کمرے میں ہاتھی

112

بناوٹی، جھوٹی اور گھڑی ہوئی کہانیوں کو انگریزی زبان میں فیبلز (Fables)کہتے ہیں۔ روس کے شہر ماسکو میں زارِ روس کے زمانے میں ایک ایسا شخص مشہور تھا جو ایسی کہانیاں لکھنے میں یدِطولیٰ رکھتا تھا۔ یہ شخص ایوان کرائیلو(Ivan Krylov) اپنی ان تحریروں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا، حالانکہ وہ شاعر، ڈراما نگار، ناول نگار، مترجم اور سب سے بڑھ کر صحافی بھی تھا۔ اس نے 1814ء میں ایک بناوٹی اور جھوٹی کہانی یعنی فیبل تحریر کی جس کا نام تھا ’’متجسس آدمی‘‘ (Inquisitive man)۔ اس کہانی میں ایک شخص عجائب گھر کی سیر کے لیے جاتا ہے اور وہاں موجود چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کو غور سے دیکھتا ہے، لیکن اسے عجائب گھر میں موجود ہاتھی نظر نہیں آتا۔
اُس شخص کی اس کہانی کی بنیاد پر انگریزی ادب میں ایک محاورہ تخلیق ہوا ’’کمرے میں ہاتھی‘‘(Elephant in the room) اس محاورے کو مارک ٹوئن نے اپنی کہانیوں میں استعمال کرکے انگریزی بول چال میں زندہ کردیا۔ خبر کی دنیا میں اس کا استعمال پہلی دفعہ 20جون 1959ء کو نیویارک ٹائمز میں ہوا۔ اس محاورے کا اشارہ کسی ایسے موضوع یا مسئلے کی جانب ہوتا ہے جو بہت بڑا اور اہم ہو، اس حد تک نمایاں ہو کہ اسے ہر کوئی جانتا ہو، لیکن کوئی اس کا ذکر نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے کچھ لوگوں کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہوں، یا ایسا کرنا سیاسی و معاشرتی حوالے سے برا سمجھا جاتا ہو۔ لوگوں کے جذبات بھڑکا سکتا ہو اور خطرناک حد تک متنازع ہو۔
پاکستانی سیاست، مذہب اور معاشرت میں ایسے بہت سے مسائل اور موضوعات ہیں جو کمرے میں ہاتھی کی طرح موجود ہیں، انہیں ہر شخص جانتا ہے، لیکن ان کے بارے میں گفتگو سے ڈرتا ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاست و معاشرت میں ایسے لاتعداد موضوعات اور مسائل ہیں جن سے لوگ آگاہ ہیں لیکن ان کی جانب سے آنکھیں پھیر کر مزے سے اپنے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں، اور وہ مسئلہ یا موضوع ایک بہت بڑے ہاتھی کی طرح ان کے درمیان موجود رہتا ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست و معاشرت کا ایک ہاتھی ایسا ہے جس کے بغیر کاروبارِ سلطنت نہیں چلتا، جو اس ملک میں تمام خرابیوں اور اچھائیوں کا سب سے بڑا حصے دار ہے۔ لوگ اس کے بارے میں گفتگو تو کرتے ہیں مگر مصلحت سب کا رویہ ہے۔
سیاست دان جب تک اقتدار میں نہ ہو، اُس کی تقریریں اس ہاتھی سے کمرے کو پاک کرنے کے گرد گھومتی ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی وہ اس کا سب سے بڑا محافظ اور خیر خواہ بن جاتا ہے۔ فوج کا جرنیل اقتدار میں آتے ہی اسے تہ و بالا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اس کا بہت جی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھی کمرے میں موجود اس ہاتھی کو نکال کر خود اس کی جگہ کھڑے ہوجائیں، لیکن تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوجاتا ہے کہ اس ہاتھی کے بغیر تو چارہ نہیں۔ پھر وہ بھی اس کا سب سے بڑا خیرخواہ بن جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست و معاشرت کا یہ ہاتھی بیوروکریسی ہے۔
