کرونا

81

عروج دبیر
پاکستانی قوم دنیا کی سب سے نرالی قوم ہے ۔اس کا مزاج،پسند ،انداز ،رویّہ،خوشی ،غم، خواہشات غرض کسی بھی چیز کا دنیا میں کوئی مقابل ہی نہیں ہے ۔آج کل دنیا جس چیز سے خوف کھا رہی ہے ،احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہے ،کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہے کہ اس سے بچاؤ ممکن ہومگر یہ پاکستانی جی دار قوم جب سے پاکستان بنا ہے اس کی پاکستان آمد کی منتظر ہے۔جی ہاں دنیا بھر میں ایک ہی چرچا ہے” کرونا“۔دنیا اس کو بیماری کے طور پر جانتی ہے۔ اس سے نبرد آزما ہے جب کہ یہ پاکستانی قوم کی خواہش ہے ۔وہ اس کو کسی بیماری کے طور پر نہیں لے رہی بلکہ اپنی دیرینہ خواہش اور اس توقع پر قیامِ پاکستان سے ہی لے رہی ہے جو وہ حکومت سے رکھتے ہیں یعنی حکومت عوام کے لیےکچھ ”کرونا“۔یہ اردو والا کرونا دراصل اپنے متبادل یعنی” نہ کرو “کے مقابلے میںبہت ناتواں ہے ۔نئی حکومت کے آنے کے ساتھ ہی عوام کو یقین ہوگیا تھا کہ اب ”کرونا“شروع ہوگااور جلد ہی سب مسائل حل ہو جائیں گے ،لیکن صاحب اچھا خاصا عرصہ ہوگیاحکومت کچھ نہیںکر رہی اس کے باوجود عوام کی حالت سنورنے کی امید ہونے کے بجائے عملی طور پرتو عوام سے سابقہ حکومتوں کی کرپشن کا ایسا بدلہ لیا جا رہا ہے کہ جیسے یہ ادھ مری عوام ہی سابقہ حکومتوں کے وارثین ہیں ،لہذا ان سے تھانیداروں کی طرح نم ٹو۔یعنی جس تھانے دار کو مجرم کا سراغ نہ مل رہا ہوتو وہ اس کے لواحقین کو پکڑ کران کی درگت بنا کر اپنا غصہ بھی ٹھنڈا کرلیتا ہے اور اپنے اوپر سے پریشر بھی ہٹا لیتا ہے ۔یہی کھیل اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔کبھی عوام کو آٹا نایاب کر کے کوڑے لگائے جاتے ہیں ،کبھی شکر کا وہ بحران پیدا کرکے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں کہ لوگ دعا کرنے لگتے ہیں کہ یا اللہ!میرے پورے خاندان کو شوگر کی بیماری دےدےکیونکہ ایسی شکرکے حصول کے لیے نہ تو اتنے پیسے ہیں نہ تگ و دو کرنے کے لیے ہمت۔غریب آدمی دراصل وہ گناہگار ہے جس پر وہ گناہ بھی لاد دیا جاتا ہے جس کا اس نے نام بھی نہ سنا ہو،اور ویسے بھی اس ملک میں اب وہ ہی امیر ہے جو حکمران ہے یا سرکاری ملازم یا کسی سیاسی جماعت کا رکن۔خان صاحب کے بلند کردار سے انکار کیسے ممکن ہے ۔یہ شخص کرپشن سے پاک ہے ،بہت ایماندار آدمی ہے لیکن کیونکہ سیاست دان ہے لہذااس کو اپنے ساتھ کرپٹ لوگوں کو بھی شامل رکھنا پڑ رہا ہےیہ اس کی سیاسی مجبوری ہی سہی لیکن ہے تو یہ بھی کرپشن،کرپشن کی پردہ پوشی بھی تو کرپشن ہی ہے ۔خان صاحب کا ایک دعوی ٰاور وعدہ یہ بھی تھا کہ سارے ملک میں یکساں نظامِ تعلیم ہوگا یہ تو دور رَس منصوبہ تھااس لیے اس کاابھی تک دور دور تک پتا نہیں ۔اس سے لاکھ درجہ بہتر کام یہ ہوتا کہ ملک بھر میں تعلیم کی فیس یکساں کردی جاتی تو عوام کو ریلیف ملتا۔ غریب کا بچہ کوئی بھی نظامِ تعلیم ہو اب تک تو خود کو منواتا ہی رہا ہے۔غریبوں کے گھر بننے میں ابھی تو سالوں درکار ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہزاروں سرکاری اسکول زمین داروں کے جانوروں کا اصطبل بنے ہوئے ہیں ان میں غریب خاندانوں کو گھر بننے تک رہائش دے دی جاتی ۔ یہ سب سرکاری اسکول تو خالی پڑے ہیں کہ سب بچے پڑھنے پرائیوٹ اسکولوں میں جاپہنچے ہیں ۔سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تنخواہ لیتے ہیں یا سرکاری تقریبات میں شریک ہو کر سرکاری جلوسوں کو کامیاب کرنے کے کاموں میں مصروف ہیں ۔ڈیم کے نام پر عوام کو ڈیم فول بنا دیا گیا ہے۔اپنے اسکپر کی قائدانہ صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں جب یہ کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا تو اپنی ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کیا کرتا تھاپوری طاقت سے لڑاتا تھالیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ہارتا نہیں تھایا اس کی ٹیم واقعی پوری طرح پرفارم کرتی تھی ،انیس سو ستاسی کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم فیورٹ تھی ۔سیمی فائنل میں کپتان کی حکمتِ عملی پوری طرح ناکام ہو گئی ۔آخری اوور کپتان نے سلیم جعفر کو دے دیا جس نے آخری اوور میں اٹھارہ رنز دے دیےاور پھر پاکستان یہ میچ اٹھارہ رنز سے ہی ہار گیا لیکن انیس سو بانوے میںپاکستان نے ایک کمزور ٹیم کے ساتھ و رلڈ کپ جیت لیا۔پنجاب کے وزیرِ اعلی کی مثال بھی اسی اوپنر کی سی ہے جس پر کپتان کو اندھا اعتماد تھا یعنی منصور اختر ،کوئی کھیلے نہ کھیلے منصور اختر ٹیم کا لازمی حصہ ہوتا اور کسی بھی میچ میں کھیل کر نہ دیتا۔کپتان اس کا بھی ایسے ہی دفاع کرتا جیسے وزیرِ اعلی پنجاب کا کرتا ہے۔ہر چیز کا روشن پہلو دیکھنا چاہیے۔جیسا ستّاسی میں فیورٹ ہونے کے باوجود پاکستان ہار گیا تھااور بانوے میں جیت گیا تھا،عین ممکن ہے کہ یہ ٹیم اگلے دورِ حکومت میں کامیاب ہو جائے ،کون جانے کیا ہوجائے ،معجزہ ہوجائے ۔۔۔۔جاری ہے۔۔

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصر

حصہ