جذبوں کی حرارت کہاں کھوگئی؟۔

244

فرحت طاہر
گئے برسوں بلکہ ربع صدی پہلے کی بات ہے جب ابا جان نے عید کی خریداری کے لیے رقم دی۔ اتفاق سے اسی دن سامان بیچنے والا ایک لڑکا گٹھر اٹھائے آموجود ہوا۔ اس کے مطابق خاندان کے بڑے جہاد افغان میں ختم ہوگئے ہیں اور وہ گھر چلانے کے لیے یہ کام کر رہا ہے۔ اس کے زری اور تلے کے کام والے زرق برق کپڑوں میں ہمیں قطعا دلچسپی نہ تھی مگر مجاہدین کی مدد کا سوچ کر کئی سوٹ اور جوتے سینڈل خرید لیے۔
ابھی اس سامان کا کچھ مصرف سوچ ہی رہے تھے کہ ہماری عزیزہ رقیہ باجی آگئیں‘ وہ کشمیری مجاہدین کے لیے فنڈ اور سامان جمع کر رہی تھیں۔ ہمیں افسوس ہوا کہ ناحق ہزاروں روپے کا فضول سامان خرید لیا ورنہ ہم بھی جہاد کشمیر میں اپنا حصہ ڈال لیتے! وہ امی سے فنڈ لے کرجانے ہی والی تھیں کہ ہم نے نہ جانے کیا سوچ کر گزشتہ روز کی اپنی تمام خریداری ان کے حوالے کردی۔ پہلے تو وہ سٹ پٹائیں کہ مجاہدین کے لیے جوتے، کپڑے اور اسلحہ کی ضرورت ہے‘ ان نسوانی سامان کا وہ کیا کریں گے؟ مگر پھر ہنس کر قبول کر لیے کہ ان مجاہدین کی شادی میں کام آجائیں گے! (اسکول کے زمانے میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان کے پیکٹ بناتے ہوئے ڈائجسٹ کی بڑی تعداد دیکھ کر ہم نے اپنی ٹیچر سے سوال کیا کہ انہیں اس کی تو ضرورت نہیں ہوگی؟ تو انہوں نے بہت حکمت سے بتا یا کہ دینے والے کی نیت اور استطاعت اہم ہے۔ ہم اسے ردی میں بیچ کر پیسے جمع کر سکتے ہیں! بس اسی سوچ نے ہماری اس امداد کو اپنی نظر میں معتبر اور اہم بنا دیا تھا۔)
یہ 93- 94-ء کی بات ہے جب جہاد کشمیر عروج پر تھا۔ 5 فروری کے دن کا آغاز بہت جوش سے ہوتا تھا۔ جہادی ترانے سننا، کشمیر کانفرنس میں شرکت کے لیے پوسٹر کی تیاری… ہم محاذ پر نہ جاسکتے تھے مگر روحانی، ذہنی، مالی اور جذباتی لحاظ سے پوری طرح شریک تھے۔ جذبوں کی شدت میں ہم تنہا نہ تھے! ہماری بہن نے بڑے بھائی کی شادی پر بننے والا خوب صورت گولڈن سیٹ بھی فنڈ میں دے ڈال اور پھر ایک منظر کچھ یوں بھی تھا کہ گھر میں موجود تمام گرم کپڑے بڑے بڑے سفری بیگوں میں ڈال، ہم دونوں بہنیں کوچ میں بیٹھ کر ادارہ نور حق جا پہنچے۔ کوچ کے مسافر ہمیں مصیبت زدگان سمجھ کر رحم بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو ادارہ کے منتظمین حیرت اور تجسس سے۔
عزیز ساتھیو! ان یادوں کو آپ سے شیئر کرنے کا ہرگز مقصد اپنی سخاوت کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت (جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی یا شاید بہت چھوٹی ہوگی) کو کشمیر کے حوالے سے پوری قوم کے جذبات کی جھلک دکھانی ہے جو اکیسویں صدی کے آغاز میں ٹوئن ٹاور پر حملے کے بعد صورت حال میں تغیر آنے سے طاق نسیاں بن گئی اور ترجیحات کی فہرست سے بڑی خاموشی سے مٹا دی گئی۔ خود پر لگے دہشت گردی کا لیبل ہٹانے کے لیے ہم 180 کے زاویے سے منحرف ہوگئے۔ مظلوم کشمیری اپنے ہی غم میں ڈوب کر رہ گئے! وہ نسل جو پی ٹی وی پر ہر منگل کی رات کشمیر میڈیا سیل کی رپورٹ دیکھ کر اپنے جذبات کو گرماتی تھی، مصلحتوں اور اندیشوں کے غلاف اوڑھ کر سوگئی…آہ…
لیکن ہر شر میں سے خیر ضرور بر آمدہوتا ہے کے مترادف یہ ہوا کہ کشمیری خود انحصاری کی مجبوری میں اندر سے مضبوط ہونا شروع ہوئے۔ بھارتی ایجنڈے اور واویلے کو ناکام بناتے ہوئے بہادری اور جرأت کی نئی تاریخ رقم کی۔ نئی جدوجہد مضبوط بھی اور منظم بھی! جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوکر نوجوان نسل جب میدان جہاد میں اتری تو برہان وانی کی داستان نے جنم لیا! علی گیلانی کو تقویت ملی۔ یادوں کی پٹاری بند کر کے آج کا منظر دیکھتے ہیں!
