سوئیں گے حشر تک

81

حمیرا مودودی
مرتب: اعظم طارق کوہستانی
آخری قسط
ان دنوں جب کبھی اباجان کو تفہیم القرآن لکھنے کا موقع نہ ملتا اور وہ دوسری مصروفیات میں مشغول ہو جاتے تو کہا کرتے تھے :’’ دیکھو تم لوگ مجھے تفہیم القرآن لکھنے نہیں دے رہے ہو اب میں جیل جانے ہی والا ہوں ۔ جب بھی میں مصروفیات کی وجہ سے تفہیم القرآن نہیں لکھ پاتا تو اللہ تعالیٰ مجھے لے جا کر جیل میں بٹھا دیتے ہیں اور میں وہاں اطمینان سے لکھتا رہتا ہوں ۔‘‘ ساتھ میں یہ بھی کہتے تھے کہ تفہیم القرآن مکمل کر لوں تو اسی اسلوب میں تفہیم الحدیث بھی لکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔
اسی لیے اماں جان ہم بچوں پر بہت زور دیتی تھیں ’’’ اپنے اباجان کو تنگ نہ کیا کرو‘‘ ۔
جب کبھی بچے کسی چیز کے لیے تقاضا کرتے تو اماں جان ہمیں سمجھاتی کہ اگر میں ہر وقت تمھارے والد کی جان کھاتی رہتی کہ اب مجھے یہ اور یہ چاہیے اور میرے بچوں کو ایسی ایسی چیزیں درکار ہیں تو یہ ساری کتابیں جواُنھوں نے لکھی ہیں وہ نہ لکھ سکتے۔تمھارے باپ ایک ریسرچ اسکالر ہیں ،ایک مصنف اور محقق ہیں ۔ان کو خاموشی ،سکون اور اطمینان کی ضرورت ہے ۔ تم ان سے کوئی مطالبہ نہ کیا کرو اور نہ ہی ان کے سامنے اپنے تعلیمی مسائل بیان کرو ۔ان کو اپنی باتوں میں نہ الجھا یا کرو ۔ غرض اماں جان نے ا باجان کو ایسا سکون مہیا کیا کہ وہ جو چیز لکھتے تھے ذہنی طور پر پوری طرح یکسو ہو کر اور جم کر لکھتے تھے ۔
اباجان نے سورۃ یوسف کی جو تفسیر لکھی ہے اسے پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس وقت وہیں کہیں موجود تھے اور اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہیں ۔سورۃ کہف یا سورۃ فیل کی تفسیر پڑھتے ہوئے بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔ برسوں بعد جدہ میں شعبہ عربی کی سربراہ جو شامی النسل تھیں مجھے کہنے لگیں کہ ایک فقرے میں اپنے والد کی صفت بیان کرو تو میرے منھ سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا کہ (وہ ایک اور ہی دنیا میں رہتے تھے ) وہ اس جواب سے بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں ’’امام تیمیہ کی بھی یہی تھی۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر اباجان کی شادی کسی جاہل اور خواہ مخواہ مطالبے کرنے والی جھگڑالو قسم کی عورت سے ہوئی ہوتی تو کیا ہوتا ۔اماں جان کو تو شاید اللہ تعالیٰ نے بنایا ہی اباجان کے لیے تھا ۔اماں جان کا اعلیٰ ذوق ،بلند پایہ علمی رجحان ،اپنی ذات کی نفی،بے نفسی ،خوداداری اور اباجان کی دلداری کی تو کوئی حد ہی نہ تھی ۔عربی زبان کا ایک محاورہ ہے البنات عود کہ خواتین خوشبو ہوتی ہیں جو خود تو پردے میں رہتی ہیں مگر ان کا سلیقہ اور تھوڑے سے پیسوں میں بنائی ہوئی بہت ساری عزت اور بچوں کی تعلیم وتربیت سب کو نظر آتی ہے ۔
۶جنوری ۱۹۶۴ کو اباجان پھر جیل چلے گئے اور بڑے بڑے کتابوں سے بھرے صندوق جیل جانے شروع ہو گئے ۔جیل والے بھی حیران ہوتے رہتے کہ اے کلاس کے دوسرے قیدیوں کے لیے حلوے اور انواع و اقسام کے کھانے آتے تھے جب کہ مولانا صاحب کے لیے صرف کتابیں آتی ہیں اس وقت ابا جان لاہور جیل میں تھے جہاں اب شادمان کالونی ہے یہیں کہیں وہ جگہ تھی جہاں تفہیم القرآن لکھی گئی ۔ہر ہفتے ہم ملاقات کے لیے جاتے ۔ اس عرصے میں اماں جان کافی بیمار رہیں ۔ اور دادی اماں بھی نہیں رہیں تھیں (۱۹۵۸ء میں دادی اماں کا انتقال ہو چکا تھا ان کی موجودگی اماں جان کے لیے بہت بڑا اخلاقی سہارا ہوتی تھی)
ہم لوگ اس وقت اسکول کی تعلیم مکمل کر کے کالج میں پہنچ چکے تھے ۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کا زمانہ تھا ۔اباجان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم عروج پر تھی ۔اخبارات میں سرخیاں لگتیں کہ مولانا مودودی غدار ہیں وہ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔لاہور کالج برائے خواتین میں قدم رکھتے ہی کسی نہ کسی طرف سے یہ آوازے ضرور کسے جاتے۔ مردودی مردودی ۔ ایک مودودی سو یہودی ۔ٹھاہ مودودی ٹھاہ وغیرہ ۔بلاشبہ ہمارے لیے یہ باتیں سخت تکلیف دہ تھیں ۔تاہم جب بھی ہم اس بات کا تذکرہ کرتے ان سب باتوں کے جواب میں اباجان اکثر یہ شعر پڑھتے تھے ؎

