دیدار

169

ڈاکٹر افتخار کھوکھر/ مرتب اعظم طارق کوہستانی
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میں میٹرک کے امتحان سے فارغ ہو کر بڑے بھائی اکرام صاحب کے ہاں لاہور گیاہواتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ۱۹۷۰ء کے پہلے عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکاتھا ۔
مجھے ابتدائی عمر میں روزنامہ مشرق لاہور ، روزنامہ امروز لاہور اور روزنامہ ندائے ملت لاہور جبکہ ہفت روزہ زندگی ، ہفت روزہ قندیل اور ہفت روزہ لیل و نہار کے مطالعہ پر دسترس حاصل ہوگئی تھی۔ لاہور پہنچا تو وہاں محلے کی لائبریری میں روزنامہ مساوات اور ہفت روزہ شہا ب سے واسطہ پڑا۔ یہ دونوں پرچے اسلامی سوشلزم کی علمبردار سیاسی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کی ترجمانی کرتے تھے۔
ہفت روزہ شہا ب کے ایڈیٹر کوثر نیازی تھے۔ وہ ہر ہفتے جماعت اسلامی اور خاص طور پر اس کے امیر، سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی ذات پر انتہائی غلیظ حملے کرتے تھے۔ مجھے ہفت روزہ شہاب کی شہ سرخیاں اور اداریے پڑھ کر مولانا مودودیؒ سے نفرت کی بجائے ہمدردی سی محسوس ہونے لگی ۔ میں سوچتا تھاکہ یہ کون شخصیت ہے جس کی اتنی زیادہ توہین اور تذلیل کی جارہی ہے۔
یہ ۱۹۷۰ء کے موسم گرماکے دن تھے۔ مون سون کی بارشوں کاسلسلہ بھی جاری تھا۔ اُن دنوں میرے خالہ زاد بھائی محمدنصیر شائق بھی میٹرک کے امتحان کے بعد مکھن پورہ لاہور میں اپنے بڑے بھائی محمدحنیف کے ہاں قیام پذیر تھے۔ ہمارے اور ان کے گھر کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ اس لیے روزانہ ملاقات اور گپ شپ ہوتی تھی۔ میری طرح محمدنصیر کو سیر وتفریح کا بہت شوق تھا۔ اُن دنوں لاہور میں اومنی بس سروس کی ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں۔ ان بسوں کامین سٹاپ لاہور ریلوے اسیٹشن کے قریب تھا۔
ہماری رہائش ریلوے اسٹیشن سے زیادہ دور نہیں تھی۔ اس لیے تانگے پر سفر کی بجائے اکثر وبیشتر پیدل ہی ریلوے اسٹیشن کا سیڑھیوںوالا پل عبور کرکے اومنی بس سروس کے اڈے پر پہنچ جاتے تھے۔ اُن دنوں بسوں کاکرایہ آنوں اور پیسوں میں ہوتاتھا،اس لیے ہم کسی روز شالا مار باغ دیکھنے نکل جاتے تھے۔ کبھی مقبرہ جہانگیر اور کبھی بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ دیکھنے چلے جاتے تھے۔
٭…٭
روزانہ اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے نتیجے میں ’’مساوات ‘‘ اور ’’شہاب ‘‘ کی جانب سے مولانا مودودیؒ کے خلاف غلیظ پروپیگنڈے کی وجہ سے میرے دل میں خواہش پیداہوئی کہ لاہور شہر کے سیر سپاٹے کے دوران مولانامودودی ؒ سے ملاقات کرکے دیکھا جائے کہ کیا وہ واقعی اتنی بڑی شخصیت ہیں جس کااظہار ’’مساوات ‘‘ اور’’شہاب ‘‘ کی جانب سے کیاجاتا ہے۔
ہمارے محلے کے آخر میں ایک دکان پر ’’دارالمطالعہ جماعت اسلامی ‘‘کابورڈ لگاہواتھا۔ میں اپنے خالہ زاد بھائی محمدنصیر کے ساتھ وہاں گیا اور دارالمطالعہ کے انچارج سے پوچھاکہ مولانامودودی ؒ لاہور میں کس جگہ رہتے ہیں۔ دارالمطالعہ کے انچارج نے ہمیں بتایا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب اومنی بس سروس کے اڈے سے بسیں اچھرہ جاتی ہیں۔ وہاں کاایک سٹاپ ’’اچھرہ موڑ ‘‘کہلاتا ہے۔ آپ وہاں اتر کر کسی سے ۵۔اے ذیلدار پارک کا پوچھ لیں وہ آپ کو بتا دے گا ۔ مولانا مودودی ؒ کی رہائش اسی جگہ واقع ہے۔
