کشمیر اور نمرہ اسد سے بھرا سوشل میڈیا

834

اسد اور نمرہ نے توسوشل میڈیا پر ہفتہ مار لیا ۔کیسے کیسے تبصرہ ہوئے ۔ ایسے ایسے بلاگ لکھے گئے کہ اب مزید کیا تبصرہ کریں ۔بہر حال یہ ضرور کہوں گا کہ جتنی پر خلوص دعائیں اِن کی شادی اور اِس کی کامیابی کے لیے کی گئیں اتنی دعائیں سوشل میڈیا پر کسی اور کو نہیں ملی ہونگی۔ ویسے میں جتنی تیزی سے رشتے ٹوٹے اور رشتے ٹوٹنے کی شرح میں اضافہ دیکھ اور سن رہا ہوں اُس میں ان دونوں کے لیے یہی دعا سب سے ضروری ہے ۔جان لیں کہ نظر بھی برحق ہے ، اتنا وائرل ہونے پر نظر کا لگنا بھی سب کچھ الٹ سکتا ہے ۔صرف تصاویر یا ویڈیو ہی ہی نہیں ۔ دونوں سیلبرٹی بن گئے ۔ کئی مقبول نشریاتی اداروں نے انٹرویوچند تجزیے ملاحظہ توکریں۔
’’تصویر میں نظر آنے والے اسد اور پنجاب کالج فرسٹ ایئر کی طالبہ نمرہ جن کی شادی کو لے کرسوشل میڈیا پر مذاق بنایا جا رہا۔ دونوں کی عمریں اٹھارہ ، انیس سال کے قریب ہیں۔دونوں کی تعلیم ابھی جاری ہے۔ اسد نے میٹرک (او لیول )کیا ہے ، وہ مسقط سے پاکستان اپنی بہن کی شادی میں آئے جہاں انہیں پہلے نمرہ پسند آئی اور پھر دوستی بڑھ گئی ۔ ایک سال بعد ہی انہوں نے اپنے والد سے اس بات کا ذکر کیا کہ مجھے نمرہ سے شادی کرنی ہے ۔ لڑکے کے والد صاحب نے جھٹ پٹ شادی ہی کرا دی۔‘‘اس کے ساتھ ساتھ مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بہر حال یہ تو لگ ہی رہا تھا کہ دونوں گھرانوں میں معاشی استحکام اتنا تھا کہ پاکستان میں عمومی طور پر جو پیروں پر کھڑے ہونے کی بات کی جاتی ہے یا ذمہ داری والی بات کی جاتی ہے تو یہاں شاید اتنا محسوس نہیں ہوئی۔ ’’نمرہ اور اسد کو بہت مبارک ہو۔ انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کر کے پاکستانی معاشرے کے لیے ایک بہت اچھا ٹرینڈ سیٹ کیا ہے۔ اردو پوائنٹ پر ان کا پہلا انٹرویو نشر ہوا ہے۔ اسد ابھی پڑھائی یعنی اے۔لیول کر رہا ہے اور اس کے والد اسے اسپورٹ کر رہے ہیں۔ اسد کی والدہ کی شادی بھی اٹھارہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اسد کے والد اکثر کہتے تھے کہ میں اس کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کر دوں گا اور یہ عزم بھی جلد شادی کی ایک وجہ بنا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جلد شادی کے حوالے سے جو اثر ہم جیسے مذہبی لوگوں کی ہزاروں تحریروں نے نہیں ڈالنا، وہ اس جوڑے کے ایک انٹرویو نے ڈال دینا ہے۔اس عمر میں جو معصومیت ہوتی ہے، اس سے جس طرح رشتے چل سکتے ہیں، ذرا عمر میچور ہو جانے کے بعد اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ تو چھوٹی عمر میں شادی کا اس سے بڑا فائدہ کیا ہو سکتا ہے بشرطیکہ والدین مالی اور اخلاقی طورپر سپورٹ کریں۔ اسد صاحب ویڈیو میں ایک جگہ اپنی بیگم صاحبہ کے جوگرز کے تسمے ایسے باندھ رہے ہیں جیسے کوئی بڑا بھائی اپنی چھوٹی بہن کا کر رہا ہوتا ہے۔ خود تو کیوٹ ہے ہی، اس کی باتیں بھی بڑی کیوٹ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی تنقید کی مجھے پروا نہیں ہے۔میں اور آپ بھی عزم کر لیں کہ اپنے بچوں کی اس عمر میں شادی کر دیں گے اور اس کے لیے ان کو مالی اور اخلاقی طور سپورٹ کریں گے۔ میں تو چھوٹی عمر میں شادی کا دل سے قائل ہوں۔ میری شادی اسد کی عمر میں ہوئی ہوتی تو آج دادا نانا ہوتا۔ بہر حال جو چھوٹی عمر میں شادی کا نہیں قائل وہ ان کا انٹرویو دیکھ لے، قائل ہو جائے گا، غض بصر کے ساتھ دیکھ لے۔ انٹرویو کا لنک پہلے کمنٹ میں ہے۔ تو جن کی ابھی تک نہیں ہوئی تو اب سڑے ہوئے کمنٹ کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں، جلد ہو جائے گی۔‘‘ایک اور دوست حدیث مبارکہ یاد دلاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’حدیث میں ہے کہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، نماز جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ جب حاضر ہوجائے اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو (جوڑ کا رشتہ) مل جائے۔‘‘ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’جب اولاد بالغ ہوجائے اور والدین ان کی شادی نہ کریں ،اگر اس وقت اولاد کسی گناہ کی مرتکب ہوجائے تو باپ بھی اس کے گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔‘‘سوشل میڈیا پر جو اس جوڑے کا مسلسل مذاق بنائے جا رہے ہیں، یہ ہمارے معاشرے کے لیے افسوس کے ساتھ ساتھ دین سے دوری کی نشاندہی ہے۔اسد نمرہ کو پسند کرتا تھا، دو ماہ کی دوستی کے بعد اسد نے یہ بات اپنے والد سے کہی کہ نمرہ نامی لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنے کا خواہشمند ہوں! والد نے مارا نہیں ، ڈانٹا نہیں ، مسکرائے اور بولے ’’کیوں نہیں بیٹا، ہم لڑکی کے گھر جائیں گے ۔اگر ان کے گھر والے راضی ہیں تو ضرور کریں گے‘‘۔ اسد کی فیملی نمرہ کے گھر رشتہ لینے پہنچے!نمرہ کے گھر والوں نے اس مثبت اقدام پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور یوں دونوں گھرانوں کی شادی طے پائی۔ اس وقت نمرہ اور اسد شادی کر کے اپنی پڑھائی مکمل کرنے بیرون ملک جاچکے ہیں۔‘‘ایک اور مقبول بیانیہ یہ بھی تھاکہ، ’’18سالہ اسد اور نمرہ نکاح کے موقع پر کل سے بے چاروں کی بھد اڑائی جا رہی ہے،ابھی نکاح ہوا ہے رخصتی بعد میں،اگر اس عمر میں شادی کردی جائے تو یہ جو غلاظت،بچیوں سے زیادتی کیسز ہیں ان میں شاید کمی آجائے۔ ویسے اسی عمر کے بچے بچیاں جب افیئرز چلا لیتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں کرتا۔بہت اچھا فیصلہ ماں باپ کا نکاح کرنے کا۔