درکوئے نیک نامی مارا گز ر نہ داند
گر تو نمی پسندی تغیر کن قضا را

[نیک نامی کے کوچے میں ہمیں (وہ) گزرنے نہیں دیتے یعنی سچے عاشق ہمیشہ ہی بدنام ہوتے ہیں]
لیکن ہماری اماں جان نے ہمیں سمجھا دیا کہ اگر پڑھنا ہے تو انہی حالات میں اور انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھو ورنہ جاہل رہ جائو گے ۔ اپنے آپ کو صبر اور حوصلے کا پہاڑ بنا لو کہ بڑے بڑے طوفان آکر اس سے ٹکراتے ہیں ،لیکن وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتا وہیں کھڑا رہتا ہے ۔اپنے اندر سمندر جیسا ظرف پیدا کر لو کہ بڑے بڑے دریا آکر اس میں گزتے ہیں وہ انھیں اپنے اندر سمو لیتا ہے لیکن کبھی کنارے توڑ کر باہر نہیں نکلتا ۔
اباجان میری بیٹی رابعہ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ایک بار ہم اسے لے کر انارکلی گئے تو سامنے سے پیپلزپارٹی کا جلوس آ گیا ۔جلوس میں اباجان کو گالیاں سن کر میں گھر واپس آگئی۔گھر کھانے پر ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر بیٹی رابعہ کہنے لگی ’’ نانا ابا مولانا مودودی آپ ہی ہیں نا ؟ کہنے لگے ہاں بیٹی میں ہی ہوں ۔ اس پر رابعہ بولی انارکلی میں تو آپ کو گالیاں مل رہی تھیں۔ اباجان مسکرا کر اس کی بات دہرانے لگے ۔ہم نے کہا خوش تو ایسے ہو رہے ہیں جیسے کوئی دولت مل گئی ہو ۔ابا جان نے کہا بیٹی اللہ کے راستے میں گالیاں کھانا انبیا کی سنت ہے۔
اباجان کے کردار کی جو خوبی مجھے بہت زیادہ یاد آتی ہے وہ یہ ہے کہ بلامبالغہ وہ اپنے بچوں کی اتنی عزت کیاکرتے تھے جتنی دوسرے لوگ ماں باپ کی کرتے ہیں ۔ عام حالات میں وہ ہمیں بیٹی کہا کرتے تھے ۔ذرارنجیدہ ہوتے تو صاحبزادی کہا کرتے اور اگر بہت ہی زیادہ ناراض ہوتے تو پھر ’’صاحبزادی صاحبہ ‘‘کہتے ۔بس پکارنے کا یہ انداز ہی ایک تازیانہ ہوتا تھا اور ہماری کوشش ہوتی کہ صاحبزادی صاحبہ کہنے کی نوبت نہ آئے۔
اباجان ایک ہمہ گیر شخصیت تھے اُنھوں نے اتنا کام کیا اس قدر سنجیدہ کام کیا جو دوسرے لوگوں کے نزدیک خشک اور بوجھل ہوتا مگر وہ اپنی زندگی میں نہایت باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے ۔میرے آئیڈیل میرے ابا تھے ۔
بار بار جیل جانے کی وجہ سے اباجان کی صحت بہت زیادہ متاثر ہو گئی لہٰذا اماں جان نے اپنے درس کافی کم کر دیے ۔وہ ماڈل ٹائون لیڈیز کلب میں پچھلے ۲۵ سال سے درس دے رہی تھیں ۔ وہاںاُنھوں نے شاگردوں کی ایک کھیپ تیار کی تھی ۔ آخرکار درس کا معاملہ اپنی شاگردوں کے حوالے کر دیا اور سارا وقت اباجان کی خدمت میں گزارنے لگیں ۔ایک بار کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے کتنے مضامین میں ایم اے کیا ہے ؟ تو کہنے لگیں بیٹی ایم اے ،بی اے تو آپ لوگ ہیں ۔ میں نے تو دہلی کے کوئین میری اسکول سے مڈل تک پڑھا ہے ۔انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ کے پاس اتنا علم کیسے ہے ؟ اس سوال کا اماں جان نے ایسا تاریخی جواب دیا جو میں کبھی بھلائے نہیں بھول سکتی ۔کہا : ’’ میں نے زندگی ایک ایسے عالم دین کے ساتھ گزاری ہے جن کی ایک گھنٹے کی بات چیت سن کر آدمی کو علم حاصل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو رات رات بھر کتابیں پڑھ کر بھی نہیں ملتا !‘‘
