۵۷۶
کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں میں سے ۲۱۱۸ اموات ہوئی ہیں جو تقریباً پونے تین فیصد ہے۔ جبکہ دیگر تمام ممالک میں ۱۱۵۰مریضوں میں صرف ۱۰ اموات ہوئیں ہیں یعنی ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
باقی دنیا کی شرح اموات ایک فیصد سے کم کے مقابلے میں چین کی 2.75% شرح اموات بذات خود چین کے اس وباء کے مقابلے کی صلاحیتوں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
گذشتہ ہفتے چین کے صوبے ہیوبی جس کا شھر وہان جہاں کی ایک مارکیٹ سے نہ صرف کورونا وائرس شروع ہواتھا بلکہ اس وہ اس مرض کا گراؤنڈ زیرو ہے جہاں پورے ملک میں سب سے بڑی تعداد میں مریض پائے گئے اور اموات ہوئیں میں بڑے پیمانے پر صحت و انتظامی اعلی حکام تبدیل کر دئیے گے وہ اس معاملے پر قابو پانے میں حکام کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے
سوال یہ بھی ہے کہ کیا چین واقعتاً مریض و اموات کی درست تعداد ظاہر کررہا ہے؟ ایشیا میں معاشی و داخلی امن و امان کی وجوہات کی بناء پر سانحات میں اموات کی تعداد کو کم کرکے ظاہر کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ خد شہ ہے کہ اموات کی اصل تعداد ظاہر شدہ سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
یادرہے چین نے اس وائرس کے ابتدائی دور میں بھی اس خبر کو دبانے کی کوشش کی تھی اور اس خبر کو پھیلانے والے ڈاکٹروں کو پولیس کے ذریعے ڈرایا دہمکایا تھا۔ ان میں سے ایک ہیرو ڈاکٹر گذشتہ ہفتے اسی مرض کے ہاتھوں موت کا شکار ہو گیا۔
دراصل چین بالخصوص وہان میں دنیا بھر سے زیادہ اموات کی اصل وجہ مریضوں کی بے تحاشا تعداد کے دباؤ کی بناء پر وہاں کا نظام صحت منہدم ہو گیا۔
اسپتالوں میں نہ صرف کورونا وائرس کے ٹیسٹ RNA Kit مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی تھیں ، بلکہ ڈاکٹر و ہسپتال اچانک اتنی بڑی تعداد میں آنے والے مریضوں کو سنبھالنے کے قابل بھی نہیں تھے ۔نتیجتاً ہزاروں مریضوں کو انکے پھیپھڑوں کے سی ٹی اسکین پر وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود RNA Kit کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو داخل کرنے کی بجائے انہیں گھر پر قرنطین ہونے کا مشورہ دے کر بھیج دیا جاتا ہے۔
اس وجہ سے بہت سے مریض بغیر کسی علاج کے گھر وں ہی میں سسک سسک کر موت کے منہ میں پہنچ گئے۔ذیادہ امکان یہ ہے کہ ایسی ساری اموات جو اسپتال سے باہر ہوئی ہیں کو وائرس کی موت کی فہرست میں ظاہر نہیں کیا جاتا۔
ایک طرف ناکافی طبّی سہولیات دوسری طرف ڈاکٹروں و طبی عملے کمی، ماسک اور حفاظتی لباس بھی کی محدود سپلائی ایک انتہائی بڑا مسئلہ ہے۔ تھکاوٹ سے چور افرادی قوت کی کمی کا شکار طبی عملہ ہر ہفتے وہان میں ہزاروں نئے مریضوں کو دیکھ رہا ہے۔
کئی ڈاکٹر مریضوں کو ماسک اور حفاظتی لباس کے بغیر یا استعمال شدہ حالت میں دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔ بعض تو بار بار لباس اُتارنے سے بچنے کے لئے ڈائیپرز پہنے لگے ہیں تاکہ انکا حفاظتی لباس زیادہ عرصے تک چل سکے۔