اللہ تعالیٰ سب کو سنت پر عمل کی توفیق دے ۔آمین‘‘ پہلے تو نشادی کی تصاویر وائرل ہوئیں پھر دونوں کے ایک ساتھ عروسی لباس میں رقص کی ویڈیو خوب وائرل ہوئی ۔ اس پر احسان کوہاٹی دعائیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ، ’’یارو یہ جو بھی کر رہا ہے اپنی بیوی کے ساتھ کر رہا ہے ناں ۔اِسے اور اسکے گھر والوں کو سلام ہے کہ انہوں نے بالکل درست وقت پر اُسے اسکی ہمسفر دلوا دی اور اس بیٹی کو بھی بہت سارا پیار ۔ڈھیروں دعائیں جس نے گرل فرینڈ بننے کے بجائے سیدھا سیدھا عمربھر کا ساتھی بننے کی شرط لگائی کہا کہ اچھی لگتی ہوں تو میرے گھر رشتہ بھیجو اور میرا ہاتھ مانگ لو۔ اس جوڑے کے لئے بہت سارا پیار اور دُعائیں۔‘
کئی دل جلے نمرہ اسد شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ،
’’اور ایک ہمارے گھر والے ہیں جو ظا لم تر ین ہیں جب شادی کی بات کرو کہتے ہیں عمر و یکھ تے کام ویکھ ۔کوئی شرم نہیں تجھے۔‘‘
’’سنا ہے اس لڑکے نے ضد میں دو دن کھانا نہیں کھایا ۔تب جا کے شادی ہو گئی ۔میں نے بھی ۲دن ضد کی تیسرے دن سے گھر والوں نے خود ہی کھانا دینا اور پوچھنا چھوڑ دیا۔‘‘
’’مجھے تو اس عمر میں دہی ، سبزی لینے کے لیے رکھا ہوا ہے ۔ایسا لگتا ہے آدھی زندگی ٹماٹر اور پیاز لینے میں گزر گئی ہے۔‘‘
’’یہی عمر ہے شادی کی ہمارے ماں باپ نے خود اِس عمر میں شادی کی ۔ہمیں اس عمر میں دھنیا لانے پر لگا دیا ۔آجکل کی لڑکیاں آسمان سے کسی شہزادے کے انتظار میں بوڑھی ہو رہی ہیں جو پیسوں سے بھرا ٹرک آسمان سے ساتھ لائے گا اور لڑکے نمرہ جیسی آسمان سے حور پری کے انتظار میں ہیں ۔اینڈ یہ ہوا ہے کے پاکستان میں دو کروڑ لڑکیوں کے بال سفید ہو گئے گھر بیٹھے شادی نا ہونے پر اور لڑکے فیس بک پر لڑکیوں کو پھنسانے کے چکروں میں اپنی ہی جنس بدل کے لڑکی کا آئی ڈی بناکے وقت جائع کر ر ہے ہیں ، نتیجہ یہ ہے کہ زنا عام ہو گیا اور نکاح مشکل ہو گیا ۔‘‘
’’بروقت شادی بہت قابل ستائش عمل ہے۔ مگر اس نیک کام کی ترغیب کی نیت سے نوعمر دولہا دلہن کی جو ناچتی ویڈیوز اور پردہ سے بے نیاز تصویریں ہر وال پر شئیر ہو رہی ہیں وہ ہرگز مستحسن نہیں۔‘‘
بہر حال یہ تو ایک وقتی سیلاب تھاجو آیا اور چلا گیا ، دوسری جانب اہل کشمیر کے لیے امسال بھی پورے جوش و خروش سے سوشل میڈیا پر دن منایا گیا ۔ کئی سارے ہیش ٹیگ کے ساتھ ، کئی ساری سرگرمیاں منعقد ہوئیں، ٹرینڈ لسٹ پر کشمیر ہی کشمیر دو دن چھایا رہا۔ آئی ایس پی آر نے نغمہ بھی جاری کیا۔نا سمجھ تنقید کرنے والے لوگ پوچھتے رہے کہ کہ اس سے کیا ہوگا؟ اُس سے کیا ہوگا؟ انہیں شاید لفظ یکجہتی کا مطلب ہی نہیں معلوم تھا ۔ چنانچہ سمجھانا پڑا کہ یہ 5فروری آزادی کشمیر کے لیے نہیں بلکہ مظلوم کشمیری بھائیوں سے اپنے تعلق کو بتانے کے لیے ہوتا ہے جس میں ہم اپنی مختلف حرکات و سکنات و بیانات سے یہ بات باور کراتے ہیں کہ ہم اہل کشمیر کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی روڈ پر پیدل چلتا ہے، کوئی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کھڑا ہو جاتا ہے، کوئی بینر لگاتا ہے، کوئی تقریر کرتا ہے، کوئی ریلی، کوئی مظاہرہ وغیرہ جیسے افعال انجام دیتا ہے ۔کم از کم پورے پاکستان کی سطح پر یہ بات پھیلائی جا چکی ہے کہ ’کشمیر ‘ میں بھارتی فوج زبردستی مسلمانوں پر بدترین ظلم ڈھا رہی ہے اور کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ان کی مرضی سے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے ۔اس حوالے سے ایک اچھی تحریر صہیب جمال کی وال سے پیش ہے، ’’عموماً آپ کو کچھ افراد ملیں گے جو یہ کہتے ہیں ،کہ چھٹی منا کر اور چھٹی کرکے کشمیر کیسے آزاد ہوگا ؟چھٹی کرکے کون سی جنگ لڑی جاتی ہیں ؟دوستو ! کسی بھی ملک میں کسی کی یاد میں یا کسی واقعہ کی یاد میں تعطیل کا مطلب ہوتا ہے کہ اس واقعہ اور شخصیت کی ہماری نظر میں کتنی اہمیت ہے۔کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں مگر اس کی شدّت پاکستان میں کتنی محسوس کی جاتی ہے اس کا اندازہ اقوامِ عالم کو اس دن کی نسبت سے بخوبی ہوتا ہے ، ریاستی سطح پر یہ دن منایا جاتا ہے۔
ہم پاکستان میں اپنے کاروباری معمولات اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے معطل کر دیتے ہیں ، اس دن کی نسبت سے ٹی وی چینلز پروگرامات ، مذاکرے ، مباحثے رکھتے ہیں ، ڈاکیومنٹری نشر کی جاتی ہیں۔تو یہ دلیل کہ تعطیل کرکے کشمیر آزاد نہیں ہوتا ، ایک بھونڈی دلیل ہے ، اپنے کسی بیمار اور بے سہارا بھائی کی عیادت کرنے جائیں اور اس کو پتہ لگے کہ آپ نے اس کے لیے چھٹی کی ہے وقت نکالا ہے ، اس خوشی کا اندازہ آپ کو نہیں ہوسکتا ، کراچی میں میری ساس کا انتقال ہوا ، صوابی میں ان کے بھائی رشتے دار کام چھوڑ کر تعزیتی محفل رکھے ہوئے تھے ، یہاں مجھے بہت فخر سے بتایا جا رہا تھا گاؤں میں بھی سب لوگ کام کاج چھوڑ کر جمع ہیں۔یہ یومِ یکجہتی کشمیر ہے ،کراچی میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت میٹروپول ہوٹل سے قائد آباد تک انسانی زنجیر بنائی جائے گی ، ایسی خبریں ان شااللہ جب کشمیری بھائیوں اور بہنوں تک پہنچتی ہیں تو ان کے جذبات بلند ہوتے ہیں ، کوئی اگر یہ کہے کہ ایسی چیزوں سے کسی کے حوصلے بلند نہیں ہوتے تو وہ انسانی فطرت کے خلاف بات کرتا ہے ، کیونکہ میں نے خود دیکھا ہے اور میرا تجربہ ہے آپ کی گاڑی بیچ راہ میں خراب ہو جائے تو کسی جاننے والے کے یہ الفاظ ہی ڈھارس بندھا دیتے ہیں ’’تم گاڑی میں بیٹھو ہم دھکا لگا کر اسے سائیڈ میں کردیتے ہیں، ‘‘مگر جان لیں کہ گاڑی میکنک نے ہی صحیح کرنی ہوتی ہے۔‘‘

حصہ