۱۹۷۰ء کے آغاز میں میرے بڑے بھائی محمداقبال جو سیالکوٹ میں ہائی سکول کے ہیڈماسٹر تھے۔ انہوںنے فرینڈز آرٹ پریس لاہور کی شائع شدہ ۱۹۷۰ء کی ’’فرینڈز ڈائری ‘‘تحفہ میں دی تھی۔ اس تحفہ کے نتیجے میں ،میں نے روزانہ ڈائری لکھنے کاآغاز کردیا۔ہرروز ذاتی معمولات ومصروفیات کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اس دن کے اخبارات کی شہ سرخیوں کو بھی اپنی ڈائری کی زینت بنایا کرتاتھا۔
۳۱اگست ۱۹۷۰ء میری زندگی کایاد گاردن ہے۔ جس روز میں نے خالہ زاد بھائی محمدنصیر شائق کے ساتھ اچھرہ لاہورجا کر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔
فرینڈز ڈائری کے صفحہ ۳۱؍اگست پر اس کی روداد کچھ اس طرح سے درج ہے۔ ’’دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد تین بجے سہ پہر میں اور نصیر شائق ریلوے اسٹیشن تک پیدل اور اس کے بعد اومنی بس سروس کے ذریعے اچھرہ موڑ پہنچے۔ وہاں ایک دکاندار سے ۵۔اے ذیلدار پارک کامعلوم کیا۔ اس کی رہنمائی کے نتیجے میں ہم بہت جلد جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی دفتر پہنچ گئے۔
وہاں دفتر کے سرسبز لان میں صفیں بچھی ہوئی تھیںاور نماز عصر اداکی جارہی تھی۔ نماز کے بعد صفوں کے شروع میں ایک آرام دہ کرسی رکھی گئی اور لوگ لان کے دائیں جانب برآمد ے کی جانب منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ ہم بھی حیرت کے مارے اسی جانب دیکھ رہے تھے ۔ تھوڑی دیر میں سفید براق لباس اور سر پر سفید ٹوپی پہنے ہوئے نورانی چہرے والی ایک شخصیت خراماں خراماں برآمدے سے سرسبز لان کی جانب بڑھنے لگی ۔ کچھ ہی دیر میں وہ شخصیت لان میں داخل ہوئی اور بلند آواز میں ’’السلام علیکم‘‘کہہ کر آرام دہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
چودھویں کی رات سے چاند کی نورانی کرنوں کی طرح چمکتے دمکتے چہرے والی شخصیت ہی مولانا مودودی تھے۔ جن کے خلاف ہر روز ’’مساوات ‘‘اور ہر ہفتے ’’شہاب ‘‘ میں انتہائی غلیظ پروپیگنڈے سے واسطہ پڑتاتھا۔ میں اور نصیر مولانا مودودی ؒ کی آمد سے پہلے ان کی کرسی کے قریب بیٹھ گئے تھے ۔ اسی لیے ان کی دھیمے انداز میں کی جانے والی ساری گفتگو بہت شوق اور دلچسپی سے سن رہے تھے۔ دوران گفتگو ایک صاحب نے مولانا مودودی ؒ سے کہاکہ ان دنوں ’’شہاب ‘‘ کے ذریعے آپ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس لیے خیال رکھیںکہ یہاں کوئی ’’شہابی گوریلا ‘‘ حملہ کرنے نہ آجائے۔ اس کے جواب میں مولانا مودودی ؒنے مسکرا کر جواب دیاکہ میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ اس لیے کوئی انسان ہو یا گوریلا ، میں اس سے کیوں ڈروں گا۔
اس کے بعد صوبہ سرحد سے آئے ہوئے وفد کے نمائندے نے صوبہ کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس طرح سوال و جواب کاسلسلہ جاری تھا کہ نماز مغرب کاوقت ہوگیا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد اچھرہ موڑ سے اومنی بس کے ذریعے ریلوے اسٹیشن اور وہاں سے پیدل مکھن پورہ اپنی رہائش گاہ پر پہنچے۔ ‘‘
جماعت اسلامی سے میرا باضابطہ رابطہ ۱۹۷۳ء کے تباہ کن سیلاب کے دنوں میں ہواتھا۔ اس سیلاب کے نتیجے میں صوبہ سرحد اور صوبہ پنجاب کے بستیوں کی بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئی تھیں۔ انہی دنوں اخبارات کے صفحہ اول پر جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اشتہار شائع ہوا۔
