غزل

103

اشرف طالب

اپنے اسلاف کا بیان سمجھے
تو اگر پیار کی زباں سمجھے
اپنی خوش قسمتی نہ جانے کیوں
وقت کے ہاتھ میں نہاں سمجھے
اپنی کرنی کی وہ تو بھرنی تھی
تو جسے اپنا امتحاں سمجھے
میں تو پیغامِ زندگی لایا
میرے آنے کو رائیگاں سمجھے
جس نے سارا چمن اجاڑ دیا
ہم اسے پھر بھی باغباں سمجھے
میں محبت کا قصہ چھیڑتا ہوں
تو عداوت کو داستاں سمجھے
وہ تو کرتا ہے اپنی من مانی
بات طالب کی وہ کہاں سمجھے

حصہ