اور خط مل گیا

197

۔’’میں سب کا ہوں، میرا کوئی بھی نہیں۔ تم اچھے ہو، تمہارا خیال کرنے والے موجود ہیں، ہر شخص تمہیں دل و جان سے چاہتا ہے۔ کشادہ سڑکیں، انڈر بائی پاس، فلائی اوور، بہترین ٹرانسپورٹ اور پھولوں سے سجے خوبصورت پارک تمہارا مقدر ہیں… جبکہ میرے نصیب میں وہی خستہ حالی، وہی کچرے سے اَٹے محلے، ٹوٹی پھوٹی خاک اڑاتی سڑکیں، ابلتا سیوریج سسٹم، تباہ حال تفریحی مقامات… اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کودیکھ کردل خون کے آنسو روتا ہے۔ میری مثال تو اُس گائے کی سی ہے جس سے دودھ تو سبھی حاصل کررہے ہیں لیکن چارہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
یار! تمہیں یاد ہے جب سارے پاکستان سے لوگ میری خوبصورتی دیکھنے آتے تھے اُس وقت میں پھولے نہ سماتا۔ جب لوگ میری ترقی کی تعریفیں کرتے تھے تب تم بھی اسی طرح گلے شکوے کیا کرتے تھے جس طرح آج میں کررہا ہوں۔ اُس وقت تمہاری جو کیفیت تھی، وہی آج میری بھی ہے۔ دیکھو برا نہ ماننا، جب لوگ کہتے ہیں کہ ’’لور لور اے‘‘ (لاہور لاہور ہے) تو میرے دل پر خنجر چلتے ہیں۔ ترقی کرنا تمہارا بھی حق ہے، لیکن اپنے اجڑنے کا غم زیادہ ہی ہوا کرتا ہے۔ تم میرے بھائی ہو اسی لیے تم سے اپنے دل کی باتیں کرلیتا ہوں۔ میں اپنے دل کی باتیں تمہیں نہ سناؤں تو کس کو سنائوں! تمہارے یہاں میٹرو بس چلتی ہے، اور اورنج ٹرین بھی چلائی جارہی ہے، جبکہ میرے آنگن سے پبلک ٹرانسپورٹ کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ جب تمہارے یہاں خوبصورت پارک بنائے جارہے تھے تو میرے ہاں خوشبو بکھیرتے پارکوں پر قبضے کیے جارہے تھے۔ جب تمہارے یہاں اورنج ٹرین چلانے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا، تب یہاں سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قابضین بٹھائے جارہے تھے۔ کس طرح میری زمینوں پر قبضے کیے گئے یہ میں ہی جانتا ہوں۔ قبضہ مافیا کی جانب سے میرے سینے کو چیر کر ناجائز تعمیرات کی گئیں، مجھ پر ایک سے بڑھ کر ایک وار کیا گیا، اور لوگ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے، مجھ سے وفاداری نبھانے کے لیے اگر کسی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی بھی، تو اُس کی آواز ہمشہ کے لیے بند کردی گئی۔ آگ اور خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی جس نے میرا دامن جلا ڈالا۔ خودغرضی، لالچ اور ناجائز ذرائع سے پیسہ کمانے کی دھن میں مجھے بہت ڈسا گیا ہے۔ میرا جسم  زخموں سے چُور چُور ہے، مجھے کسی ایسے   مسیحا کی ضرورت ہے جو نہ صرف میرے جسم بلکہ میری روح کا بھی علاج کرے۔
فقط والسلام کراچی‘‘
…………