گذشتہ ہفتے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں طبی عملے کے ۱۷۱۶ افراد وائرس سے متاثر ہیں ان میں سے ۶ افراد موت کے شکار ہو چکے ہیں۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چین جلد ہی اس مرض کی ویکسین تیار کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن چین میں اتنی جلدی ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت پر ٹھیک ٹھاک شبہ ہے۔ابھی تک ۲۰۰۳ کے سارس جوکہ کورونا وائرس ہی کی ایک قسم ہے کی ویکسین نہیں آسکی ہے۔ چند ماہ میں ویکسین تیار کرکے انسانی استعمال کے لئے ریلیز کرنا انسانوں کو تجرباتی چوہوں کی طرح استعمال کرنے کے مترادف ہے۔
ویسے بھی ویکسین مرض سے حفاظت کے لئے ہوتی ہے علاج نہیں اور کوئی بھی جلد بازی میں تیار کی ہوئی ویکسین جس کے مکمل اثرات کا علم نہ ہو کو خود پر تجرباتی طور پر استعمال کرنا پسند نہیں کرے گا۔
اب تک کورونا وائرس کے مریضوں کے کامیاب علاج کی اطلاعات آرہی ہیں لیکن کوئی نئی دوا نہیں بلکہ تجرباتی طور پر موجودہ ادویات جن میں HiV ( جسے ایڈز بھی کہا جاتا ہے) اور فلُو کی ادویات کو مشترکہ طور پر استعمال کرکے مثبت نتائج کا دعوی کیا جارہا ہے۔
حال ہی میں چینی ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے صحتیاب شدہ مریضوں کے خون کے پلازما کو مریضوں پر چڑہا نے کا تجر بہ کیا ہے جس کے بہتر نتائج نظر آئے ہیں لیکن یہ طریقہ علاج ابھی تک تجرباتی مراحل میں ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ علاج سے زیادہ مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کا ہے۔ اگر مرض پھیلنے سے روکا جاسکے تو موجودہ مریضوں کے علاج پر توجہ مرکوز کی جاسکتی ہے۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ چین روزانہ دو تین ہزار نئے مریضوں کی دریافت کا بھی اعلان کررہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علاج تو درکنار اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
اب یہ بات واضع ہو چکی ہے کہ کورونا وائرس ناقابل علاج مرض نہیں ہے، اس مرض میں موت کا تناسب چین میں پونے تین فیصد لیکن چین سے باہر صرف ایک فیصد سے بھی ہے۔اب چونکہ چین میں اموات اور مرض کے پھیلاؤ کا تناسب بھی باقی دنیا سے بہت زیادہ ہے، تو ہمارے طلباء کوچینی نظام صحت جو پہلے ہی انتہائی دباؤ کا شکار ہے کے رحم و کرم پر چھوڑدینا کوئی عقلمندی نہیں لگتی۔
ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چین میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلباء کو واپس نکالنا غلط نہیں ہے بلکہ بطور پاکستانی شھری انکا حق اور ہماری حکومت کا فرض ہے کہ مصیبت میں پھنسے ہوئے شہریوں کی مدد کرے اور حسب ضرورت انکی واپسی کا انتظام کرے۔
لیکن یہ کوئی آسان آپریشن نہیں ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ اگر احتیاط سے منصوبہ بنا کر عمل کیا جائے تو اسکے نتائج بہتر ہوں گے۔
سب سے پہلے وہان سے کسی کی بھی انفرادی طور کمرشیل فلائٹ کے ذریعے واپسی کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے کہ کوئی بھی آنے والا متاثر مسافر فلائٹ کے دیگر مسافرین کو بھی متاثر کرکے معاشرے میں اس وائرس کے بے قابو پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے
طلباء کی تعداد شنیدہ طور پر ۱۵۰۰ سے دوہزار تک ہے، ان میں سے جو بھی وائر س کی علامات سے محفوظ ہیں انہیں خصوصی فلائیٹس یا کوئی خصوصی بحری جہاز اس مقصد کے لئے کرائے پر حاصل کرکے لایا جاسکتا ہے جس کے اخراجات طلباء کے اہل خانہ سے وصول کئے جاسکتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ انکے قرنطینہ میں رکھنے کا ہے اس وقت ساری دنیا چین بالخصوص وہان سے واپس آنے والے مسافروں کو ایرپورٹ ہی سے ۱۴ دن کے لئے قرنطینہ میں منتقل کردیتی ہے۔ تاکہ اگر ان میں سے کوئی وائرس سے متاثر بھی ہو تو وہ کسی اور یہ وائرس منتقل نہ کرسکے۔