ہمارے قصبہ کلاس والہ ضلع سیالکوٹ میں ایک صاحب ثروت شخصیت حاجی نور الٰہی صاحب تھے ۔ وہ خیر کے کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیاکرتے تھے۔ انہوںنے مجھے اور چند دیگر نوجوانوں سے کہاکہ گلی محلے میں جا کر لوگوں سے اضافی کپڑے اور سامان جمع کریں تاکہ سیلاب زدگان کی مدد کی جائے۔ ہم چار پانچ نوجوانوں نے دن رات محنت کرکے اتنا سامان جمع کرلیاکہ اس کو سیلاب زدگان تک پہنچایاجاسکتاتھا۔ قصہ مختصر یہ کہ سیلاب زدگان کی امداد کے دوران پتہ چلا کہ حاجی نور الٰہی صاحب کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور وہ نوجوانوں کی مدد سے کلاس والا میں جماعت اسلامی کے کام کاآغاز کرناچاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسلامی جمعیت طلبہ سے پہلے جماعت اسلامی میں شامل ہوا۔ اور اس کے ایک سال بعد اسلامی جمعیت طلبہ ضلع سیالکوٹ کے ناظم عبدالقدیر راہی کی کوششوں سے اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوا۔
مارچ ۱۹۷۴ء کو زیر تعمیر مرکز منصورہ میں جماعت اسلامی کاکل پاکستان اجتماع ارکان ہوا۔ حاجی نور الٰہی صاحب ہم نوجوانوں کو بھی اس اجتماع میں لے گئے۔ لیکن ہمیں اس اجتماع کے عام اجلاس میں شرکت کاموقع ملا، جس میں مولانا مودودیؒ نے اپنی علالت کے باوجود ارکان جماعت سے خطاب کیاتھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت کے بعد اکتوبر ۱۹۷۴ء کو مرکز منصورہ کی زیر تعمیر جامع مسجد کے وسیع و عریض احاطہ میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ ظفر جمال بلوچ صاحب ناظم اعلیٰ کے پُر زور اصرار پر مولانا مودودی جمعیت کے سالانہ اجتماع میں تشریف لائے۔ اس موقع پر انہوںنے ’’دور نو کا چیلنج اور نوجوان ‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔ جس کی ریکارڈنگ میں نے حاجی نور الٰہی صاحب کے مہیاکردہ ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے کی۔ بعد میں اس تقریر کو ادارہ مطبوعات طلبہ نے پمفلٹ کی صورت میں شائع کردیاتھا۔
جون ۱۹۷۵ء کو مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کلاس والا کی جانب سے ماہانہ ’’پیغام ‘‘ سائیکلو سٹائل میں شائع کرنے کااعزاز حاصل ہوا۔ ۱۹۷۸ء میں ناظم لاہور ڈویژن میاں محمودالرشید صاحب نے مجھے لاہور ڈویژن میں منتقل کردیا۔ اس طرح ’’پیغام ‘‘ لاہور سے شائع ہونے لگا۔ اب تو ہر روز مجھے ظہر ، عصر ،مغرب اور عشاء میں ۵۔اے ذیلدار پارک جاکر مولانامودودی کے ہاں نمازوں کی صورت میں ملاقاتوں کے مواقع ملنے لگے۔ یہ سلسلہ مولانا مودودی ؒ کی علاج کی غرض سے امریکہ روانگی ، مئی ۱۹۷۹ء تک جاری رہا۔ انہی دنوں دیگر رفقائے جماعت و جمعیت کی طرح مجھے بھی تین بار یہ موقع ملا کہ مولانا محترم علالت کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے۔ اس لیے دنیا کی عظیم مرتبہ شخصیت کی موجودگی میں نماز کی امامت کا شرف حاصل ہوا۔
جولائی ۱۹۷۹ء کو مرکز جمعیت نے مجھے صوبہ پنجاب سے کراچی مرکز میں معاون مدیر ’’ہمقدم ‘‘ کے طور پر بلا لیا ۔ یہ سب کچھ مدیر ہمقدم کلیم بیگ چغتائی صاحب کاکیا کرایاتھا۔ وہ اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد جمعیت سے فارغ ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے اپنی فراغت سے چند ماہ قبل کسی فرد کو اپنے زیر تربیت رکھ کر ’’ہمقدم ‘‘کی ادارت منتقل کرناچاہتے تھے۔