’’میرے بھائی کراچی! دل چھوٹا نہ کرو، ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا، تمہاری بھی شنوائی ہوگی اور تمہیں وہ کھویا ہوا مقام ضرور حاصل ہوگا جو تمہاری وجہِ شہرت تھا۔ یقینا تم ایک مرتبہ پھر پُرامن، اور روشنیوں کے شہر کے طور پر جانے جاؤ گے۔ پریشان نہ ہو، جب مجھ جیسے شہر کی حالت بدل سکتی ہے تو تم پر بھی اچھے دن ضرور آئیں گے، ایک عرصے بعد کچرا کنڈی کی حالت بھی تبدیل ہوجاتی ہے، اور تم تو وہ ہو جس نے لوگوں کے نہ صرف مالی حالات بہتر کیے بلکہ رہن سہن تک بدل ڈالے۔ تمہارا دل بہت بڑا ہے۔ تمہارے دامن میں امیر، غریب، مزدور اور ہر رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے،  مختلف زبانیں بولنے والے سمائے ہوئے ہیں، بلکہ عزت کے ساتھ دووقت کی روٹی کھا کما رہے ہیں۔   انہی خصوصیات کے باعث تو تمہیں ’منی پاکستان‘ کا اعزاز حاصل ہے۔ میں پھر کہہ رہا ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، لہٰذا اس پر توجہ نہ دو۔ میں تمہارے ماضی سے خوب واقف ہوں، تمام چیزیں میری نگاہوں کے سامنے ہیں، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کس طرح یہاں مذہب اور زبان کے نام پر لوگوں کو لڑایا گیا۔ میں جانتا ہوں کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کیسے کیا گیا۔ مجھے یہ بھی خبر ہے کہ یہاں تیرے میرے حقوق کی جنگ کے نام پر تعصب کا وہ بیج بویا گیا جس کے نتیجے میں تیار ہونے والی فصل زہرِ قاتل ثابت ہوئی۔ ظاہر ہے جو بویا جائے گا وہی کاٹنا بھی پڑے گا۔ کیکر کے درخت سے آم کی امید لگانا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اس میں تمہارا کیا قصور ہے! جس نے جو کیا اُسے بھگتنا پڑے گا، یہاں نہیں تو وہاں اللہ کی عدالت میں ہر چیز کا حساب دینا ہوگا۔ زمین کا مالک خدا ہے، طاقت کے زور پرجس جس نے بھی اس کی زمین پر قبضہ کیا، یا اس میں معاونت کی، وہ اپنے انجام کو ضرور پہنچے گا۔ ظلم، ناانصافی اور جبر کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ بے شک یومِ حساب ضرور آئے گا اور ہر ایک کو اپنے کیے کا پورا حساب دینا ہوگا۔ وہی خدا ہے جس نے زمین پر حاکمیت کے لیے انسان کو پیدا کیا، اسے اختیار دیا تاکہ وہ انصاف کرے، امانت میں خیانت نہ کرے، جابروں اور ظالموں کے خلاف  اعلانِ جنگ کرتے ہوئے اسے طاقت سے ختم کر دے، اور زمین پر اللہ کی ہی حاکمیت قائم کرے۔ اب اگر کوئی اس کے حکم کے خلاف جائے گا تو وہ منہ کے بل گرے گا۔ دنیا اور آخرت دونوں جگہ رسوا ہوگا۔
تمہارا مخلص لاہور
……………
’’میرے پیارے کراچی! وہ وقت آگیا ہے جس کی نشاندہی میں نے تمہارے پہلے خط کے جواب میں کی تھی۔ میں نے کہا تھا تم دل چھوٹا نہ کرو، تمہاری شنوائی ضرور ہوگی۔ دیکھو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تمہارا خط مل گیا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے کراچی شہر میں قائم تجاوزات، پارکوں پر قبضوں اور شہر کی خوبصورتی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے جانے والے ریمارکس بتا رہے ہیں کہ تمہارے اچھے دن آنے والے ہیں، اب تم لاوارث نہیں ہو، عدلیہ تمہارے ساتھ ہے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد وہ شخصیت ہیں جو تمہیں تمہارا کھویا ہوا مقام ضرور واپس دلوا کر رہیں گے۔ عدالت کی جانب سے آنے والے ریمارکس بتا رہے ہیں کہ اب لاقانونیت کا دور اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ اس پر کس قدر تیزی سے عمل ہورہا ہے اس کے لیے چیف جسٹس گلزار احمد اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کے درمیان ہونے والے مکالمے کو دیکھ لو جس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کالونی، پنجاب کالونی اور گذری میں تعمیر کی گئی ملٹی اسٹوری عمارتیں گرانی ہوں گی۔ عدالت نے شہر کراچی کو جدید طرز پر استوار کرنے اور نیا ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس کے علاوہ عدالتی کارروائی کے دوران کیا کچھ ہوا اسے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو ملٹی اسٹوری عمارتیں بناکر اُن میں منتقل کریں۔ جسٹس فیصل عرب نے حکام سے سوال کیا کہ کچی آبادیوں کے بارے میں ملائشیا فارمولے کے بارے میں کسی کو علم ہے کہ کوالالمپور کو کس طرح صاف کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لائنز ایریا کی کچی آبادیاں ختم کریں جو قائداعظم کے مزار کے پاس ’جھومر‘ کی طرح لٹک رہی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ ریمارکس دیے کہ شاہراہ قائدین کا نام تبدیل کرکے کچھ اور رکھ دیں؟ عدالت نے کالا پل کے دونوں طرف جھگیاں اور چار دیواری ختم کرنے کا بھی حکم جاری کیا، اور حکم دیا کہ تین ماہ میں یہاں خوبصورت پارک بنایا جائے۔ چیف جسٹس نے ہاکس بے پر ساحلِ سمندر کے ساتھ بنے ہوئے تمام گھروں کو قبضہ قرار دیا اور انہیں بھی ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ اب تم خوش ہوجاؤ، مجھے یقین ہے بہت جلد تمہاری خوبصورتی لوٹنے والی ہے جس کے باعث تم پھر سے روشنیوں کا شہر کہلائے جانے لگو گے، خدا تمہاری مدد فرمائے۔
تمہارا دوست لاہور
………
تجاوزات کے خلاف کیے جانے والے آپریشن پر کراچی کا مؤقف  یا یوں کہیے کراچی کی آہ وفغاں سننے اور لاہور کے نام لکھا گیا خط پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہی اُس کے دل کی آواز ہے۔ شہر قبضہ مافیا سے آزادی کے لیے بے قرار ہے، وہ ایک مرتبہ پھر خوبصورت پارکوں، کشادہ سڑکوں، کھیل کے میدانوں سمیت تمام تفریحی مقامات کی رونقیں بحال ہونے کے خواب بُننے لگا ہے۔ سرکلر ریلوے کی بحالی سے لے کر گلیوں اور محلوں کی صفائی ستھرائی تک کی امیدیں باندھ چکا ہے، لیکن اسے ڈر بھی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو سیاسی جماعتوں کی جانب سے جائز تعمیرات کرنے والوں کا ساتھ دینے کے نام پرکہیں تجاوزات یا قبضہ مافیا فائدہ نہ اٹھا لیں۔  شہر چاہتا ہے یہاں کے مکین ایسے تمام لوگوں پر نظر رکھیں اور انہیں اپنی صفوں میں نہ گھسنے  دیں جو کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ رہے ہیں۔ وہ ان مافیاز سے کنارہ کشی اختیار کریں جن کی وجہ سے اس کی خوبصورتی پر داغ لگے۔ اس کو ڈر ہے کہ مظلوموں کے لیے کیے جانے والے اقدامات ظالموں کے لیے تقویت کا باعث نہ بن جائیں۔ لہٰذا  تمام رہنماؤں کو کراچی کے دل کی آواز کو سننا ہوگا۔ بے شک جس کے ساتھ اگر ناانصافی ہو تو اس کے ازالے کے لیے بھرپور آواز اٹھانی ہوگی۔ لیکن اس ساری صورت حال میں قبضہ مافیا پر نگاہ رکھنا ہوگی، کہیں ایسا نہ ہو کہ جائز طور پر اٹھائی جانے والی آواز غیر قانونی اقدامات  کرنے والوں کے لیے توانائی کا باعث بن جائے۔

حصہ