اباجان کی بیماری بڑھتی ہی گئی اور پھر امریکا سے ڈاکٹر احمد فاروق آئے اور اباجان کو اماں جان سمیت امریکا لے گئے تا کہ یکسوئی سے ان کا علاج کروایا جائے ۔ وہیں شدید بیمار رہ کر اباجان کا ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ کو بفیلو کے ہسپتال میں انتقال ہو گیا ۔ یہ دہشت ناک خبر لے کر جب احمد فاروق ہسپتال سے آئے تو وہ غم کے مارے نڈھال تھے ۔اماں جان نے ساری رات کے جاگے ہوئے بھوکے پیاسے غم زدہ بیٹے کو چائے پلائی بسکٹ کھلائے اور دلاسا دیا، شکر کرو تم نے اپنے باپ کو دیکھا ان کے سائے میں اتنا وقت گزارا ورنہ وہ تو ۱۹۵۳ء ہی میں پھانسی چڑھنے کو تیار تھے ۔ اگر اس وقت انھیں پھانسی ہو جاتی تو تمھیں یاد بھی نہ رہتا کہ تمھارے باپ کی شکل کیسی تھی !اللہ اکبر ایسا حوصلہ اور ایسا توکل ۔
اماں جان نے پھر سب کو صبر کی تلقین فرمائی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کا کہا ۔ اس پر سب اکٹھے ہونے والے مرد و خواتین ان کے صبرو حوصلے پر حیران رہ گئے ۔اسی حیرانی کا اظہار میرے ماموں ڈاکٹر جلال شمسی نے بھی کیا ۔ وہ ٹورنٹو سے گاڑی چلا کر جب اماں جان کے پاس آئے تو شدت غم سے نڈھال تھے ۔وہ اماں جان کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہنے لگے :’’آپاجان میں ٹورنٹو سے بفیلو تک روتا ہوا آیا ہوں ۔سوچتا تھا کہ آپ کا سامنا کیسے کروں گا ؟ آپ سے کیا کہوں گا ؟لیکن آپ کو دیکھ کر تو میرے آنسو خشک ہو گئے ہیں ۔ایسی ہی حیرانی مجھے اس وقت ہوتی تھی جب بھائی صاحب جیل جاتے تھے اور آپ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے اطمینان سے بیٹھی رہتی تھیں ۔ مجھے بتائیے کہ آپ کے پاس کون سی روحانی طاقت ہے ؟ آپ یہ سب کیسے کر لیتی ہیں ؟‘‘
اماں جان نے کہا اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان توکل اور صبر وہ صفات ہیں جن کی مدد سے آدمی مشکل ترین حالات سے بخیرو خوبی گزر سکتا ہے ۔
ڈاکٹر احمد فاروق نے جہاز چارٹر کر کے میت کو نیویارک پہنچایا۔ اسی اثنا میں پورے امریکا میں مختلف ٹیلی ویژن چینلز سے اباجان کے انتقال کی خبر نشر کی جا چکی تھی ۔اس لیے نیویارک ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں مسلمان جنازے میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ۔ احمد فاروق نے اماں جان کو پسنجر لائونج میں لے جا کر بٹھا دیا ۔ابھی وہ وہاں بیٹھی ہی تھیں کہ بہت ساری پاکستانی ،ہندوستانی ،ترک اور عرب ممالک کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک کی خواتین وہاں آ گئیں ۔ان کے مرد باہر جنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے تھے ۔کچھ پاکستانی خواتین نے جو اماں جان کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں آپس میں باتیں کرنا شروع کرد یں کہ بفیلو سے باڈی (یعنی میت) آنی ہے پتا نہیں باڈی پہنچی ہے یا نہیں ؟
