پاکستان اور مسئلہ کشمیر

49

عشرت جہاں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر کشمیر تاحال ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 1948ء میں پہلی مرتبہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کی شنوائی ہوئی اور اس سلسلے میں ابتدائی قراردادیں پاکستان اور بھارت سے پُرامن رہنے اور سلامتی کونسل سے تعاون کی اپیل پر مبنی ہیں سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے کمیشن بھی قائم کیا جسے اقوام متحدہ کمیشن برائے پاکستان و بھارت کا نام دیا گیا۔
بھارت شروع ہی سے مقبوصہ کشمیر کو کسی بھی فورم پر زیر بحث لانے کا روادار نہ تھا۔ تمام تجاویز اور قراردادوں کی ہمیشہ اس نے خلاف ورزی ہی کی کمیشن اور مقرر کیے گئے نمائندوں کی کوششیں کامیاب نہ ہونے دی گئیں بلکہ اس دوران ثالثی کی تمام پیشکش مسترد کردی۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور دوسری جانب بھارت کے آرمی چیف آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن اس کے باوجود سلامتی کونسل محض اظہار تشویش تک محدود ہے اس کی ذمہ داری اظہار تشویش تک محدد نہیں ہے اس ادارے کو مصالحانہ کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد اور ٹھوس و مؤثر اقدامات بھی کرنے ہوں گے وگرنہ کشمیریوں کے لیے اس ادارے کا وجود بے معنی ہیں۔ چنانچہ کشمیری عوام گزشتہ 7 دہائیوں سے اپنے خون سے آزادی کی شمع جلائے ہوئے ہے اور حق خود ارادیت کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں صرف اس امید پر ایک روشن صبح ان کے لیے آزادی کی نوید ضرور لے کر آئے گی۔ یہ جنگ لڑتے لڑتے خطہ کشمیر شہدا کے لہو سے سرخ ہو چکا ہے‘ 7 لاکھ سے زائد سیکورٹی فورسز اور افواج کی موجودگی میں نہتے مگر جانباز‘ دلیر اور باہمت کشمیری چٹان کی مانند کھڑے ہیں۔ سفاک بھارتی فوجی درندے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا ہر دائو آزماچکے ہیں۔ نہ انہوں نے خواتین کی عزت کا پاس رکھا نہ بچوں اور بزرگوں کی عمر کا‘ ان کے آگے جس نے آواز اٹھائی اور آزادی کی شمع جلائی اس پر ظلم و جبر کے پہاڑ دوڑ دیے‘ حق خود ارادیت مانگنا کوئی جرم یا گناہ کبیرہ نہیں کہ جس کی پاداش میں معصوموں کو اتنی سخت صعبوتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔ طویل ترین کرفیو نافذ کیا ہوا ہے۔ مغرب میں تو جانوروں کو قید و بند کیا جائے تو سینکڑوں افراد سڑکوں پر آجاتے ہیں مگر کشمیریوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جارہا‘ ان سے انسانی برتائو نہیں کیا جارہا۔ درندہ صفت مودی کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے۔ بھارت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو اپنے غاصبانہ تسلط سے جہنم زار بنا دیا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہے‘ وہاں بین الاقوامی طاقتوں اور مہذب جمہوری اقوام متحدہ کی توج بھی اس مظلوم خون میں رنگی وادی پر قابض بھارتی افواج اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے 73 سال سے جاری ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی کی طرف مبذول کروانا بھی ہے۔ شاید کہ اس طرح جمہوریت پسندی سیکولرازم کا نقاب اوڑھے درندوںکے چہروں سے نقاب اتر سکے۔
امریکا کی طرف سے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ناکامی کا اظہا رکیا گیا اس طرح برطانیہ کے ایک اخبار نے مودی سرکار کو ’’ہندو طالبان کی حکمرانی‘‘ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم کے فرمان کے مطابق اقلیتوں کو مذہب و نسل کی تفریق کے بغیر پاکستان میں درج تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جارہے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ عالم آگے بڑھے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و جبر کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں کشمیر کے مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں مگر پاکستان کو کشمیر کا معاملہ ہر فورم پر اٹھانا چاہیے بقول قائداعظم ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ تو جب تک وہاں امن نہیں ہوجاتا پاکستان بھی درد و کرب میں رہے گا۔ ظلم کے بادل کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہو ان شاء اللہ چھٹ کر رہے گا اور حق غالب آئے گا۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کی آزادی قریب ہے۔ بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں غیر معمولی طور پر زور پکڑ رہی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر دنیا کے نقشے پر آئے گا کیوں کہ پاکستان کا کشمیری عوام سے مضبوط رشتہ ہے جس میں دنیا کی کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی۔

حصہ