پاکستان کے تمام وزرائے اعظم، صدور اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دراصل ایوان کرائیلو کے ’’متجسس آدمی‘‘ کی طرح ہیں جو عجائب گھر کی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی غور کرتا ہے، لیکن ’’کمرے کے ہاتھی‘‘ کو نظرانداز کردیتا ہے… اسی طرح یہ لوگ بھی ملک کی ہر خرابی کو دور کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں، لیکن کمرے کے ہاتھی یعنی بیوروکریسی کے وجود سے مکمل سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ستّر سال میں اس ’’ہاتھی‘‘ کا سائز کئی گنا بڑا ہوچکا ہے، اس کے اخراجات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، اور اس کے پیدا کردہ مسائل اب لاینحل ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی جذباتی سطحیت سے یہی توقع تھی کہ یہ ’’ہاتھی‘‘ اسے بہت جلد شیشے میں اتار لے گا اور پھر یہ اسی کی زبان فرفر بولنے لگے گا۔ اور ایسا صرف چند ماہ میں ہی ہوگیا تھا۔ اس بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ پہلے دن سے اپنے بارے میں ایک تاثر ضرور برقرار رکھتی ہے کہ اسے اصلاح (Reform) کی سخت ضرورت ہے۔
1773ء میں قائم ہونے والی اس بیوروکریسی کی اصلاح کے لیے لاتعداد کمیشن بنائے گئے۔ مونٹیگو چیمسفورڈ(Montague Chelmsford)) کے کمیشن سے لے کر عمران خان کے عشرت حسین کے کمیشن تک سب اسی تگ و دو میں مصروف رہے کہ بیوروکریسی کی اصلاح کیسے ہو۔ سب نے موٹی موٹی کتابیں تحریر کیں جو الماریوں کی زینت بنادی گئیں، لیکن کوئی اس کی ہیئت تبدیل کرسکا اور نہ ہی اس کے اختیار، تصرف اور بالادستی میں کمی کروا سکا۔ یہ ہاتھی کمرے کے سائز، مالک کی خواہش اور اپنی حیثیت کے دفاع کے لیے خود کو ایسا ایڈجسٹ کرتا ہے کہ اس کا وجود کسی کو برا ہی نہیں لگتا، سب گزارہ کرلیتے ہیں۔
پاکستان بننے سے لے کر آج تک بیوروکریسی کی اصلاح پر لاتعداد کمیشن بنائے گئے۔ ہر کسی نے کمیشن بنانے کی وجوہات تحریر کیں۔ لیکن 15 دسمبر 1998ء کو ورلڈ بینک نے 100 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ کے مندرجات اور تجویز کیے گئے حل سے کوئی متفق ہو یا نہ ہو، اس نے آغاز میں اصلاح کے لیے جو سات وجوہات بتائی ہیں وہ اس بیوروکریسی کی بدحالی، نااہلی اور بددیانتی کی تصویرکشی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ وہ سات اہم خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی سول سروس میں اصلاح کی ضرورت ہے:
1۔ اس کا ڈھانچہ ضرورت سے زیادہ سخت اور مرکزیت والا ہے، اور اس کے قوانین کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اپنے اندر بھی مختلف طبقات کے لیے مختلف قانون رکھتی ہے جن کی وجہ سے سرخ فیتہ اس کی پہچان بن چکا ہے۔
2۔ ان کی مہارتوں کا ان کی نوکری اور عوام کے ساتھ ان کے واسطے، محکموں کی خصوصی نوعیت سے کوئی تعلق نہیں۔
3۔ ان کے ہاں اندرونی طور پر پوچھ گچھ اور احتساب بالکل ختم ہوچکا ہے اور عوام کے سامنے تو یہ کبھی بھی جواب دہ نہیں رہے۔
4۔ یہ مکمل طور پر سیاسی پارٹیوں کی ٹیم بن چکی ہے اور اس کے فیصلوں پر انصاف کے بجائے سیاست غالب آچکی ہے۔
5۔ ان کے آپس کے گروپوں میں بھی سخت تنائو ہے بلکہ مرکزی حکومتی بیوروکریسی اور صوبائی بیوروکریسی میں تعاون نام کو بھی نہیں۔
6۔ اس کے گریڈ ایک سے لے کر بائیس تک ہر سطح پر کرپشن ایک وبا کی طرح سرایت کر چکی ہے۔
7۔ کارپوریٹ سیکٹر میں زیادہ تنخواہوں اور مراعات کی وجہ سے بیوروکریسی میں اہل اور قابل افراد آنے کم ہوچکے ہیں۔
یہ ہے وہ تصویر جو 1998ء میں اس پاکستانی بیوروکریسی کی بنائی گئی۔ آج 22 سال گزرنے کے بعد یہ تصویر زیادہ خراب اور بوسیدہ ہوچکی ہے، اور یہی بوسیدہ تصویر پاکستان کے مرکزِ اقتدار کے ہر کمرے میں ایک دیوہیکل ہاتھی کی صورت موجود ہے، جس کے موٹے موٹے پائوں تلے عوام کچلے جا رہے ہیں اور حکمران اس پر سواری کے مزے لے رہے ہیں، لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ اس کی سواری خطرناک ہے، یہ کسی بھی دن فیصلہ کرلے تو سوار کو اوپر سے ایسے گراتی ہے کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ زمین پر آ چکا ہے۔

حصہ