آرٹس کونسل کراچی کے زیراہتمام سالگرہ مشاعرہ

232

نثار احمد نثار
آرٹس کونسل کراچی کی اسپیشل ایونٹ کمیٹی کے زیر اہتمام یکم تا 31 جنوری سالگرہ منانے والے شعرا کے لیے سالگرہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ ہر شخص کئی حوالوں سے اپنی یادیںدوسروں سے شیئر کرتا ہے جس دن انسان اس دنیا میں آتا ہے ہم اسے اس کا جنم دن یا یوم پیدائش کا نام دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس حوالے سے اپنی سالگرہ مناتے ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی نے 30 جنوری 2020 کو 7 بجے شام گل رنگ میں سالگرہ مشاعرہ ترتیب دیا جس کی صدارت ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کرنا تھی جب کہ عبدالحسیب خان مہمان خصوصی تھے۔ یہ دونوں اہل دانش بہ وجوہ اس تقریب میں شریک نہ ہوسکے لہٰذا منصب صدارت ریحانہ روحی کے حصے میں آئی۔ منصور ساحر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تلاوتِ کلام مجید اور نعت رسولؐ کی سعادت ساجدہ سلطانہ نے حاصل کی۔ آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کی فی زمانہ مشاعرے کی روایت کم ہوتی جارہی ہے نیز ہم اپنے پلیٹ فارم سے اربابِ سخن کے تحفظ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ آج کا سالگرہ مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم نے مشاعرے میں ان لوگوں کو بھی دعوت دی ہے جو کہ آرٹس کونسل کے ممبر نہیں ہیں لیکن وہ جنوری میں پیدا ہوئے ہیں اور شعر کہہ رہے ہیں ہم انہیں عن قریب آرٹس کونسل کی ممبر شپ پیش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جب سے اس ادارے کا چارج سنبھالا ہے ہم فنونِ لطیفہ کی تمام شاخوں کی ترویج و ترقی میں مصروف ہیں‘ ہم نے کوشش کی ہے کہ ہم آرٹس کونسل کو کنبے کی شکل میں ڈھال دیں یہاں کے ممبران ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ آج کی محفل ایک یادگار محفل ہے‘ ہم سالگرہ مشاعرے کو آگے بڑھائیں گے اور دسمبر 2020 تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آج کی تقریب کی گہما گہمی دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ اب یہ پروگرام کسی بڑی جگہ پر شفٹ کیا جانا چاہیے۔ منصور ساحر نے کہا کہ احمد شاہ صاحب ہمارے لیڈر ہیں‘ ہم ان کی سرپرستی میں ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں‘ آج آرٹس کونسل ادبی تقاریب کے تناظر میں ایک اہم ادارہ بن چکا ہے۔ اب یہاں روزانہ کی بنیاد پر کئی کئی پروگرام ہو رہے ہیں ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ممبران کو زیادہ سے زیادہ پروگرام دیں تاکہ ان کے لیے تفریح طبع کے ساتھ ساتھ علم و آگہی کی سہولتیں بھی دستیاب ہوں۔ اس موقع پر سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور تمام شعرا میں تحائف تقسیم کیے گئے۔ ریحانہ روحی نے کہا کہ یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہے کہ آج میں نے سالگرہ مشاعرے کی صدارت کی۔ میری جانب سے تمام شعرا کو سالگرہ مبارک ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل کراچی اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے سرگرم عمل ہے یہ ادارہ قلم کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف ہے‘ ہمارے صدر احمد شاہ اور ان کے رفقائے کار اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ آرٹس کونسل کے ممبران کے لیے کام کر رہے ہیں امید ہے کہ ہم مزید ترقی کریں گے۔ آرٹس کونسل نئے فن کاروں کی گرومنگ کے لیے ایک بہترین اسٹیج ہے اور پرانے فن کاروں کی پزیرائی کے پروگرام بھی یہاں ترتیب دیے جاتے ہیں۔ آج کے مشاعرے کے بارے میں ریحانہ روحی نے کہا کہ آج بہترین غزلوں کے علاوہ بہت عمدہ نظمیں بھی سننے کو ملیں‘ اس مشاعرے میں کسی بھی موقع پر بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ منصور ساحر نے بڑی عمدگی سے مشاعرہ چلایا اور کہیں بھی ٹیمپو ٹوٹنے نہیں دیا۔ مشاعرہ میں ریحانی روحی‘ سعدیہ حریم‘ راقم الحروف نثار احمد نثار‘ تبسم صدیقی‘ ظفر بھوپالی‘ سہیل احمد‘ وحید نور‘ سیمان نوید‘ حمیدہ کشش‘ تنویر سخن‘ ماجد فرید ساٹی‘ ڈاکٹر لبنیٰ عکس‘ اسد مرزا‘ ساجدہ سلطانہ اور وجیہ وارثی نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔ مشاعرے میں سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

