غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے وفد کا دورہ بحرین اور مشاعرہ

410

غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان کی کہانی 1995 میں ایک استاد ایک کلاس روم سے شروع ہوتی ہے، جب درد دل رکھنے والے اعلیٰ مائیرین تعلیم کی ایک ٹیم نے لاہور میں ایک میٹنگ کی اور پاکستان کے دور دراز پسماندہ دیہاتوں میں تعلیمی پسماندگی پر غور کیا. خوب بحث مباحثہ کے بعدانہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ابتدائی طور پر 22 دیہاتوں میں محدود وسائل کے ساتھ کام کا آغاز کیا. غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان دفعہ 1982 کے تحت غیر منافع بخش اور غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹر کرایا گیا. جس کا صدر دفتر لاہور میں ہے. محدود وسائل، اللہ پر کامل یقین اور انتہائی محنتی ٹیم کے ساتھ اب غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ اپنے کام کو پورے پاکستان میں پھیلا چکا ہے. اس وقت اللہ کے فضل سے پاکستان میں دیہاتوں میں تعلیم کی سہولیات مہیا کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے. اس وقت 700 سکولوں میں 5000 بہترین اساتذہ کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ طلباء و طلبات پاکستان کے دور دراز پسماندہ دیہاتوں میں تعلیم کے ذیور سے آراستہ ہو رہے ہیں. جن میں چالیس فیصد یتیموں کو بالکل مفت یونیفارم سمیت تعلیم کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے. جبکہ سندھ میں ہندو طلباء کے لئے بھی سکول کھولے جا رہے ہیں جن میں تقریبا 700 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں. اس کے علاوہ معذور بچوں کے لئے بھی تعلیمی سہولیات کا بندوبست کیا جا رہا ہے. غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ 100 فیصد تعلیم یافتہ پاکستان کے خواب کے ساتھ آگئے بڑھ رہی ہے. ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے جاہلیت کے اندھیرے چھٹ جائیں گئے اور پاکستان علم کی روشنی سے منور ہو گا. غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان درد دل رکھنے والوں سے اس نیک کام میں تعاون کا طلبگار ہے۔
گذشتہ دنوں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے تین رکنی وفد نے بحرین کا سہ روزہ دورہ کیا ،اس وفد میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے وائس چئیرمین ڈاکٹر اشتیاق گوندل،ایگزیکٹوڈائریکٹر سید عامرمحمود اور معروف شاعر و ادیب امجد اسلام امجد شامل تھے
اس وفد نے بحرین میں مقیم سماجی،ادبی ،مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مقاصد سے ٓگاہ کیا۔
غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ،ترجمان القرآن بحرین اور انجمن فروغ ادب بحرین کے اشتراک سے ایک خوبصورت شام’’ امجد اسلام امجد کے ساتھـ‘‘ کا انعقاد کیا گیا
اس شام کے انعقاد میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے بحرین میں نمائندہ محمد آصف ، جماعت اسلامی بحرین کے سابق ناظم محمد شبیربٹ اور انجمن فروغ ادب بحرین کے کنوینر طاہرعظیم نے اہم کردار ادا کیا۔
اس شام کے پہلے حصے میں تقریب اور دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد کیا گیا۔
تقریب کی نظامت راشد شبیر نے کی اور استقبالی کلمات جناب شبیر بٹ نے ادا کئے۔
غزالی ٹرسٹ کے وائس چئیرمین ڈاکٹر اشتیاق گوندل صاحب نے حاضرین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور سید عامر محمود نے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے اغراض و مقصد بیان کئے ۔
غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے اسکولز سے متعلق ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی اور اس کے بعد مشاعرے کا آغاز کیا گیا، جس کی صدارت جناب امجد اسلام امجد نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض احمد امیر پاشا نے ادا کئے ،دیگرشعراء میں احمد عادل ،رخسارناظم آبادی اور طاہرعظیم نے کلام پیش کرکے سامعین سے خوب داد وصول کی،
مشاعرہ میںشریک شعراکا منتخب کلام۔

طاہرعظیم

اک ضرورت میں صرف ہوگئے تھے
پھر مرے ہاتھ برف ہوگئے تھے
لفظ کی طرح تھے کبھی ہم لوگ
اور پھر حرف حرف ہوگئے تھے
شہر کی ہر گلی کشادہ تھی
لوگ ہی تنگ ظرف ہوگئے تھے

احمد امیر پاشا

ایک مدت سے یہاں آباد ہو
اب یہ صحرا گھر نہیں لگتا تمھیں
گہرے پانی میں اتر جاتے ہو تم
ڈوبنے سے ڈر نہیں لگتا تمھیں
شاعری،دانشوری ،سب فلسفے
پیٹ کا چکر نہیں لگتا تمھیں

رخسارناظم آبادی

قسمت سے زائد مت ڈال
اس تھوڑے میں برکت ڈال
اس دنیا میں جینا ہے تو
دکھ سہنے کی عادت ڈال
زندگی کے بس یہی ہیں چاردن
پانچواں دن ہو نہیں سکتا شمار

احمدعادل

بے خودی میں سنبھل نہیں سکتے
اپنی فطرت بدل نہیں سکتے
اپنا کردار ہی نبھانا ہے
کسی دوجے میں ڈھل نہیں سکتے
ایسے لمحوں میں سب مقید ہیں
جو کسی طور ٹل نہیں سکتے
خوش خرامی پہ ناز ہے لیکن
اس کے پہلو میں چل نہیں سکتے

امجد اسلام امجد

کیسی گہری بات ملی ہے ہم کو اک دیوانے سے
ساری گرہیں کھل جاتی ہیں ایک گرہ کھل جانے سے
کیا ہے اب جو نسل نو نے ہم کو ہنس کر ٹال دیا
ہم بھی کب اس دور جنوں میں سمجھے تھے سمجھانے سے
کچھ وضاحت نہ التجا کیجئے
سچ کہا ہے توحوصلہ کیجئے
ہم نے مانا کہ معتبر ہے دماغ
دل نہ مانے اگر تو کیا کیجئے
آپ بھی تو یہیں پہ رہتے ہیں
خود کو بھی وقت کچھ دیا کیجئے
آئنے ٹوٹ کر نہیں جڑتے
دوستوں کو نہ یوں خفا کیجئے
لفظ سے بھی خراش پڑتی ہے
تبصرہ سوچ کر کیا کیجئے

مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا!۔
ورنہ، صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں

قتیل شفائی

حصہ