کب سنجیدہ ہوں گے؟۔

280

سوشل میڈیا پر تویہ ہفتہ پی ایس ایل کے نام ہی رہا ۔ اب اس سرگرمی پر کیا بات کریں۔ کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں سے ، کرکٹ کے استعاروں ، نشانوں اور کھلاڑیوں کے پورٹریٹ سے سجا دیا گیا ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی مفت ٹکٹ مانگنے والے افسران کی کھنچائی کر دی۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی آمد اور پی ایس ایل کا پی یعنی پاکستان میں انعقاد عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر دینے میں کامیاب رہا۔
#PSL5ComesPakistan، #PSLComesHome ، #PSL2020، #PSLV سمیت کئی ہیش ٹیگ دو دن سے ٹرینڈ لسٹ میں چھائے رہے۔افتتاحی تقریب کا میزبان احمد گوڈل اپنے منفرد اور غیر متوقع اسٹائل کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ’ٹرولنگ‘کا شکار ہوگیا، لوگ حیران تھے کہ یہ کون ہے کہاں سے آگیا۔
اس کے علاوہ اسی ہفتہ ایک اور دلخراش واقعہ مدیحہ بی بی کاسامنے آیا ۔ اس کمسن معصوم بچی کی لاش کی تصاویر کے ساتھ 2دن تک انصاف مانگا جاتا رہا۔ خیبر پختونخوا تھانہ دوآبہ کے علاقہ سروخیل میں 9 سالہ مدیحہ بی بی کے ساتھ زیادتی اور بہیمانہ قتل کا اہم ملزم انہی تین دن میں گرفتاربھی ہوا۔ علاقے میں اس دلخراش واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہفتہ بھر جاری رہے جبکہ مشران کے مقا می جر گہ نے ملزم کا گھر نذر آتش کر کے خاندان کو علاقہ بدر کر نے کا اعلان کر دیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم الیاس مقتولہ بچی کاقریبی چچا زاد رشتہ دار نکلا، سفاک درندہ نے بچی کے قتل کا اعتراف بھی کرلیااور ساتھ ہی مقامی پولیس نے آلہ قتل بھی بر آمد کرلیا۔ اب آپ ذرا غور کریں کہ ایسے واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کے پیچھے ملزم کے قریبی رشتہ دار ہونے کے کتنے کیسز جمع ہو تے جا رہے ہیں۔ اسی ہفتہ کی خبر ہے کہ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن خیبر پختونخوا فیروز شاہ کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں بچوں کیساتھ زیادتی کے کیسز میں تین گنا اضافہ ہواہے۔خیبر پختونخوا میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 25 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ان مقدمات میں 80 فیصد ملزمان ناقص تفتیش کے باعث رہا ہوگئے۔سینٹرل پولیس آفس سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق سال 2015 میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کے دو کیسزکا تاحال سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ اچھا یہ مت سمجھ لیجیے گا ان دو خبروں سے کہ سب کچھ ایک ہی صوبہ میں ہو رہا ہے یہ آگ پور ے پاکستان میں لگی ہوئی ہے۔لاہور سے سینئر صحافی طارق حبیب نے دو دن قبل ہی راولپنڈی کا ایک انتہائی دلخراش کیس مع گرفتار شدگان کی تصویر اپنی وال پر شیئر کی ،’’پولیس نے رواں ہفتے راولپنڈی میں ایک 14 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور حمل ٹھہر جانے کے مجرموں کو گرفتار کیا ہے۔ واقعہ تھانہ رتہ امرال کی حدود میں پیش آیا۔متاثرہ بچی، جس کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور سوتیلی والدہ شوہر کے ساتھ لڑائی کے بعد جا چکی تھی، وہ اپنے گھر پر اکیلی تھی۔ اس کا والد سارا دن کام پر ہوتا تھا۔ یہ جان کر کہ وہ بیشتر دن اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے، اس کے پڑوس کا ایک نوجوان کالج کا لڑکا اس سے ملنے آیا اور کہا کہ وہ بوقت ضرورت اس سے کچھ بھی مدد طلب کر سکتی ہے۔اسے اعتماد دلانے کے بعد، وہ ایک دن گھر میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ زیادتی کر دی۔ پھر دھمکی دی کہ اگر وہ اس کے خلاف بولنے کی جرات کرتی ہے تو وہ اس کے والد کو قتل کردے گا۔خوفزدہ ہوکر لڑکی نے اپنے والد کی حفاظت کیلئے خاموشی برقرار رکھی۔ مجرم نے روزانہ گھر جانا شروع کیا اور اسے متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک ہفتہ کے بعد، وہ ایک اور دوست کو اس کے ساتھ گھناؤنے فعل میں شامل کرنے کے لیے لانے لگا۔انہیں باقاعدگی سے اس بچی کے گھر جاتے ہوئے دیکھ کر محلے کے ایک بزرگ شخص نے معاملے کی پیروی کرنے اور اس کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک روز جب وہ گھر پہنچا تو اس نے متاثرہ لڑکی کو بے بس اور کمزور حالت میں دیکھا کیونکہ مجرم اس کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد فرار ہوچکے تھے۔ اس معاملے کی اطلاع دینے کے بجائے اس بزرگ نے بھی اس بچی کے ساتھ عصمت دری کی اور بعد میں اس بزرگ کا ایک اور دوست بھی اس کے ساتھ اس فعل میں شامل ہو گیا۔14 سالہ بچی کو کئی ماہ تک متعدد بار عصمت دری اور وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بچی کے خود بات کرنے سے ڈرتے ہوئے، اس کے والد کو اس معاملے کے بارے میں تب معلوم ہوا جب اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا، جس نے بتایا کہ وہ چھ ماہ کی حاملہ ہے۔پھر اپنی حفاظت سے پریشان، متاثرہ بچی نے ہچکچاتے ہوئے اپنے والد کو خود پر گزرے یہ تمام عذاب بتائے۔ وہ اسے تھانے لے گیا، جہاں باضابطہ شکایت درج کی گئی اور اب تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مجرموں میں سے دو شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں، جبکہ دو کالج کے طالب علم ہیں۔یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوامی سچائیاں ہیں اور شکوے ہمیں فقط حکمرانوں سے رہتے ہیں!۔‘‘
مجھے یہ سب بار بار یوں لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ بار بار ڈسکس ہو رہا ہے ۔طارق حبیب کی یہ پوسٹ اب تک کوئی 128لوگ شیئر کر چکے ہیں اور لا تعداد لوگ کاپی پیسٹ کرکے بھی ڈال چکے ہیں ، مگر ہم اسے سنجیدہ نہیں لے رہے۔ اس کی کیفیت ہر سطح پر چھائی ہوئی ہے ۔ تازہ واقعہ پیش کر رہا ہوں ۔اسی ہفتہ ایک ورکشا پ برائے جنسی وتولیدی صحت سے آگہی میں شرکت کا موقع ملا۔