اماں جان نے کہا کہ باڈی پہنچ گئی ہے ! ان عورتوں نے چونک کر اماں جان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا ہے کہ باڈی پہنچ گئی ہے۔ اُنھوں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا :’’ میں باڈی کے ساتھ آئی ہوں۔‘‘
عورتوں نے پوچھا کہ آپ کا ان سے کوئی تعلق ہے ؟ جواب ملا ’’وہ میرے شوہر تھے ‘‘۔
وہ عورتیں چیخ پڑیں : ’’ہیں بیگم صاحبہ آپ اتنے اطمینان سے اتنے سکون سے اتنا بڑا صدمہ دل میں لیے بیٹھی ہوئی ہیں ۔ہم اور ہمارے مرد سارا راستہ روتے ہوئے آئے ہیں ۔آپ کو دیکھ کر تو اللہ یاد آ گیا اور پھر آہستہ آہستہ ان ساری ترک ،انڈونیشی ، عرب اور افریقی خواتین کو پتا چل گیا کہ یہ خاتون مولانا مودودی کی بیگم ہیں ۔ ان سب نے اماں جان سے تعزیت کی اور سب نے کہا کہ صبر تو اسی کو کہتے ہیں ۔ یہ جنازہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے چھہ مرتبہ ہوا۔
مجھے اکثر اباجان کی کہی کوئی بات یاد آتی ہے جواُنھوں نے میرے ماموں خواجہ محمد شفیع مرحوم سے کہی تھی۔ اس وقت اماں جان بہت بیمار تھیں اور ماموں ان کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے ۔اباجان نے کہا: ’’جب لوگ نعرے لگاتے ہیں مولانا مودودی زندہ باد ! جماعت اسلامی زندہ باد! تو میں اپنے دل میں کہتا ہوں محمودہ بیگم زندہ باد۔ جب کوئی فوج فتح مند ہوتی ہے تو اس کے سپہ سالار کو ہار پہنائے جاتے ہیں تو اس وقت اس گمنام سپاہی کو کون یاد کرتا جس نے اپنی جان کی بازی لگا کر فتح کو ممکن بنایا ہوتا ہے ۔زندہ باد کے فلک شگاف نعروں میں کسی کی بے نفسی، خودداری، وفاداری، دلداری اور اپنی ذات کی نفی کس کو یاد رہتی ہے ۔
روایت ہے کہ مولانا روم کے مرض الموت میں ایک عالم دین ان کی عیادت کے لیے آیا اور کہنے لگا کہ فکر نہ کیجیے ان شاء اللہ شفا ہو گی !مولانا روم نے کہا: ’’اب شفا آپ کو مبارک ہو بال برابر فرق رہ گیا ہے۔ پھر نور نور میں شامل ہو جائے گا اور مٹی مٹی میں چلی جائے گی ۔‘‘
اباجان نے ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ کو رحلت فرمائی اور اماں جان ۴ ؍اپریل ۲۰۰۳ کو بروز جمعہ رات ۸ بج کر ۲۰ منٹ پر اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں اور اگلے دن بروز ہفتہ سوا گیارہ بجے مٹی میں جا ملیں۔ انا للہ وانا علیہ راجعون۔ میں امی جان کے پسندیدہ شعر پر یہ سرگزشت ختم کرتی ہوں ؎

سوئیں گے حشر تک کہ سبکدوش ہوچکے
بارِ امانت غم ہستی اتار کے

مولانا مودودی کے بارے میں احمد حسن دانی کی راے

(معروف آرکیا لوجسٹ)

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے بہت ماہر تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی سمجھاتے تھے اور وہ یہ بتاتے تھے کہ ہم اسلام کو اپنی زندگی میں کیسے لا سکتے ہیں۔ اُنھوں نے ہمیں پڑھایا بھی اور ساتھ ساتھ سکھایا بھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے قرآن مولویوں سے بھی پڑھا تھا لیکن یہ طریقہ سب سے الگ تھا۔

حصہ