یہ 5 فروری کا دن ہے۔ جماعت اسلامی نے حسب سابق کشمیر کانفرنس منعقد کی ہے (یقینا یہ واحد جماعت ہے جو کشمیریوں سے اسی طرح وابستہ ہے جیسے روزِ اوّل تھی) اور ہم بھی رسم نبھانے حاضری کو موجود تھے!
ضعیف و نزار علی گیلانی کی آواز میں کمزوری کا شائبہ تک نہیں ہے! وہ کشمیر کو یاد کرنے پر ہمارا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور میں اپنے آپ کو ندامت میں ڈوبا محسوس کر رہی ہوں! کہاں تو یہ کہ فرنٹ لائن پر پہنچنے کی جستجو رہتی تھی اور اب یہ کہ کشمیر کانفرنس میں پہنچنا بھی محال ہے! کتنی بے دلی اور بے رغبتی سے وقت نکال کر پہنچے ہیں اور آرام سے دھوپ سینکتے ہوئے گویاپکنک منارہے ہیں! ہر طرف انواع و اقسام کے کھانے پینے کا اہتمام ہے اور مجاہدین کے لیے فنڈز جمع کرنے والوں کو ایک روپیہ بھی نہ دے پائے! ایسا نہ تھا کہ سکت نہ تھی بلکہ ہمارے پاس وقت کی کمی تھی! کون بیگ کھولے اور رک کر پیسے نکالے؟ گھر پہنچنے کی جو جلدی تھی! ہمارے جذبوں کی شدت کہیں کھوگئی تھی! گھر جاکر سینکڑوں کام نبٹانے تھے۔ اس سے زیادہ وقت ہم نہیں دے سکتے تھے! جذبے سرد یا پھر ہم جمود کا شکار ہوچکے تھے! برف ہوئے جذبوں کو ڈی فراسٹ کرکے پھر سے گرمائش کی ضرورت ہے!!!۔
5اگست 2019:
اور پھر اگست 2019 ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے گویا اسے ہڑپ کرنے کی بھارتی کوشش پرمہر لگادی گئی۔ اس کے بعد کشمیر پھر خبروں کی زینت بن گیا۔ 5 اگست کی شام کراچی کی خواتین نے سڑک پر جمع ہوکر اس کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی اور پھر عید الاضحی کی مصروفیات کے باوجود پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کے تحت یکم ستمبر کی شام برستی بارش میں اہل کراچی کشمیر کے لیے پھر سڑکوں پر جمع تھے۔
یکم ستمبراور یکم محرم الحرام:
یہ اتفاق کبھی کبھار ہوتا ہے جب قمری اور شمسی مہینے کی تاریخ یکساں ہوں۔ اور یہ حسن اتفاق ہجری سال 1441 کے آغاز میں آیا جب اہل کراچی کشمیر مارچ کے لیے جمع ہورہے تھے۔
تیاریاں اور انتظامات ہفتے بھر سے شروع تھے‘ بریفنگ کے پروگرام جاری تھے‘ جگہ جگہ کیمپ لگا کر خوب تشہیر کی جارہی تھی۔ کشمیر پر اطلاعاتی اور معلوماتی پمفلٹ تقسیم کیے جارہے تھے۔
جمعے کے دن وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق کھڑے ہونے والوں کو جماعت اسلامی کی جانب سے کشمیر مارچ میں شرکت کی بھرپور دعوت دی جارہی تھی‘ جو کہ جذبوں کو مہمیز کرنے کا باعث بن رہا تھا اور شاید حکومت کا پروگرام بھی اس وجہ سے زیادہ مؤثر رہا۔ گویا دوطرفہ سود مند رہا لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ کشمیر کے معاملے پر اہل پاکستان ویسے بھی یکجان اور یکسو ہیں اس لیے مومنٹم بہت اچھا بن رہا تھا۔
