دنیا میرے آگے

230

افشاں نوید
سنہرے بالوں والی خوبصورت دوشیزہ بے بی واکر دھکیل کر شاپنگ مال میں داخل ہورہی تھی۔ ڈھائی تین برس کا ایک صحت مند بچہ واکر میں اپنے کھلونے میں مگن تھا۔ میں سوچنے لگی ساری مائیں ’’ممتا‘‘ کے جذبے میں ایک جیسی ہوتی ہیں اور سب بچے معصوم۔ یہ ماں بھی وہی سب تکلیفیں اس بچے کی پرورش میں اٹھا رہی ہوگی جو کوئی بھی ماں اٹھاتی ہے۔ یہ بچے ہی اصل اثاثہ ہیں، اسی لیے ان پر والدین زندگی کی بہترین سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
مغربی معاشروں کے اولڈ کیئر سینٹرز میں موجود والدین نے کیا اپنے بچے اس لیے پالے پوسے تھے کہ ان کا بڑھاپا تنہا اجنبیوں کے درمیان گزرے؟ عمر رسیدہ افراد کے کسی مرکز کے سامنے سے گزرتے ہوئے بارہا یہ سوال مجھے پریشان کرتا ہے۔ میں آج کل اپنی بیٹی کے پاس آسٹریلیا آئی ہوئی تھی۔ یوں مجھے اس معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
علوم و فنون، ایجادات و تعیشات کی معراج پر ان معاشروں کی خانگی نفسیات کو سمجھنا کس قدر دشوار ہے…! دن بھر بارہا مختلف مناظر سے گزرتے ہوئے میں سوچا کرتی کہ یہاں عورت کس قدر تنہا ہے؟ معاشرے کے مرد اس کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ایک لڑکی باپ کا گھر نوجوانی میں چھوڑ دیتی ہے کیونکہ ہاسٹل لائف یہاں کے کلچر کا حصہ ہے۔ بھائی کا تحفظ حاصل نہیں، وہ بھی ٹین ایج میں ہی گھر چھوڑ چکا ہوتا ہے۔ زندگی میں جن بوائے فرینڈز سے واسطہ پڑتا ہے اُن کے لیے نئے برانڈ کی چوائس ہر وقت موجود رہتی ہے۔
یہاں خواتین اپنے حسن اور جسمانی فٹنس کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ جگہ جگہ پارک، فٹنس کلب، یوگا سینٹرز، سڑکوں پر واک کرتی ہوئی خواتین آپ کی توجہ مبذول کرا لیتی ہیں۔ یہ انتہائی سخت سردی کا موسم ہے۔ اس وقت درجہ حرارت 4 سے 6 سینٹی گریڈ ہے، لیکن مختصر ٹرائوزر اور ہلکی بارش میں بغیر کسی سوئیٹر کے کوئی دوشیزہ جب آپ کو تیز دوڑتی نظر آتی ہے تو جھرجھری سی آجاتی ہے کہ ’’ان کو سردی کیوں نہیں لگتی؟‘‘۔ جم خواتین سے بھرے ہوئے ہیں۔ یوگا سینٹرز ان کی دلچسپی کا خاص مرکز ہیں۔
اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھنا بہت پسندیدہ بات ہے، بلاشبہ خواتین کو خود سے غافل ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ بالخصوص ماں صحت مند ہوگی تو پورا خاندان صحت مند ہوگا۔ لیکن یہاں بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ مغربی معاشروں میں عورتوں کی ’’قدر‘‘ متعین کرنے کے پیمانے کچھ اور ہیں۔ خواتین کی یہ ’’فٹنس‘‘ ان معاشروں کی ضرورت ہے، ان کی جاب کی ضرورت ہے۔ ان کو سخت مشقت کرنا پڑتی ہے خود کو کچھ ملازمتوں کا اہل ثابت کرنے کے لیے۔ ایسا نہیں ہے کہ خواتین میں ’’مٹاپا‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں، لیکن اس کا تناسب یہاں بہت کم ہے۔
زندگی یہاں بہت متحرک و مصروف ہے، کیونکہ سب ملازمت کرتے ہیں۔ خواتین سخت جسمانی مشقت والی ملازمتیں بھی کرتی ہیں۔ بسا اوقات تو ان کے نسوانی وقار کے خلاف انہیں متحرک دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے۔ مثلاً خواتین خاکروب ہر جگہ ہیں چاہے ریلوے اسٹیشن ہو، شاپنگ مال ہو یا ریسٹورنٹ۔ یہاں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں کسی بھی معاملے میں۔ اسی طرح ’’عمر‘‘ کی بھی تخصیص نہیں کہ کون سا کام نوجوانوں کو کرنا چاہیے اور ضعیف لوگوں سے کس طرح کی خدمات لینی چاہئیں…؟ ستّر برس سے زیادہ عمر کے مردوں اور عورتوں کو آپ عوامی مقامات پر سماجی خدمات میں مصروف پائیں گے۔
اسپتال میں میری بیٹی کی نرس عمر میں ستّر برس سے اوپر کی تھی۔ انتہائی چاق چوبند۔ اس کی رات کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ جوگر پہنے، پونی ٹیل ہلاتی ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں… چہرے پر ہمہ وقت پیشہ ورانہ مسکراہٹ۔ دل نہ مانا خاموش رہنے پر، اور پوچھ ہی بیٹھی ’’سسٹر تمہاری عمر کیا ہے؟‘‘ شاید یہاں خواتین عمر چھپانے کا رجحان نہیں رکھتیں۔ وہ بولی ’’پچھتر برس‘‘۔ دل نے کہا ’’ماشاء اللہ‘‘۔ ہمارے ہاں تو اس عمر میں بلڈ پریشر، شوگر اور ہڈیاں ہی گھل چکی ہوتی ہیں۔ واکر لے کر چل لیں تو ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ گرنے کی صورت میں اگر فریکچر ہوگیا تو…!
بلاشبہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ خواتین اس عمر میں قابلِ رشک صحت کی مالک ہوتی ہیں، لیکن ان کا تناسب بہت کم ہے۔ اس میں قصوروار معاشرہ بھی ہے۔ ہم چالیس برس کی عمر سے ایک عورت کو یہ احساس دلانا شروع کردیتے ہیں کہ اب وہ بڑھاپے کی منزلوں میں قدم رکھ چکی ہے۔ ہم اس سے رنگوں کا اختیار بھی چھین لیتے ہیں کہ ’’اپنی عمر تو دیکھو، اس میں یہ چونچلے!‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ بھی دو انتہائیں ہیں۔ یہاں آسٹریلیا میں ہر عورت عمر کے ہر حصے میں ملازمت پر یوں مجبور ہے کہ اس کا وہ خاندانی شیلٹر عموماً نہیں ہے جہاں ناز اٹھائے جاتے ہیں۔
ہمارے یہاں ستّر، اسّی برس کی عمر کی عورت نانی، دادی بلکہ اکثر اس کے ’’پر‘‘ بھی لگ چکے ہوتے ہیں اس عمر کو پہنچتے پہنچتے۔ خاندان میں ایک باوقار مقام ہوتا ہے بزرگوں کا۔ سماج سے بھی بہت سی اعلیٰ اقدار رخصت ہوتی جا رہی ہیں، لیکن الحمدللہ بزرگوں کے احترام کی روایت ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں کوئی تصور نہیں کہ ستّر، اسّی برس کی عورت معاش کے لیے گھر سے باہر نکلے۔ وہاں صرف معاش ہی مقصد نہیں ہے، وہ فلاحی ریاستیں ہیں، اپنے شہریوں کے حقوق کا غیر معمولی خیال رکھتی ہیں۔ عورت یوں گھر سے باہر ہے کہ گھر میں وہ سکون ہی نہیں ہے۔ وہ محبت کرنے اور ناز اٹھانے والے رشتے ہی موجود نہیں ہیں۔ اس لیے وہ خود کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے کے لیے انتہائی مشقت کرتی ہے۔ اولڈ ہوم کی زندگی سے بچنے کے لیے آخر وقت تک خود کو کھڑا رکھنے پر مجبور ہے۔
میلبورن میں میرے بھانجے نے بتایا کہ آج آفس سیکرٹری نینسی جس کی عمر ساٹھ برس ہے، بہت اداس تھی، کیونکہ اسے اپنی ضعیف ماں کو اولڈ کیئر سینٹر میں داخل کرانا پڑا تھا۔ میں نے دل گرفتگی سے سوال کیا ’’ایسی کیا مجبوری تھی؟‘‘ وہ بولا ’’نینسی ملازمت کس طرح چھوڑ سکتی ہے؟ ماں کو ضعیفی کے ساتھ محتاجی بھی لاحق ہوگئی تھی، اس کو بستر سے اٹھنے کے لیے سہارے کی ضرورت تھی۔ نینسی نے کہا: میں نے اولڈ ہوم میں ماں سے رخصت ہوتے وقت اس کا بوسہ لیا تو اس نے مضبوطی سے میرے بازو تھام لیے۔ میں نے بمشکل اپنا ہاتھ چھڑایا۔ میں اپنے ہاتھوں پر ماں کا لمس تا زندگی محسوس کرتی رہوں گی۔‘‘ میں نے کہا ’’گھر پر کسی نرس وغیرہ کا اہتمام نہیں ہوسکتا تھا؟‘‘ بھانجا فرحان بولا ’’ایک تو نرس بہت مہنگی ہوتی ہے یہاں، دوسرے یہ کہ وہاں اس جیسی اور خواتین ہوں گی تو مختلف سرگرمیوں میں وقت کاٹنا آسان ہوجائے گا۔ اس کی ماں کا شہر کے مہنگے علاقے میں ذاتی گھر ہے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’ماں کے گھر کا کیا ہوگا؟‘‘ بولا ’’حکومت کی ملکیت میں چلا جائے گا۔ نینسی کو کیا ضرورت ہے ماں کے پیسے کی، وہ تو خود امیر کبیر عورت ہے۔ لیموزین میں آفس آتی ہے۔‘‘
