بھاری بستے اور ہمارے طلبہ

42

راحیلہ مغل
یوہان کا تعلق چین سے ہے اس کی عمر محض دس برس ہے وہ اس وقت صرف ایک برس کا تھا جب اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا جب کچھ بڑا ہوا تو اس نے اپنی معذوری کو ذہنی معذوری نہیں بننے دیا دیگر ہم عمروں کو اسکول جاتے ہوئے دیکھ کر اس کے اندر بھی علم کے حصول کا جذبہ بیدار ہوا،اس نے اسکول جانے کو اپنا معمول بنا لیا،اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ ہونے والے اس باہمت بچے نے نہ تو ہوم ورک نہ کرنے کا لنگ تراشا اور نہ ہی کسی بہانہ سازی سے کام لیا،وہ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے بل کھڑا ہو کر ان ہتھیلیوں پر چل کر اسکول جانے لگا ،اسکول پہنچنے میں اسے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا اس کی ہم سفر اس کی ایک بہن ہوتی جو اس کا بستہ اْٹھاتی جب کبھی وہ تھک جاتی تو تھوڑا سستانے کے بعد دونوں بہن بھائی دوبارہ عازم سفر ہوتے۔
یوں اسکول جانے میں اسے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا۔
یہ واقعہ بظاہر ایک ہمت وعظمت کی داستان ہے لیکن وطن عزیز میں ہمارے انتہائی کم عمر نو نہال کتابوں کے بھاری بھرکم عمر نو نہال کتابوں کے بھاری بھر کم بیگوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،سورج طلوع ہوتاہے تو ہمیں وطن عزیز کی شاہراہوں پر نو نہالوں کے قدم درسگاہوں کی جانب اٹھتے نظر آتے ہیں،ان کی کمر کے ساتھ لٹکے بستے کے وزن سے کندھے جھکے ہوتے ہیں،پک اینڈ ڈراپ دینے والی گاڑیوں کی چھتوں اور سامنے لگے لوہے کے راڈ بستوں سے بھرے ہوتے ہیں۔
چھٹی کلاس کے طالب علم کی عمر 11سے12برس اور وزن 30سے 32کلو ہوتاہے،پانچویں کلاس کے ایک طالب علم کی عمر 10سے 11برس بچے کا وزن صرف 28سے 30کلو گرام تک ہوتاہے ،چوتھی کلاس کے بچے کا وزن جس کی عمر 9سے 10برس کے درمیان ہوتی ہے جبکہ کا وزن 24سے 26کلو گرام تک ہوتاہے۔
سوئم کلاس کے 8تا 9سال کے بچے کا وزن 22سے 25کلو تک ہوتاہے اسی طرح دوسری کلاس کے بچے کی عمر 7تا 8سال ہوتی ہے اس کا وزن 20تا 22کلو ہوتاہے۔
پہلی کلاس کے بچے کی عمر 6تا 7برس اور وزن 16سے 18کلو ہوتاہے جبکہ کے جی کے 5تا 6سال کے بچے کا وزن 14سے16کلو تک ہوتاہے۔
ان پر کتابوں کا وزن بلحاظ عمر اور وزن زیادہ ہوتاہے۔اسکول بیگ کا وزن بچے کے وزن کا 15فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے لیکن ان کے جھکے ہوئے کندھوں پر بیگز کا وزن دیکھ کر یوں محسوس ہوتاہے جیسے وہ گھر کی دہلیز کسی سزا کے تحت پار کر رہے ہوں۔

حصہ