ایک مقامی این جی او ’آہنگ ‘ جو اسی ایشو پر کام کر رہی ہے اُ س نے یہ منعقد کرائی تاکہ اس حوالے سے آگہی دی جا سکے اور اس سے متعلق درست ، مثبت ، فائدہ مند ،جامع معلومات لوگوں تک پہنچیں اور لوگ اپنی صحت کے معاملے میں بہتر آگہی حاصل کر سکیں۔انہوں نے سمجھایا کہ لفظ SEXکو سن کر سب پریشان ہو کر ، منہ چھپانے لگتے ہیں(گویا اس لفظ کو معیوب سمجھ کر بمعنی ’فعل ‘سمجھ لیتے ہیں )جبکہ اس کا اصل ، سادہ ، معنی ’جنس‘ کے ہیں یعنی آپ کی کیا جنس ہے ’مرد ‘ہیں یا ’عورت ‘۔اس کے معنی آپ کے بائیلوجیکل حیثیت کے لیے ہیں۔ ویسے یہ مشاہدہ ہم اپنے کئی درخواست فارم بھرتے ہوئے بھی کرتے ہیں جب ہم اپنے کوائف ڈال رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح لفظ Gender بھی بظاہر انہی معنوں میں لیا جاتا ہے لیکن استعمال بائیلوجیکل نہیں بلکہ سماجی کردار سے متعلق ہے جو کہ ہر سماج میں الگ الگ طور استعمال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 25سال قبل انسانی حقوق کے تناظر میں جنسی صحت کے کوئی 16 حقوق مرتب کیے گئے ہیں جن کوپاکستان نے بھی قبول کیا اور نفاذ کیلیے دستخط بھی کیے ہیں۔یہ حقوق میں آپ کی آگہی کے لیے یہاں منتقل بھی کر دیتا ہوں
ا ب بات آگے بڑھی تو جنسی تشدد اور بچوں کے ساتھ واقعات سے بھی ٹکراتی گزری ، میں نے منتظمین سے پوچھا کہ یہ حقوق کس نے بنائے ہیں؟ انہوں نے کہا پوری دنیا سے لوگ جمع ہوئے ۔ میں نے کہا کہ مطلب انسانوں نے بنائے ہیں انسانوں کے لیے ۔ انہو ں نے کہا جی تو اور کون بنائے گا۔ تو سوال کیا کہ آپ کے سامنے رکھا ملٹی میڈیا پروجیکٹر کیسے چلے گا ، کیا کرنے سے کیا ہوگا، کب سروس ہوگی نہیں ہوگی یہ باتیں اس کا خریدار بتائے گا یا اس کا مینو فیکچرر۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو مینو فیکچرر بتائے گا ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ملٹی میڈیا کے لیے تو آپ مینو فیکچرر سے رابطہ کریں گے لیکن انسانوں کے لیے اُس کے ’مینو فیکچرر ‘کو چھوڑ کر خود سے کیسے حقوق کا فیصلہ کریںگے ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کریں گے تو وہ درست ہوگا جبکہ اصل ’مینو فیکچرر نے اس کے لیے ’گائڈ بک‘ بھی دی ہو جس کو آ پ نے سائڈ کر دیا ہو۔ انہو ںنے کہا کہ اس طرح تو بہت سارے مینو فیکچرر ہیں لوگوں کے نزدیک کوئی کسی کو مانتا ہے تو کوئی کسی کو ۔ بس اُن کے اس جملے پر غل غپاڑہ مچ گیا سمجھنے والے بات سمجھ گئے باقی آئیں بائیں شائیں ہو گیا۔
مجھے تشفی نہیں ہوئی ، میں نے آخر میں دوبارہ وقت مانگ لیا ۔ اُن کا موضوع کم عمری کی شادی تھا میرا موضوع معاشرے میں بڑھتی پھیلتی ’بے قابو جنسی بھوک ‘تھی ۔ میں نے سوال کیا کہ ، ’ کیا آپ کے گھر میں آپ کے والد نے آپ کو یا آپ کے بھائی کو دس سال کی عمر کے بعد بٹھا کر سمجھایا تھا کہ جسمانی تبدیلیاں، زمانہ بلوغت کی تبدیلیاں کیا ہیں؟کیا آپ کے استاد، بڑے بھائی ،چچا یا ماموں یا کسی بڑے کزن نے سمجھایا؟‘