پروفیسر سحر انصاری کے نام ایک شام

ادبی تنظیم یارانِ نمک دان کے تعاون سے آرٹس کونسل آف کراچی کے زیر اہتمام پروفیسر سحر انصاری کے ساتھ ایک شام منعقد کی گئی۔ منظر اکبر ہال میں ہونے والی تقریب میں علم دوست شخصیات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی کچھ روایات زندہ ہیں ہم اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ تقریب کی صدارت محمود شام نے کی جب کہ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی تھے۔ شاہدہ حسن‘ ڈاکٹر رخسانہ صبا‘ خالد معین‘ عنبرین حسیب عنبر‘ پیرزادہ سلمان‘ اصغر خان‘ ساجدہ سلطانہ مقررین میں شامل تھے۔ راشد نور اور پروین حیدر نے منظور خراجِ تحسین پیش کیا۔ خالد فرشوری نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت ساجدہ سلطانہ نے حاصل کی۔ احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ پروفیسر سحر انصاری ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں‘ ان کے لیے پروگرام ہوتے رہنے چاہئیں‘ یہ ہمارا سرمایہ ہیں‘ ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے زندگی بھر علم و ادب کی خدمت کی ہے ان کا دمِ غنیمت ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہم پر قائم و دائم رکھے۔ عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ انہیں فخر ہے کوہ ایک بڑے باپ کی بیٹی ہیں‘ ان کے والد پروفیسر سحرانصاری کے بے شمار شاگرد ہیں جو کہ اس وقت بہت اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے علم و آگہی کے جو چراغ روشن کیے ہیں وہ آندھیوں کے مقابل پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہیں۔ اصغر خان نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ آج پروفیسر سحر انصاری کے ساتھ بیٹھے ہیں‘ ہم ان سے استفادہ کر رہے ہیں‘ ان کے تجربات و خیالات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ڈاکٹر رخسانہ صبا نے پروفیسر سحر انصاری کی نظموں کو موضوعِ گفتگو بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نظمیں اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ خالد معین نے پروفیسر سحر انصاری کی غزلوں کے بارے میں بتایا کہ ان کے کلام میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ساتھ غزل کے تمام مضامین موجود ہیں۔ جدید لب و لہجے کے ساتھ ساتھ ان کی غزلوں میں غزل کی روایات بھی نظر آتی ہیں‘ ان کے اشعار حالتِِ سفر میں ہیں۔ شاہدہ حسن نے کہا کہ ان کا شعری اسلوب عہد جدید سے ہم آہنگ ہے‘ صاحبِ اعزاز پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ وہ آرٹس کونسل کی ادبی کمیٹی شعر و سخن اور یارانِ نمک دان کے شکر گزار ہیں کہ انہو ںنے ان کے اعزاز میں پروگرام ترتیب دیا۔ آج کی تقریب اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہاں زندگی کے ہر طبقے کی نمائندگی موجود ہے۔ آرٹس کونسل کراچی فنون لطیفہ کی تمام شاخوں کو پروموٹ کر رہی ہے۔ اس موقع پر سحر انصاری نے اپنی غزلیں سنا کر خوب داد سمیٹی۔ پروفیسر قاسم رضا نے کہا کہ یہ ایک یادگار تقریب ہے۔ پروفیسر سحر انصاری عہد ساز شخصیت ہیں ان کی تنقیدی بصارت اور شعری رویے ہمارے لیے مثالی ہیں‘ دوسرے نقادانِ سخن کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے اور صحت مند تنقید کے ساتھ ساتھ تخلیق کار کو مفید مشوروں سے نوازنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر سحر انصاری ایک رول ماڈل ہیں انہوں نے اپنی زندگی علم و فن کی ترقی کے لیے وقف کر رکھی ہے‘ آج بھی لوگ ان سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ صاحب صدر محمود شام نے کہا کہ پروفیسر سحر انصاری ایک ایسا سایہ دار شجر ہیں کہ جن کے سائے میں ہمیں سکون میسر ہوتا ہے۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری ہے‘ فکر و فن کے حوالی سے سحر انصاری کی خدمات سے انکار ممکن نہیں‘ یہ نابغہ روزگار شخصیت ہیں ان کی رہنمائی میں بہت سے قلم کار ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ساجدہ سلطانہ نے کہا کہ سحر انصاری ہمارے دلوں میں آباد ہیں‘ ہم ان کے لیے ایک بڑا پروگرام ترتیب دیں گے‘ انہوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے آرٹس کونسل کے صدر صاحب کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جن کے تعاون سے آج کا پروگرام ممکن ہوا۔