یہ چونکہ وہاں کی روایات ہیں اس لیے اس میں ’’خاص‘‘ کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ سبھی بوڑھے وہاں اولڈ کیئر سینٹرز میں عمر بھگتا رہے ہیں۔ ہاں! ہمارے سماج کے لیے یہ انہونی بات ہے، کیونکہ یہاں والدین ’’جنت‘‘ ہیں۔ یہاں تو ’’ماں‘‘ پر محبت بھری نظر ڈالنے کا ثواب بھی حج کے برابر قرار پاتا ہے۔ اس لیے کوئی کیوں ماں کو نظروں سے جدا کرے…؟ اولڈ ہائوسز میں لاکھ صحت مند تفریحات ہوں، سہولتیں ہوں، دل بہلانے کے طریقے ہوں، مگر اولاد کا نعم البدل کیسے ممکن ہے…! نینسی جو اس معاشرے کی پروردہ ہے اُسے کیسے یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے!
ایک چیز آپ کو اس معاشرے میں ’’خوف‘‘ نظر آئے گی۔ میں نے میلبورن میں اپنے بھانجے سے اس کے دفتر میں کام کرنے والے درجن بھر لوگوں کے خانگی حالات معلوم کیے۔ سب کی دو یا تین شادیاں ہوچکی تھیں۔ اس نے کہا ’’ہمارے ذہن میں بچپن سے ایک ہی بات ہے کہ ماں باپ ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں اور اس کو خاندان کہتے ہیں۔ بعض تلاشِ معاش کے لیے برسوں باہر بھی رہتے ہیں لیکن خاندانوں سے جڑے رہتے ہیں۔ دور رہنے سے میاں بیوی کے تعلقات شک کی نذر نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں خاندان کے ’’ادارے‘‘ کی حفاظت کی جاتی ہے۔ جب کہ یہاں ذاتی خواہشات ادارے سے بالاتر ہیں۔ ایک بوڑھی یا درمیانی عمر کی عورت کی اچھی دوستی اپنے باس یا کولیگ سے ہوجائے تو وہ اپنے شوہر کو مطلع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتی۔ اس کے ساتھ چلی جاتی ہے اور اس کے فلیٹ میں شفٹ ہوجاتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا کہ جوان اولاد کیا کہے گی؟ والدین نہ اولاد کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، نہ بیٹی یہ کہہ سکتی ہے کہ اب تو میرے بچے جوان ہوگئے ہیں، امی جان آپ نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟ یہ مادر پدر آزاد معاشرے ہیں۔ ہر ایک ’’جیسے چاہو جیو‘‘ کی عملی تصویر ہے۔‘‘
یہاں کسی بھی عمر کی عورت خود پر بڑھاپا طاری نہیں ہونے دیتی۔ لباس کے معاملے میں ایک بارہ برس کی لڑکی اور ستّر برس کی عمر کی عورت ایک جیسی بولڈ ہوتی ہیں۔ میری بیٹی امتحان دینے سڈنی سے میلبورن جا رہی تھی۔ جہاز میں اس کے ساتھ ایک بوڑھی خاتون سفر کررہی تھیں۔ اس نے بتایا کہ وہ بہت اچھی طرح تیار تھیں۔ انہوں نے سرخ بڑے بڑے موتیوں کی مالا پہنی ہوئی تھی اور ہم رنگ لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔ بال سلیقے سے ہیئر بینڈ سے سنوارے ہوئے تھے۔ میں نے گفتگو شروع کی تو خوش مزاجی سے بتانے لگیں کہ شوہر کا پانچ برس قبل انتقال ہوگیا ہے۔ اب وہ بوائے فرینڈ سے ملنے میلبورن جارہی ہیں۔ ان کی نیٹ پر دوستی ہوئی ہے۔ وہ ایک ہفتہ وہاں گزار کر واپس سڈنی آجائیں گی۔ بیٹا ساتھ رہتا ہے، ملازمت سے ایک ہفتے کی چھٹی ملی ہے انہیں۔ چھ ماہ پہلے ’’جوزف‘‘ سڈنی آگئے تھے چند دن کے لیے، اب کے انہیں چھٹی نہیں ملی اس لیے انہیں جانا پڑ رہا ہے۔‘‘