شرکا موسم کی پیشن گوئی پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے…ذمہ داریاں تفویض کی جارہی تھیں‘ دستے تشکیل پارہے تھے‘ ہمارا نام بھی رضا کاروں میں درج تھا جنہیں وقت سے پہلے پہنچنا تھا۔ہم 5 خواتین اور 3 نوعمر بچے مقررہ وقت پر متعلقہ جگہ پہنچے تو سورج کی تپش شدت پر تھی… تپتی ہوئی سڑک ابھی ویران تھی مگر استقبالیہ میں ذمہ داران پہنچ چکے تھے۔ آہستہ آہستہ شرکا پہنچ رہے تھے۔ گرمی کے باعث گاڑیوں سے اترتے جھجک رہے تھے۔ اس شدید موسم میں ہم گھنٹوں کس طرح کھڑے ہوں گے؟ دل بہت فکر مند تھا۔ یا اللہ آپ اپنا سایہ کردیں۔ دل مستقل دعا میں مصروف تھا۔
وفود کی آمد میں یکایک تیزی آگئی تھی‘ ہمیں اپنی ڈیوٹی کی جگہ بتا دی گئی تھی‘ اس سے پہلے نماز عصر کی ادائیگی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے تیز آندھی اور بارش کی خبریں آنے لگیں‘ دیکھتے ہی دیکھتے بادل یہاں بھی چھا گئے اور بوندا باندی شروع ہوگئی جو جلد ہی موسلا دھار بارش میں تبدیل ہوگئی۔ ہم نے اپنی چھتری نکالی مگر وہ اس شدید ہوا میں ناکافی ثابت ہو رہی تھی۔
پروگرام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ خدشات نے سر اٹھا نا شروع کردیا… کراچی میں تو بارش ایمرجنسی کا باعث بن جاتی ہے‘ اسکول بند، کاروباری اداروں اور دفاتر میں حاضری متا ثر ہوتی ہے۔
خراب سڑکیں، کرنٹ، کھلے گٹر…اُف خطرے ہی خطرے…کون مصیبت اٹھانے گھر سے نکلے… مگر یہاں تو آنے والوں کی رفتار تیز تر ہورہی تھی۔ہم جس جگہ تھے وہاں ہل پارک اور بلند علاقوں سے آنے والا پانی تیزی سے دریا میں تبدیل ہو رہا تھا اور جلد ہی گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا اور قریبی شامیانے میں رکھی کرسیاں اور سامان تیرنے لگا۔ ایسے میں وہاں افراد باہر نکل گئے… اللہ کی رحمت برس رہی تھی اور جذبوں کو مہمیز کر رہی تھی… چند گھنٹے پہلے پڑھی سورہ الانفال اور سورہ توبہ لگ رہا تھا آج ہی کے لیے اتری ہیں… اللہ کی سکینت دلوں کو نرم کر رہی تھی۔
اسٹیج سے آتی آوازیں تھوڑی دیر کو معطل رہیں اور پھر نارمل انداز میں پروگرام جاری رہا جسے شرکا سکون سے سن رہے تھے۔ مجمع میں کسی قسم کی بھگدڑ یا بد نظمی نہیں ہوئی۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں لوگ سکون سے رہے تو حیرت ہوتی ہے مگر آج اپنی آنکھوں پر یقین آگیا تھا کہ جب فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو سکینت طاری ہوجاتی ہے۔
جب ہماری ذمہ داری کی چنداں ضرورت نہ رہی تو گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے۔ پانی میں شرابور کچھ لوگ کپکپا بھی رہے تھے۔
تھوڑی دیر میں گھر پہنچ کر خشک ہوجائیں گے‘ گرم مشروب سے گرمی پہنچا لیں گے مگر اہلِ کشمیر کرفیو میں بھوک اور خوف سے کس طرح لڑ رہے ہیں…؟ ہم نے چند گھنٹے بھوکا پیاسا رہ کر اندازہ لگا لیا۔یا اللہ ہمارے دل ان کے ساتھ ہیں‘ نئے ہجری سال پر یہ مہم اس بات کا شگون ہے کہ اہل کشمیر کے دل ضرور آزادی اور سکون سے ہم کنار ہوں گے ان شاء اللہ۔

حصہ