پوہتم انسٹی ٹیوٹ اور بزم سعیدالادب کے زیراہتمام مشاعرہ

۔29 جنوری کو Pohtm انسٹی ٹیوٹ گلشن اقبال میں بزم سعید الادب نے ایک بہاریہ مشاعرے کا اہتمام کیا جس کی صدارت رفیع الدین راز نے کی۔ آصف رضا رضوی مہمان خصوصی تھے‘ رونق حیات مہمانِ اعزازی اور تبسم انور مہمان توقیری تھیں۔ یاسر سعید صدیقی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ Pohtm انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر منصور اقبال نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ادارے میں پہلی مرتبہ مشاعرہ ترتیب دے رہے ہیں یہ پہلا پروگرام یاسر سعید صدیقی کے زیر اہتمام ہو رہا ہے تاہم جو تنظیمیں ہم سے تعاون کی خواہش مند ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں کیوں کہ زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں ہم سب کا اہم کردار ہے۔ صاحب صدر مشاعرہ رفیع الدین راز نے کہا کہ مشاعرے ہماری مشرقی روایات کے مظہر ہیں‘ یہ وہ ادارہ ہے جس کی ضرورت ہمیں ہر وقت محسوس ہوتی ہے کیوں کہ شاعر معاشرے کا اہم طبقہ ہے‘ یہ اپنے اشعار کے ذریعے ہمیں علم و آگہی فراہم کرنے کے ساتھ ہمارے معاشرے کے مسائل بھی لکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بہت سی اہم ادبی انجمنیں کام کر رہی ہیں ان میں سعید الادب بھی شامل ہے جس کے کریڈٹ میں کئی اہم تقریبات موجود ہیں۔ رونق حیات نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا نے فاصلے کم کرکے ہمیں گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے اس سائنسی ایجاد سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی شاعری دوسرے ممالک تک شیئر کرنی چاہیے‘ ویسے بھی شاعر تو زمین و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ آصف رضا رضوی نے کہا کہ آج کا مشاعرہ بہت عمدہ ہے‘ بہت اچھی شاعری سامنے آرہی ہے‘ اس قسم کی محفلیں ہماری ادبی ذوق کو مہمیز کرتی ہیں۔ یاسر سعید صدیقی نے کہا کہ ان کے ادارے کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی کی جائے لہٰذا آج ہم نے کچھ نوجوان شعرا و شاعرات کو دعوتِ کلام دی ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا کیوں کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اس زبان کے ساتھ ناانصافی بند کی جائے۔ اردو دنیا کی تیسری بری زبان کے طور پر زندہ ہے۔ مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان اعزازی‘ مہمان توقیری اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ راشد نوری‘ اختر سعیدی‘ فیاض علی فیاض‘ سلمان صدیقی‘ سلیم فوز‘ راقم الحروف نثار احمد نثار‘ شاعری علی شاعر‘ احمد سعید خان‘ حنیف عابد‘ ڈاکٹر نزہت عباسی‘ سخاوت علی نادر‘ آئرن فرحت‘ واحد رازی‘ نظر فاطمی‘ تنویر سخن‘ گل افشاں‘ سبیلہ انعام صدیقی‘ ارم زہرہ‘ عاشق شوقی‘ شائق شہاب‘ علی کوثر اور دیگر نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔

حصہ