انہو ںنے کہا۔ نہیں۔ میں نے کہا کہ پاکستان کے 90%گھرانوں میں میرا مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ہوگا۔انہو ںنے تائید کی۔ میں نے کہا کہ ’ پھر وہ بچہ کہاں سے سیکھتا ہے، اس کا ہولناک تصور کریں ، تو وہ کیٹگری دوست ، محلہ نکلتی ہے اس کے بعد اگلا ’ٹیوٹر ‘یا ’استاد‘جس پر وہ دوست اُسے لگا دیتے ہیں وہ یہ6 انچ کی اسکرین ہے ‘ جبکہ موبائل و انٹرنیٹ آمد سے قبل فلمیں ، CD ، DvD، کتب ، رسائل ہوا کرتے تھے ۔ انہوں نے اس کی بھی تائید کی ۔میں نے سمجھایاکہ جوبچہ بلوغت سے متعلق معلومات جن ذرائع سے لے رہا ہے وہی اصل زہر منتقل کر رہے ہیں جو اُن کی ’جنسی بھوک ‘بڑھا کر ’بے قابو ‘ کرتا ہے اور وہ آسان شکار اپنے ہی اطراف میں ڈھونڈتے ہیں ۔ تو یہ واقعات بڑھ رہے ہیں۔ہم اس تمام غلط معلومات کو جو فحش مواد یعنی پورن و گرافی کے ذریعہ ہمارے معاشرے کو آلودہ کر رہی ہیں جب تک نہیں روکیں گے کوئی کسی قسم کے حقوق کسی کو نہیں مل سکتے ۔
ذرا تصورکریں کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی ، افضل الانبیاء ، رہبر عالم، محسن انسانیت ﷺ، ہمارے پیارے محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کا ایک ایک ورق اپنی امت کی رہنمائی کے لیے کھول کر رکھ دیا۔ جو بات آپ اپنے والد سے نہین پوچھ سکتے و ہ آپ کے ہمارے محبوب رسول ﷺ نے کھل کر بیان کر دی صرف اسلیے کہ کہیں میری امت شیطان کے رستے پر نہ چلی جائے۔ یاد رہے، جان لیں کہ ’’فحش ، بے شرمی، بے حیائی آپ کے سب سے بڑے کھلے دشمن شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘آپ کی رہنمائی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنی خلوت جلوت ، تنہائی ، امہات المومنین ؓ کے ساتھ گزارے نجی لمحات بھی امت کو کھول کر بتا دیئے ۔ کیوں؟؟ کون سے ؟ کس نبی کے ؟ بلکہ دنیا کا کونسا انسان اپنی بیوی کے ساتھ اس حدکے تعلقات کو بیان کرتا ہے کہ کتابیں چھپ جائیں ؟ کون ؟یہ صرف وہی کرے گا جس کو مشن ہی یہی دیا ہو جس کے عمل کو ’خلق عظیم‘ قرار دیا گیا ہو۔ ذرا تصور کریں کہ اللہ کی کتاب میں میاں بیوی تعلقات پر ، طلاق، حیض جیسے ایشوز کو کتنا وضاحت سے ڈسکس کیا گیا ہے ؟ کیوں؟اس لیے کہ شیطان گمراہ نہ کر سکے ؟انہی آیات کو پڑھتے ہیں نماز میں ، تلاوت میں ، انہی کی تلاوت کی نیکیاںکماتے ہیں مگر عمل کی باری آئے گی تو فلموں پر جائیں گے کیا؟ یا کوئی انسان حقوق کے ادارے سمجھائیں گے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے کیسے کرنا چاہیے ۔آپ سوچیں کہ ایسے نبی کی امت میں ہیں جس نے آپ کو صرف کھانے ، پینے ، کپڑے پہننے ، گاڑی چلانے ہی نہیں بلکہ سیاست، جنگ حکومت، ریاست ، کاروبار، معیشت ، تعلیم، طب، انجینئرنگ سے لے کر پیشاب ، پیخانے، شادی ، ہمبستری ، حیض تک کے ایشوز کومکمل اہمیت دے کر سمجھایا ہے ۔ اس لیے کہ آپ کا دین کامل ہے ۔ مکمل ہے ۔کوئی ٹیڑھ نہیں ۔ کوئی بھی کمی کی گنجائش نہیں ۔ دنیا چاہے جتنی جدید ہو جائے ،جینیٹک سائنس ، سے لے کر جنس تبدیلی تک پہنچ جائے اس دین میں مکمل رہنمائی ہے ۔ یہی عافیت ہے ۔ یہی امن و سکون ہے ۔اس کو چھوڑ کر کچھ نہیں۔

حصہ