دوسروں کا احساس ہونا انسانیت کی نشانی ہے

832

افروز عنایت
نئے کالم کے لیے میری نظریں اِدھر اُدھر دوڑتی رہتی ہیں چاہے منفی پہلو سامنے آئے یا مثبت۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو موضوع مجھے نظر آتا ہے اُس پر پہلے سے لکھ بھی چکی ہوتی ہوں، لیکن جو صورتِ حال مجھے سامنے نظر آتی ہے وہ میرے قلم کو جھنجھوڑتی ہے اور میں مجبور ہوجاتی ہوں کہ کچھ آپ سب سے شیئر کروں۔
میرے دین کی ہر بات حکمت سے پُر ہے، حسنِ معاشرت کے ہر پہلو کو بڑے خوبصورت انداز میں سمجھایا گیا ہے، بلکہ عملی طور پر اس کی عکاسی کی گئی ہے۔ آپؐ اور صحابہ کرامؓ کی زندگی ایسے واقعات سے منور ہے جہاں آپؐ نے اور صحابہ کرامؓ نے اپنی ذات کو تکلیف میں رکھ کر سامنے والے کے ساتھ بھلائی کی، بلا تفریق، چاہے سامنے والا مسلمان ہو یا کافر… آپؐ کے اسی حسنِ سلوک سے سامنے والا نہ صرف آپؐ کی ذاتِ اقدس کے گن گاتا، بلکہ کلمہ طیبہ پڑھنے پر مجبور ہوجاتا۔ (سبحان اللہ)
٭…٭
پچھلے دنوں ایک پڑوسی کی شادی میں شرکت کا موقع ملا، اتفاقاً ہال بھی گھر کے سامنے ہی تھا، لہٰذا تمام پڑوسی پیدل ہی ہال میں پہنچ گئے۔ ان پڑوسیوں میں سے ایک خاتون (جو دینِ اسلام کی تبلیغ سے بھی منسلک ہیں) کی طبیعت سخت ناساز ہوگئی۔ وہ خاتون ویسے ہی دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، انہیں فوراً دوائی لینی تھی جس کے لیے گھر پہنچنا ضروری تھا۔ پڑوسی خواتین میں سے ایک خاتون نے ہال میں موجود ایک لڑکے کو (جو گاڑی کی چابی ہاتھ میں لیے اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا) بلایا اور درخواست کی کہ مریضہ کو قریبی ان کی رہائش گاہ میں پہنچانے کے لیے ہماری مدد کریں، لیکن اس لڑکے نے بڑی بے حسی کا مظاہرہ کیا (جبکہ وہ موصوفہ کی حالت دیکھ بھی رہا تھا)، کہا کہ میں ابھی آتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہوگیا۔ چند لمحے تو خواتین نے اُس کا انتظار کیا، آخر مجبور ہوکر سڑک سے ایک رکشہ کرواکر لائیں اور بیمار خاتون کو اُن کے گھر پہنچایا۔ میں نے جب یہ واقعہ سنا تو پڑوسی خواتین کے ہمدردی اور محبت کے سلوک نے جہاں خوش اور متاثر کیا، وہیں اُس لڑکے کی بے حسی پر افسوس بھی ہوا کہ جو اس بیمار خاتون کے لیے پانچ منٹ بھی نہ دے سکا…
…………
صنوبر کی شادی کو چند ماہ کا ہی عرصہ ہوا تھا، لیکن سسرالیوں کا رویہ بڑا تلخ تھا جسے وہ برداشت کرنے پر مجبور تھی، خصوصاً جب وہ حاملہ ہوئی تو اس کی طبیعت بگڑ گئی (عموماً پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کے ساتھ یہ صورتِ حال پیش آتی ہے، اسے موقعوں پر ان کی رہنمائی کرنے اور دیکھ بھال کرنے والا کوئی ہو تو اچھی بات ہے)، وہ جیسے تیسے کوشش کررہی تھی کہ گھر کے کام کاج میں تھوڑا بہت ہی ہاتھ بٹائے۔ ایک دن اس کی طبیعت سخت خراب تھی، شوہر بھی شہر سے باہر تھا، گھر والوں کی بے حسی یہ کہ کسی نے آکر پوچھا نہیں کہ اُس نے کچھ کھایا بھی ہے یانہیں۔ مجبوراً وہ خود اٹھ کر کچن میں آئی کہ کچھ ہو تو کھالے، لیکن جیسے ہی اس نے دیگچی کا ڈھکن کھولا تو پیچھے سے ساس اور نند آگئیں، اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی ’’بیگم صاحبہ کچھ ہاتھ پیر خود بھی چلائو اور اپنے لیے بنائو، یہ کھانا ہم نے اپنے لیے رکھا ہے تمہارے لیے نہیں۔‘‘ صنوبر کی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو آگئے، وہ پلٹ کر کمرے میں آگئی اور پلنگ پر ڈھے گئی۔
٭…٭
مذکورہ بالا یہ دو تصویریں میں نے آپ کے سامنے رکھیں۔ اس قسم کے بہت سے واقعات اپنے آس پاس نظر آتے ہیں اور حساس لوگ افسوس کرتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ان واقعات کو دیکھ کر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں کہ کچھ تو تلافی ہوجائے، جیسا کہ اوپر بیان کی گئی پہلی مثال میں خواتین نے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ مجھے افسوس اُس وقت ہوتا ہے کہ اکثر سامنے والے کی مدد کرنے کی طاقت اور حیثیت رکھتے ہوئے بھی بے رخی برتی جائے اور اسے تکلیف میں چھوڑ دیا جائے۔ ہم ٹی وی کے ڈراموں میں المیہ مناظر دیکھ کر آنسو تو بہا لیتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں اتنی سرد مہری کا برتائو…!