کلیم چغتائی صاحب سے ہر ماہ ’’پیغام ‘‘ کی وجہ سے رابطہ رہتاتھا۔ اس لیے انہوںنے ناظم اعلیٰ لیاقت بلوچ صاحب سے میری منتقلی کا مطالبہ کیا۔ اس طرح اطاعت نظم کی خاطر ہم بیٹھے بٹھائے پاکستان کے دل لاہور سے روشنیوں کے شہر کراچی منتقل ہوگئے۔ کراچی پہنچے ابھی دو اڑھائی ماہ ہی ہوئے تھے کہ ستمبر کے وسط میں بفیلو امریکا جہاں مولانامودودیؒ اپنے بیٹے ڈاکٹر احمدفاروق کی زیر نگرانی زیر علاج تھے ۔ یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ مولانا محترم کی طبیعت بحال ہونے کی بجائے مزید خراب ہو رہی ہے۔ پاکستان ہی نہیں دنیابھر میں مولانا محترم کی صحت و زندگی اور شفائے کاملہ و عاجلہ کی دعائوںکا سلسلہ جاری تھا کہ ۲۲ ستمبر کو امریکہ سے یہ روح فرسا خبر آئی کہ مولانا محترم اس دنیائے فانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے ہیں۔
تحریک کے ہرہر فرد کے لیے یہ اس کاذاتی غم، دکھ اور درد تھا۔ مولانامحترم کی انتقال پُر ملال کی خبر کے بعد اطلاع ملی کہ ان کے جسد خاکی کو پاکستان لایاجائے گا اور لاہو رمیں تدفین کی جائے گی۔
یہ وہ لمحات تھے جب میں سوچ رہاتھا کہ کاش میں کراچی کے بجائے لاہور میں ہوتا۔ اس طرح ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت کرلیتا۔ دن بھر اسی دکھ اور ملال میں گم سم تھاکہ اطلاع ملی کہ مولانا محترم کے جسد خاکی کو براستہ کراچی ائیرپورٹ ،لاہور لے جایا جائے گا۔ مولانامحترم کے جسد خاکی کو یہ اعزاز حاصل ہواکہ دنیا کے تمام براعظموں میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور آخر میں لاہور سے قبل اہل کراچی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہو رہاتھا کہ وہ مولانا مولانا محترم کے نماز جنازہ میں شرکت کرسکیں۔
۲۵ستمبر ۱۹۷۹ء کو صبح ساڑھے دس بجے مولانا محترم کا جسد خاکی کراچی ائیرپورٹ پر پہنچا تو اس سے پہلے ہی تاحد نگاہ ہزاروں لوگ ان کاآخری دیدار کرنے کے لیے بے چین و بے قرا ر تھے۔ عقیدت مندوں کاایک سیلاب تھا کہ اُمڈ ا چلا آ رہاتھا ۔ اس لیے یہ طے ہواکہ جس گاڑی پر جہاز سے مولانا محترم کا جسد خاکی منتقل کیاگیاہے ۔ ہجوم عاشقان کی وجہ سے دیدار ممکن نہیں ہے۔ اس لیے امیرجماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد صاحب نے اسی طرح نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے۔
دنیائے اسلام کی وہ عظیم ہستی جس کاپہلا دیدار میری آنکھوں نے ۳۱ اگست ۱۹۷۰ء کو ۵۔ اے ذیلدا ر پارک اچھرہ لاہور کے سرسبز لان میں کیاتھا ،تقریباً دس سال ایک ماہ کے بعد اس عظیم ہستی کے دیدار سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔ بے شک جو ذی روح اس دنیائے فانی میں آتی ہے ، اس نے ایک روز دنیائے بقا کی جانب رخصت ہوجانا ہے۔

اسلامی نظام زندگی

اسلامی نظامِ زندگی کو برپا کرنا ایسا کام ہے جس میں کوئی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط اور گہرا نہ ہو اس کی نیت خالصتاً اللہ ہی کے لیے کام کرنے کی نہ ہو۔

عالمگیر برادری

تمام دنیا میں ہر قوم، ہر ملک کے لیے اور ہر زبان بولنے والوں کے لیے اذان اور نماز کی ایک ہی زبان ہونا وہ عظیم الشان قوت رابطہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت اور عالمگیر برادری بناتا ہے۔
سید مودودیؒ
٭…٭

حصہ