بحریہ ٹاؤن کے فراڈ اور پیاز کے چھلکے

391

پاکستان میں ایشیا کا سب سے بڑا منصوبہ ‘ بحریہ ٹاون ‘ جو اپنی ‘طلسماتی تعمیراتی اسکیموں ‘ اور ترغیبات کی بدولت دنیا میں اپنی مثال آپ ہے ، مگر اس عظیم’ طلسماتی تعمیری رہائشی منصوبے ‘ نے عوام کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگرچہ چند ایک کو چھوڑ کر کوئی بھی بلڈر اس قسم کے فراڈ اور معمولی ہیر پھیر سے مبرا نہیں۔ مگر اس دھندے میں جو شہرت ملک ریاض صاحب کو حاصل رہی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی کے حصے میں نہیں آیا۔
رہائشی تعمیراتی منصوبوں میں ایک بہت معمولی اور قدر مشترک فراڈ تو بالعموم یہ ہے کہ اگر سو پلاٹس کی کوئی اسکیم متعارف کی جاتی ہے تو اس کی تقریبا تین سو فائلیں بنائی جاتی ہیں اور اس طرح ایک سو پلاٹس فروخت کے لئے پیش کے جاتے اور ایڈوانس رقم تین سو خریداروں سے وصول کی جا چکی ہوتی ہے ، ظاہر ہے جب پلاٹ ایک سو ہیں تو وہ ایک سو افراد میں ہی دیے جائیں گے ، مگر کیونکہ بکنگ یا ایڈوانس تین سو پارٹیوں نے ادا کیا ہے تو تین سو خریداروں کو فائلیں تھما کر انہیں آخر وقت تک یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ آپ کا پلاٹ بس چند سالوں میں آپ کو مل جائے گا۔ اس طرح بلڈرز پروجیکٹ کا اعلان کرتے ہی راتوں رات اربوں روپے بٹور لیتے ہیں۔ اور اگر وہ بلڈر واقعی سچا ہے تو تعمیرات شروع کرواکر تمام فائل ہولڈرز سے ماہانہ آسان اقساط کی صورت میں رقم وصول کرتا چلا جاتا ہے ، بینک بیلنس جو بھی بڑھنا ہے اس سے خریدار کو کوئی سروکار نہیں وہ تو بیچارہ ہر ماہ قسطیں اور چھ ماہ میں مزید ڈویلپمنٹ چارجز پورا کرنے ہی میں مصروف رہتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے یا ڈویلپمنٹ چارجز ادا کرنے میں ناکام رہے تو پھر بھاری سرچارج کے نام پر مزید رقم کا بندوبست کرنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین سو فائلیں بچنے والوں کا کوئی چیک اینڈ بیلنس کیوں نہیں ہے ؟ کوئی بلڈر سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ کتنی جگہ پر منصوبہ دکھایا گیا ہے؟ ، اور کتنے ایکڑ کی این او سی حاصل کی گئی ہے ؟ اور کتنے خریداروں کو فائلیں فروخت کی گئی ہیں ؟
ظاہر ہے اس کام میں بلڈر اکیلا بے ایمانی کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ‘ مال پانی ‘ نہ کھلائے۔ اور اداروں کو خوش کرنے ‘مال پانی ‘ دینے کے بعد اس کی مرضی جو چاہے کرے۔اب دیکھیں کہ کس طرح ریلوے کی زمین ، زرعی و بارانی حکومتی زمین یا غریب کسانوں کی زمین سب کچھ ہتھیا کر بلڈر مافیا خاموشی کے ساتھ گیم سے باہر ہوچکی ہے۔
یہ تو بلڈرز کی کم سے کم دھوکہ دہی کی صرف ایک مثال ہے ، بحریہ ٹاون کے معاملے میں جس طرح کے دھوکے اور جعل سازی ہوئی اس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔
بحریہ کے کیس میں معاملہ اس حد تک خراب ہے کہ دھوکہ دہی کے بارے میں آپ جنتا سوچ سکتے ہیں سوچ لیں ، بحریہ کے فراڈ اس سے سو گنا آگے ہی نکلیں گے۔ آسانی سے سمجھنے کے لیے یوں سمجھیں کہ جس طرح ‘ پیاز کے چھلکے ‘ ہوتے ہیں ، ہر پرت کے بعد ایک اور نئی پرت پیاز کی ہی نکلتی ہے اسی طرح بحریہ کے ہر فراڈ میں سے ایک نیا فراڈ سامنے آ تا ہے۔
بحریہ کا اصول یہ ہے کہ وہ فائل سے پہلے پرچی کا دھندہ کرتا ہے جس میں صرف پرچیوں کی خرید و فروخت سے جو آمدن ہوتی ہے وہی اربوں روپے میں ہے۔