بہتر تو یہی ہوگا کہ ہر آنے والے کو انفرادی کمرے میں رکھّا جائے ۱۴ دن کی قید تنہائی قرنطینہ میں گذارنا مذاق نہیں ہوتا۔لیکن وہاں پر انٹرنیٹ اور گھر سے کتابوں اور گھرکے کھانوں کے ذریعے اسے آسان کیا جاسکتا ہے۔
ممکنہ طور پر پبلک، آرمی کی پارٹنر شپ کے تحت واپس آنے والوں کے لئے قرنطینہ کیمپ بنائے جائیں جن میں ہر مریض کے لئے انفرادی کمرہ اٹیچڈ باتھ روم جن میں انہیں سختی کے ساتھ قرنطین کیا جاسکے اور کسی بھی صورت میں ۱۴ دنوں قبل باہر نکلنے کی اجازت نہ ہو۔
اسکے لئے بلڈرز کی خالی عمارات عارضی طور پر تحویل میں بھی لی جاسکتی ہیں یا ہاسٹلوں کو خالی کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ بھی نہیں تو شھر سے قریب خالی علاقے کیمپ بنایا جاسکتا ہے۔ جہاں پر بجلی پانی و اںٹرنیٹ کا بھرپور انتظام ہو۔
واپس آنے والے طلباء کے اہل خانہ کو بھی ذہنی طور پر تیار کیا جائے کہ واپس آنے کے بعد بھی اپنے پیاروں کو ۱۴ دن کے لئے شیشے کی دیوار یا ویڈیو فون کے ذریعے ہی دیکھ سکیں گے۔ انکے لئے یہی کافی ہونا چاہیے کہ انکے بچّے اپنی سرزمین پر پہنچ چکے ہیں۔
قرنطینہ پر کام کرنے والوں کے لئے حفاظتی لباس اور اقدامات کے بارے میں مکمل تربیت فراہم کی جائے۔ تاکہ وہ حادثاتی طور مرض کا شکار نہ ہو سکیں۔
قرنطینہ کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے فوج کی مدد حاصل کرنا ضروری ہے کہ سولین پولیس و چوکیداروں کو دباؤ کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے اور اس معاملے میں تساہل کے نتائج ملک و قوم کے لئے ناقابل برداشت ہوں گے۔ چین نے بھی شھروں میں قرنطینہ نافذ کرنے کے لئے فوج کی خدمات حاصل کی ہیں۔
در حقیقت کہ طلباء وہان میں تقریباً قرنطینہ کی حالت میں محصور ہیں ۔ اس بات کا قوی امکان ہے واپس آنے والوں کی غالب اکثریت وائرس سے متاثر نہ ہو۔
پھر بھی انہیں کوئی خطرہ مول لیے بغیر سختی سے قرنطینہ نافذ کرکے لایا جائے تو اُمید ہے کہ واپس آنے والے طلباء کی غالب اکثریت ۱۴ دن کے بعد کلئیر ہو کر اپنے گھروں میں چلی جائے گی اگر چند طلباء بد قسمتی سے وائرس سے متاثر پائے بھی جائیں تو توقع ہے کہ ہمارے ڈاکٹر حضرات باآسانی سنبھال سکیں گے۔
ایک بار پھر یہ یاد دہانی کرنا چاہوں گا کہ ایک انتہائی حساس اور نازک معاملہ ہے۔، حکومت اداروں، طلباء اور والدین سب کے صبر و تعاون اور مجموعی قومی ڈسپلن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہو گی۔
کسی بھی لاپرواہی کا نتیجہ انتہائی ہولناک نکل سکتا ہے۔لیکن جو قوم ایٹمی ہتھیار جیسی چیز بنا سکتی ہے اور اسے بغیر کسی حادثہ کے سنبھال سکتی ہے، اسکے لئے چند ہزار طلبہ کو ۱۴ پندرہ دن تک سنبھالنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
ہمیں اپنے ماہرین طب پر اعتماد ہیں کہ موجودہ صورتحال میں وہ اس مرض کو سنبھال سکتے ہیں شرط صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ انتہائی سختی کے ساتھ غیر جذباتی انداز میں قرنطینہ کا نفاذ تاکہ اگر کوئی مریض پایا بھی جائے تب بھی وہ مرض کسی بھی طرح معاشرے میں داخل ہونے پائے۔

حصہ