عقلمند شہزادى

54

محمد خبيب ياسر
کسی ملک میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا وہ بہت رحمدل دل اور نیک تھا-اس کی دو بیٹیاں تھیں بڑی بیٹی کا نام بارعہ، وہ بہت مغرور تھی جبکہ چھوٹی بیٹی کا نام باسمہ تھا، وہ بادشاہ کی طرح بہت رحم دل تھی-باسمہ بارعہ سے بالکل مختلف تھى- بارعہ اتنى عقلمند نہ تھی،جتنی کہ باسمہ-بادشاہ ہر وقت سوچتا رہتا کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے کس کو سلطنت جیسی مشکل ذمہ داری سونپے-
بادشاہ کو پریشان دیکھ کر آخرکار اس کے پرانے وزیر نے ايک دن اس سے پوچھ ہى ليا
“حضور آپ کیوں پریشان رہتے ہیں؟”
بادشاہ جو اپنے وزير پر بہت بھروسہ رکھتا تھا، جواب دیا
“میں سوچتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے کس کو سلطنت کا وارث بنایا جائے؟”
وزیر نے کچھ دن سوچ کر بادشاہ کو ایک ترکیب بتائی جو اسے بہت پسند آئی-بادشاہ نے اگلے ہى روز اپنی دونوں بیٹیوں کو بلوایا اور دونوں کو ايک ايک سيب ديتے ہوئے بولا
“میں یہ سيب تم دونوں کو دیتا ہوں- تم دونوں اس کو ایسی جگہ چھپاؤ،جہاں کسی کو بھی نا پتا چل سکےاور ہاں تم دونوں الگ الگ جانا-اچھا اب جاؤ”
کچھ دن بعد جب دونوں بیٹیاں محل میں پہنچیں تو بادشاہ نے اپنی بڑی بیٹی سے پوچھا کہ پہلے تم بتاؤ تم نے سیب کہاں چھپایا؟ باسمہ نے بڑى پرجوش ہوکر کہا کہ یہاں سے دو ہزار میٹر کے فاصلے پر ایک جنگل میں گڑھا کھود کر چھپایا ہے،اب کوئى اس تک نہيں پہنچ سکتا”
بادشاہ نے اپنی چھوٹی بیٹی باسمہ سے بھی جب یہی سوال کیا تو وہ ذرا پریشان دکھائى دى اور بولی
“بابا سلامت میں کہاں چھپاتى جہاں جاتی وہاں میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہوتا-اس لئے میں نے سيب نہیں چھپایا”
يہ کہتے ہے اس نے سيب بادشاہ کو واپس کرديا-
بادشاہ باسمہ کى بات سن کر بہت خوش ہوا اور بارعہ نے شرمندگى نے سر جھکا ليا-
اور پھر باسمہ کى عقلمندى پر اسے سلطنت کا وارث بناديا گيا-

حصہ