ہم ان کی پشت پر ہیں اور وہ سینوں پر گولیاں کھارہے ہیں

78

رمشاجاوید
۔1947 میں ہمارے اسلاف نے جہاد کے ذریعے عظیم قربانیاں دے کر یہ مملکت خداداد حاصل کی تھی۔ قیام پاکستان ایک طویل جدوجہد کی داستان ہے نہ کہ نادیدہ قوتوں کا کرشمہ۔ لیکن افسوس کے ہم پر ایک ایسا ٹولہ مسلط کردیا گیا ہے جن میں کوئی صلاحیت ہی نہیں۔ پانچ اگست سے کشمیر میں قیامت برپا ہے۔ 1990 سے 2020 تیس برس سے ہم ہر سال 5 فروری کو یکجہتی کشمیر ڈے مناتے ہیں۔ سیمینار، کانفرنسیں، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں، ہاتھوں کی زنجیر بنے گی، امریکی اور بھارتی حکمرانوں کے پتلے نزر آتش ہوں گے۔ اخبارات کوریج دیں گے۔ الیکٹرانک میڈیا لائیو کوریج کرے گا اور پھر ہم اس یکجہتی کے لیے اگلے سال کا انتظار کریں گے۔ کیا بس یہی ہے مسلے کا حل؟؟؟؟؟
ہم قراردادیں منظور کراتے ہیں، وہ سر کٹاتے ہیں۔
ہم مزاکرات کی باتیں کرتے ہیں، وہ لاشیں گنتے اور روز نئی قبریں کھودتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں ہم آخری گولی آخری فوجی تک لڑیں گے، وہ پہلی گولی اور پہلے فوجی کے قدموں کی چاپ کے منتظر ہیں۔
ہم انکی پشت پر ہی ہیں، اور وہ سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔
سوا کروڑ کشمیری محاصرے میں ہیں جو دنیا کا طویل ترین محاصرہ ہے۔ 5 اگست سے آج تک کشمیر کا ہر گلی کوچہ کربلا بن چکا ہے۔ کشمیر کے مسلے کے حل کی صرف ایک ہی صورت باقی ہے کہ حکومت جہاد کا اعلان کرے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں، عوام کی کوئی مجبوری نہیں۔ عوام کرفیو میں محصور اپنے جسم کے اس حصے کی تکلیف محسوس کرتے ہیں جو کراہتے ہوئے بھی پاکستان ہمارا ہے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اپنے گھروں میں اپنی نسلوں کو جہاد کے لیے تیار کیجیے اللہ کے فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ؎
”اور تم اللہ کے راستے میں لڑائی کیوں نہیں کرتے حالانکہ ضعیف مرد عورتیں اور بچے کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور تو اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی دوست اور مدگاربنا۔”
اگر ہم نے یہ جنگ کشمیر میں نہیں لڑی تو ہمیں اپنے ملک میں یہ جنگ لڑنی پڑے گی کیونکہ امریکی صدر نے مودی کے ساتھ ملکر کہا ہے کہ ان کا مقابلہ اسلام کے ساتھ ہوگا۔ بیشک یہود و نصاری ہمارے دوست نہ کبھی تھے نہ ہیں اور نہ کبھی ہوں گے۔ موضوع کشمیر کو اپنی آخری کوششوں تک زندہ رکھیں اور ان پر ہونے والے مظالم کو اپنے اپنے اختیارات کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ ان کے درد کو زبان دینا اور اسے دور کرنا ہی وقت کا جہاد ہے۔

حصہ