اس کے بعد نمبر آتا ہے فائل کا ، بحریہ کے کیس میں ایک پلاٹ کی کم سے کم سو فائلیں بنتی ہیں ، اور ہر ایک کو خو ش خبری دی جاتی ہے کہ آپ کا پلاٹـ نکل آیا ہے ، ایڈوانس جمع کروادیں۔ یہ سنتے ہی ہر آدمی دوڑا بھا گا ، ایڈوانس رقم داخل کرواتا ہے اور ہمیشہ کے لئے بحریہ کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔
بحریہ اپنے زمین کے مقابلے میں سو گنا زیادہ زمین جو صرف ‘ ہوا ‘ میں فائل میں اور نقشے میں ہوتی ہے فروخت کر کے اپنا اکاونٹ بھرتا ہے۔
نیب کی رپورٹ کے مطابق بحریہ کے کم از کم 260 اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں جن سے رقم بیرون ملک ٹرانسفر کی گئی ہے۔
اسی قسم کا دوسرا فراڈ یہ کہ قسطیں جمع کروانے کے باوجود قرعہ اندازی ہوتی ہی نہیں اور لوگوں سے قسطیں برابر وصول کی جاتیں ہیں یہاں تک کہ لوگ اپنے ‘ولا’ یا خوبصورت گھر کے آسرے میں فل پیمنٹ تک کروا چکے ہوتے ہیں۔
بھلا بتائیں کہ ایسا کون عقلمند ہوگا کہ نہ زمین کا معلوم ، نہ ہی لوکیشن کا اندازہ بس خالی خولی محض ‘ بحریہ کے جھانسے ‘ اور سستے پلاٹ کے آسرے میں لاکھوں روپے کسی کے حوالے کر بیٹھتے ہیں؟۔
اسی نوعیت کے درجنوں فراڈ ہیں جو اندرون بحریہ روزانہ کی بنیاد پر کھیلے جارہے ہیں۔ یہ تمام معا ملات بحریہ خود نہیں کرتا بلکہ اپنے منتخب کردہ ڈیلرز سے کرواتا ہے۔ تاکہ براہ راست ملک ریاض زد میں نہ آئے۔
دوسرا ایک اور طریقہ زمین ہتھیانے کا یہ بھی ہے کہ من پسند پولیس اہلکار ، انتظامیہ ، اور بااثر سیاسی لوگوں کو ساتھ ملا کر غریب ہاریوں کسانوں سے کئی کئی سو ایکڑ زمین زبردستی حاصل کرواتا ہے ، پنجاب میں قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے ممبران اور سندھ میں پالاریوں کے وڈیروں کو ساتھ ملا کر یہ کام آسانی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا یا گیا۔ 800 ایکڑ اور 600 ایکڑ آباد گاؤں اور زرعی زمینیں جو انگریز کے زمانے سے گاؤں والوں کے پاس تھیں زور زبردستی ہتھیا ئی گئیں۔ جس نے زمین خالی نہ کو اس کی پولیس مقابلے میں مروادیا گیا یا پھر دہشت گردی کے الزام میں اندر کروایا گیا۔
اب آئیے اس سوال پر کہ منتخب حکومتیں اور قومی ادارے ملک ریاض کوکیوں اور کیسے سپورٹ فراہم کرتے ہیں ؟
ٹیسٹ کیس کے طور پر دو حوالے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پچھلی حکومت میں جس وقت چودھری برادران یعنی’ قافیوں ‘ کی حکومت تھی ، ایڈیشنل سیکریٹری ٹیکنیکل جنگلات، وائلڈ لائف اور فشریز شاہد راشد اعوان نے 5 اکتوبر کو راولپنڈی میں رپورٹ درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پنجاب کے جنگلات کی ایک ہزار 170 کنال اراضی کا بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ تبادلہ کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے افسران اور عہدیداروں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ اور اب دیکھیں یہ تبادلہ کس طرح ہو ا۔ معاملہ یوں ہے کہ ملک صاحب کے آدمیوں نے محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر جنگلات کی زمین پر قبضہ کیا اور پھر یہ زمین چودھری پرویز الٰہی کی اہلیہ کو بطور تحفہ فراہم کی۔ حکومت قافیہ سرائی پر راضی ہوگئی اور اس طرح ‘نیکی کا بدلہ ویسی ہی نیکی ‘ کی صورت میں ادا کیا گیا اور زمین کو قانونی شکل دینے کے بعد ملک صاحب کو سستے داموں فروخت کردیا گیا۔ اب جنگلات کی یہ زمین قانون کے دائرے میں آچکی تھی۔
