ازدواجی زندگی اور سوشل میڈیا

55

اُمِ محمد سلمان
ایک بہن نے سوال کیا کہ اگر شوہر گھر آکر بھی بہت زیادہ وقت سوشل میڈیا، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کو دیں گھر اور بیوی بچوں میں دلچسپی نہ لیں تو بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں دور حاضر کی اکثر خواتین گرفتار ہیں خاص طور پر وہ شادی شدہ جوڑے جن کی شادی کو ابھی چند سال ہی ہوئے ہوں، ایسے میں بیوی شوہر کی مکمل توجہ چاہتی ہے مگر جب شوہر گھر آکر بھی اجنبی بیگانوں کی طرح موبائل اور کمپیوٹر پر بیٹھ جائے تو بیوی کے لیے یہ وقت واقعی بہت صبر آزما ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں کینسر کی طرح داخل ہوگیا ہے جس کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔ ایسے میں شوہر سے لڑائی جھگڑا اور گلے شکوے کرنے کے بجائے آرام سے بیٹھ کر گفتگو کی جائے۔بہت سے مسائل کا حل گفتگو میں پوشیدہ ہوتا ہے جب آپس میں تبادلہ خیال کریں گے تو وجوہات سامنے آئیں گی کہ شوہر کیوں بیوی بچوں کو چھوڑ کر سوشل میڈیا پر مصروف رہتا ہے؟ اگر بیوی کی جانب سے کوئی کمی کوتاہی ہے تو وہ اپنی اصلاح کرے اور ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ بیوی خود اپنا بھی محاسبہ کرے کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ خود اپنے قریبی رشتوں کو اپنی محبت، خدمت اور توجہ سے محروم کیے ہوئے ہے؟ اور اگر ایسی کوئی بات نہیں بلکہ شوہر کو سوشل میڈیا سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہے اس لیے وہ بیوی بچوں کو وقت نہیں دیتا تو بیوی کو چاہیے پیار محبت سے بات کرے، اس سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور اسے باور کرائے کہ شوہر کا یہ رویہ اس کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ اس سے کہے کہ دیکھیں آپ گھر میں وقت مقرر کر لیں کہ اتنا وقت میرے بیوی بچوں کا ہے اس میں موبائل بالکل آف، آپ کا بھی اور میرا بھی۔
یہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں دلچسپ موضوعات پر گفتگو کریں شوہر کے پسندیدہ موضوع پر بات کریں، ان کے بچپن کی باتیں سنیں ان کے والدین کے قصے سنیں، بہن بھائیوں کی باتیں سنیں۔پکانے کا پوچھ لیں کہ کھانے میں کیا بناؤں؟ جناب کیا کھایا پسند کریں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔
اصل میں سوشل میڈیا اتنا دلچسپ فورم ہے کہ یہ دس بیویوں پہ بھاری ہے۔ آج کی عورت کو بہت سخت چیلنجز کا سامنا ہے یوں سمجھے اس کے سامنے دس سوکنیں موجود ہیں اور میرا ان سے مقابلہ ہے اور مجھے اپنے شوہر کو جیتنا ہے۔ ساتھ ساتھ نماز، صدقہ اور دعاؤں سے اللہ سے مدد مانگیں ‘اللہ آپ کے معاملات کو بہتر کردے گا، ان شاء اللہ
اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان سب باتوں کا آپ کے شوہر پر کوئی اثر نہیں ہورہا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، خدا کا شکر ادا کریں کہ ہمیں کما کے کھلا رہے ہیں۔ ہماری ضرورتیں پوری کررہے ہیں، مارتے پیٹتے نہیں، ظلم نہیں کرتے، کہیں آنے جانے پر پابندی نہیں لگاتے، بہت ساری خوبیاں ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اب شوہر وقت نہیں دے رہا تو غمزدہ پھر رہی ہیں، تکیے میں منہ دے کے رو رہی ہیں یا دوپٹے میں منہ چھپا کے یا کچن میں جا کے آنسو بہا رہی ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے، ارے بھئی آپ کی اپنی بھی تو زندگی ہے اپنے فرائض پورے کریں۔ باقی آپ کے پاس بھی موبائل ہے آپ بھی کھول کے بیٹھ جائیں کسی بات پہ زور سے ہنسیں، شوہر خود آپ کی طرف متوجہ ہوگا پوچھے گا کیا ہوا؟ آپ اسے دکھائیں، دیکھیں ناں یہ کتنی دلچسپ پوسٹ ہے اور اسی بہانے ان سے کچھ بات کر لیں ۔
زندگی رونے دھونے اور سسکنے کڑھنے کے لیے نہیں ہے۔ ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے ، نئے سے نیا حل ڈھونڈیں اس کا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو کہیں اپنی دینی تعلیم مکمل کر لیں۔ کوئی کھانے پکانے یا سلائی کڑھائی کا کورس جوائن کر لیں۔ یہ سب کچھ آپ کو گھر بیٹھے سوشل میڈیا پر دستیاب ہو جائے گا یا آپ چاہیں تو اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی اور جائز مصروفیت ڈھونڈ لیں۔ واٹس اپ، فیس بک پر کوئی اچھا دینی اخلاقی گروپ جوائن کر لیں، اچھے لیکچر سنیں۔ اپنی کوشش اور دعاؤں سے آپ حالات کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان باتوںکو زیادہ دل پر نہ لیں۔ تھوڑے دن کے لیے اس مسئلے کو نظر انداز کر کے بھی دیکھیں۔ اپنی زندگی کی دیگر خوشیوں اور مسرتوں پر نظر ڈالیں بہت کچھ ایسا ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کو دیا ہوگا، کسی اور کو نہیں ۔
یاد رکھیں! یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر میاں بیوی میں مثالی محبت ہو بہت ساری جگہوں پر صرف سمجھوتا اور صبر شکر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اور بہت سی نعمتوں سے نواز دیتے ہیں۔ اپنی پریشانیاں اللہ سے شیئر کریں وہی انہیں حل کرے گا۔ استغفار کی کثرت کریں کہ استغفار ہر تنگی سے نکال دیتا ہے۔
یہاں دو جملے شوہروں کے لیے بھی جو گھر آکر بھی بیوی بچوں کو اپنی توجہ سے محروم رکھتے ہیں، انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ بیوی بچوں کی حق تلفی کررہے ہیں، اس کا وہ دنیا میں بھی نقصان اٹھائیں گے اور ایک دن رب العالمین کی بارگاہ میں بھی جواب دینا ہے۔

حصہ