٭…٭
آپؐ اور صحابہ کرامؓ کو اکثر ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا۔ وہ اپنے آپ کو تکلیف میں رکھ کر دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے۔ انہیں دوسروں کی تکلیف کا احساس اپنی ذات سے زیادہ محسوس ہوتا۔ دوسرے کی تکلیف پر بے حسی کا مظاہرہ ’’انسانیت‘‘ کی علامت نہیں ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے، دوسروں کا احساس کرنا ہی اس اشرف المخلوقات کی ایک بڑی خوبی ہے، اسی احساس کی بدولت وہ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے اور دعائیں بھی حاصل کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ اپنے دورِ خلافت میں حسبِ معمول شہر کے حالات معلوم کرنے کے لیے رات کو گشت کررہے تھے، ایک جگہ سے گزرے تو ایک کیشہ سے کسی عورت کے کراہنے کی آواز آرہی تھی، معلوم کیا تو اس کے شوہر نے بتایا کہ اس کی زوجہ کے یہاں بچے کی ولادت ہونے والی ہے جس کے درد کی وجہ سے وہ کراہ رہی ہے اور کوئی دیکھ بھال کرنے والی خاتون نہیں۔ آپؓ فوراً گھر پہنچے، بیوی کو ساتھ لیا اور اس حاملہ خاتون کے گھر چھوڑا کہ اس کی مدد اور دیکھ بھال کرو۔ تمام رات امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ اور ان کی زوجہ محترمہ وہاں موجود رہے۔ صبح اجالا ہوا، وہ عورت زچگی سے فارغ ہوچکی تھی، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی زوجہ محترمہ کو لیا اور گھر واپس آئے، تب گھر کے مکینوں کو پتا چلا کہ ان کی مدد کرنے والی معتبر ہستیاں کون تھیں۔ سبحان اللہ… یہ وتیرہ اور طریقۂ عمل ہے ایک مسلمان مومن کا… نہ صرف دوسرے کا احساس بلکہ اپنی ذات کو تکلیف میں رکھ کر سامنے والے کی مدد کی۔ اس واقعے کا موازنہ اوپر بیان کیے ہوئے واقعے سے کررہی تھی کہ اتنی بے حسی اور خودغرضی آج چاروں طرف نظر آرہی ہے۔ احادیثِ مبارکہ ہمیں انسانیت کا درس دیتی ہیں۔ کامل مسلمان ہی اُسے کہا گیا ہے جو دوسروں کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ہر خیر اور بھلائی جو اپنے لیے چاہتا ہے وہ دوسرے انسان کے لیے بھی چاہتا ہے۔
آپؐ کی حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’سارے کے سارے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جب جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم دُکھتا ہے۔‘‘ اسی طرح کوئی مسلمان تکلیف میں ہو تو اس کا درد ہمیں محسوس ہونا چاہیے، نہ صرف یہ، بلکہ اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے آگے بھی بڑھنا چاہیے۔ آپؐ کی دی ہوئی اس تعلیم کی بدولت معاشرتی زندگی میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، ایک دوسرے پر اعتماد، ہمدردی اور محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل میں بھی یہی خوبی پیدا کرنی چاہیے کہ وہ کسی کے درد کو محسوس کریں اور دوسروں کی تکالیف کو دور کرنے کی کوشش کریں، خصوصاً گھروں میں بچوں کی اچھی تربیت کے لیے والدین اور بزرگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صرف اچھا کھلانا، پلانا، پہنانا یا بڑے اسکول و کالجوں میں بچوں کو تعلیم دلوانا ہی والدین کی ذمہ داری نہیں، بلکہ بہترین تربیت کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے، اور اس چیز کی تربیت گھر سے ہی شروع کروا دینی چاہیے۔ مثلاً گھر کے بزرگ اگر بیمار ہیں یا انہیں خدمت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے تو بچوں کو اس کا احساس دلانا چاہیے، ان کی خدمت کے لیے بچوں کے ذہنوں کو استوار کرنا چاہیے۔ بچوں کے ذہنوں میں انسانیت کے جذبات پیدا کرنے سے گھر کے ماحول میں پیار و محبت کی فضا استوار ہوتی ہے، ایسی ہی اولاد بڑھاپے میں والدین کا بھرپور انداز میں خیال رکھتی ہے، ان کی ذرا ذرا سی تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرتی ہے، اور یقینا ایسے ہی لوگ اپنے آس پاس رہنے والوں کی تکالیف سے بھی بے خیر نہیں رہتے، انہیں دوسروں کا احساس بھی اتنی شدت سے ہوتا ہے جسے اپنوں کا… خدا ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔

حصہ