اسی طرح کی ایک اور انکرائری میں یہ بات سامنے آئی کہ بحریہ ٹاؤن لاہور نے موضع جالیان میں 60 کنال اراضی پر قبضہ کیا جو پی سی بی ایل کی زمین تھی،
کراچی میں ایشیا کے سب سے بڑے رہائشی و تجارتی منصوبے ‘ بحریہ ٹاؤن ‘ میں بھی اس خاطر مدارات کا بھرپور طریقے سے اہتمام کیا گیا اور اس وقت کو انتظامیہ ، حکومتی اہلکار اور بااثر سیاستدانوں کو ہاتھ میں رکھا گیا۔
مثلا ایک لسانی جماعت کو بحریہ کے اندر یو نیورسٹی دے کر خاموش کروایا گیا۔ اسی طرح ایک حکومتی جماعت کے سربراہ کو پنجاب میں محل کا تحفہ دے کر راضی رکھا۔
اس حوالے سے سید مجاہد علی کا آرٹیکل کا حوالہ ضروری ہے کہ انہوں نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ حکومت اس اہم ترین اور عظیم الشان فراڈ پر ملک ریاض کی کیوں وکالت کر رہی ہے؟
عمران خان کے سیاسی مشیر شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس تازہ ترین حوالہ ہے کہ انھوں نے کس طرح ملک ریاض کو مدد فراہم کی ؟
وہ کہتے ہیں کہ برطانیہ کی حکومت نے ملک ریاض سے19 کروڑ پاؤنڈ کی وصولی کے عوض ان کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کا مقدمہ قائم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مطلب
یہ ہے کہ ملک ریاض نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور کوئی قانون شکنی نہیں ہوئی۔ یعنی ملک ریاض جو کثیر رقم حکومت برطانیہ کو ادا کریں گے، اس پر مجرمانہ سرگرمی کے حوالے سے کوئی سوال نہ اٹھایا جائے۔ ملک ریاض کے ساتھ حکومت کی اس شفقت اور نرم روی کو آخر کیا نام دیا جائے ؟؟
اور ملک ریاض پر لگنے والا جرمانہ بھی پاکستان کے خزانے میں کسی اور جرمانے کے بدلے میں ایڈجسٹ کرلیا جائے گا۔ اس بین کے بعد وزیر اعظم نے اپنے تمام وزیروں کو خاص ہدایت جاری کیں کہ” خبردار کوئی بھی اس معاملے میں اپنی زبان نہ کھولے ”
بہرحال یہ ایک بہت لمبا موضوع ہے جس پر کسی اور وقت بات کرتے ہیں ، مگر داد دینی پڑتی ہے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور پبلک ایڈ کمیٹی کو جنھوں نے متاثرین بحریہ کے لئے آواز اٹھا ئی اور چند دنوں میں معاملہ اس حد تک آگے بڑھایا کہ جس کے دباؤ میں آکر ملک ریاض حسین نے جماعت اسلامی کے دفتر میں آکر متاثرین کے مطالبات اور پریشانیوں کو سنا۔
اس وقت کچھ معاملے سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں بہت سے معاملے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کی قوی امیدیں ہیں ، اور یہ امیدیں صرف اس بنیاد پر ہیں کہ ‘ جماعت اسلامی ‘ اس معاملے میں میدان عمل میں متاثرین کی آواز بن کر سمانے آئی ہے۔ یہ بات جاننا متاثرین کے لئے ضروری ہے کہ جماعت اسلامی اس تمام تر معاملے میں فریق نہیں بلکہ ‘ ثا لثی ‘ کا کردار ادا کر رہی ہے ، متاثرین نے جماعت اسلامی سے رجوع کیا اور جماعت اسلامی ان کی مدد کے لئے میدان میں آئی۔ اب معا ملات مذاکرات کی میز پر ہیں ، امید ہے کہ اگلے اتوار یا پیر تک ‘ حافظ نعیم الرحمن اور ان کی مذاکراتی ٹیم جس کی سربراہی پبلک ایڈ کمیٹی کے سربراہ سیف الدین ایڈوکیٹ کر رہے ہیں متاثرین بحریہ کو بڑی خوشخبری سنائیں۔
اس عظیم جدوجہد سے ایک بات تو سامنے آچکی ہے کہ ‘ جس کا مسئلہ ہو اسی کو متحد و منظم ہوکر آگے نکلنا ہوگا۔ مطلب یہ کہ ” نکلو گے تو مسئلہ حل ہوگا ”۔

حصہ