یہ کوئی خاص واقعہ نہیں ہے، وہاں کا عمومی معاشرہ ایسا ہی ہے۔ وہاں ان باتوں میں کوئی’’خبریت‘‘ نہیں ہے۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ اس کو زندگی ایک بار ملی ہے۔ زندگی کا مقصد ’’انتہائی لذت‘‘ کا حصول ہے۔ اس کے لیے سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ریاست ہاتھ جوڑے کھڑی ہے، نہ شراب پر پابندی لگا سکتی ہے، نہ قحبہ خانوں پر۔ یہاں قحبہ خانے رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ وہاں خدمات انجام دینے والی ’’سیکس ورکرز‘‘ کہلاتی ہیں۔
یہاں آپ کو اسلام کا نظامِ عفت و عصمت سمجھ میں آتا ہے۔ ستر، حجاب اور غضِ بصر کے احکامات سمجھ میں آتے ہیں۔
انتہائی ترقی یافتہ یہ معاشرے حقیقتاً تنہا ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ عورت کے مقام و مرتبے کا صحیح تعین نہ کرنا ہے۔ عورت نہ صرف گھر سے باہر ہے بلکہ مجبور ہے کہ مرد کی تسکین کا سامان کرے۔ اس کی اصل قیمت اس کا جاذبِ نظر ہونا ہے۔ اربوں کی فیشن انڈسٹری یہاں عورت کے لیے خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ رائل پرنس اسپتال کئی بار جانے کا موقع ملا، وہاں داخلی دروازے پر کچھ معمر خواتین بینچوں پر تنہا سر جھکائے بیٹھی نظر آتی تھیں۔ معلوم ہوا کہ وہ نشے کی حالت میں ہوتی ہیں۔ جوا یہاں عام ہے۔ خواتین کو بھی یہ شوق لاحق ہے۔ جب خواتین عمر کے آخری حصے میں جوا ہار جاتی ہیں تو کثرت سے منشیات کا استعمال شروع کردیتی ہیں۔ اکثر اموات نشے کی زیادتی سے ہوتی ہیں۔
پاکستان میں آپ کو نصف شب کو تنہا کوئی لڑکی روڈ کے کنارے تنہا بیٹھی نظر آئے تو آپ کے دل میں یقینا اُس سے ہمدردی پیدا ہوگی۔ قبل از فجر دو لڑکیاں تنہا جا رہی ہوں تو پہلا گمان یہی ہوگا کہ ضرور کوئی ایمرجنسی ہوئی ہوگی۔ یہاں کے معاشروں میں خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی ہمدردی نظر نہیں آتی۔ بیشتر خواتین تنہا نظر آتی ہیں۔ بس اسٹاپ ہوں یا ریلوے اسٹیشن یا شہر کی سڑکیں… عورتیں تنہا نظر آئیں گی رات دن کی تخصیص کے بغیر۔ نہ کسی کے مختصر لباس کو کوئی لمحہ بھر رک کر دیکھتا ہے، نہ رات کو تنہا ہونا یہاں کوئی خوف کی بات ہے۔
ہم یہ تصور نہیں رکھتے کہ بچی مغرب کے بعد تنہا گھر سے باہر ہو۔ اگر ضرورتاً ہے بھی تو گھر والے لمحہ لمحہ رابطہ رکھتے ہیں۔ یہاں گھروں پر انتظار کرنے والی آنکھیں گم ہی ہیں۔ گھر کی تعریف بھی کتنی مبہم ہے یہاں۔ چند سال کسی ایک کے ساتھ گزارے، پھر بے وفائی سہہ کر دوسرے لائف پارٹنر کا انتخاب کرلیا۔ ایسے میں بچوں کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہاں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال کی وجہ سمجھ آسکتی ہے۔ یہاں حالیہ الیکشن کے موقع پر حکمران پارٹی کے منشور میں یہ نکتہ شامل تھا کہ ’’نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘
ہمارے خاندان ہمارے کتنے محفوظ سائبان ہیں۔ ان معاشروں میں اپنے خاندان کی قدر سمجھ میں آتی ہے۔ اللہ ہمارے مستحکم خاندانی نظام کی حفاظت فرمائے کہ یہ دشمن کا اصل ہدف ہیں۔

حصہ